المعجم الکبیر للطبرانی · باب الميم ‹ عوف بن الحارث بن الطفيل عن المسور بن مخرمة · حديث 16780
25 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عبد الرحمن بن خالد بن مسافر عن ابن شهاب عن عوف بن الحارث بن طفيل وهو ابن أخي عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم لأمها Y أن عائشة حدثته أن عبد الله بن الزبير قال في بيع أو عطاء أعطته عائشة : والله لتنتهين عائشة أو لأحجرن عليها فقالت : هو قال هذا ؟ قالو : نعم قالت عائشة : فهو لله نذر أن لا أكلم ابن الزبير كلمة أبدا فاستشفع ابن الزبير اليها حين طالت هجرتها اياه فقالت : والله لا أشفع فيه أحدا أبدا ولا أحنث نذري الذي نذرت أبدا فلما طال ذلك على ابن الزبير كلم المسور بن مخرمة و عبد الرحمن بن الأسود بن عبد يغوث وهما من بني زهرة فقال لهما : أنشدكما الله الا أدخلتماني على عائشة فأنه لايحل لها أن تنذر قطيعتي فأقبل به المسور بن مخرمة و عبد الرحمن بن الأسود مشتملين عليه بأرديتهما حتى استأذنا على عائشة فقالا : السلام على النبي ورحمة الله أندخل ؟ قالت عائشة أدخلوا قالوا كلنا يا أم المؤمنين ؟ قالت : نعم أدخلوا كلكم ولا تعلم عائشة أن معهما ابن الزبير فلما دخلوا دخل ابن الزبير الحجاب فاعتنق عائشة وطفق يناشدها ويبكي وطفق المسور و عبد الرحمن يناشدان عائشة الا ما كلمته وقبلت منه ويقولان أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عما قد علمت من الهجرة فانه لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال فلما أكثروا على عائشة التذكرة والتحريج طفقت تذكرهم وتبكي وتقول : اني قد نذرت والنذر شديد فلم يزالوا بها حتى كلمت ابن الزبير فأعتقت في نذرها أربعين رقبة وتبكي حتى تبل دموعها خمارها
حضرت عوف بن حارث بن طفیل سے روایت ہے‘ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا۔ کے بھائی کے بیٹے (بھتیجے) ہیں جو ان کی ماں کی طرف سے بھائی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے بیع یا عطیہ کے بارے میں فرمایا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا: بخدا! حضرت عائشہ (اس سے) رک جائیں یا میں ان پر حجر لگا دوں گا۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا نہوں نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پس یہ تو اللہ کیلئے نذر ہے کہ میں کبھی حضرت ابن زبیر (آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجے) سے بات نہ کروں گی۔ (جب حضرت ابن زبیر کو پتہ چلا) تو حضرت ابن زبیر نے ان کی طرف سفارشی بھیجے جب ان سے نہ بولنے کا سلسلہ لمبا ہوا تو انہوں نے وہی بات کہی: بخدا! میں اس سلسلہ میں کسی کی سفارش نہ مانوں گی‘ نہ اپنی نذر توڑوں گی جو میں نے ہمیشہ کیلئے مانی ہے۔ پس جب میں بات حضرت ابن زبیر نے سنی تو انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث سے (اس سلسلہ میں) بات کی (ان دونوں کا تعلق بنوز ھرہ قبیلے سے تھا) پس حضرت ابن زبیر نے ان دونوں سے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ایک بار مجھے حضرت عائشہ کی خدمت میں پیش کر دو کیونکہ ان کیلئے جائز نہیں ہے کہ مجھ سے بائیکاٹ کی نذر مانیں۔ پس حضرات مسور بن مخرمہ اورعبدالرحمٰن بن اسود ان کو اپنی چاروں میں چھپا کر لے کر آئے حتٰی کہ حضرت عائشہ سے حاضری کی اجازت مانگی‘ ان دونوں نے عرض کی : السلام علی النبی ورحمۃ اللہ ! (نبی پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو!) کیا ہم داخل ہو سکتے ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اندر آ جاؤ! انہوں نے عرض کی : اے مؤمنوں کی ماں! کیا ہم سب آ جائیں؟ فرمایا: ہاں ! سب داخل ہو جاؤ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہ تھا کہ ان کے ساتھ حضرت ابن زبیر ہیں)۔ پس جب وہ سب داخل ہوئے تو حضرت ابن زبیر بھی پردہ کر کے اندر آ گئے۔ پس وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے تیزی سے گئے اور رو رو کر اللہ کے واسطے دینے لگے‘ حضرت مسور اور حضرت عبدالرحمٰن نے بھی حضرت عائشہ کو اللہ کے واسطے دینے شروع کیے‘ مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کلام نہ کیا اور ان کا عذر قبول نہ کیا‘ وہ دونوں کہنے لگے: بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیکاٹ سے منع فرمایا جو آپ جانتی ہی ہیں کیونکہ کسی مسلمان کیلئے تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرنے کو ترک کرنا حلال نہیں ہے‘ پس جب انہوں نے نصیحت اور احادیث سنانے کا سلسلہ لمبا کیا تو آپ ان کو نصیحتیں کرنے لگے اور رونا شروع کر دیا۔ فرمانے لگیں: میں نے نذر مانی تھی اور نذر بھی بہت سختی تھی۔ پس انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی حتٰی کہ آپ نے حضرت ابن زبیر سے کلام کی۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اپنی نذر کے سلسلے میں چالیس غلام آزاد کیے‘ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی کبھی اپنی نذر کو یاد کر بیٹھتیں اور رونا شروع کر دیتیں حتٰی کہ ان کی اوڑھنی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔
ابْنِ شِهَابٍ، ← الليث عبد الرحمن بن خالد بن مسافر ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16780
