Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه · حديث 5919

5909 - وبإسناده قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بني عمرو بن عوف فحضرت الصلاة فجاء بلال إلى أبي بكر فقال : يا أبا بكر إن الصلاة قد حانت وحبس رسول الله فتؤم الناس ؟ قال : أن شئت فأقام بلال الصلاة فقدم أبو بكر فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذ الناس في التصفيح وكان أبو بكر رضي الله عنه لا يلتفت في صلاته فلما اكثر الناس التفت فاذا برسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف فأشار النبي صلى الله عليه و سلم فرفع أبو بكر يده فحمد الله ثم رجع أبو بكر القهقرى وراءه حتى رجع فى الصف فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى بالناس فلما فرغ أقبل على الناس فقال : ( أيها الناس مالكم حين نابكم شيء في الصلاة أخذتم بالتصفيح إنما التصفيح للنساء فمن نابه شيء في صلاته فليقل سبحان الله فإنه لا يسمعه أحد إلا التفت إليه يا أبا بكر ما منعك أن تصلي حين أشرت إليك ؟ ) قال : ما كان ينبغي لابن أبي قحافة أن يصلي بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اتنے دشمنوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے‘ جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بعثت سے وفات تک سامنا کرنا پڑا اور دشمنی بھی مدینہ کے آگے سے۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5919

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه · حديث 5920

5910 - حدثنا يحيى بن أيوب العلاف ثنا سعيد بن أبي مريم و يحيى ابن بكير قالا ثنا ابن أبي حازم حدثني أبوحازم عن سهل بن سعد قال Y ما أصاب الناس العدد ما عدوا من مبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا من وفاته ولا عدوا إلا من مقدمه المدينة

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو میری اس مسجد میں داخل ہوا علم سیکھنے یا سکھانے کے لیے تو وہ اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں لڑتا ہے‘ جو باتوں کے لیے داخل ہواو اس کی طرح ہے جو اچھی شی دیکھے حالانکہ وہ کوئی دوسری شی ہو۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أبوحازمٍ: ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← سعيد بن أبي مريم و يحيى ابن بكير ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5920

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه · حديث 5921

5911 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني يعقوب بن حميد بن كاسب ثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه عن سهل بن سعد الساعدي Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( من دخل مسجدي هذا ليتعلم خيرا أو ليعلمه كان بمنزلة المجاهد في سبيل الله ومن دخله لغير ذلك من أحاديث الناس كان بمنزلة من يرى ما يعجبه وهو شيء غيره )

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس سے اس کی طرح بھیجے گئے ہیں‘ حضرت سفیان نے اپنی سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5921

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ المكيون عن أبي حازم سفيان بن عيينه عن أبي حازم · حديث 5922

5912 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبو حازم أنه سمع سهل بن سعد الساعدي يقول Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بعثت أنا والساعة كهذه من هذه ) وأشار سفيان بالسبابة والوسطى

حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منبر کس شی کا تھا ؟ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کو اس کا مجھ سے زیادہ علم ہو وہ جنگل کی لکڑی کا تھا‘ فلانی کے غلام نے بنایا تھا‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ منبر پر بیٹھے‘ قبلہ رخ منہ کیا اور تکبیر کہی‘ پھر قرأت کی‘ پھر رکوع کیا‘ پھر الٹے پاؤں واپس آئے‘ سجدہ کیا‘ پھر منبر پر چڑھے‘ پھر قرأت کی‘ پھر رکوع کیا‘ پھر پچھلے پاؤں نیچے اترے پھر سجدہ کیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبُو حَازِمٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5922

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ المكيون عن أبي حازم سفيان بن عيينه عن أبي حازم · حديث 5923

5913 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا بشر بن موسى حدثنا الحميدي قالا ثنا سفيان ثنا أبو حازم قال Y سألوا سهل بن سعد من أي شيء منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : وما بقي من الناس أحد هوأعلم به مني هومن أثل الغابة عمله له فلان مولى فلانة ولقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم حين صعد عليه استقبل القبلة فكبر ثم قرأ ثم ركع ثم نزل القهقري فسجد ثم صعد ثم قرأ ثم ركع ثم نزل القهقرى ثم سجد

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے تاکہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروائیں کسی معاملہ میں‘ جس میں ان کا اختلاف ہو گیا تھا حتٰی کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پتھر مارے‘ پس نماز کا وقت ہو گیا تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان پڑھی‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنے میں دیر ہو گئی‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھانے لگے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے‘ صفوں میں خلل واقعے ہونے لگا‘ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صف تک آ پہنچے جو حضرت ابو بکر کے بالکل پیچھے ملی ہوئی تھی تو لوگوں نے تالی بجانا شروع کر دی‘ حضرت ابو بکر نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوا کرتے تھے‘ پس جب انہوں نے یہ (تالی) سنی تو متوجہ ہوئے‘ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف ٹھہرے رہنے کا اشارہ کیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا‘ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اور الٹے پاؤں واپس آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے ہوئے۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا چکے (تو راوی کا بیان ہے:) ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے ابو بکر ! جب میں نے تیری طرف اشارہ کر دیا تھا تو ٹھہرے رہنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟ پس حضرت ابو بکر نے عرض کی : اللہ کو یہ بات منظور نہ تھی کہ ابو قحافہ کے بیٹے کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دیکھے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روئے سخن عوام الناس کی طرف کیا اور فرمایا: اے لوگو! تمہیں کیا ہے کہ جب نماز میں تمہیں کوئی چیز پیش آتی ہے تو تم تالی بجانے لگتے ہو؟ تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے اور تسبیح مردوں کے لیے ہے‘ جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شی پیش آئے تو اسے چاہیے کہ کہے: سبحان اللہ !

أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5923

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ المكيون عن أبي حازم سفيان بن عيينه عن أبي حازم · حديث 5924

5914 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبو حازم قال سمعت سهل بن سعد يقول Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ليصلح بين بني عمرو بن عوف في شيء وقع بينهم حتى تراموا بالحجارة فحضرت الصلاة فأذن بلال فاحتبس رسول الله صلى الله عليه و سلم وتقدم أبو بكر رضي الله عنه يصلي بالناس فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل يتخلل الصفوف فلما انتهى إلى الصف الذي يلي أبا بكر أخذ الناس في التصفيح وكان أبو بكر رجلا لا يلتفت في الصلاة فلما سمع ذلك التفت فأبصر رسول الله صلى الله عليه و سلم فأشار إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم أن اثبت فرفع أبو بكر رضي الله عنه رأسه الى السماء شكرا لله ورجع القهقرى وتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاته أقبل علينا فقال : ( يا أبا بكر ما منعك أن تثبت حين أشرت إليك ؟ ) فقال : ما كان الله ليرى ابن أبي قحافة بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم إنحرف رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الناس فقال : ( يا أيها الناس مالكم حين نابكم في صلاتكم شيء أخذتم في التصفيح ؟ إنما التصفيح للنساء والتسبيح للرجال من نابه شيء في صلاته فليقل سبحان الله )

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں بھی قوم کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت نے آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا آپ تمہارے حوالے کیا‘ آپ میرے بارے اپنی رائے ملاحظہ فرمائیں۔سو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں۔ راوی کا بیان ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے‘ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور پہلے کی مثل عرض کی‘ پس اس آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کو اس نکاح کرنے کی ضرورت نہیں تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی شی ہے جو تو اس کو دے سکے؟ اس نے عرض کی نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا کر تلاش کر! پس وہ گیا‘ پھر آیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے کوئی شی نہیں پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر جا کر تلاش کر‘ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو‘ پس وہ گیا‘ پھر آیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے کوئی شی نہیں پائی حتٰی کہ لوہے کی انگوٹی بھی نہیں ملی۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے قرآن میں کوئی چیز یاد ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! فلاں اور فلاں سورت مجھے یاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جا! میں نے تیرا نکاح اس عورت سے کر دیا‘ اس قرآن کے حصے کے بدلے جو تجھے یاد ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5924

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ المكيون عن أبي حازم سفيان بن عيينه عن أبي حازم · حديث 5925

5915 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبو حازم أنه سمع سهل بن سعد يقول Y كنت في القوم عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتته امراة فقالت : يارسول الله إني قد وهبت نفسي لك فرأ في رأيك فقام رجل فقال : أنكحنيها يارسول الله إن لم يكن لك فيها حاجة قال : فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قامت فقالت مثل ذلك فقال الرجل : أنكحنيها ياسول الله إن لم يكن لك فيها حاجة فقاك رسول الله صلى الله عليه و سلم للرجل : ( هل عندك شيء تعطيها إياه ؟ ) قال : لا قال : ( فاذهب فاطلت شيئا ) فذهب ئم جاء فقال : يا رسول الله ما وجدت شيئا قال ( اذهب فاطلب ولو خاتما من حديد ) فذهب ثم جاء فقال : يا رسول الله ماوجدت شيئا ولا خاتما من حديد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما معك من القرآن شيء ؟ ) قال : نعم سورة كذا وسورة كذا قال : ( اذهب فقد زوجتكها بما معك من القرآن )

حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ لوگوں کا اختلاف ہوا‘ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر جو زخم آیا وہ کس شی سے آیا تھا؟ انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا‘ یہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری صحابی تھے۔حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مسلمانوں میں اس کا علم مجھ سے زیادہ رکھنے والا کوئی باقی نہیں ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے خون دھویا‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ڈھال میں پانی لاتے‘ چٹائی کا ٹکڑا لے کر اسے جلایا گیا‘ اس کے ساتھ زخم بند کیا گیا۔

أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5925

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ المكيون عن أبي حازم سفيان بن عيينه عن أبي حازم · حديث 5926

5916 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبو حازم قال Y اختلف الناس باي شيء دووي جرح رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد ؟ فسألوا سهلا - وكان من آخر من بقي من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم بالمدينة - فقال : ما بقي من المسلمين أحد أعلم به مني كانت فاطمة رضي الله عنها تغسل الدم عن وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم و علي رضي الله عنه يأتي بالماء في ترسه فأخذ حصير فاحرق وحشي به جرحه

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5926

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ المكيون عن أبي حازم سفيان بن عيينه عن أبي حازم · حديث 5927

5917 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبوحازم عن سهل بن سعد قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( موضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها )

حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ لوگوں کا اختلاف ہوا‘ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر جو زخم آیا وہ کس شی سے آیا تھا؟ انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا‘ یہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری صحابی تھے۔ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: زمین کی پیٹھ پر مسلمانوں میں اس کا علم مجھ سے زیادہ رکھنے والا کوئی باقی نہیں ہے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے خون دھویا‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ڈھال میں پانی لاتے‘ چٹائی کا ٹکڑا لے کر اسے جلایا گیا‘ اس کے ساتھ زخم بند کیا گیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أبوحازمٍ: ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5927

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ محمد بن عيينة أخو سفيان بن عيينة عن أبي حازم · حديث 5928

5918 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا محمد بن حميد الرازي ثنا زافر بن سليمان عن محمد بن عيينة عن أبي حازم عن سهل بن سعد ( ح ) وحدثنا أحمد بن داود السكري الجند يسابوري ثنا محمد بن خليد الحنفي ثنا محمد بن عيينة عن أبي حازم قال Y سألت سهل بن سعد الساعدي بأي شيء دووي جرح رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد ؟ فقال : ما بقي على ظهرالأرض أحد أعلم به مني كان علي رضي الله عنه ينقل الماء في ترسه وكانت فاطمة تغسل الدم وأحرق حصير فحشي به

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا‘ آپ کا اون کا بنا ہوا ایک جبّہ تھا۔

أَبِي حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَنَفِيُّ ← أحمد بن داود السكري الجند يسابوري ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5928

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ زمعة بن صالح عن أبي حازم · حديث 5929

5919 - أخبرنا عبد الله بن محمد بن العباس ثنا أبومسعود أحمد بن الفرات ( ح ) وحدثنا محمد بن سمريه الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب قالا ثنا أبو داود ثنا زمعة بن صالح عن أبي حازم عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال Y توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وله جبة صوف في الحياكة

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیاہ بالوں کا ایک جبّہ تھا‘ اس کے دو حصے تھے سفید بالوں کے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے پہن کر نکلے‘ آپ نے اس کو ران پر رکھا‘ فرمایا: کیا تم دیکھتے ہو کہ یہ کتنا خوبصورت جبّہ ہے؟ ایک اعرابی نے عرض کی: یا رسول اللہ ! یہ خلہ مجھے پہنائیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی کہ آپ سے کوئی شی مانگی جاتی تو آپ نہ نہیں کرتے تھے‘ آپ نے دو کپڑے منگوائے‘ اس کو پہنا اور وہ حلّہ دیہاتی کو دے دیا اور حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس طرح کا ایک اور جبّہ بنا جائے‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا اس حال میں کہ ووجبّہ ابھی بنا جا رہا تھا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← محمد بن سمريه الأصبهاني ← أبومسعود أحمد بن الفرات ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5929

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ زمعة بن صالح عن أبي حازم · حديث 5930

5920 - حدثنا محمد بن يعقوب الخطيب الأهوازي ثنا حفص بن عمرو الربالي ثنا أبوعامر العقدي ثنا زمعة بن صالح عن أبي حازم عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال Y حيكت لرسول الله صلى الله عليه و سلم حلة من أنمار من صوف أسود وجعل لها ذؤابتين من صوف أبيض فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المجلس وهي عليه فضرب على فخذه : ( ألا ترون ما أحسن هذه الحلة ؟ ) فقال أعرابي : يا رسول الله اكسني هذه الحلة - وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سئل شيئا لم يقل لشيء يسأله قط لا - قال : ( نعم ) فدعا بمعقدتين فلبسها فاعطى الأعرابي الحلة وأمر بمثلها تحاك له فمات رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي في المحاكة

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر اللہ کے ہاں دنیا کی حیثیت مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ عزوجل دنیا سے کچھ بھی کسی کافر کو نہ دیتا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أبوعامرٍ العقديُّ: ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ← محمد بن يعقوب الخطيب الأهوازي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5930

chevron_left Previous
1…495051…75
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter