Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عوف بن الحارث بن الطفيل عن المسور بن مخرمة · حديث 16780

25 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن ابن شهاب عن عوف بن الحارث بن طفيل وهو ابن أخي عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم لأمها Y أن عائشة حدثته أن عبد الله بن الزبير قال في بيع أو عطاء أعطته عائشة : والله لتنتهين عائشة أو لأحجرن عليها فقالت : هو قال هذا ؟ قالو : نعم قالت عائشة : فهو لله نذر أن لا أكلم ابن الزبير كلمة أبدا فاستشفع ابن الزبير اليها حين طالت هجرتها اياه فقالت : والله لا أشفع فيه أحدا أبدا ولا أحنث نذري الذي نذرت أبدا فلما طال ذلك على ابن الزبير كلم المسور بن مخرمة و عبد الرحمن بن الأسود بن عبد يغوث وهما من بني زهرة فقال لهما : أنشدكما الله الا أدخلتماني على عائشة فأنه لايحل لها أن تنذر قطيعتي فأقبل به المسور بن مخرمة و عبد الرحمن بن الأسود مشتملين عليه بأرديتهما حتى استأذنا على عائشة فقالا : السلام على النبي ورحمة الله أندخل ؟ قالت عائشة أدخلوا قالوا كلنا يا أم المؤمنين ؟ قالت : نعم أدخلوا كلكم ولا تعلم عائشة أن معهما ابن الزبير فلما دخلوا دخل ابن الزبير الحجاب فاعتنق عائشة وطفق يناشدها ويبكي وطفق المسور و عبد الرحمن يناشدان عائشة الا ما كلمته وقبلت منه ويقولان أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عما قد علمت من الهجرة فانه لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال فلما أكثروا على عائشة التذكرة والتحريج طفقت تذكرهم وتبكي وتقول : اني قد نذرت والنذر شديد فلم يزالوا بها حتى كلمت ابن الزبير فأعتقت في نذرها أربعين رقبة وتبكي حتى تبل دموعها خمارها

حضرت عوف بن حارث بن طفیل سے روایت ہے‘ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا۔ کے بھائی کے بیٹے (بھتیجے) ہیں جو ان کی ماں کی طرف سے بھائی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے بیع یا عطیہ کے بارے میں فرمایا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا: بخدا! حضرت عائشہ (اس سے) رک جائیں یا میں ان پر حجر لگا دوں گا۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا نہوں نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پس یہ تو اللہ کیلئے نذر ہے کہ میں کبھی حضرت ابن زبیر (آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجے) سے بات نہ کروں گی۔ (جب حضرت ابن زبیر کو پتہ چلا) تو حضرت ابن زبیر نے ان کی طرف سفارشی بھیجے جب ان سے نہ بولنے کا سلسلہ لمبا ہوا تو انہوں نے وہی بات کہی: بخدا! میں اس سلسلہ میں کسی کی سفارش نہ مانوں گی‘ نہ اپنی نذر توڑوں گی جو میں نے ہمیشہ کیلئے مانی ہے۔ پس جب میں بات حضرت ابن زبیر نے سنی تو انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث سے (اس سلسلہ میں) بات کی (ان دونوں کا تعلق بنوز ھرہ قبیلے سے تھا) پس حضرت ابن زبیر نے ان دونوں سے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ایک بار مجھے حضرت عائشہ کی خدمت میں پیش کر دو کیونکہ ان کیلئے جائز نہیں ہے کہ مجھ سے بائیکاٹ کی نذر مانیں۔ پس حضرات مسور بن مخرمہ اورعبدالرحمٰن بن اسود ان کو اپنی چاروں میں چھپا کر لے کر آئے حتٰی کہ حضرت عائشہ سے حاضری کی اجازت مانگی‘ ان دونوں نے عرض کی : السلام علی النبی ورحمۃ اللہ ! (نبی پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو!) کیا ہم داخل ہو سکتے ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اندر آ جاؤ! انہوں نے عرض کی : اے مؤمنوں کی ماں! کیا ہم سب آ جائیں؟ فرمایا: ہاں ! سب داخل ہو جاؤ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہ تھا کہ ان کے ساتھ حضرت ابن زبیر ہیں)۔ پس جب وہ سب داخل ہوئے تو حضرت ابن زبیر بھی پردہ کر کے اندر آ گئے۔ پس وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے تیزی سے گئے اور رو رو کر اللہ کے واسطے دینے لگے‘ حضرت مسور اور حضرت عبدالرحمٰن نے بھی حضرت عائشہ کو اللہ کے واسطے دینے شروع کیے‘ مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کلام نہ کیا اور ان کا عذر قبول نہ کیا‘ وہ دونوں کہنے لگے: بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیکاٹ سے منع فرمایا جو آپ جانتی ہی ہیں کیونکہ کسی مسلمان کیلئے تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرنے کو ترک کرنا حلال نہیں ہے‘ پس جب انہوں نے نصیحت اور احادیث سنانے کا سلسلہ لمبا کیا تو آپ ان کو نصیحتیں کرنے لگے اور رونا شروع کر دیا۔ فرمانے لگیں: میں نے نذر مانی تھی اور نذر بھی بہت سختی تھی۔ پس انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی حتٰی کہ آپ نے حضرت ابن زبیر سے کلام کی۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اپنی نذر کے سلسلے میں چالیس غلام آزاد کیے‘ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی کبھی اپنی نذر کو یاد کر بیٹھتیں اور رونا شروع کر دیتیں حتٰی کہ ان کی اوڑھنی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← الليث عبد الرحمن بن خالد بن مسافر ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16780

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عوف بن الحارث بن الطفيل عن المسور بن مخرمة · حديث 16781

26 - حدثنا أحمد بن مسعود المقدسي ثنا محمد بن كثير الصنعاني وحدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن اسحاق التستري قالا ثنا محمود بن خالد الدمشقي ثنا عبد الله بن كثير القاري قالا ثنا الاوزاعي حدثني محمد بن مسلم الزهري أخبرني عوف بن الحارث بن الطفيل الازدي أزد شنوءة وهو ابن أخي عائشة لأمها Y أن عائشة بلغها أن عبد الله بن الزبير قال في دار لها باعتها فسخط عبد الله بيع تلك الدار فقال : أما والله لتنتهين عائشة عن بيع رباعها أو لأحجرن عليها فقالت عائشة : أو قال ذلك ؟ قالوا : قد قال ذلك قالت : هولله علي أن لا أكلمه حتى يفرق بيني وبينه الموت وذكر الحديث

حضرت عوف بن حارث بن طفیل از دی (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس بھائی کے بیٹے تھے جو ان کا ماں کی طرف سے تھا) راوی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس گھر کے بارے میں کہا ہے جو حضرت عائشہ کا اپنا تھا‘ اور بیچ دیا۔ پس اس گھر کو بیچنے سے حضرت ابن زبیر ناراض ہوئے اور کہا: (چونکہ خلیفہ وقت تھے) بخدا! حضرت عائشہ اپنے احاطے بیچنے سے رک جائیں‘ یا میں ان کو روک دوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ واقعی انہوں نے یہ بات کی ہے؟ بتایا گیا کہ انہوں نے یہ کہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی نذر مانتی ہوں کہ میں ان سے کلام نہ کروں گی حتٰی کہ موت آ کر میرے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دے۔اور اس کے بعد مکمل حدیث ذکر کی۔

عوف بن الحارث بن الطفيل الازدي أزد شنوءة وهو ابن أخي عائشة لأمها ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عبد الله بن كثير القاري ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن اسحاق التستري ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16781

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عوف بن الحارث بن الطفيل عن المسور بن مخرمة · حديث 16782

27 - حدثنا أبو أسامة عبد الله بن محمد بن أبي أسامة الحلبي ثنا حجاج بن أبي صنيع الرصافي ثنا جدي عن الزهري حدثني عوف بن الحارث بن الطفيل وهو ابن أخي عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم لأمها Y أن عائشة حدثت أن عبد الله بن الزبير قال في بيع أو عطايا أعطتها عائشة : والله لتنتهين عائشة أو لاحجرن عليها فقالت : أهو قال هذا ؟ قالو : نعم قالت : هو لله علي نذر أن لا أكلم ابن الزبير كلمة أبدا فاستشفع ابن الزبير اليها الناس حين أطالت هجرته فقالت : والله لا أشفع فيه أحدا ولا أحنث في نذري أبدا فلما طال ذلك على ابن الزبير كلم المسور بن مخرمة و عبد الرحمن بن الأسود بن عبد يغوث وهما من بني زهرة فقال لهما : أنشدكما الله الا أدخلتماني على عائشة وأنه لا يحل لها أن تنذر قطيعتي فأقبل المسور بن مخرمة و عبد الرحمن بن الأسود بن عبد يغوث مشتملين عليه بأرديتهما حتى استأذنا على عائشة فقالا : السلام على النبي ورحمة الله وبركاته أندخل ؟ قالت عائشة : أدخلوا قالوا كلنا يا أم المؤمنين ؟ قالت : نعم فادخلوا كلكم ولا تشعر عائشة أن معهما ابن الزبير فلما دخلوا دخل ابن الزبير الحجاب فاعتنق عائشة فطفق يناشدها ويبكي وطفق المسور بن مخرمة و عبد الرحمن بن الأسود يناشدان عائشة بالله أن كلميه وقبلت منه ويقولان لها أن رسول صلى الله عليه و سلم قد نهى عن الهجرة كما علمت وقال : لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال فلما أكثروا على عائشة من التذكرة والتحريج طفقت تذكرهم وتبكي وتقول : أني قد نذرت والنذر شأنه شديد فلم يزالا بها حتى كلمت ابن الزبير ثم أعتقت في نذرها أربعين رقبة ثم كانت تذكر نذرها ذلك بعدما أعتقت أربعين رقبة ثم تبكي حتى تبل دموعها خمارها

حضرت عوف بن حارث بن طفیل سے مروی ہے (یہ حضرت عائشہ کے ماں کی طرف سے بھائی کے بیٹے ہیں) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے کسی بیچ (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کی) یا کسی عطیہ کے بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کیا کرتی تھیں‘ کہا: بخدا! حضرت عائشہ (اس سے) رُک جائیں یا میں ان پر حجر لگا دوں گا۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا نہوں نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پس یہ تو اللہ کیلئے نذر ہے کہ میں کبھی حضرت ابن زبیر (آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجے) سے بات نہ کروں گی۔ (جب حضرت ابن زبیر کو پتہ چلا) تو حضرت ابن زبیر نے ان کی طرف سفارشی بھیجے جب ان سے نہ بولنے کا سلسلہ لمبا ہوا تو انہوں نے وہی بات کہی: بخدا! میں اس سلسلہ میں کسی کی سفارش نہ مانوں گی‘ نہ اپنی نذر توڑوں گی جو میں نے ہمیشہ کیلئے مانی ہے۔ پس جب یہ بات حضرت ابن زبیر نے سنی تو انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث سے (اس سلسلہ میں) بات کی (ان دونوں کا تعلق بنو زھرہ قبیلے سے تھا) پس حضرت ابن زبیر نے ان دونوں سے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں‘ ایک بار مجھے حضرت عائشہ کی خدمت میں پیش کر دو کیونکہ ان کیلئے جائز نہیں ہے کہ مجھ سے بائیکاٹ کی نذر مانیں۔ پس حضرات مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود ان کو اپنی چاروں میں چھپا کر لے کر آئے حتٰی کہ حضرت عائشہ سے حاضری کی اجازت مانگی‘ ان دونوں نے عرض کی : السلام علی النبی ورحمۃ اللہ ! (نبی پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو!) کیا ہم داخل ہو سکتے ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اندر آ جاؤ! انہوں نے عرض کی : اے مؤمنوں کی ماں! کیا ہم سب آ جائیں؟ فرمایا: ہاں! سب داخل ہو جاؤ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہ تھا کہ ان کے ساتھ حضرت ابن زبیر ہیں)۔ پس جب وہ سب داخل ہوئے تو حضرت ابن زبیر بھی پردہ کر کے اندر آ گئے۔ پس وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے تیزی سے گئے اور رو رو کر اللہ کے واسطے دینے لگے‘ حضرت مسور اور حضرت عبدالرحمٰن نے بھی حضرت عائشہ کو اللہ کے واسطے دینے شروع کیے‘ مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کلام نہ کیا اور ان کا عذر قبول نہ کیا‘ وہ دونوں کہنے لگے: بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیکاٹ سے منع فرمایا جو آپ جانتی ہی ہیں کیونکہ کسی مسلمان کیلئے تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرنے کو ترک کرنا حلال نہیں ہے‘ پس جب انہوں نے نصیحت اور احادیث سنانے کا سلسلہ لمبا کیا تو آپ ان کو نصیحتیں کرنے لگے اور رونا شروع کر دیا۔ فرمانے لگیں: میں نے نذر مانی تھی اور نذر بھی بہت سختی تھی۔ پس انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی حتٰی کہ آپ نے حضرت ابن زبیر سے کلام کی۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اپنی نذر کے سلسلے میں چالیس غلام آزاد کیے‘ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی کبھی اپنی نذر کو یاد کر بیٹھتیں اور رونا شروع کر دیتیں حتٰی کہ ان کی اوڑھنی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔

الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي، ← حجاج بن أبي صنيع الرصافي ← أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16782

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ محمد بن قيس عن المسور بن مخرمة · حديث 16783

28 - حدثنا العباس بن الفضل الآسفاطي ثنا عبد الرحمن بن المبارك العيشي ثنا عبد الوارث بن سعيد عن ابن جريج عن محمد بن قيس عن المسور بن مخرمة Y خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفات فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : أما بعد فان أهل الشرك والاوثان كانوا يدفعون من هذا الموضع اذا كانت الشمس على رؤوس الجبال كأنها عمائم الرجال في وجوهها وانا ندفع بعد أن تغيب وكانوا يدفعون من المشعر الحرام اذا كانت الشمس منبسطة

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عرفات میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا‘ اللہ کی حمد وثناء کی‘ پھر فرمایا: حمد وثناء کے بعد شرک کرنے والے اور بت پرست اس جگہ سے جاتے تھے‘ جب سورج پہاڑوں کی چوٹی پر ہوتا‘ سورج ایسے محسوس ہوتا تھا کہ مردوں کے عمامہ ان کے چہروں پر ہیں اور ہم مغرب کے بعد جائیں گے اور وہ مشعر حرام سے سورج کے غروب ہونے کے بعد نکلتے تھے۔

مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ الْعَيْشِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16783

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ قيس بن عبد الملك بن مخرمة عن المسور · حديث 16784

29 - حدثنا موسى بن هارون و الحسين بن هارون التستري قالا ثنا يحيى الحماني ثنا سليمان بن بلال عن قيس بن عبد الملك بن قيس بن مخرمة عن المسور بن مخرمة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اياكم والظلم فان الظلم ظلمات يوم القيامة

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں ہے۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← قَيْسُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يحيى الحماني ← موسى بن هارون و الحسين بن هارون التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16784

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عبيد الله بن أبي رافع عن المسور بن مخرمة · حديث 16785

30 - حدثنا موسى بن هارون ثنا محمد بن عباد المكي ثنا أبو سعيد مولى بني هاشم ثنا عبد الله بن جعفر عن أم بكر بنت المسور عن جعفر بن محمد عن عبيد الله بن أبي رافع عن المسور بن مخرمة Y أن حسن بن حسن بعث الى المسور يخطب ابنة له فقال : قل له يوافيني في وقت قد ذكره فلقيه فحمد الله المسور وقال : ما من سبب ولا نسب ولا صهر أحب الي من نسبكم وصهركم ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فاطمة شجنة مني يبسطني ما يبسطها ويقبضني ما يقبضها وانه يقطع يوم القيامة الانساب الا نسبي وسببي وتحتك ابنتها ولو زوجتك قبضها ذلك فذهب عاذرا له

حضرت عبیداللہ بن ابو رافع سے حضرت مسور بن مخرمہ کے بارے روایت ہے کہ حضرت حسن بن حسن نے حضرت مسور کی طرف پیغام نکاح بھیجا‘ ان کی بیٹی کے حوالے سے۔ فرمایا: اس سے کہو! مجھے فلاں وقت میں جس کا انہوں نے ذکر کیا‘ کام پورا کر دے۔ پس حضرت مسور ان سے ملے‘ اللہ کی حمد کے بعد کہا: کوئی وسیلہ‘ نسب اور دامادی کا رشتہ‘ مجھے آپ کے نسب و دامادی کے رشتے سے پیارا نہیں ہے‘ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت فاطمہ میرا جز ہے‘ مجھے خوش کرتی ہے جو چیز اسے خوش کرتی ہے اور مجھے دل گرفتہ بناتی ہے جو چیز انہیں دل گرفتہ بناتی ہے اور یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن سارے نسب منقطع ہو جائیں گے مگر میرا نسب اور وسیلہ باقی رہے گا اور صورت حال یہ ہے کہ آپ کی بیوی‘ ان کی بیٹی ہے‘ اگر میں (اپنی بیٹی کو ان پر سوکن ڈالتے ہوئے) آپ سے بیاہ دوں تو وہ دل گرفتہ ہوں گی‘ پس وہ عذر کرتے ہوئے چلے گئے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16785

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عمرو بن دينار عن المسور بن مخرمة · حديث 16786

31 - حدثنا العباس بن حمدان الحنفي الاصبهاني و أحمد بن زهير التستري قالا ثنا محمد بن عبد الملك الدقيقي ثنا عمران بن أبان ثنا محمد بن مسلم الطائفي عن عمرو بن دينار عن المسور بن مخرمة قال Y سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من أخذ شيئا من الارض قلده يوم القيامة من سبع أرضين

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی کی زمین ناجائز طریقے سے لی‘ اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق بنا کر لٹکا یا جائے گا۔

من أخذ شيئا من الارض قلده يوم القيامة من سبع أرضين ← النبي صلى الله عليه و سلم ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← العباس بن حمدان الحنفي الاصبهاني و أحمد بن زهير التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16786

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ أم بكر بنت المسور عن أبيها · حديث 16787

32 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا النعمان بن شبل الباهلي وحدثنا موسى بن هارون ثنا يحيى الحماني قالا ثنا عبد الله بن جعفر المخرمي قال حدثتني عمتي أم بكر بنت المسور بن مخرمة عن المسور بن مخرمة قال Y مر بي يهودي وأنا خلف النبي صلى الله عليه و سلم والنبي صلى الله عليه و سلم يتوضأ فدفع ثوبه على ظهره فاذا خاتم النبوة في ظهره فقال اليهودي : ارفع ثوبه على ظهره فذهبت أرفع ثوب النبي صلى الله عليه و سلم على ظهره فنفح النبي صلى الله عليه و سلم في وجهي كفا من ماء

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی میرے پاس سے گزرا‘ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کرنے لگے‘ آپ نے پیٹھ مبارک سے کپڑا ہٹایا تو آپ کی پشت مبارک پر مہر نبوت تھی‘ یہودی نے کہا: اپنی پشت سے کپڑا اٹھائیں! میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک سے کپڑا اٹھانے لگا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا چُلو بھر کر میرے چہرے پر پھینکا۔

خلف النبي صلى الله عليه و سلم ← مر بي يهودي ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← حدثتني عمتي أم بكر بنت المسور بن مخرمة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← يحيى الحماني ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← النعمان بن شبل الباهلي ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16787

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ أم بكر بنت المسور عن أبيها · حديث 16788

33 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا ابراهيم بن زكريا العبدي ثنا عبد الله بن جعفر المخرمي حدثتني عمتي أم بكر بنت المسور بن مخرمة Y أن الحسن بن علي خطب الى المسور بن مخرمة ابنته فزوجه وقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة الا سببي ونسبي

حضرت اُم بكر بنت مسور حدیث بیان فرماتی ہیں کہ حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف ان کی لڑکی سے شادی کا پیغام بھیجا۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے شادی کر دی‘ فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن ہر سبب ونسب ختم ہو جائے گا سوائے میرے سبب اور نسب کے۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَبْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16788

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ مسور بن يزيد الاسدي ثم الكاهلي · حديث 16789

34 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ( ح ) وحدثنا موسى بن هارون ثنا اسحاق بن راهويه ( ح ) وحدثنا عمرو بن أبي الطاهر ثنا يوسف بن عدي ( ح ) وحدثنا المقدام بن داود ثنا علي بن معبد الرقي قالوا ثنا مروان بن معاوية ثنا يحيى بن كثير الكاهلي عن مسور بن يزيد قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ في الصلاة فترك شيئا لم يقرأه فقال رجل يا رسول الله انه كذا وكذا قال : فهلا أذكرتنيها ؟ قال : كنت أراها نسخت

حضرت مسور بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں قرأت فرماتے تھے۔پس آپ نے ایک چیز کو چھوڑا جسے نہیں پڑھا‘ پس ایک آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! یہ اس اس طرح ہے۔فرمایا: تو نے یہ مجھے یاد کیوں نہ دلایا ؟ عرض کی : میں نے خیال کیا کہ وہ منسوخ ہو گئی ہے۔

رَجُلٌ: ← مسور بن يزيد ← یَحْیَی بْنُ کثیر الکاھلی ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الرَّقِّيُّ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16789

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter