Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ كعب بن عجرة عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6077

6064 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة ابن خالد ثنا هشام بن الغاز عن عبادة بن نسي عن كعب بن عجرة Y أن سلمان مر به وهو مرابط بأرض فارس فقال : ألا أخبرك بأمر يكون لك عونا على رباطك ؟ قال : بلى قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( رباط يوم في سبيل الله خير من صيام شهر وقيامه )

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زبانی مجھے حدیث سنائی‘ فرمایا: میں فارسی آدمی ہوں‘ علاقہ اصفہان کے ایک گاؤں جس کا نام جیّ ہے۔ میرے والد گرامی اپنے گاؤں کے کسان تھے‘ میں ان کو اللہ کی ساری مخلوق سے زیادہ محبوب تھا‘ مجھ سے ان کی محبت مسلسل رہی حتٰی کہ وہ مجھے گھر میں روک کے رکھتے تھے جس طرح دوشیزہ کو روک کے رکھا جاتا ہے‘ میں نے مجوسیت کو سمجھنے کی کوشش کی حتٰی کہ میں یوں آگ کا پجاری بن گیا کہ میں اسے جلاتا تھا اور ایک لمحہ بھی اسے بجھا ہوا نہ چھوڑتاتھا۔ میرے باپ کا عظیم مال تھا۔ پس ایک دن‘ وہ مشغول کر دیئے گئے اور مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے ! میرے سازو سامان کی طرف جا کر دیکھے۔ پس انہوں نے اس میں سے کچھ لانے کا حکم دیا۔ پھر مجھ سے کہا: وہیں رک نہ جانا کہ میں یہاں انتظار کرتا رہوں کیونکہ اگر تو میرے پاس آنے سے رک گیا تو تو مجھ پر میرے سامان کا غم ڈالنے والا ہو گا اور تو مجھے میرے ہر کام سے غافل کر دے گا۔ پس میں ان کے سامان کی طرف جانے کا ارادہ لے کر نکلا‘ اس کی طرف چلتا جا رہا تھا تو میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں میں سے ایک عبادت گاہ کے پاس سے گزرا۔ میں نے اس میں ان کی آواز میں سنیں‘ اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور میں نہیں جانتا تھا‘ میرے والد کے مجھے اپنے گھر میں روکنے کی وجہ سے لوگوں کا معاملہ کیا ہے۔ پس جب میں نے ان کی آوازیں سنیں تو میں ان کے پاس گیا تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ پس جب میں نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوا اور ان کے دین میں دلچسپی لی اور اپنے دل میں کہا: بے شک یہ اس سے بہتر دین ہے‘ جس میں میں ہوں‘ سورج غروب ہونے تک میں ان کے پاس رہا؟ اور اپنے باپ کے سامان کو وہیں کا وہیں چھوڑ دیا‘ پھر میں نے ان سے کہا: تم میں سے سب سے زیادہ اس دین میں بصیرت کس کو حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی ہے جو شام میں رہتا ہے‘ میں اپنے باپ کی طرف آیا جبکہ وہ میری تلاش میں لوگ بھیج چکے تھے اور میں نے ان کو ان کے کام سے غافل کر دیا تھا۔ میرے باپ نے پوچھا: اے میرے بیٹے ! تم کہاں تھے؟ کیا میں نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا جولیا تھا ؟ میں نے جواب دیا: میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھ رہے تھے‘ میں ان کے پاس چلا گیا‘ بس ان کے پاس ہی رہا وہ نماز میں مصروف رہے حتٰی کہ سورج غروب ہو گیا۔ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اس دین میں کوئی بھلائی نہیں ہے‘ تیرا اور تیرے آباء واجداد کا دین اس سے بہتر ہے‘ پھر مجھے اپنے گھر میں روک لیا‘ میں نے عیسائی کی طرف آدمی بھیجا اور کہا: جب شام سے تمہارے پاس کوئی قافلہ آئے تو مجھے بتانا‘ پس عیسائی تاجروں کا ایک قافلہ شام سے آیا تو انہوں نے مجھے بتایا‘ میں نے انہیں فرمایا: جب وہ اپنے کام کاج کر لیں اور اپنے غلاموں میں واپس جانے کا ارادہ کریں تو مجھے خبر دینا۔ پس میں نے اپنے پاؤں سے بیڑیاں اتار کر پھینک دیں پھر ان کے ساتھ نکل کر شام آ گیا۔ پس جب میں ان کے پاس ان کی عبادت گاہ میں آیا تو میں نے ان سے سوال کیا: اس دین والوں میں سے سب سے زیادہ فضیلت وعلم رکھنے والا کون ہے؟ انہوں نے کہا: عبادت خانے میں ۔۔۔۔۔۔پس میں اس کے پاس آیا‘ میں نے کہا: مجھے اس دین کو حاصل کر نے کا شوق ہے۔ میں آپ کے پاس آپ کے عبادت خانے میں آپ کی خدمت کرنے کی خواہش رکھتا ہوں‘ آپ سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور آپ کے ساتھ مل کر نماز پڑھوں گا۔اس نے کہا: داخل ہو جائیں۔ پس میں اس کے پاس داخل ہوا جبکہ وہ اچھا آدمی نہ تھا‘ لوگوں کو حکم دیتا تھا کہ صدقہ دو اور ان لوگوں کو صدقہ کرنے کا شوق دلاتا۔ پس جب وہ لوگ کچھ نہ کچھ صدقہ اس کے پاس جمع کر لیتے تو وہ اسے اپنی ذات کیلئے اکٹھا کر کے رکھ لیتا تھا۔لوگوں میں سے کسی (غریب) آدمی کو کوئی شی نہ دیتا تھا حتٰی کہ اس نے سونا چاندی کے ڈھیر اکٹھے کر لیے۔ پس مجھے اس سے سخت نفرت ہو گئی کیونکہ میں نے اس کا بھیانک کردار دیکھ لیا تھا‘ پھر وہ مر گیا اور عیسائی اکٹھے ہوئے تاکہ اس کو دفن کریں۔ پس میں نے ان سے کہا: یہ تو برا آدمی تھا‘ تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا اور اس میں تمہیں شوق دلاتا‘ پس جب تم اس کے پاس وہ اکٹھا کر لیتے تھے تو اسے اپنی ذات کیلئے اکٹھا کر کے رکھ لیتا تھا اور اس میں سے مسکینوں کو کوئی شی نہیں دیتا تھا۔ انہوں نے (ایک بار تو) کہا: تمہیں کیا معلوم ؟ لیکن میں نے ان سے کہا: آؤ! میں تمہیں اس کا جمع شدہ مال دکھاتا ہوں۔ انہوں نے کہا: دکھاؤ! میں نے انہیں دکھایا‘ پس انہوں نے سونا چاندی نکالے۔ پس جب انہوں نے یہ دیکھا تو کہا: ہم اس کو کبھی بھی دفن نہیں کریں گے۔ پس انہوں نے اسے سولی چڑھا دیا پھر اس کو پتھر مارے اور وہاں ایک اور آدمی تھا جس کو انہوں نے اس کے قائم مقام بنا دیا۔ راوی کا بیان ہے: حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ پس میں نے پانچ وقت کا نمازی اس سے بہتر نہیں دیکھا‘ دنیا سے کنارہ کش‘ آخرت میں راغب‘ رات دن کی اس کی عادتیں (کمال تھیں) پس میں نے اس سے ٹوٹ کر محبت کی‘ اتنی کہ کبھی کسی شے سے نہیں کی۔ ایک زمانہ میں اس کے ساتھ رہا پھر اس کے پاس موت کا فرشتہ حاضر ہوا۔ میں نے اس سے کہا: اے فلاں! بے شک میں تیرے ساتھ تھا‘ پس میں نے تیرے ساتھ اتنی محبت کی جتنی کسی اورشی سے نہیں کی۔ اب تیرے پاس اللہ کے حکم میں سے وہ آ گیا ہے جو تو خود دیکھ رہا ہے۔ پس اب تو مجھے کسی کی طرف وصیت کرتا ہے اور کیا حکم دیتا ہے؟ اس نے کہا: اے میرے بیٹے! قسم بخدا! لوگوں میں سے کسی کو میں نہیں جانتا جو میری روش پر ہو‘ تحقیق لوگ ہلاک ہوئے‘ بدل دیا اور ترک کر دیا‘ بہت ساری ان چیزوں کو جن کو وہ اپنائے ہوئے تھے مگر ایک آدمی موصل میں رہتا ہے اور وہ فلاں آدمی ہے یعنی نام بتایا۔ وہ میری روش پر ہیں۔ پس جا کر اس سے مل جا۔ پس جب وہ مر گیا اور اسے دفن کر دیا گیا تو میں موصل والے آدمی سے جاملا۔ میں نے کہا: اے فلاں ! بے شک فلاں نے مجھے وصیت کی ہے اپنی موت کے وقت کہ میں تجھ سے ملوں اور مجھے بتایا کہ تیرا اور اس کا عبادت کا طریقہ ایک ہے۔ اس نے کہا: میرے پاس مقیم ہو سکتے ہو۔پس میں اس کے پاس مقیم ہو گیا۔ پس میں نے پایا کہ اس کا اور اس کے ساتھی کا معاملہ ایک ہے۔ پس میں اس کی موت تک اس کے پاس ہی رہا۔ پس جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں ! بے شک فلاں نے مجھے تیری طرف وصیت کی اور مجھے تجھ سے ملنے کا حکم دیا جبکہ اب تیرا وہ وقت آ گیا ہے جو تو دیکھ رہا ہے‘ پس تو مجھے کس کی طرف وصیت کرتا ہے اور کیا حکم دیتا ہے؟ اس نے کہا: اے بیٹے ! میں نہیں جانتا ہوں کہ کوئی آدمی رہ گیا ہو‘ جس کی طرف جانے کا میں تجھے حکم دوں۔ ہاں عموریہ میں ایک آدمی ہے روم کی سرزمین پر‘ بس اس کا طریقہ عبادت وہی ہے جو ہمارا ہے۔ پس جب وہ مر گیا اور دفن ہو گیا تو میں عموریہ والے آدمی سے جا ملا۔ پس اسے اپنی خبر دی تو اس نے کہا: میرے پاس رہ سکتے ہو۔ پس میں اس بہتر آدمی کے پاس رہ گیا جس کا گزارہ اپنے دوستوں کے ہدیوں اور کاموں پر تھا۔ میں نے بھی خوب کمائی کی حتٰی کہ میرے پاس بہت ساری گائیں اور بکریاں جمع ہو گئیں‘ پھر اس پر بھی اللہ کا حکم آیا‘ پس جب اس کی موت کا وقت آیا تو میں نے کہا: اے فلاں ! پہلے میں فلاں آدمی کے پاس تھا‘ پھر اس نے مجھے تیری طرف وصیت کی۔ پس اب تو مجھے کس کی طرف وصیت کرتا ہے؟ اور مجھے کس کے پاس جانے کا حکم دیتا ہے؟ اس نے کہا: قسم بخدا! میں نہیں جانتا کہ کوئی آدمی ہمارے طریقہ عبادت پر ہو لوگوں میں سے جس کے پاس جانے کا میں تجھے حکم دوں لیکن اس نبی کے تشریف لانے کا زمانہ آ گیا ہے‘ جو دین ابراہیمی کے ساتھ بھیجا جائے گا‘ عرب کی ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف ہجرت کرے گا۔ میرا گمان ہے کہ اس نے کہا: کھجوروں والی زمین ہے۔ نشانیاں مخفی نہیں ہیں۔ وہ ہدیہ تو کھائے گا لیکن صدقہ نہیں کھائے گا‘ ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ختم نبوت کی مہر ہے۔ پس اگر تیرے اندر طاقت ہے کہ اس علاقے میں پہنچے گا تو ایسا کر لے‘ پھر وہ مر گیا اور دفن کر دیا گیا تو میں عموریہ میں ٹھہرا رہا جتنا اللہ نے چاہا کہ میں ٹھہروں۔ بنو کلب کے تاجروں کا ایک قافلہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے ان سے کہا: عرب کی زمین تک مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ اور میں تمہیں اپنی یہ گائیں اور بکریاں دیتا ہوں؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے! پس میں نے وہ ان کے حوالے کر دیں اور انہوں نے مجھے اپنے ساتھ سوار کر لیا حتٰی کہ وہ وادی قریٰ آ گئے لیکن انہوں نے مجھ پرظلم کمایا۔ مجھے ایک یہودی کے پاس بیچ دیا۔ پس میں اس کے پاس تھا تو کھجوروں پر میری نظر پڑی۔ میں نے امید باندھی کہ یہ وہی علاقہ ہے جس کی صفت میرے دوست نے کی تھی‘ لیکن مجھے یقین نہ ہوا۔ پس اس دوران کہ میں اس کے پاس تھا۔ اس کا چچا زاد بھائی اس کے پاس آیا‘ اس کا تعلق بنو قریظہ سے تھا‘ اس نے مجھے اس سے خرید لیا‘ وہ مجھے مدینے لے آیا۔ پس قسم بخدا! جوں ہی میں نے مدینے کو دیکھا تو اپنے دوست کی بتائی ہوئی علامتوں سے اسے پہچان لیا۔ پس میں وہیں مقیم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ مکہ میں مقیم رہے جتنا مقیم رہے لیکن میں آپ کا ذکر نہ سن سکا‘ اس کی وجہ یہی تھی کہ میں غلامی کی زندگی گزار رہا تھا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی‘ پس قسم بخدا! میں اپنے مالک کے کھجور کے پھلدار درخت پر تھا‘ اس میں کچھ کام کر رہا تھا اور میرا ما لک اس کے نیچے بیٹھا ہوا تھا‘ جب اس کے چچا کا ایک بیٹا آیا اور اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا‘ کہنے لگا: بنو فیلہ کو اللہ ہلاک کرے ! قسم بخدا! وہ سارے ایک ایسے آدمی کے پاس اکٹھے ہور ہے ہیں‘ جو مکہ سے آیا ہے اور ان کا گمان ہے کہ وہ نبی ہے۔ پس جب یہ بات میرے کاموں پر پڑی تو میری خوشی کی حد نہ رہی حتٰی کہ میں نے گمان کیا کہ (خوشی سے) میں اپنے مالک کے اوپر گر پڑوں گا‘ بہر حال میں کھجور کے درخت سے نیچے اتر آیا۔ پس میں نے اس کے چچا کے بیٹے سے کہنا شروع کر دیا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ (یہ بات سن کر) میرے مالک کو غصہ آیا تو اس نے مجھے زبردست قسم کا طمانچہ رسید کیا‘ پھر کہا: اس سے تجھے غرض ہے؟ تو اپنا کام کر۔ میں نے کہا: کوئی غرض نہیں۔بس میرا ارادہ تھا کہ جو کچھ اس نے کہا‘ اس کے بارے اس کا نظریہ معلوم کروں۔ میں نے اپنے پاس کچھ پونجی جمع کی ہوئی تھی۔ پس جب شام ہوئی تو میں نے اس کو لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا جبکہ آپ قباء کے مقام پر موجود تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا۔ میں نے عرض کی : مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے غریب حاجت مند ساتھی بھی ہیں اور یہ میرے پاس صدقہ کی کچھ چیز ہے‘ پس میں نے خیال کیا کہ آپ لوگ اس کے زیادہ حقدار ہیں اور میں نے وہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کھا لولیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہاتھ روک لیا کوئی چیز نہیں کھائی۔ پس میں نے اپنے دل میں کہا: یہ ایک نشانی ہوئی۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آ گیا۔ پس میں نے کچھ پونجی جمع کی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ شہر میں منتقل ہو گئے‘ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا۔ میں نے عرض کی: میرا خیال ہے یا میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے‘ لیکن یہ ہدیہ ہے جس کے ساتھ میں نے آپ کی عزت افزائی کی ہے‘ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کھایا اور اپنے صحابہ کرام کو حکم دیا‘ پس انہوں نے بھی کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: یہ نشانیاں ہو گئیں‘ پھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ آپ جنت لبقیع میں تھے‘ ایک انصاری کے جنازہ کے پیچھے آئے تھے‘ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے‘ میں نے آپ پر سلام کیا پھر میں گھوما تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ کو دیکھوں کہ کیا میں وہ مہر دیکھ سکتا ہوں جس کی تعریف میرے سامنے میرے دوست نے کی؟ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گھومتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھ گئے کہ میں کوئی چیز تلاش کر رہا ہوں جو مجھے بتائی گئی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی اپنی پیٹھ سے اپنی چادر الٹ دی تو میں نے مہر نبوت کو دیکھ کر پہچان لیا۔ پس میں اسے چومنے کیلئے جھکا اور رونے لگا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: سامنے آؤ! پس میں آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا‘ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ساری بات بتائی جیسے اے ابن عباس! آپ کو بتائی ہے‘ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند کیا کہ اس کو آپ کے صحابہ کرام سنیں! پھر حضرت سلمان غلامی کی زندگی میں مصروف کر دیئے گئے حتٰی کہ بدرو اُحد میں شامل نہ ہو سکے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان! اپنے مالک کو مال کتابت دے کر آزادی حاصل کر لو۔ پس میں نے اپنے مالک سے کتابت طے کی‘ تین سو کھجور کے درخت جو میں اس کیلئے لگا کر پالوں گا اور چالیس اوقیہ سونا بھی دوں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو! پس ایک آدمی نے تین درخت‘ ایک نے بیس‘ ایک نے پندرہ اور ایک آدمی نے دس درخت میری امداد کی اور دیگر نے اپنی اپنی طاقت کے مطابق جو ان کے پاس تھا‘ میری خوب مدد کی حتٰی کہ میرے پاس تین سو درشت جمع ہو گئے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے سلمان ! جاؤ اور مجھے بتاؤ حتٰی کہ میں اس پر اپنا ہاتھ رکھوں۔ میرے دوستوں نے میری مدد کی یہاں تک کہ میں اپنے کام سے فارغ ہوا‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر آپ کو خبر دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ اس کی طرف نکلے۔ پس میں نے کھجور کے چھوٹے پودے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کرنا شروع کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا حتٰی کہ ہم فارغ ہوئے‘ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں سلمان کی جان ہے‘ ان میں سے ایک بوٹا بھی مرتا نہیں (حتٰی کر مکمل ہوا) میں نے کھجور کے درخت تو اسے پورے کر دیئے لیکن مال میرے ذمہ باقی رہا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونا لائے جو مرغی کے انڈے کی مقدار تھا‘ جو کسی غزوہہ کے موقعہ پر ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فارسی مکاتب غلام کا کیا بنا ؟ پس مجھے بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ پکڑ کر اپنا مال کتابت ادا کرو‘ پس میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! جو مجھ پر واجب ہے‘ اس میں سے کتنا حصہ اس کے ساتھ ادا ہو گا ؟ فرمایا: اسے پکڑ (اور جا کر مالک کے حوالے کر دو) پس اللہ تعالیٰ خود اپنی جناب خاص سے اس کو تیری طرف سے ادائیگی بنا دے گا۔ پس میں نے اس کیلئے اس کا وزن کیا‘ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں سلمان کی جان ہے ! وہ چالیس اوقیہ تھا۔ پس میں نے ان کا حق ان کو دے دیا۔ (راوی کا بیان ہے :) حضرت سلمان کو آزاد کر دیا گیا اور حضرت سلمان‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق میں شریک ہوئے پھر اس کے بعد کسی غزوہ میں پیچھے ہیں رہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بَلٰی ← ألا أخبرك بأمر يكون لك عونا على رباطك ← كعب بن عجرة أن سلمان مر به وهو مرابط بأرض فارس ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← صدقة ابن خالد ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6077

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما روى ابن عباس عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6078

6065 - حد ثنا أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام السدوسي ثنا زياد بن عبدالله البكائي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبدالله الحضرمي ثنا محمد بن عبدالله بن نمير ثنا يونس بن بكير ( ح ) وحدثنا الحسن بن العباس الرازي ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة كلهم عن محمد بن اسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن عبد الله بن عباس حدثني سلمان حديثه من فيه قال Y كنت رجلا فارسيا من أهل أصبهان من قرية يقال لها جي وكان أبي دهقان قريته وكنت أحب خلق الله إليه فلم يزل بي حبه إياي حتى حبسني في بيته كما تحبس الجارية فاجتهدت في المجوسية حتى كنت قاطن النار أوقدها لا أتركها تخبو ساعة واحدة وكانت لأبي ضيعة عظيمة فشغل يوما فقال لي : يابني إني قد شغلت هذا اليوم عن ضيعتي فاذهب إليها فطالعها فأمره فيها ببعض ما يريد ثم قال لي : لا تحتبس علي فإنك إن احتبست علي كنت أهم علي من ضيعتي وشغلتني عن كل شيء من أمري فخرجت أريد ضيعته أسير إليها فمررت بكنيسة من كنائس النصارى فسمعت أصواتهم فيها وهم يصلون وكنت لا أدري ما أمر الناس لحبس أبي إياي في بيته فلما سمعت أصواتهم دخلت عليهم أنظر ما يصنعون فلما رأيتهم أعجبتني صلاتهم ورغبت في عينهم وقلت : هذا والله خيرمن الدين الذي نحن عليه فما برحت من عندهم حتى غربت الشمس وتركت ضيعة أبي ثم قلت لهم : من أبصركم بهذا الدين ؟ قالوا : رجل بالشام ثم رجعت إلى أبي وقد بعث في طلبي وقد شغلته عن عمله قال : أبي بني أين كنت ؟ ألم أعهد إليك ما عهدت ؟ قلت : إني مررت بناس يصلون في كنيسة لهم فدخلت إليهم فما زلت عندهم وهم يصلون حتى غربت الشمس قال : أي بنى ليس في ذلك الدين خير دينك ودين آبائك خير منه ثم حبسني في بيته وبعثت إلى النصراني فقلت : إذا قدم إليكم ركب من الشام فاخبروني بهم فقدم عليهم ركب من الشام تجار من النصارى فاخبروني بهم فقلت لهم : اذا قضوا حوائجهم وأرادوا الرجعة إلى بلادهم أخبروني بهم فألقيت الحديد من رجلي ثم خرجت معهم حتى قدمت الشام فلما قدمتها قلت : من أفضل أهل هذا الدين علما قالوا : الأسقف في الكنيسة فجئته فقلت : إني قد رغبت في هذا الدين فأحببت أن أكون معك أخدمك في كنيستك وأتعلم منك وأصلي معك قال : فادخل فدخلت معه وكان رجل سوء يأمر بالصدقة ويرغبهم فيها فإذا جمعوا به إليه شيئا منها إكتنزوه لنفسه فلم يعط إنسانا منها شيئا حتى جمع قلالا من ذهب وورق فأبغضته بغضا شديدا لما رأيته يصنع ثم مات واجتمعت إليه النصارى ليدفنوه فقلت لهم : إن هذا كان رجل سوء يأمركم بالصدقة ويرغبكم فيها فإذا جئتموه بها اكتنزها لنفسه ولم يعط المساكين منها شيئا قالوا : وما علمك بذلك ؟ قلت لهم : فأنا أدلكم على كنزه قالوا : فدلنا عليه فدللتهم عليه فاستخرجوا ذهبا وورقا فلما رأوها قالوا : والله لاندفنه أبدا فصلبوه ثم رجموه بالحجارة وكان ثم رجل آخر فجعلوه مكانه قال : يقول سلمان : فما رأيت رجلا لايصلي الخمس أفضل منه أزهد في الدنيا ولا أرغب في الأخرة ولا أدأب ليلا ونهارا منه فأحببته حبا لم أحبه شيئا قط فما زلت معه زمانا ثم حضرته الوفاة فقلت له : يافلان إني قد كنت معك فأحببتك حبا لم أحبه شيئا قط وقد حضرك ما ترى من أمر الله عزوجل فإلى من توصي بي وما تأمرني ؟ قال : أي بني والله ما أعلم أحدا على ما كنت عليه لقد هلك الناس وبدلوا وتركوا كثيرا مما كانوا عليه إلا رجلا بالموصل وهو فلان وهو على ما كنت عليه فالحق به فلما مات وغيب لحقت بصاحب الموصل فقلت له : يافلان إن فلانا أوصاني عند موته أن ألحق بك وأخبرني أنك على أمره قال : فأقم عندي فأقمت عنده فوجدته خير رجل على أمر صاحبه فلم ألبث أن مات فلما حضرته الوفاة قلت له : يافلانا أن فلانا اوصاني إليك وأمرني أن ألحق بك وقد حضر من أمر الله ما ترى فإلى من توصي بي وما تأمرني ؟ قال : يابني ما أعلم بقي أحد آمرك أن تأتيه إلا رجلا بعمورية بأرض الروم على مثل ما نحن عليه فلما مات وغيب لحقت بصاحب عمورية فأخبرته خبري فقال : أقم عندي فأقمت عند خير رجل على هدي أصحابه وأمرهم واكتسبت حتى كانت عندي بقيرات وغنيمة ثم نزل به أمر الله عزوجل فلما حضر قلت له : يافلان إني كنت مع فلان فأوصاني إلى فلان ثم أوصى فلان إلى فلان ثم أوصاني فلان إليك فإلى من توصي بي وإلى من تأمرني ؟ قال : والله ما أعلم أصبح على مثل ما نحن فيه أحد من الناس آمرك أن تأتيه ولكن أظلك زمان بني هومبعوث بدين ابراهيم صلى الله عليه و سلم يخرج بأرض العرب الى أرض أظنه قال : ذات نخل به علامات لا تخفى يأكل الهدية ولا يأكل الصدقة بين كتفيه خاتم النبوة فان استطعت أن تلحق بذلك البلاد فافعل ثم مات وغيب فمكثت بعمورية ما شاء الله أن أمكث مر بي نفرمن كلب تجار فقلت لهم : تحملوني إلى أرض العرب وأعطيكم بقراتي هذه وغنيمتي هذه ؟ قالوا : نعم فأعطيتم وحملوني معهم حتى إذا قدموا وادي القرى ظلموني فباعوني من رجل يهودي فكنت عنده فرأيت النخل فرجوت البلد الذي وصف لي صاحبي ولم يحق في نفسي فبينا أنا عنده قدم عليه ابن عم له من بني قريظة وابتاعني منه فحملني إلى المدينة فوالله ما هو إلا أن رأيتها عرفتها بصفة صاحبي فأقمت بها فبعث الله عزوجل رسوله صلى الله عليه و سلم وأقام بمكة ما أقام ما أسمع له بذكر مع ما أنا فيه من شغل الرق ثم هاجر إلى المدينة فوالله إني لفي رأس عذق لسيدي أعمل فيه بعض العمل وسيدي جالس تحتي اذ أقبل ابن عم له حتى وقف عليه فقال : قاتل الله نبي قبله والله إنهم ليجتمعون على رجل قدم عليهم من مكة اليوم يزعمون أنه نبي فلما سمعتها أخذني الفرح حتى ظننت أني سأسقط على سيدي ونزلت عن النخلة وجعلت أقول لابن عمه ذلك : ماذا يقول ؟ فغضب سيدي فلطمني لطمة شديدة ثم قال : مالك ولهذا ؟ أقبل على عملك قلت لاشيء إنما أردت أن أستفتيه عما قال : وقد كان عندي شيء قد جمعته فلما أمسيت أخذته ثم ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بقباء ؟ فدخلت عليه فقلت له : إنه قد بلغني أنك رجل صالح ومعك أصحاب لك غرباء ذوو حاجة وهذا شيء كان عندي صدقة فرأيتكم أحق به من غيركم وقربته إليه فقال رسول الله لأصحابه : ( كلوا ) وأمسك هو فلم يأكل منه فقلت في نفسي : هذه واحدة ثم انصرفت عنه فجمعت شيئا فتحول رسول الله صلى الله عليه و سلم الى المدينة ثم جئته به فقلت له : رأيتك لاتأكل الصدقة وهذه هل أكرمتك بها فأكل رسول الله صلى الله عليه و سلم منها وأمر أصحابه فأكلوا وقلت في نفسي ؟ هاتان ثنتان ثم جئت رسول الله صلى الله عليه و سلم ببقيع الغرقد قد اتبع جنازة رجل من الأنصار وهو جالس فسلمت عليه ثم استدرت أنظر إلى ظهره هل أرى الخاتم الذي وصف لي صاحبي فلما رآني رسول الله صلى الله عليه و سلم استدرت عرف أني استثبت في شيء وصف لي فألقى رداءه عن ظهره فنظرت إلى الخاتم فعرفته فأكببت عليه أقبله وأبكي فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( تحول ) فتحولت فجلست بين يديه فقصصت عليه حديثي كما حدثتك يا ابن عباس فأعجب رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يسمع ذلك أصحابه ثم شغل سلمان الرق حتى فاته مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بدرا وأحدا ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كاتب يا سلمان ) فكاتبت صاحبي على ثلاث مئة نخلة أحييها له وبأربعين أوقيه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأصحابه : ( أعينوا أخاكم ) فأعانوني في النخل الرجل بثلاثين والرجل بعشرين والرجل بخمس عشرة والرجل بعشر والرجل بقدر ما عنده حتى أجتمعت لي ثلاث مئة نخلة فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اذهب يا شنآن فآذني حتى أكون أنا أضعها بيدي ) ففقرت لها وأعانني أصحابي حتى إذا فرغت جئته فأخبرته فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم معي إليها فجعلت إليها فجعلت أقرب له الردي ويضعه رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده حتى فرغنا والذي نفس سلمان بيده ما مات منه ودية واحدة فأديت النخل وبقي علي المال فأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بمثل بيضة الدجاجة من ذهب من بعض المغازي فقال : ( ما فعل الفارسي المكاتب ؟ ) فدعيت له فقال : ( خذ هذه فادبها ما عليك ) فقلت : وأين تقع هذه يا رسول الله مما علي ؟ فقال : ( خذها فإن الله عزوجل سيؤديها عنك ) فوزنت له منها فو الذي نفس سلمان بيده أربعين أوقية وأوفيتهم حقهم وعتق سلمان وشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم الخندق ثم لم يفته مشهد

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہدیہ لے کر آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی کھایا اور آپ کے صحابہ نے بھی کھایا‘ آپ کے پاس صدقہ لایا گیا‘ آپ نے اس سے نہیں کھایا۔

سلمان حديثه من فيه ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ كُلُّهُمْ ← الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← محمد بن عبدالله بن نمير ← محمد بن عبدالله الحضرمي ← زيادُ بنُ عبدِاللهِ البكائيُّ: ← عبد الملك بن هشام السدوسي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← حَدَّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6078

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما روى ابن عباس عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6079

6066 - حدثنا محمد بن السري بن مهران الناقد ثنا بشار بن موسى الخفاف ثنا إبراهيم بن سعد عن محمد بن اسحاق عن عاصم بن عمر بن قتاة عن محمود بن لبيد عن ابن عباس حدثني سلمان Y أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم بهدية فأكل هو وأصحابه وأتاه بصدقة فلم يأكل منها

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان غیبہ سے آئے‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو ملے‘ فرمایا: آپ اللہ کی عبادت پر خوش ہیں‘ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبیلہ کندہ میں شادی کی ‘ جب وہ رات آئی جس وقت آپ نے اپنے گھر والوں کے پاس آنا تھا تو گھر تو اکیلی جگہ پر تھا لیکن اس کے اندر عورتیں تھیں‘ آپ نے فرمایا: کیا کندہ میں کعبہ تبدیل ہو گیا ہے یا یہ سرخی ہے؟ ہمیں میرے دوست صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہم سامان مسافر جتنا بنائیں اور صرف نکاح والی عورتیں اپنے پاس رکھیں‘ عورتیں آپ کے پاس سے نکلیں‘ آپ اپنے گھر والوں کے پاس آئے‘ فرمایا: کیا تو میری نافرمانی یا اطاعت کرے گی ؟ اس نے عرض کی: بلکہ تیری چاہت میں تیری اطاعت کروں گی۔ آپ نے فرمایا: میرے خلیل نے مجھے حکم دیا کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے گھر والوں کے پاس داخل ہو تو (رات کو) کھڑے ہو کر خود نماز پڑھے اور اہلیہ کوحکم دے کہ وہ اس کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز پڑھے‘ مرد دعا کرے اور وہ آمین کہے۔حضرت سلمان نے یہ کام کی اور آپ کی بیوی نے بھی کیا۔ پس جب آپ بنو کندہ کی مجلس میں آ بیٹھے تو قوم سے ایک آدمی نے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ نے صبح کیسے کی؟ رات کو آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا؟ پس آپ خاموش رہے۔ اس نے اپنی بات دہرائی‘ آپ نے فرمایا: آپ لوگوں کو کیا ہے کہ اس چیز کے بارے سوال کرتے ہیں جس کو دیواروں اور دروازوں نے چھپایا ہے؟ تم میں سے کسی ایک کیلئے کافی ہے کہ وہ کسی چیز کے بارے سوال کرے۔ اسے جواب دیا جائے یا اس سے خاموشی اختیار کی جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عاصم بن عمر بن قتاة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ ← مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6079

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما روى ابن عباس عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6080

6067 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا محمد بن بكار العيشي ثنا الحجاج بن فروخ الواسطي ثنا ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال Y قدم سلمان من غيبة له فتلقاه عمر رضى الله عنه فقال : أرضك لله عبدا قال : فتزوج في كندة فلما كان الليلة التي يدخل على أهله اذ البيت منجد وإذا فيه نسوة فقال : اتحولت الكعبة في كندة أم هي حمرة ؟ أمرنا خليلي أبو القاسم صلى الله عليه و سلم أن لا نتخذ من المتاع إلا أثاثا كأثاث المسافر ولا نتخذ من النساء إلا ماننكح فخرج النسوة ودخل على أهله فقال : يا هذه أتعصيني أم تطيعيي ؟ قالت : بل أطيعك فيما شئت قال : إن خليلي صلى الله عليه و سلم أمرنا إذا دخل أحدنا بأهله أن يقوم فيصلي ويأمرها أن تصلي خلفه ويدعو وتؤمن ففعل وفعلت فلما جلس في مجلس كندة قال له رجل من القوم : كيف أصبحت يا أباعبدالله ؟ كيف رأيت أهلك الليلة ؟ فسكت فعاد الثانية فقال له وما بال أحدكم يسأل عما راوته الحيطان والأبواب إنما يكفي أحدكم أن يسأل عن الشيء أجيب أم سكت عنه

حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے‘ جبکہ آپ تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تکیہ آپ کو دیا‘ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ بہت بڑا ہے‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے د فرمایا:اے ابو عبداللہ! ہمیں کوئی حدیث بتائیں! حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ آپ تکیہ کا سہارا لیے ہوئے تھے‘ آپ نے میری طرف پھینکا‘ پھر فرمایا: اے سلمان ! جو مسلمان بھائی کے پاس آئے اور وہ اس کی عزت کی خاطر اسے تکیہ پیش کرے تو اللہ اس کی بخشش فرما دیتا ہے۔

فتزوج في كندة فلما كان الليلة التي يدخل على أهله ← أرضك لله عبدا ← قدم سلمان من غيبة له فتلقاه عمر ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الحجاج بن فروخ الواسطي ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6080

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أنس بن مالك عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6081

6068 - حد ثنا علي بن عبد العزيز و خلف بن عمرو العكبري قالا ثنا معلى بن مهدي الموصلي أنا عمران بن خالد الخزاعي ثنا ثابت البناني عن أنس بن مالك قال Y دخل سلمان على عمر رضي الله عنهما وهو متكىء على وسادة فألقاها له فقال سلمان : الله أكبر صدق الله ورسوله فقال عمر : حد ثنا يا أبا عبد الله قال : دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهومتكىء على وسادة فألقاها إلي ثم قال : ( يا سلمان ما من مسلم يدخل على أخيه المسلم فيلقي له وسادة إكراما له إلا غفر الله له )

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا‘ میں نے آپ کے گھر کو دیکھا‘ اس کی حالت نا گفتہ بہ تھی‘ آپ سے اس کے متعلق عرض کی گئی‘ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ تمہارے لیے زاد راہ دنیا میں اتنی ہی کافی ہے جتنی مسافر کے پاس زاد راہ ہوتی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ ← علي بن عبد العزيز و خلف بن عمرو العكبري ← حَدَّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6081

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أنس بن مالك عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6082

6069 - حدثنا أحمد بن عمرو البزار ثنا الحسن بن أبي الربيع الجرجاني ثنا عبد الرزاق أنا جعفر بن سلمان عن ثابت عن أنس رضي الله عنه قال Y دخلت على سلمان فرأيت بيته رثا فقال له في ذلك فقال : إن رسول الله صلى عليه وسلم عهد إلي أن يكون زادكم في الدنيا كزاد الراكب

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دستر خوان لے کر آیا‘ اس پر تازہ کھجوریں تھیں‘ آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ عرض کی : یہ صدقہ آپ کے لیے اور آپ کے غلاموں کے لیے ہے‘ آپ نے فرمایا: اے سلمان ! ہم صدقہ نہیں کھاتے ہیں‘ میں اس کو لے گیا‘ جب دوسرا دن آیا تو میں آپ کے پاس تازہ کھجوروں کا دستر خوان لایا‘ آپ نے فرمایا: اس دسترخوان میں کیا ہے؟ عرض کی: یہ تحفہ ہے‘ آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کھاؤ! پس آپ نے خود بھی کھایا۔

دخلت على سلمان فرأيت بيته رثا فقال له في ذلك فقال ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جعفر بن سلمان ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6082

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ بريدة بن الحصيب الأسلمي عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6083

6070 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا موسى بن إسحاق الكناني الكوفي ثنا زيد بن الحباب عن الحسين بن واقد عن عبدان بن بريدة عن ابيه عن سلمان رضي الله عنه Y إنه جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم بمائدة عليها رطب فقال : ( ما هذه ؟ ) قال : هذه صدقة عليك وعلى أصحابك فقال : يا سلمان إنالا نأكل الصدقة فذهب بها سلمان فلما كان من الغد جاءه سلمان بمائدة عليها رطب فقال : ( ما هذه المائدة ؟ ) قال : هذه هدية فقال لأصحابه : ( ادنوا فكلوا ) فأكل

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر آیا‘ آپ نے واپس کر دیا‘ میں آپ کے پاس تحفہ لے کر آیا تو آپ نے قبول کر لیا۔

سَلْمَانَ ← أَبِيهِ ← عبدان بن بريدة ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← موسى بن إسحاق الكناني الكوفي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6083

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو الطفيل عامر بن واثلة عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6084

6071 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا ابن الأصبهاني ثنا شريك عن عبيد المكتب عن أبي الطفيل عن سلمان قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بصدقة فردها وأتيته بهدية فقبلها

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی مقدار سونا دیا‘ اگر اس کو ایک ہتھیلی میں رکھا جائے اور وہ دوسرے ہاتھ میں تو اس کے بدلے میری گردن آزاد ہو جائے گی۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بصدقة فردها وأتيته بهدية فقبلها ← سَلْمَانَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ ← شَرِيکٍ ← ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6084

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو الطفيل عامر بن واثلة عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6085

6072 - وباسناده قال Y أعطانى رسول الله صلى الله عليه و سلم مثل هذه من ذهب فلو وضع أحد في كفة ووضعت في أخرى لرجحت به فكاك رقبتي

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک ایسا آدمی تھا جس کا تعلق جیّ والوں سے تھا‘ ہمارے گاؤں والے ابلق گھوڑوں کی پوجا کیا کرتے تھے‘ میں پہچانتا تھا کہ ان کا کوئی دین دھرم نہیں ہے‘ پس مجھ سے کہا گیا: جو دین تو تلاش کرتا ہے وہ مغرب میں ہے‘ پس نکل کر موصل میں آیا‘ پس میں نے دریافت کیا: یہاں کا سب سے زیادہ فضیلت والا آدمی کون ہے؟ پس لوگوں نے ایک آدمی پر میری راہنمائی کی جو اپنے گرجہ میں تھا‘ پس میں اس کے پاس آیا‘ میں نے اس سے کہا: میراتعلق جیّ والوں سے ہے اور میں علم حاصل کرنے آیا ہوں‘ میں ضرور علم سیکھوں گا‘ پس میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ میں تیری خدمت کرتا ہوں اور تیری سنگت میں رہوں گا اور آپ مجھے اس علم میں سے کچھ سکھا دیں جواللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔ پس اس نے کہا: ٹھیک ہے! پس میں نے اس کی صحبت اختیار کر لی‘ مجھے بھی وہی کچھ ملنے لگا جو اسے ملا کرتا تھا یعنی سرکہ‘ زیتون اور دانے وغیرہ‘ اس پر موت تازل ہونے تک میں اس کے پاس رہا۔ پس میں اس کے سر کے پاس بیٹھا رو رہا تھا تو اس نے کہا: کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا: میں اس لیے روتا ہوں کہ میں اپنے علاقے سے خیر مانگتے ہوئے نکلا‘ پس اللہ نے مجھے عطا فرمائی‘ پس میں نے آپ کی سنگت اختیار کی‘ آپ نے مجھے سکھایا اور خوب سنگت نبھائی‘ پس آپ کی موت کا وقت آ گیا ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ میں کہاں جاؤں گا‘ اس نے مجھے کہا: جزیرہ میں فلاں فلاں جگہ ایک بھائی ہے وہ حق کے راستے پر گامزن ہے‘ اس کے پاس چلے جاؤ‘ پس اسے میراا سلام کہنا‘ اسے کہنا کہ میں نے آپ کو اس کی طرف راہنمائی کی ہے اور اس کی صحبت اختیار کرنے کی وصیت کی ہے‘ آپ فرماتے ہیں: جب اس آدمی کی روح قبض کر لی گئی تو میں نکلا حتٰی کہ دوسرے آدمی کے پاس آیا جس کی تعریف پہلے آدمی نے کی تھی۔ پس میں نے اسے مکمل خبر دی اور اپنے ساتھی کا سلام بھی دیا اور اسے میں نے بتایا کہ وہ دنیا سے چلا گیا ہے‘ اس نے مجھے آپ کی صحبت اپنانے کا حکم دیا۔ آپ فرماتے ہیں : اس نے مجھے اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے بھی وہی سہولتیں حاصل ہو گئیں جو اسے حاصل تھیں‘ جتنا اللہ نے چاہا میں اس کی صحبت میں رہا پھر اس کی موت کا وقت بھی آ گیا۔ پس جب اس پر موت آنے لگی تو میں اس کے سر کے پاس بیٹھ کر رونے لگا تو اس نے مجھے کہا: تو کیوں روتا ہے؟ میں نے کہا: میں اپنے شہر سے نکلا تاکہ خیر تلاش کروں‘ پس اللہ تعالیٰ نے فلاں کی صحبت سے مجھے فائدہ دیا‘ انہوں نے اچھی صحبت نبھائی اور مجھے تعلیم دی۔ پس جب اس پر موت آئی تو اس نے مجھے آپ کی طرف آنے کی وصیت کی۔ آپ نے مجھے اپنے ساتھ ملایا‘ اچھی سنگت نبھائی اور مجھے تعلیم دی۔ اب آپ کی موت کا وقت آ گیا ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ میں کہاں جاؤں گا ؟ اس نے کہا: روم کے قریب میرا بھائی موجود ہے‘ تم اس کے پاس چلے جاؤ! پس وہ حق پر ہے۔ پس تو اس کے پاس جا۔ اسے میر اسلام کہنا اور کہنا کہ وہ آپ کو اپنی محبت میں رکھے کیونکہ وہ حق پر ہے‘ پس جب اس کو موت نے آ لیا تو میں نکل کر اس کے پاس آیا‘ اس کو میں نے خبر دی اور دوسرے آدمی کی وصیت کے بارے بتایا‘ اس نے کہا: تم میرے ساتھ مل جاؤ اور مجھے وہی حقوق حاصل ہوئے جو اسے حاصل تھے۔ پس جب اس پر موت کا وقت آیا تو میں اس کے سر کے پاس بیٹھ کر رونے لگا۔ پس اس نے مجھ سے کہا: تجھے کیا چیز رلاتی ہے؟ پس میں نے اسے سارا قصہ بتایا۔ تو میں نے اس سے کہا: بے شک اللہ نے مجھے تیری صحبت عطا فرمائی اور تو نے خوب سنگت نبھائی‘ اب تیری موت کا وقت قریب آ گیا ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ میں کہاں جاؤں؟ اس نے کہا: کہیں نہ جاؤ ! نہیں باقی رہ گیا ہے کوئی ایک میرے علم کے مطابق جو دین عیسیٰ علیہ السلام پر ہو زمین میں‘ لیکن یہ ایسا وقت ہے جس میں ایک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائیں گے یا تہامہ میں آچکے ہیں‘ پس تم راستہ پکڑو‘ جو آدمی بھی تیرے پاس سے گزرے اس سے سوال کرنا‘ پس جب تجھے معلوم ہو جائے کہ وہ تشریف لائے ہیں تو ان کے پاس چلے جانا کیونکہ وہ ایسے نبی ہیں جن کی بشارت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے اور ان کی نشانی یہ ہے کہ ان کے کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر ہے‘ دوسری یہ ہے کہ وہ ہدیہ کھاتا ہے اور صدقہ نہیں کھاتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں : جو بھی ان کے پاس سے گزرتا‘ میں اس سے سوال کرتا۔ پس میرے پاس سے کچھ مکی لوگ گزرے تو میں نے ان سے سوال کیا‘ انہوں نے کہا: جی ہاں ! ہمارے اندرایک آ دمی ظاہر ہوا ہے‘ جو گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ پس میں نے ان میں سے ایک سے کہا ممکن ہے کیا میں تم میں سے کسی کا غلام بنوں اس شرط پر کہ وہ مجھے سوار کر کے عقبہ تک پہنچائے اور اپنے پاس سے کھلائے۔ پس جب تم اپنے شہر پہنچو تو تمہیں اختیار ہو خواہ تو مجھے بیچ دو‘ خواہ اپنا غلام بنا کے رکھو۔ پس ان میں سے ایک آدمی نے کہا: میں کروں گا‘ پس میں اس کا غلام بن گیا یہاں تک کہ وہ مجھے مکہ لایا‘ پس اس نے مجھے ایک باغ میں رکھا جو حبشان کے ساتھ تھا‘ وہ بھی اسی میں تھے‘ پس میں نے نکل کر سوال کیا تو میری ملاقات اپنے شہر کی ایک عورت سے ہوئی۔ پس میں نے اس سے پوچھا تو پتہ چلا کہ اس گھر والے اسلام قبول کر چکے ہیں۔ اس نے مجھے جواب دیا: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کو کافی رکاوٹیں ہیں‘ یعنی محجور ہیں جب مکہ میں کوئی چڑیا بھی چیخ مارے یہاں تک کہ جب فجر روشن ہو جائے تو وہ بکھر جاتے ہیں۔ پس میں باغ کی طرف چلا گیا‘ پس میں رات کو آتا جاتا تھا‘ پس حبشان نے مجھ سے کہا: تجھے کیا ہے؟ میں نے کہا: میرے پیٹ میں تکلیف ہے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے یہ بہانہ اس لیے کیا تاکہ وہ لوگ مجھے گم نہ کریں‘ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جاؤں۔ آپ فرماتے ہیں: پس جب وہ گھڑی ہوئی جو مجھے اس عورت نے بتائی تھی کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ بیٹھتے ہیں تو میں چلتا ہوا نکلا یہاں تک کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کر لی۔ پس آپ ایک خاموش جگہ پر تھے اور آپ کے صحابہ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد تھے۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ارادے کو پہچان لیا‘ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ کی طرف دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی۔ میری زبان سے نکلا: اللہ سب سے بڑا ہے‘ یہ ایک نشانی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹ گئے‘ پس جب اگلی رات آئی تو میں نے عمدہ قسم کی کھجوریں اٹھا لیں‘ پھر میں چلا اور وہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ پس میں نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی: یہ ہدیہ ہے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے کھای اور قوم سے فرمایا: تم بھی کھاؤ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے معاملہ کے بارے سوال کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا کر غلامی سے جان چھڑاؤ (اپنا آپ خرید لو) پس میں اپنے مالک کے پاس آیا۔ میں نے اسے کہا: میری جان میرے ہاتھوں بیچ دو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں ! اس شرط پر کہ تو مجھے ایک سو درخت لگا کر دے گا۔ پس وہ اگ آئیں تو میرے پاس ایک ڈلی سونے کی لائے گا۔ پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس ٹھیک ہے جو اس نے مانگا ہے اسی کے بدلے اپنی جان خرید لو اور کنویں کے پانی والا ایک ڈول میرے پاس لاؤ جس سے تم ان کھجوروں کو پانی ڈالو گے۔ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے اس میں برکت کی دعا فرمائی‘ پھر میں نے ان کو پانی لگایا‘ پس قسم بخدا! میں نے سو کھجور کے درخت لگائے‘ پس سارے ہی اُگ آئے کوئی بھی پیچھے نہیں رہا۔ پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ درخت تیار ہو گئے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی ڈلی عطا فرمائی‘ پس میں نے اسے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا اور دوسرے پلڑے میں گٹھلی کو تو سونے کی ڈلی زمین پر برقرار نہ رہی (یعنی کام برابر تھا)۔ فرماتے ہیں : میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے آزاد فرما دیا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6085

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو الطفيل عامر بن واثلة عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6086

6073 - حدثنا أحمد بن القاسم بن مساور الجوهري ثنا سعيد بن سلمان الواسطي ثنا عبدالله بن عبد القدوس ثنا عبيد المكتب حدثني أبو الطفيل حدثني سلمان الفارسي قال Y كنت رجلا من أهل جي وكان أهل قريتي يعبدون الخيل البلق وكنت أعرف أنهم ليسوا على شيء فقيل لي : إن [ الدين ] الذي تطلب إنما هو بالمغرب فخرجت حتى أتيت الموصل فسألت عن أفضل رجل فيها فدللت على رجل في صومعة فأتيته فقلت له : إني رجل من أهل جي وإني جئت أطلب العلم وأتعلم فضمني إليك أخدمك وأصحبك وتعلمني مما علمك الله فقال : نعم فصحبته فأجرى علي مثل ما كان يجرى عليه الخل والزيت والحبوب فلم أزل معه حتى نزل به الموت فجلست عند رأسه أبكيه فقال : ما يبكيك ؟ قلت : يبكيني أني خرجت من بلاد أطلب الخير فرزقني الله عزوجل فصحبتك فعلمتني وأحسنت صحبتي فنزل بك الموت ولا أدري أين أذهب ؟ قال : لي أخ بالجزيرة بمكان كذا وكذا فهو على الحق فأئته فاقرأه مني السلام وأخبره أني أوصيت إليه وأوصيتك بصحبته قال : فلما أن قبض الرجل خرجت حتى أتيت الرجل الذي وصف لي فأخبرته بالخبر وأقرأته السلام من صاحبه وأخبرته أنه هلك وأمرني بصحبته قال : فلما أن قبض الرجل خرجت حتى أتيت الرجل الذي وصف لي فأخبرته وأوفيته السلام من صاحبه أنه هلك وأمرني بصحبته قال : فضمني إليه وأجرى علي كما كان يجرى علي مع الآخر فصحبته ماشاء الله ثم نزل به الموت فلما أن نزل به الموت جلست عند رأسه أبكي فقال لي : ما يبكيك ؟ قلت خرجت من بلادي أطلب الخبر فرزقني الله عزوجل صحبة فلان فأحسن صحبتي وعلمني فلما نزل بك الموت أوصى بي إليك فضممتني وأحسنت صحبتي وعلمتني وقد نزل بك الموت فلا أدري أين أتوجه ؟ قال : فائت أخا لي على قرب الروم فهو على الحق فائته وأقرأه مني السلام واصحبه فانه على الحق فلما قبض الرجل خرجت حتى أتيته فأخبرته بخبري وبوصية الآخر قبله قال : فضمني إليه وأجرى علي كما يجرى علي فلما نزل به الموت جلست أبكي عند رأسه فقال لي : ما يبكيك ؟ فقصصت قصتي قلت له : إن الله رزقني صحبتك وأحسنت صحبيتي وقد نزل بك الموت فلا أدري أين أتوجه ؟ قال : لا أين ما بقي أحد أعلمه على دين عيسى في الأرض ولكن هذا أوان يخرج فيه نبي أوقد خرج بتهامة فأنت على الطريق لا يمر بك أحد إلا سألته عنه وإذا بلغك أنه خرج فائته فإنه النبي الذي بشر به عيسى عليه السلام وآية ذلك أن بين كتفيه خاتم النبوة وأنه بكل الهدية ؟ ولا يأكل الصدقة قال : فكان لايمر بي أحد إلا سألته عنه فمر بي ناس من أهل مكة فسألتهم فقالوا : نعم قد ظهر فينا رجل يزعم أنه نبي فقلت لبعضهم : هل لكم إلى أن أكون عبدا لبعضكم على أن تحملوني عقبة وتطعموني من الكسر فإذا بلغتم الى بلادكم فإن شاء أن يبيع باع وإن شاء أن يستعبد استعبد فقال الرجل منهم : أنا فصرت عبدا له حتى قدم بي مكة فجعلني في بستان له مع حبشان كانوا فيه فخرجت وسألت فلقيت امرأة من أهل بلادي فسألتها فاذا أهل بيتها قد أسلموا وقالت لي : إن النبي صلى الله عليه و سلم كل في الحجر هو وأصحابه اذا صاح عصفور بمكة حتى إذا أضاء لهم الفجر تفرتوا فانطلقت إلى البستان فكنت أختلف ليلتي فقال لي الحبشان : مالك ؟ فقلت : أشتكي بطني قال : وإنما صنعت ذلك لئلا يفقدوني إذا ذهبت الى النبي صلى الله عليه و سلم قال : فلما كانت الساعة التي اخبرتني المرأة التي يجلس فيها هو وأصحابه خرجت أمشي حتى رأيت النبي صلى الله عليه و سلم فإذا هومحتب وأصحابه حوله فأتيته من ورائه فعرف نبي الله صلى الله عليه و سلم الذي أريد فأرسل حبوته فنظرت الى خاتم النبوة بين كتفيه فقلت : الله أكبر هذه واحدة ثم انصرف فلما كان الليلة المقبلة لقطت تمرا جيدا ثم انطلقت حتى أتيت به النبي صلى الله عليه و سلم فوضعته بين يديه فقال : ( ما هذا ؟ ) قلت : هو هدية فأكل منها وقال للقوم : ( كلوا ) قال قلت : أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله فسألني عن أمري فأخبرته فقال : ( اذهب فاشتر نفسك ) فانطلقت إلى صاحبي فقلت : يعني نفسي قال : نعم على أن تنبت لي مئة نخلة فإذا إنبتت جئني بوزن نواة من ذهب فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اشتر نفسك بالذي سألك وائتني بدلو من ماء البئر الذي كنت تسقي منها ذيك النخل ) قال : فدعا لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها ثم سقيتها فو الله لقد غرست منه نخلة فما غادرت منها نخلة إلا نبتت فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته أن النخل قد نبتن فأعطاني قطعة من ذهب فانطلقت بها فوضعتها في كفة الميزان ووضع في الجانب الآخر ( نواة ) فو الله ما استقلت القطعة الذهب من الأرض قال : وجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم فاعتقني

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں قبیلہ جی سے تعلق رکھنے والا ہوں۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبُو الطُّفَيْلِ ← عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ ← عبدالله بن عبد القدوس ← سعيد بن سلمان الواسطي ← أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6086

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو الطفيل عامر بن واثلة عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6087

6074 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبدالله بن الحكم ابن أبي زياد القطوني ثنا سفيان عن عبيد المكتب عن عامر بن واثلة عن سلمان قال Y أنا من جي

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رامہر مز سے ہوں۔

من جي ← سَلْمَانَ ← عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ← عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ ← سُفْيَانَ، ← عبدالله بن الحكم ابن أبي زياد القطوني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6087

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو الطفيل عامر بن واثلة عن سلمان رضي الله عنه · حديث 6088

6075 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الله بن الحكم بن أبي زياد ثنا معاوية بن هشام ثنا سفيان عن عوف عن أبي عثمان عن سلمان Y أنا من أهل رامهرمز

حضرت ابو طفیل بکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان نے انہیں بیان کیا کہ میں جیّ والوں سے تعلق رکھنے والا آدمی ہوں جو اصفہان کے شہر میں رہتے ہیں‘ پس اسی دوران جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کا حق میرے دل میں ڈالا تو میں ایک ایسے آدمی کے پاس گیا جو عام لوگوں سے کلام نہیں کرتا تھا کہ کہیں حرج ہو۔ پس میں نے اس سے دریافت کیا: کون سا دین افضل ہے؟ اس نے کہا: تجھے کیا ہے اور یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ کیا تو اپنے باپ کا دین چھوڑ کر کوئی اور دین چاہتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں! بلکہ مجھے پسند ہے کہ معلوم کروں کہ آسمان وزمین کا رب کون ہے اور کون سا دین افضل ہے؟ اس نے جواب دیا: اس پر میں نہیں جانتا کہ کوئی ہو سوائے موصل میں رہنے والے ایک راہب کے۔ آپ فرماتے ہیں : میں اس کی طرف کیا‘ میں اس کے پاس تھا۔ دنیا میں اس پر کنجوسی کا راج ہے‘ پس اس کی عادت ہے دن کو روزہ رکھنا اور رات کو قیام کرنا۔ پس میں بھی اس کی طرح عبادت کیا کرتا تھا‘ پس میں اس کے پاس تین سال رہا پھر وہ فوت ہو گیا‘ میں نے کہا: مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کرتے ہو؟ اس نے کہا: مشرق والوں میں سے کسی کو اس مذہب پر نہیں سمجھتا جس پر میں ہوں‘ جزیرہ کے پیچھے جو راہب ہے اس کے پاس جانا تیرے اوپر ضروری ہے‘ پس اسے میرا سلام کہنا۔ آپ فرماتے ہیں: میں اس کے پاس گیا‘ اسے سلام پہنچایا اور اسے خبر دی کہ وہ فوت ہو گیا ہے‘ پس میں اس کے پاس بھی تین سال رہا پھر وہ بھی فوت ہو گیا تو میں نے کہا: کس کی طرف مجھے جانے کی وصیت کرتے ہو؟ اس نے کہا: عموریہ والے راہب کے علاوہ زمین پر میں کسی کونہیں جانتا ہوں جو میرے مذہب پر ہو۔ وہ بوڑھا آدمی ہے‘ میرا خیال ہے تو اس سے مل ہی سکے گا یا نہیں۔ پس میں گیا‘ میں اس کے پاس تھا تو میں نے اسے دیکھا کہ اللہ نے اسے وسعت عطا کی ہے‘ پس جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے کہا: مجھے کس کی طرف جانے کا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: اہل زمین میں سے کسی کو اپنے مذہب پر نہیں جانتا ہوں لیکن اگر تو لمبا زمانہ پائے‘ ایک آدمی کے بارے سنا جاتا ہے جو بیت ابراہیم علیہ السلام سے تشریف لائے گا‘ میں خیال نہیں کر سکتا کہ تو اس کو پالے اور مجھے امید ہے کہ میں اسے پالوں گا۔ پس اگر تو طاقت رکھتا ہے کہ تو اس کی معیت میں ہو تو ایسا کر کیونکہ وہ بچے دین پر ہو گا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی قوم والے اس کو جادوگر‘ کاہن اور مجنون کہیں گے‘ وہ ہدیہ تو کھا لے گالیکن صدقہ نہیں کھائے گا اور اس کے دونوں کندھوں کے پاس مہر نبوت ہو گی۔ اسی طرح میں اس حال پر تھا کہ مدینہ کی طرف سے اونٹوں کا قافلہ آیا۔ میں نے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم مدینہ والے ہیں‘ ہم تاجر ہیں‘ اپنی تجارت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں‘ لیکن اہل بیت ابراہیم علیہ السلام سے ایک آدمی پیدا ہوا ہے‘ پس وہ ہمارے پاس آیا ہے لیکن اس کی قوم اس سے قتال کرتی ہے‘ ہمیں ڈر لگا ہے کہ کہیں وہ ہمارے اور ہماری تجارت کے درمیان رکاوٹ نہ بنے لیکن وہ مدینہ کا بادشاہ بن گیا ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم والے آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: وہ جادوگر‘ مجنون اور کاہن کہتے ہیں‘ میں نے کہا: ایک نشانی تو یہ ہے کہ تم مجھے اپنے صاحب تک لے جاؤ‘ پس میں اس کے پاس آیا‘ پس میں نے کہا: تم . مجھے سوار کر کے مدینہ تک لے جاؤ۔ اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: تجھے دینے کیلئے میں اپنے پاس کوئی شی نہیں پاتا ہوں سوائے اس کے کہ میں تیرا غلام بن جاؤں گا۔ پس اس نے مجھے سوار کر لیا‘ پس جب ہم (مدینہ) آئے تو اس نے مجھے ایک باغ میں رکھا‘ پس میں پانی نکالا کرتا تھا جس طرح اونٹ پانی نکالتا ہے یہاں تک کہ اس سے میری پیٹھ اور میرا سینہ ۔۔۔۔۔میں کوئی ایسا آدمی بھی نہ پاتا تھا جو میری بات سمجھے (میں فارسی‘ وہ عربی تھے) حتٰی کہ ایک فارسی بڑھیا پانی نکالنے آئی تو میں نے اس سے کلام کی‘ اس نے میری بات کو سمجھا۔ پس میں نے اس سے کہا: وہ آدمی کہاں ہے جو (نبی بن کر) تشریف لایا ہے‘ آپ اس پر میری رہنمائی کریں؟ اس نے کہا: عنقریب صبح وہ تیرے پاس سے گزرے گا جب وہ دن کے پہلے حصے میں صبح کی نماز پڑھے گا۔ پس میں نکلا‘ میں نے کچھ کھجوریں جمع کی‘ پس جب میں نے صبح کی تو میں نے آ کر وہ کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ صدقہ ہے یا ہدیہ ہے؟ پس میں نے اشارے سے بتایا کہ صدقہ ہے۔ فرمایا: ان لوگوں کے پاس لے جاؤ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ کے پاس تھے۔ پس انہوں نے کھایا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کھایا۔ پس میں نے کہا: یہ نشانی ہے۔ پس جب دوسرا دن آیا تو میں کچھ کھجوریں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی: یہ ہدیہ ہے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور اپنے صحابہ کو بلا کر بھی کھلایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تعرض کرتے ہوئے دیکھا تاکہ میں مہر نبوت دیکھوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہچانے گئے‘ آپ نے اپنی چادر پلٹ دی۔ پس میں اسے اِدھر اُدھر کر نے لگایا چومنے لگا اور اس کے ساتھ چمٹ گیا۔ آپ نے فرمایا: تیرا کام کیا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تو میں نے آپ کو بتایا۔ پس تو نے ان کیلئے شرط لگائی کہ آپ غلام ہیں‘ (لہٰذا) ان سے اپنی جان خریدیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خر یدا کہ آپ ان کو سو کھجور کے درخت اور چالیس اوقیہ چاندی دمیں پھر وہ آزاد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درخت لگاؤ! انہوں نے درخت لگائے پھر (فرمایا :) جا کر ڈول کنویں پر ڈال دو لیکن اس کو اٹھانا نہیں ہے حتٰی کہ وہ خود بلند ہو جائے کیونکہ جب وہ مر جائے گی تو خود بخود اٹھے گی‘ پھر ان کی جڑوں میں چھڑک دو۔ پس انہوں نے ایسا کیا تو جلدی اُگنے والی جڑی بوٹیوں کی طرح درخت اُگے تو کہا: سبحان اللہ! اس غلام جیسا غلام ہم نے نہیں دیکھا‘ اس غلام کی شان ہے کہ لوگ اس پر جمع ہوئے ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو تھیلی دی جس میں چالیس اوقیہ تھے۔

من أهل رامهرمز ← سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَوْفٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عبد الله بن الحكم بن أبي زياد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6088

chevron_left Previous
1…626364…75
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter