المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ خالد بن معدان عن معاذ بن جبل · حديث 16946
191 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا عصمة بن سليمان الخزاز ثنا حازم مولى بني هاشم عن لمارة عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن معاذ بن جبل قال Y شهد رسول الله صلى الله عليه و سلم املاك رجل من أصحابه فقال له : على الخير والألفة والطائر الميمون والسعة في الرزق بارك الله لكم دففوا على رأسه فجيء بدف فضرب به فأقبلت الاطباق وعليها فاكهة وسكر فنشر عليه فكف الناس أيديهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما لكم لا تنتهبون ؟ قالوا : يا رسول الله أولم تته عن النبهة ؟ قال : انما نهيتكم عن نهبة العساكر فأما العرسات فلا قال : فجاذبهم وجاذبوه
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کے املاک کے پاس گئے‘ اس سے فرمایا: خیر‘ الفت‘ برکت والے پرندے(نیک شگون) اور رزق میں وسعت پر‘ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے! اس کے سر پر دف بجاؤ۔ پس دف لائی گئی‘ اسے بجایا گیا‘ تھال لائے گئے جن پر پھل اور سفید رنگ کے میٹھے انگور یا عمدہ قسم کی پختہ وتر کھجور تھی جو اس پر نچھاور کر دی گئی۔ پس لوگوں نے ان (کو اٹھا کر کھانے) سے ہاتھ روک لیے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہے! لوٹتے کیوں نہیں؟ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے خود لوٹنے سے منع نہیں کیا ؟ فرمایا: میں نے لشکروں (اور قافلوں) کو لوٹنے سے منع کیا ہے‘ لیکن شادیوں وغیرہ کا جہاں تک معاملہ ہے تو نہیں۔ راوی کا بیان ہے: (وہ چیزیں حاصل کرنے کیلئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے جھگڑے (پیار پیار سے) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھگڑے۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← لمارة ← حَازِمٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَزَّازُ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16946
