Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ خالد بن معدان عن معاذ بن جبل · حديث 16946

191 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا عصمة بن سليمان الخزاز ثنا حازم مولى بني هاشم عن لمارة عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن معاذ بن جبل قال Y شهد رسول الله صلى الله عليه و سلم املاك رجل من أصحابه فقال له : على الخير والألفة والطائر الميمون والسعة في الرزق بارك الله لكم دففوا على رأسه فجيء بدف فضرب به فأقبلت الاطباق وعليها فاكهة وسكر فنشر عليه فكف الناس أيديهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما لكم لا تنتهبون ؟ قالوا : يا رسول الله أولم تته عن النبهة ؟ قال : انما نهيتكم عن نهبة العساكر فأما العرسات فلا قال : فجاذبهم وجاذبوه

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کے املاک کے پاس گئے‘ اس سے فرمایا: خیر‘ الفت‘ برکت والے پرندے(نیک شگون) اور رزق میں وسعت پر‘ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے! اس کے سر پر دف بجاؤ۔ پس دف لائی گئی‘ اسے بجایا گیا‘ تھال لائے گئے جن پر پھل اور سفید رنگ کے میٹھے انگور یا عمدہ قسم کی پختہ وتر کھجور تھی جو اس پر نچھاور کر دی گئی۔ پس لوگوں نے ان (کو اٹھا کر کھانے) سے ہاتھ روک لیے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہے! لوٹتے کیوں نہیں؟ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے خود لوٹنے سے منع نہیں کیا ؟ فرمایا: میں نے لشکروں (اور قافلوں) کو لوٹنے سے منع کیا ہے‘ لیکن شادیوں وغیرہ کا جہاں تک معاملہ ہے تو نہیں۔ راوی کا بیان ہے: (وہ چیزیں حاصل کرنے کیلئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے جھگڑے (پیار پیار سے) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھگڑے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← لمارة ← حَازِمٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَزَّازُ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16946

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ خالد بن معدان عن معاذ بن جبل · حديث 16947

192 - حدثنا عبد الله بن محمد بن العباس الاصبهاني ثنا سلمة بن شبيب ثنا عبد الرزاق أخبرني ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن معاذ بن جبل قال Y كان النبي صلى الله عليه و سلم في دارنا يعرض الخيل قال : فدخل عليه عيينة بن حصن فقال للنبي صلى الله عليه و سلم : أنت أبصر بالخيل مني وأنا أبصر بالرجال منك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فأي الرجال خير ؟ فقال : رجال يحملون سيوفهم على عواتقهم ويعرضون رماحهم على مناسج خيولهم ويلبسون البرود من أهل نجد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : كذبت خيار الرجال رجال ذي يمن الايمان يمان وأكثر قبيلة في الجنة مذحج ومأكول حمير من آكلها حضرموت خير من كندة فلعن الله الملوك الاربعة جمدا ومشرحا ومحوسا وأبضعا واختهم العمردة

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر میں موجود گھوڑے سے تعرض کر رہے تھے۔ راوی کا بیان ہے: حضرت عیینہ بن حصین اوپر سے آ گئے‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: آپ گھوڑے دیکھنے کی مجھ سے زیادہ بصیرت رکھتے ہیں اور میں مردوں کو جانچنے کی آپ سے زیادہ بصیرت رکھتا ہوں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سے کون بہتر ہیں؟ اس نے عرض کی : وہ مرد جو اپنی تلواریں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھتے ہیں‘ اپنے نیزوں کو اپنے گھوڑوں کی زینوں پر نمایاں و ظاہر کرتے ہیں اور اہل نجد کی (موٹی و کھردری) چادریں زیب تن کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے خلاف واقع بات کی‘ بہترین مرد یمن (برکت) والے ہیں‘ ایمان یمن والوں کا ہے‘ جنت میں جس قبیلہ کے لوگ زیادہ ہوں گے‘ وہ بنو مذحج ہے‘ کھانوں میں سے حمیر قبیلہ والوں کا کھانا پینا اچھا ہے‘ حضر موت کندہ سے بہتر ہے‘ اللہ تعالیٰ نے چار بادشاہوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے: جمد‘ مشرح‘ مخوس‘ ابصع اور ان کی بہن عمرّدہ کو بھی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← عبد الله بن محمد بن العباس الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16947

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ خالد بن معدان عن معاذ بن جبل · حديث 16948

193 - حدثنا واثلة بن الحسن العوفي ثنا كثير بن عبيد الحذاء ثنا بقية بن الوليد عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن معاذ بن جبل قال Y أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نتوضأ ما لم يأجن الماء يخضر أو يصفر

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اس پانی سے اس وقت تک وضو کریں جب تک اس کا رنگ سبر اور زرد نہ ہو۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَذَّاءُ، ← وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَوْفِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16948

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبد الرحمن بن عائذ الأزدي عن معاذ · حديث 16949

194 - حدثنا أبو عبد الملك أحمد بن ابراهيم القرشي الدمشقي ثنا سليمان بن عبد الرحمن ( ح ) وحدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا ابي ( ح ) وحدثنا أحمد بن المعلى لدمشقي ثنا هشام بن عمار قالوا ثنا اسماعيل بن عياش حدثني سعيد بن عبد الرحمن الخزاعي عن عبد الرحمن بن عائذ Y ان رجلا سأل معاذ بن جبل عما يوجب الغسل من الجماع وعن الصلاة في الثوب الواحد وعما يحل للحائض من زوجها فقال معاذ : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقال : اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل وأما الصلاة في ثوب واحد فتوشح به وأما ما يحل من الحائض فانه يحل منها ما فوق الازار واستعفاف عن ذلك أفضل

حضرت عبدالرحمٰن بن عائذ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت معاذ بن جبل سے پوچھا: جماع میں سے کون سی چیز غسل واجب کرتی ہے‘ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور شوہر کی جانب سے حیض والی عورت کیلئے کیا حلال ہے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا‘ فرمایا: جب ایک شرمگاہ دوسری شرمگاہ سے تجاوز کر جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے‘ بہرحال ایک کپڑے میں نماز تو کپڑے کو بائیں کندھے پر ڈال کر اس کا دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر دونوں سروں کو سینہ پر لا کر باندھ دے‘ حیض والی سے کیا حلال ہے تو اس میں سے ازار کے اوپر حلال ہے اور اس سے مکمل پرہیز افضل ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ← سعيد بن عبد الرحمن الخزاعي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن المعلى لدمشقي ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو عبد الملك أحمد بن إبراهيم القرشي الدمشقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16949

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ عبد الرحمن بن عائذ الأزدي عن معاذ · حديث 16950

195 - حدثنا ابراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا يحيى بن عثمان ثنا محمد بن حمير ثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر Y ثنا أبو العياش أنه سأل معاذ بن جبل ما يوجب الغسل ؟ وهل آكل مع امرأتي وهي عارك ؟ فقال : سألتني عما سألت عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يجب الغسل من الجنابة

حضرت ابو عیاش حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے انہوں نے پوچھا: کیا چیز غسل واجب کرتی ہے اور کیا میں اپنی بیوی کے ساتھ کھا سکتا ہوں جب وہ حیض والی ہو؟ فرمایا: جو تو نے مجھ سے پوچھا ہے میں نے اسی بارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا‘ فرمایا: جنابت سے غسل واجب ہوتا ہے۔

أبو العياش ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16950

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ أبو عبد الله الاشعري عن معاذ بن جبل · حديث 16951

196 - حدثنا أبو عقيل أنس بن سلم الخولاني و الحسين بن اسحاق التستري قالا ثنا عمرو بن هشام أبو أمية الحراني ثنا عثمان بن عبد الرحمن الطرائقي ثنا صدقة بن خالد عن زيد بن واقد عن أبي عبد الله عن معاذ بن جبل Y قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عقد الجزية في عنقه فقد بريء مما جاء به محمد صلى الله عليه و سلم

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی گردن میں جزیہ باندھا‘ وہ اس سے بری ہوا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أبي عبد الله ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عثمان بن عبد الرحمن الطرائقي ← عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الْحَرَّانِيُّ ← أبو عقيل أنس بن سلم الخولاني و الحسين بن اسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16951

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ الحسن بن جابر القرشي عن معاذ بن جبل · حديث 16952

197 - حدثنا ابراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا محمد بن مصفى ثنا بقية بن الوليد ثنا عقيل بن مدرك عن لقمان بن عامر عن الحسن بن جابر القرشي Y عن معاذ بن جبل أنه سمع خشخشة فأخذه فقال : من أنت ؟ فقال : أنا شيطان فقال : أجب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : دعني فاني لا أعود فخلى سبيله فلما غدا على النبي صلى الله عليه و سلم قال : يا معاذ ما فعل أسيرك ؟ قال : سرحته فلما كانت الليلة الثانية اذا هو قد حس به فأخذه فطلب اليه أيضا وحلف أن لا يعود فخلى عنه فلما كانت الليلة الثالثة حس به وأخذه وطلب اليه أيضا وحلف أن لا يعود فأبى أن يسرحه فقال : خل عني حتى أعلمك آية اذا قرأتها لم نقرب ذلك الموضع وعلمه آية الكرسي فخلى سبيله وغدا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره بما كان فقال : صدق وان كان كذوبا

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے پوشیدگی سے داخل ہونے والی چیز کی آواز (جھنکار) کو سنا‘ پس انہوں نے اسے پکڑ کر فرمایا: تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا: میں شیطان ہوں۔ کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چل۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دے! دوبارہ نہ آؤں گا۔ پس انہوں نے اسے چھوڑ دیا‘ جب صبح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تیرے قیدی نے کیا کیا ؟ عرض کی: میں نے اسے چھوڑ دیا۔ پس جب دوسری رات آئی تو انہوں نے محسوس کیا پھر پکڑ لیا۔ اس نے پھر بھی وہی مطالبہ کیا اور حلف دیا کہ پھر نہ آؤں گا‘ پس انہوں نے چھوڑ دیا۔ پس جب تیسری رات آئی تو انہیں احساس ہوا اور اسے پکڑ لیا۔ اس نے وہی پہلے والی درخواست کی اور قسم اٹھائی کہ دوبارہ نہ آئے گا‘ پس انہوں نے چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دے! میں تجھے ایک آیت سکھاتا ہوں‘ جب وہ تو پڑھے گا تو اس جگہ ہم (شیطان) نہیں آئیں گے۔ اس نے آیۃ الکرسی سکھائی‘ پس انہوں نے چھوڑ دیا‘ صبح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری ہوئی تو بتایا جو ہوا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہااگرچہ بڑا جھوٹا تھا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ الْقُرَشِيِّ، ← لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ، ← عَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16952

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ أبو شيبة عن معاذ · حديث 16953

198 - حدثنا أحمد بن زيد بن الحريش الاهوازي ثنا عمر بن الخطاب السجستاني ثنا محمد بن عرعرة ثنا شعبة عن أبي الفيض قال سمعت أبا شيبة يقول Y كان معاذ يمشي ورجل معه فرفع حجرا من الطريق فقال : ما هذا ؟ فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من رفع حجرا من الطريق كتبت له حسنة ومن كانت له حسنة دخل الجنة

حضرت ابو شیبہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ ایک آدمی تھا‘ آپ نے راستے سے پتھر کو ہٹا دیا‘ اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے راستے سے پتھر ہٹایا اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی‘ جس نے مقبول نیکی کی وہ جنتی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← «مَا هَذَا؟» ← كان معاذٌ يمشي ورجلٌ معَهُ، فَرفَع حَجراً مِنَ الطريقِ ← أبا شيبة ← أَبِي الْفَيْضِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السِّجِسْتَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ الْأَهْوَازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16953

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ الحجاج بن عثمان السكسكي عن معاذ بن جبل · حديث 16954

199 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا محمد بن هارون بن محمد بن بكار الدمشقي ثنا الوليد بن عتبة قالا ثنا بقية بن الوليد عن صفوان بن عمرو ثنا الحجاج بن عثمان السكسكي عن معاذ بن جبل قال Y أقبلت الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فاذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قائم يصلي فلم يزل قائما حتى أصبح فسجد سجدة ظننت أن نفسه قبضت فيها فنظر الي فقال : يا معاذ رأيت ؟ فقلت : يا رسول الله نعم رأيتك سجدت سجدة ظننت أن نفسك قد قبضت فقال : تدري لم ذاك ؟ قلت : الله ورسوله أعلم قال : اني صليت ما كتب لي ربي وأتاني ربي فقال : يا محمد ما أفعل بأمتك ؟ قلت : ربي أنت أعلم : فأعادها علي ثلاثا أو أربعا فقال لي في آخرها : ما أفعل بأمتك ؟ قلت : أنت أعلم يا رب قال : انى لا أحزنك في أمتك فسجدت لربي وربك شاكر يحب الشاكرين

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا‘ اچانک میری نگاہ پڑی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز ادا فرما رہے تھے‘ پس مسلسل کھڑے رہے حتٰی کہ صبح ہو گئی‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سجدہ کیا‘ (اتنا لمبا کہ) میں نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان قبض کر لی گئی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سلام پھیرنے کے بعد) میری طرف دیکھ کر فرمایا: اے معاذ! تو نے کیا خیال کیا؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہاں! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے لمبا سجدہ کیا‘ میں نے گمان کیا کہ آپ کی جان قبض کر لی گئی ہے۔فرمایا: تجھے معلوم ہے کہ یہ کس وجہ سے تھا؟ میں نے عرض کی: اللہ و رسول بہتر جانیں! فرمایا: میں نے وہ نماز پڑھی جو میرے رب نے میرے اوپر فرض کی اور میرے رب نے میرے پاس آ کر کہا: اے محمد! میں تیری امت سے کیا سلوک کروں؟ میں نے عرض کی: اے میرے رب! تو زیادہ جانتا ہے اللہ‘ دوسری اور تیسری بار یہی بات کہی۔ پس اس کے آخر میں مجھ سے فرمایا: میں تیری امت سے کیا سلوک کروں؟ میں نے عرض کی: اے میرے رب! تو زیادہ جانتا ہے۔ فرمایا: میں تجھے تیری امت کے حوالے سے پریشان کروں گا (شکر ادا کرنے کو) میں نے اپنے رب کو سجدہ کیا اور تیرا رب قدر دان ہے اور شکر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ عُثْمَانَ السَّكْسَكِيُّ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16954

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ شهر بن حوشب عن معاذ بن جبل · حديث 16955

200 - حدثنا محمد بن محمد الجذوعي القاضي ثنا هدبة بن خالد ثنا حماد بن سلمة عن عاصم بن بهدلة عن شهر بن حوشب عن معاذ بن جبل أنه قال Y يا رسول الله أخبرني بعمل يدخل صاحبه الجنة قال : بخ بخ لقد سألت عن كبير وانه ليسير على من يسره الله تعبد الله لا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة المكتوبة وتؤدي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان وتحج البيت وسأنبئك برأس هذا الامر وعموده وذروة سنامه راس هذا الامر شهادة أن لا الله الا الله وعموده وذروة سنامه الجهاد وسأنبئك بأبواب الخير الصوم جنة والصدقة تطفيء الخطيئة كما يطفيء الماء النار وقيام العبد من الليل وقرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم { تتجافى جنوبهم عن المضاجع } الآية وسأنبئك بأملك من ذلك كله وهز راحلته ودنوت من الناس فدنوت منه فقلت : يا رسول الله ما الذي أملك من ذلك كله ؟ فأوما بيده الى لسانه قلت : اللسان ؟ كالمتهاون به فقال : ثكلتك أمك يا معاذ بن حبل وهل يكب الناس في نار جهنم الا حصائد ألسنتهم ؟

حضرت شہر بن حوشب سے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی عمل بتائیں! جس کا کرنے والا سیدھا جنت جائے۔ فرمایا: واہ واہ! تو نے بہت بڑی چیز کے بارے سوال کیا ہے‘ لیکن جس پر اللہ آسان کر دے‘ اس کیلئے آسان ہے‘ اللہ کی عبادت کر‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر‘ فرض نماز قائم کر‘ فرض زکوٰۃ ادا کر‘ رمضان شریف کے روزے رکھ اور حج کر اور میں تجھے اس امر کی سردار ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی کے بارے آگاہ کروں گا‘ اس کام کا سریہ ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی جہاد ہے‘ میں تجھے ابواب خیر سے آگاہ کروں گا‘ روزہ ڈھال ہے‘ صدقہ خطا کو مٹا دیتا ہے‘ جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے‘ اور بندے کا رات کے وقت کھڑے ہونا۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ’’تتجافی جنوبھم عن المضاجع‘‘ میں تجھے ان سب کے خلاصہ (جوہر‘ نچوڑ) سے آگاہ کروں‘ اپنی سواری کو حرکت دے کر لوگوں کے قریب کیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان سب کا خلاصہ کیا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے عرض کی: زبان! اس کو معمولی سمجھنے والے آدمی کی طرح۔ فرمایا: تیری ماں تجھے روئے! اے معاذ بن جبل! کیا لوگ جہنم میں اسی زبان کی کمائی سے اوندھے منہ نہیں ڈالے جائیں گے۔

مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16955

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ شهر بن حوشب عن معاذ بن جبل · حديث 16956

201 - حدثنا أحمد بن ابراهيم القرشي الدمشقي ثنا سليمان بن عبد الرحمن ثنا اسماعيل بن عياش عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين عن شهر بن حوشب عن معاذ بن جبل قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لن ينفع حذر من قدر ولكن الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل فعليكم بالدعاء عباد الله

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالی پرہیز تقدیر سے ہرگز نفع نہیں دے گی بلکہ دعا اس مصیبت سے بھی جو اتری ہے اور جو ابھی نہیں اتری‘ نفع دے گی‘ اے اللہ کے بندو! تم پر دعا لازم ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عبيد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أحمد بن ابراهيم القرشي الدمشقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16956

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ شهر بن حوشب عن معاذ بن جبل · حديث 16957

202 - حدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا عبد الله بن عمر بن أبان ثنا عبد الله بن خراش عن العوام بن حوشب عن شهر بن حوشب عن معاذ بن جبل قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اذا أتاكم كريم قوم فاكرموه

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز آدمی (سردار) آئے تو اس کی عزت کرو۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ خِرَاشٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16957

chevron_left Previous
1…131415…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter