المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ كعب بن عجرة عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6077
6064 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة ابن خالد ثنا هشام بن الغاز عن عبادة بن نسي عن كعب بن عجرة Y أن سلمان مر به وهو مرابط بأرض فارس فقال : ألا أخبرك بأمر يكون لك عونا على رباطك ؟ قال : بلى قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( رباط يوم في سبيل الله خير من صيام شهر وقيامه )
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زبانی مجھے حدیث سنائی‘ فرمایا: میں فارسی آدمی ہوں‘ علاقہ اصفہان کے ایک گاؤں جس کا نام جیّ ہے۔ میرے والد گرامی اپنے گاؤں کے کسان تھے‘ میں ان کو اللہ کی ساری مخلوق سے زیادہ محبوب تھا‘ مجھ سے ان کی محبت مسلسل رہی حتٰی کہ وہ مجھے گھر میں روک کے رکھتے تھے جس طرح دوشیزہ کو روک کے رکھا جاتا ہے‘ میں نے مجوسیت کو سمجھنے کی کوشش کی حتٰی کہ میں یوں آگ کا پجاری بن گیا کہ میں اسے جلاتا تھا اور ایک لمحہ بھی اسے بجھا ہوا نہ چھوڑتاتھا۔ میرے باپ کا عظیم مال تھا۔ پس ایک دن‘ وہ مشغول کر دیئے گئے اور مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے ! میرے سازو سامان کی طرف جا کر دیکھے۔ پس انہوں نے اس میں سے کچھ لانے کا حکم دیا۔ پھر مجھ سے کہا: وہیں رک نہ جانا کہ میں یہاں انتظار کرتا رہوں کیونکہ اگر تو میرے پاس آنے سے رک گیا تو تو مجھ پر میرے سامان کا غم ڈالنے والا ہو گا اور تو مجھے میرے ہر کام سے غافل کر دے گا۔ پس میں ان کے سامان کی طرف جانے کا ارادہ لے کر نکلا‘ اس کی طرف چلتا جا رہا تھا تو میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں میں سے ایک عبادت گاہ کے پاس سے گزرا۔ میں نے اس میں ان کی آواز میں سنیں‘ اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور میں نہیں جانتا تھا‘ میرے والد کے مجھے اپنے گھر میں روکنے کی وجہ سے لوگوں کا معاملہ کیا ہے۔ پس جب میں نے ان کی آوازیں سنیں تو میں ان کے پاس گیا تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ پس جب میں نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوا اور ان کے دین میں دلچسپی لی اور اپنے دل میں کہا: بے شک یہ اس سے بہتر دین ہے‘ جس میں میں ہوں‘ سورج غروب ہونے تک میں ان کے پاس رہا؟ اور اپنے باپ کے سامان کو وہیں کا وہیں چھوڑ دیا‘ پھر میں نے ان سے کہا: تم میں سے سب سے زیادہ اس دین میں بصیرت کس کو حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی ہے جو شام میں رہتا ہے‘ میں اپنے باپ کی طرف آیا جبکہ وہ میری تلاش میں لوگ بھیج چکے تھے اور میں نے ان کو ان کے کام سے غافل کر دیا تھا۔ میرے باپ نے پوچھا: اے میرے بیٹے ! تم کہاں تھے؟ کیا میں نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا جولیا تھا ؟ میں نے جواب دیا: میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھ رہے تھے‘ میں ان کے پاس چلا گیا‘ بس ان کے پاس ہی رہا وہ نماز میں مصروف رہے حتٰی کہ سورج غروب ہو گیا۔ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اس دین میں کوئی بھلائی نہیں ہے‘ تیرا اور تیرے آباء واجداد کا دین اس سے بہتر ہے‘ پھر مجھے اپنے گھر میں روک لیا‘ میں نے عیسائی کی طرف آدمی بھیجا اور کہا: جب شام سے تمہارے پاس کوئی قافلہ آئے تو مجھے بتانا‘ پس عیسائی تاجروں کا ایک قافلہ شام سے آیا تو انہوں نے مجھے بتایا‘ میں نے انہیں فرمایا: جب وہ اپنے کام کاج کر لیں اور اپنے غلاموں میں واپس جانے کا ارادہ کریں تو مجھے خبر دینا۔ پس میں نے اپنے پاؤں سے بیڑیاں اتار کر پھینک دیں پھر ان کے ساتھ نکل کر شام آ گیا۔ پس جب میں ان کے پاس ان کی عبادت گاہ میں آیا تو میں نے ان سے سوال کیا: اس دین والوں میں سے سب سے زیادہ فضیلت وعلم رکھنے والا کون ہے؟ انہوں نے کہا: عبادت خانے میں ۔۔۔۔۔۔پس میں اس کے پاس آیا‘ میں نے کہا: مجھے اس دین کو حاصل کر نے کا شوق ہے۔ میں آپ کے پاس آپ کے عبادت خانے میں آپ کی خدمت کرنے کی خواہش رکھتا ہوں‘ آپ سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور آپ کے ساتھ مل کر نماز پڑھوں گا۔اس نے کہا: داخل ہو جائیں۔ پس میں اس کے پاس داخل ہوا جبکہ وہ اچھا آدمی نہ تھا‘ لوگوں کو حکم دیتا تھا کہ صدقہ دو اور ان لوگوں کو صدقہ کرنے کا شوق دلاتا۔ پس جب وہ لوگ کچھ نہ کچھ صدقہ اس کے پاس جمع کر لیتے تو وہ اسے اپنی ذات کیلئے اکٹھا کر کے رکھ لیتا تھا۔لوگوں میں سے کسی (غریب) آدمی کو کوئی شی نہ دیتا تھا حتٰی کہ اس نے سونا چاندی کے ڈھیر اکٹھے کر لیے۔ پس مجھے اس سے سخت نفرت ہو گئی کیونکہ میں نے اس کا بھیانک کردار دیکھ لیا تھا‘ پھر وہ مر گیا اور عیسائی اکٹھے ہوئے تاکہ اس کو دفن کریں۔ پس میں نے ان سے کہا: یہ تو برا آدمی تھا‘ تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا اور اس میں تمہیں شوق دلاتا‘ پس جب تم اس کے پاس وہ اکٹھا کر لیتے تھے تو اسے اپنی ذات کیلئے اکٹھا کر کے رکھ لیتا تھا اور اس میں سے مسکینوں کو کوئی شی نہیں دیتا تھا۔ انہوں نے (ایک بار تو) کہا: تمہیں کیا معلوم ؟ لیکن میں نے ان سے کہا: آؤ! میں تمہیں اس کا جمع شدہ مال دکھاتا ہوں۔ انہوں نے کہا: دکھاؤ! میں نے انہیں دکھایا‘ پس انہوں نے سونا چاندی نکالے۔ پس جب انہوں نے یہ دیکھا تو کہا: ہم اس کو کبھی بھی دفن نہیں کریں گے۔ پس انہوں نے اسے سولی چڑھا دیا پھر اس کو پتھر مارے اور وہاں ایک اور آدمی تھا جس کو انہوں نے اس کے قائم مقام بنا دیا۔ راوی کا بیان ہے: حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ پس میں نے پانچ وقت کا نمازی اس سے بہتر نہیں دیکھا‘ دنیا سے کنارہ کش‘ آخرت میں راغب‘ رات دن کی اس کی عادتیں (کمال تھیں) پس میں نے اس سے ٹوٹ کر محبت کی‘ اتنی کہ کبھی کسی شے سے نہیں کی۔ ایک زمانہ میں اس کے ساتھ رہا پھر اس کے پاس موت کا فرشتہ حاضر ہوا۔ میں نے اس سے کہا: اے فلاں! بے شک میں تیرے ساتھ تھا‘ پس میں نے تیرے ساتھ اتنی محبت کی جتنی کسی اورشی سے نہیں کی۔ اب تیرے پاس اللہ کے حکم میں سے وہ آ گیا ہے جو تو خود دیکھ رہا ہے۔ پس اب تو مجھے کسی کی طرف وصیت کرتا ہے اور کیا حکم دیتا ہے؟ اس نے کہا: اے میرے بیٹے! قسم بخدا! لوگوں میں سے کسی کو میں نہیں جانتا جو میری روش پر ہو‘ تحقیق لوگ ہلاک ہوئے‘ بدل دیا اور ترک کر دیا‘ بہت ساری ان چیزوں کو جن کو وہ اپنائے ہوئے تھے مگر ایک آدمی موصل میں رہتا ہے اور وہ فلاں آدمی ہے یعنی نام بتایا۔ وہ میری روش پر ہیں۔ پس جا کر اس سے مل جا۔ پس جب وہ مر گیا اور اسے دفن کر دیا گیا تو میں موصل والے آدمی سے جاملا۔ میں نے کہا: اے فلاں ! بے شک فلاں نے مجھے وصیت کی ہے اپنی موت کے وقت کہ میں تجھ سے ملوں اور مجھے بتایا کہ تیرا اور اس کا عبادت کا طریقہ ایک ہے۔ اس نے کہا: میرے پاس مقیم ہو سکتے ہو۔پس میں اس کے پاس مقیم ہو گیا۔ پس میں نے پایا کہ اس کا اور اس کے ساتھی کا معاملہ ایک ہے۔ پس میں اس کی موت تک اس کے پاس ہی رہا۔ پس جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں ! بے شک فلاں نے مجھے تیری طرف وصیت کی اور مجھے تجھ سے ملنے کا حکم دیا جبکہ اب تیرا وہ وقت آ گیا ہے جو تو دیکھ رہا ہے‘ پس تو مجھے کس کی طرف وصیت کرتا ہے اور کیا حکم دیتا ہے؟ اس نے کہا: اے بیٹے ! میں نہیں جانتا ہوں کہ کوئی آدمی رہ گیا ہو‘ جس کی طرف جانے کا میں تجھے حکم دوں۔ ہاں عموریہ میں ایک آدمی ہے روم کی سرزمین پر‘ بس اس کا طریقہ عبادت وہی ہے جو ہمارا ہے۔ پس جب وہ مر گیا اور دفن ہو گیا تو میں عموریہ والے آدمی سے جا ملا۔ پس اسے اپنی خبر دی تو اس نے کہا: میرے پاس رہ سکتے ہو۔ پس میں اس بہتر آدمی کے پاس رہ گیا جس کا گزارہ اپنے دوستوں کے ہدیوں اور کاموں پر تھا۔ میں نے بھی خوب کمائی کی حتٰی کہ میرے پاس بہت ساری گائیں اور بکریاں جمع ہو گئیں‘ پھر اس پر بھی اللہ کا حکم آیا‘ پس جب اس کی موت کا وقت آیا تو میں نے کہا: اے فلاں ! پہلے میں فلاں آدمی کے پاس تھا‘ پھر اس نے مجھے تیری طرف وصیت کی۔ پس اب تو مجھے کس کی طرف وصیت کرتا ہے؟ اور مجھے کس کے پاس جانے کا حکم دیتا ہے؟ اس نے کہا: قسم بخدا! میں نہیں جانتا کہ کوئی آدمی ہمارے طریقہ عبادت پر ہو لوگوں میں سے جس کے پاس جانے کا میں تجھے حکم دوں لیکن اس نبی کے تشریف لانے کا زمانہ آ گیا ہے‘ جو دین ابراہیمی کے ساتھ بھیجا جائے گا‘ عرب کی ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف ہجرت کرے گا۔ میرا گمان ہے کہ اس نے کہا: کھجوروں والی زمین ہے۔ نشانیاں مخفی نہیں ہیں۔ وہ ہدیہ تو کھائے گا لیکن صدقہ نہیں کھائے گا‘ ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ختم نبوت کی مہر ہے۔ پس اگر تیرے اندر طاقت ہے کہ اس علاقے میں پہنچے گا تو ایسا کر لے‘ پھر وہ مر گیا اور دفن کر دیا گیا تو میں عموریہ میں ٹھہرا رہا جتنا اللہ نے چاہا کہ میں ٹھہروں۔ بنو کلب کے تاجروں کا ایک قافلہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے ان سے کہا: عرب کی زمین تک مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ اور میں تمہیں اپنی یہ گائیں اور بکریاں دیتا ہوں؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے! پس میں نے وہ ان کے حوالے کر دیں اور انہوں نے مجھے اپنے ساتھ سوار کر لیا حتٰی کہ وہ وادی قریٰ آ گئے لیکن انہوں نے مجھ پرظلم کمایا۔ مجھے ایک یہودی کے پاس بیچ دیا۔ پس میں اس کے پاس تھا تو کھجوروں پر میری نظر پڑی۔ میں نے امید باندھی کہ یہ وہی علاقہ ہے جس کی صفت میرے دوست نے کی تھی‘ لیکن مجھے یقین نہ ہوا۔ پس اس دوران کہ میں اس کے پاس تھا۔ اس کا چچا زاد بھائی اس کے پاس آیا‘ اس کا تعلق بنو قریظہ سے تھا‘ اس نے مجھے اس سے خرید لیا‘ وہ مجھے مدینے لے آیا۔ پس قسم بخدا! جوں ہی میں نے مدینے کو دیکھا تو اپنے دوست کی بتائی ہوئی علامتوں سے اسے پہچان لیا۔ پس میں وہیں مقیم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ مکہ میں مقیم رہے جتنا مقیم رہے لیکن میں آپ کا ذکر نہ سن سکا‘ اس کی وجہ یہی تھی کہ میں غلامی کی زندگی گزار رہا تھا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی‘ پس قسم بخدا! میں اپنے مالک کے کھجور کے پھلدار درخت پر تھا‘ اس میں کچھ کام کر رہا تھا اور میرا ما لک اس کے نیچے بیٹھا ہوا تھا‘ جب اس کے چچا کا ایک بیٹا آیا اور اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا‘ کہنے لگا: بنو فیلہ کو اللہ ہلاک کرے ! قسم بخدا! وہ سارے ایک ایسے آدمی کے پاس اکٹھے ہور ہے ہیں‘ جو مکہ سے آیا ہے اور ان کا گمان ہے کہ وہ نبی ہے۔ پس جب یہ بات میرے کاموں پر پڑی تو میری خوشی کی حد نہ رہی حتٰی کہ میں نے گمان کیا کہ (خوشی سے) میں اپنے مالک کے اوپر گر پڑوں گا‘ بہر حال میں کھجور کے درخت سے نیچے اتر آیا۔ پس میں نے اس کے چچا کے بیٹے سے کہنا شروع کر دیا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ (یہ بات سن کر) میرے مالک کو غصہ آیا تو اس نے مجھے زبردست قسم کا طمانچہ رسید کیا‘ پھر کہا: اس سے تجھے غرض ہے؟ تو اپنا کام کر۔ میں نے کہا: کوئی غرض نہیں۔بس میرا ارادہ تھا کہ جو کچھ اس نے کہا‘ اس کے بارے اس کا نظریہ معلوم کروں۔ میں نے اپنے پاس کچھ پونجی جمع کی ہوئی تھی۔ پس جب شام ہوئی تو میں نے اس کو لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا جبکہ آپ قباء کے مقام پر موجود تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا۔ میں نے عرض کی : مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے غریب حاجت مند ساتھی بھی ہیں اور یہ میرے پاس صدقہ کی کچھ چیز ہے‘ پس میں نے خیال کیا کہ آپ لوگ اس کے زیادہ حقدار ہیں اور میں نے وہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کھا لولیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہاتھ روک لیا کوئی چیز نہیں کھائی۔ پس میں نے اپنے دل میں کہا: یہ ایک نشانی ہوئی۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آ گیا۔ پس میں نے کچھ پونجی جمع کی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ شہر میں منتقل ہو گئے‘ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا۔ میں نے عرض کی: میرا خیال ہے یا میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے‘ لیکن یہ ہدیہ ہے جس کے ساتھ میں نے آپ کی عزت افزائی کی ہے‘ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کھایا اور اپنے صحابہ کرام کو حکم دیا‘ پس انہوں نے بھی کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: یہ نشانیاں ہو گئیں‘ پھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ آپ جنت لبقیع میں تھے‘ ایک انصاری کے جنازہ کے پیچھے آئے تھے‘ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے‘ میں نے آپ پر سلام کیا پھر میں گھوما تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ کو دیکھوں کہ کیا میں وہ مہر دیکھ سکتا ہوں جس کی تعریف میرے سامنے میرے دوست نے کی؟ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گھومتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھ گئے کہ میں کوئی چیز تلاش کر رہا ہوں جو مجھے بتائی گئی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی اپنی پیٹھ سے اپنی چادر الٹ دی تو میں نے مہر نبوت کو دیکھ کر پہچان لیا۔ پس میں اسے چومنے کیلئے جھکا اور رونے لگا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: سامنے آؤ! پس میں آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا‘ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ساری بات بتائی جیسے اے ابن عباس! آپ کو بتائی ہے‘ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند کیا کہ اس کو آپ کے صحابہ کرام سنیں! پھر حضرت سلمان غلامی کی زندگی میں مصروف کر دیئے گئے حتٰی کہ بدرو اُحد میں شامل نہ ہو سکے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان! اپنے مالک کو مال کتابت دے کر آزادی حاصل کر لو۔ پس میں نے اپنے مالک سے کتابت طے کی‘ تین سو کھجور کے درخت جو میں اس کیلئے لگا کر پالوں گا اور چالیس اوقیہ سونا بھی دوں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو! پس ایک آدمی نے تین درخت‘ ایک نے بیس‘ ایک نے پندرہ اور ایک آدمی نے دس درخت میری امداد کی اور دیگر نے اپنی اپنی طاقت کے مطابق جو ان کے پاس تھا‘ میری خوب مدد کی حتٰی کہ میرے پاس تین سو درشت جمع ہو گئے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے سلمان ! جاؤ اور مجھے بتاؤ حتٰی کہ میں اس پر اپنا ہاتھ رکھوں۔ میرے دوستوں نے میری مدد کی یہاں تک کہ میں اپنے کام سے فارغ ہوا‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر آپ کو خبر دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ اس کی طرف نکلے۔ پس میں نے کھجور کے چھوٹے پودے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کرنا شروع کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا حتٰی کہ ہم فارغ ہوئے‘ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں سلمان کی جان ہے‘ ان میں سے ایک بوٹا بھی مرتا نہیں (حتٰی کر مکمل ہوا) میں نے کھجور کے درخت تو اسے پورے کر دیئے لیکن مال میرے ذمہ باقی رہا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونا لائے جو مرغی کے انڈے کی مقدار تھا‘ جو کسی غزوہہ کے موقعہ پر ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فارسی مکاتب غلام کا کیا بنا ؟ پس مجھے بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ پکڑ کر اپنا مال کتابت ادا کرو‘ پس میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! جو مجھ پر واجب ہے‘ اس میں سے کتنا حصہ اس کے ساتھ ادا ہو گا ؟ فرمایا: اسے پکڑ (اور جا کر مالک کے حوالے کر دو) پس اللہ تعالیٰ خود اپنی جناب خاص سے اس کو تیری طرف سے ادائیگی بنا دے گا۔ پس میں نے اس کیلئے اس کا وزن کیا‘ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں سلمان کی جان ہے ! وہ چالیس اوقیہ تھا۔ پس میں نے ان کا حق ان کو دے دیا۔ (راوی کا بیان ہے :) حضرت سلمان کو آزاد کر دیا گیا اور حضرت سلمان‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق میں شریک ہوئے پھر اس کے بعد کسی غزوہ میں پیچھے ہیں رہے۔
رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بَلٰی ← ألا أخبرك بأمر يكون لك عونا على رباطك ← كعب بن عجرة أن سلمان مر به وهو مرابط بأرض فارس ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← صدقة ابن خالد ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6077
