المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ يوسف بن خالد السمتي [ عن أبي حازم ] · حديث 5967
5957 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا زيد بن الحريش ثنا يوسف بن خالد عن أبي حازم عن سهل بن سعد Y أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بشراب فشرب منه ثم ناوله غلاماعن يمينه و عن يساره الأشياخ
حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف میں سے انصار کے دو محلوں کے درمیان کوئی جھگڑا تھا حتٰی کہ انہوں نے ایک دوسرے سے پتھروں کو تبادلہ کیا‘ چیخ و پکار کرنے والا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا جبکہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظہر کی نماز کیلئے اذان کہہ چکے تھے‘ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کے درمیان صلح کروانے کی خاطر تشریف لے گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس آنے میں دیر ہو گئی تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : کیا آپ نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہوں؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے! پس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہی اور۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصلائے امامت پر تشریف لے گئے‘ اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے تو صفیں ٹوٹنے لگیں حتٰی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے والی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ پس لوگوں نے تالی بجانا شروع کر دی جبکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوا کرتے تھے‘ پس جب لوگوں نے تالی کی کثرت کی تو آپ نے توجہ فرمائی‘ پس اچانک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے الٹے پاؤں لوٹنا شروع کر دیا‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پیچھے سے ہاتھ رکھ کر آگے کرنے کی کوشش کی‘ (لیکن وہ آگے نہ ہوئے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود آگے ہوئے) تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ پس جب نماز پڑھا چکے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے‘ فرمایا : جب میں نے تجھے حکم دے دیا تھا تو تجھے آگے ہونے سے کس چیز نے روکا؟ انہوں نے عرض کی : اللہ کو یہ منظور نہیں تھا کہ وہ ابو قحافہ کے بیٹے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت کراتے ہوئے دیکھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ جب تمہیں کوئی چیز پیش آئی تو تم نے تالیاں بجانا شروع کر دیں‘ تالی بجانا عورتوں کیلئے ہے اور تسبیح مردوں کے لیے ہے۔
سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← يوسف بن خالد ← زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5967
