Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ ما أسند المقداد بن الأسود علي بن أبي طالب عن المقداد بن الأسود · حديث 17318

564 - حدثما ادريس بن جعفر العطار ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن اسحاق عن هشام بن عروة عن أبيه عن المقداد قال قال لي علي Y سل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الرجل يلاعب أهله فيخرج منه المذي فقلت : يا رسول الله أرأيت الرجل يلاعب أهله فيخرج منه المذي فقال : يغسل فرجه ويتوضأ وضوءه للصلاة

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھیں کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ محبت سے کھیلتا ہے تو اس کی مذی نکلتی ہے۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ! آپ بتائیں کہ کوئی آ دمی اپنی بیوی کے ساتھ محبت سے کھیلتا ہے تو اس کی مذی نکلتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور وضو کرے نماز کے وضو جیسا۔

الرجل يلاعب أهله فيخرج منه المذي فقلت ← لي علي سل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْمِقْدَادِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حدثما ادريس بن جعفر العطار

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17318

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ ابن عباس عن المقداد · حديث 17319

565 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عمرو بن عون الواسطي ثنا خالد بن عبد الله عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن ابن عباس قال Y جاء رجل فمدح عثمان فقام المقداد يحثو في وجهه التراب فقال له عثمان : ما لك ؟ قال : أن أنا فلا أدع شيئا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أحثوا في وجوه المداحين التراب

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف شروع کی تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے‘ اس کے چہرہ پر مٹی ڈالنے لگے‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: کیا بات ہے؟ عرض کی: کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنا ہے کہ (جو منہ پر تعریف کرتے ہیں) ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔

«احْثُوا فِي وجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← من رسول الله صلى الله عليه و سلم ← فلا أدع شيئا ← إِنْ ← له عثمان ما لك ← جاء رجل فمدح عثمان فقام المقداد يحثو في وجهه التراب ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17319

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ ابن عباس عن المقداد · حديث 17320

566 - حدثنا عبد الله بن الحسين المصيصي ثنا آدم بن ابي اياس ثنا بكر بن خنيس عن يزيد بن أبي زياد عن عكرمة عن ابن عباس عن المقداد Y قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أحثوا في وجوه المداحين التراب

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: منہ پر تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالو۔

«احْثُوا فِي وجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْمِقْدَادِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← بكر بن خنيس ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17320

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ المستورد بن شداد الفهري عن المقداد · حديث 17321

567 - حدثنا الحسين بن اسحاق التستري و أبو حاتم روح بن الفرح البغدادي قالا ثنا محمد بن زنبور ثنا محمد بن جابر عن اسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن المستورد بن شداد قال قال المقداد بن الأسود قال Y لما هاجرنا الى المدينة قسمنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عشرة عشرة فكنت في العشرة الذين عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فكانت لنا شاة نشرب لبنها بيننا فأبطأ علينا ليلة وقد رفعنا له نصيبه فقمت اليه وأنا جائع فشربته فجاء النبي صلى الله عليه و سلم ولم أنم فأتى الاناء الذي كنا نضع فيه اللبن فنظر فلم يجد فيه شيئا فوثبت فقلت يا رسول الله ألا أذبحها لك ؟ قال : لا

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دس دس میں تقسیم کیا‘ پس میں ان دس آدمیوں میں تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے‘ پس ہمارے لیے ایک بکری تھی‘ ہم اس کا دودھ آ پس میں تقسیم کرتے تھے‘ پس ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے پاس آنے میں دیر لگائی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیا تھا۔ پس میں اٹھ کر اس کی طرف گیا‘ مجھے بھوک لگی تھی‘ میں نے وہ پی لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے جبکہ میں سویا نہ تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برتن کی طرف تشریف لے گئے‘ جس میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے دودھ رکھا کرتے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تو اس میں کوئی شی نہ پائی میں جلدی سے اٹھا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کیلئے بکری ذبح نہ کروں؟ فرمایا: نہیں!

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ← الحسين بن اسحاق التستري و أبو حاتم روح بن الفرح البغدادي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17321

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ طارق بن شهاب الأحمسي عن المقداد · حديث 17322

568 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عمر بن حفص بن غياث حدثني أبي حدثني الاعمش عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن المقداد بن الأسود قال Y كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم فكان جزأنا عشرة في بيت عشرة في بيت فكنت أنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فكانت عندنا شاة نقوتها

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ہمیں آپ نے ایک گھر میں دس کو ٹھہرایا اور دس کو ایک گھر میں‘ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا‘ ہمارے پاس ایک بکری تھی جس کا دودھ نکال کر ہم اپنی غذا بناتے تھے۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17322

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ طارق بن شهاب الأحمسي عن المقداد · حديث 17323

569 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا الأسود بن عامر ثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن سليمان بن ميسرة عن طارق بن شهاب عن المقداد قال Y لما نزلنا المدينة عشرنا النبي صلى الله عليه و سلم عشرة عشرة في كل بيت فكنت في العشرة الذين كان النبي منهم قال : ولم يكن لنا الا شاة تتجزأ لبنها فكنا اذا أبطأ علينا النبي صلى الله عليه و سلم شربنا وبقينا للنبي صلى الله عليه و سلم نصيبه فلما كان ذات ليلة أبطأ علينا قال : ونمنا فقال المقداد : لقد أطال النبي صلى الله عليه و سلم ما أراه يجيء الليلة لعل انسانا دعاه قال : فشربته فلما ذهب الليل جاء فدخل فلما دخل سلم ولم يشد ثم قام الى القدح فلما لم ير شيئا سكت ثم قال : اللهم أطعم من أطعمنا الليلة فوثبت فأخذت السكين فأتيته بها فمسح ضرعها فخرج شيء ثم شرب ثم نام

حضرت مقداد فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ میں اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دس دس میں تقسیم کر کے ہر گھر میں رہائش پذیر کیا‘ پس (زہے نصیب) میں ان دس آدمیوں میں تھا جن میں سے ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ راوی کا بیان ہے: ہمارے لیے صرف ایک بکری تھی جس کا دودھ ہم آپس میں تقسیم کرتے تھے‘ پس جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس دیر سے تشریف لاتے‘ ہم اپنے حصے کا دودھ پی لیتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ رکھ دیتے۔ پس جب ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے پاس آنے میں کافی دیر کر دی۔فرماتے ہیں: ہم سو گئے۔ حضرت مقداد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لمبا وقت تشریف نہ لائے‘ میرا خیال نہیں تھا کہ آپ اس رات آئیں گے‘ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھے کسی آدمی نے دعوت دی ہے۔فرماتے ہیں: میں نے وہ دودھ پی لیا‘ پس جب رات جانے والی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کیا پھر اٹھ کر اس پیالے کی طرف گئے‘ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز نہ دیکھی تو خاموشی اختیار کی۔ پھر فرمایا: اے اللہ ! تو اسے کھلا جس نے آج رات ہمیں کھلایا۔ پس میں تڑپ کر اٹھا‘ میں چھری پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بکری کے تھن کو ہاتھ لگایا تو اس سے کوئی چیز نکلی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پیا اور سو گئے۔

الْمِقْدَادِ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17323

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ سعيد بن العاص عن المقداد · حديث 17324

570 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا سفيان بن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن سعيد بن العاص قال Y بعث وفد من أهل العراق الى عثمان فجعلوا يثنون عليه فجعل المقداد يحثو في وجوههم التراب وقال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نحثو في وجوه المداحين التراب

حضرت سعید بن عاص فرماتے ہیں کہ عراق والوں نے ایک وفد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا‘ وہ آپ کی تعریف کرنے لگے‘ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ ان کے منہ میں مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا: ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جو منہ پر تعریف کرے اس کے منہ میں مٹی ڈالی۔

سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17324

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ السائب بن يزيد عن المقداد · حديث 17325

571 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن عباد المكي ثنا حاتم بن اسماعيل عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد قال Y صحبت طلحة بن عبيد الله و المقداد بن الأسود فما سمعت أحدا منهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم الا اني سمعت طلحة يحدث عن يوم أحد

حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ اور مقداد بن اسود رضی اللہ عنہما کی صحبت اختیار کی‘ ان میں کسی سے نہیں سنا ہے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کرتا ہو‘ ہاں میں نے حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ سے اُحد کے دن بیان کرتے ہوئے سنا۔

يَوْمِ أُحُدٍ ← طَلْحَةَ، ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ألا إني ← أَحَدًا مِنْهُمْ ← صحبت طلحة بن عبيد الله و المقداد بن الأسود فما ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17325

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن المقداد · حديث 17326

572 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل و جعفر بن محمد الفريابي قالا ثنا هدبة بن خالد [ قالا ] ثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن المقداد بن عمرو قال Y قدمت المدينة أنا وصاحبان لي فجعلنا نتعرض للناس فلم يضفنا أحد فذهب بنا الى منزله وعنده أربعه أعنز فقال : يا مقداد احلبهن وجزأ النبي صلى الله عليه و سلم لكل انسان منا جزءا فكنت أفعل ذلك فرفعت لرسول الله صلى الله عليه و سلم جزأه فأبطأ علينا فاضطجعت على فراشي فقالت لي نفسي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى أهل بيت من الانصار فأكل عندهم وشرب ولو أنك شربت هذه الشربة فلم تزل نفسي حتى شربتها فلما تقار في بطني أخذني ما قدم وما حدث قالت لي نفسي يجيء الآن ظمآن فلا يجد شيئا فاضطجعت وسجيت الثوب علي فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم تسليما يسمع اليقظان ولا يوقظ النائم ثم أتى الاناء فكشف عنه فلم ير شيئا فقال : اللهم أطعم من طعمني واسق من سقاني فاغتنمت دعوته فنهضت فأخذت الشفرة فدنوت من الغنم فنظرت أيهن أسمن لأذبحها فدنوت من واحدة فجسستها فنظرت فاذا هي حافل ونظرت الى الاخرى فاذا هي حافل فنظرت الى الاخرى اذا هي حافل [ فنظرت كلهن فاذا هن حفل ] فحلبت فيه فقلت اشرب [ فقال : الخير يا مقداد ( فقلب أشرب ثم الخير ) ] فقال : بعض سوآتك يا مقداد فشرب ثم قال : اشرب فقلت اشرب يا رسول الله ] فشرب حتى تضلع ثم أخذت من رسول الله صلى الله عليه و سلم فشربت ثم أخبرته الخبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذه بركة نزلت من السماء أفلا أخبرتني حتى أسقي صاحبيك فقلت اذا أصبت أنا وأنت ما أبالي من أخطأت

حضرت مقدار بن عمر فرماتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی مدینہ آئے‘ ہم نے لوگوں کو اپنا آپ پیش کیا‘ لیکن کسی نے ہمیں اپنا مہمان نہ بنایا‘ پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں سخت بھوک لگی ہے‘ پس ہم نے لوگوں پر اپنا آپ پیش کیا‘ لیکن ہمیں کسی نے اپنا مہمان نہیں بنایا۔ پس آپ ہمیں اپنے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر لے گئے‘ آپ کے پاس چار بکریاں تھیں۔ فرمایا: اے مقداد! ان کا دودھ نکالو (میں نے نکالا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں سے ہر آدمی کو دیا۔ پس میں یہ کام کر نے والا تھا۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے پاس آنے میں دیر کر دی‘ پس میں اپنے بستر پر لیٹ گیا تھا‘ میرے دل نے مجھ سے کہا: بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک گھر والوں کی طرف تشریف لے گئے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھا پی لیا ہو گا‘ اگر تو میں دودھ پی لے (تو کیا ہوتا ہے؟) میرا جی مجھے مسلسل یہی خیال دلاتا رہا حتٰی کہ میں نے اسے پی لیا‘ پس جب وہ میرے پیٹ میں قرار پذیر ہوا تو مجھے گڑ بڑ ہوئی۔ میرے دل نے مجھ سے کہا: اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیاسے آئے تو کوئی چیز نہ پائیں گے۔ پس میں لیٹ گیا اور کپڑا اوپر کر لیا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز سے سلام کیا کہ جاگتے ہوئے سن لیں اور سونے والے نہ جاگیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برتن کے پاس آئے اس‘ سے پردہ ہٹایا تو کوئی چیز نہ دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: اے اللہ! اُسے کھلا جس نے مجھے کھلایا اور اسے پلا جس نے مجھے پلایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کوغنیمت جانا اور اٹھ کر چھری ہاتھ میں لی اور بکریوں کے قریب ہوا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ ان میں سے کون سی موٹی تازی ہے‘ پس میں نے ایک کے قریب ہو کر اسے روکا‘ اسے دیکھا تو وہ دودھ دینے والی تھی۔ دوسری کی طرف دیکھا تو وہ بھی دودھ دینے والی تھی‘ ایک اور کی طرف دیکھا تو وہ بھی دودھ دینے والی تھی۔ پس میں نے ان میں سے ہر ایک کو دیکھا تو سب دودھ دینے والی تھیں‘ پس میں برتن پکڑ کر اس میں دودھ نکال کر لایا۔ میں نے عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ پئیں۔ فرمایا: اے مقداد! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کی : آپ نوش فرمائیں! پھر بات بتاؤں گا۔ فرمایا: اے مقداد! تجھے کچھ تکلیف ہوئی ہو گی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش کیا‘ پھر فرمایا: تو پی۔ میں نے عرض کی : آپ پئیں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا یہاں تک کہ خوب پسلیاں نکالیں۔ پھر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر پیا۔ پھر میں نے آپ کو خبر دی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ برکت ہے جو آسمان سے نازل ہوئی ہے‘ کیا تو نے مجھے بتایا نہیں حتٰی کہ میں تیرے دونوں ساتھیوں کو پلاؤں؟ میں نے عرض کی: پھر تو مجھے اور آپ کو درست کام کرنے والا سمجھا جائے گا‘ مجھے اس بات کی پروا نہیں ہے کہ غلطی کس نے کی ہے۔

الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عبد الله بن أحمد بن حنبل و جعفر بن محمد الفريابي ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17326

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبد الرحمن بن أبي ليلى عن المقداد · حديث 17327

573 - حدثنا محمد بن حيان المازني ثنا أبو طالب عبد السلام بن مطهر ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت البناني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن المقداد قال Y أقبلت أنا وصاحبان لي وقد ذهبت اسماعنا وأبصارنا من الجهد الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فانطلق الى أهله فاذا فيه أعنز فقال : أصلح فذكر نحوه

حضرت مقداد فرماتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی آئے جبکہ ہماری سماعتیں اور بصارتیں‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتے پہنچتے تھکاوٹ کی وجہ سے ختم ہونے کے قریب ہو چکی تھیں‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے تو اس میں بھیڑیں تھیں۔ فرمایا: درست کر لو! اس کے بعد اس جیسی حدیث ذکر کی۔

الْمِقْدَادِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أبو طالب عبد السلام بن مطهر ← مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17327

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ ميمون بن أبي شبيب عن المقداد · حديث 17328

574 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا حجاج بن نصير ثنا شعبة عن الحكم عن ميمون بن أبي شبيب قال Y جاء رجل يثني على عامل عثمان بن عفان عند المقداد فحثنا المقداد في وجهه التراب وقال : ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اذا رأيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب

حضرت میمون بن ابو شبیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت مقداد کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عامل کی تعریف کرنے لگا‘ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس کے منہ میں مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ کوئی کسی کے منہ پر تعریف کر رہا ہے تو اس کے منہ میں مٹی ڈالو۔

مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17328

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ همام بن الحارث عن المقداد · حديث 17329

575 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي و عبد الله بن أحمد بن حنبل قالا ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا عبيد الله الأشجعي عن سفيان عن الاعمش و منصور عن ابراهيم عن همام بن الحارث عن المقداد بن عمرو قال Y أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم اذا رأينا المداحين أن نحثوا في وجوههم التراب

حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم دیکھو کہ کوئی کسی کے منہ پر اس کی تعریف کر رہا ہے تو اس تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالو۔

الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الأعمش و منصور ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← محمد بن عبد الله الحضرمي و عبد الله بن أحمد بن حنبل

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17329

chevron_left Previous
1…444546…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter