المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ عمارة بن غزية عن أبي حازم · حديث 5751
5741 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا إبراهيم بن المنذر ثنا ابن وهب عن معاوية بن صالح عن عمارة بن غزية عن أبي حازم عن سهل بن سيد Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( ما من ملب يلبي إلا لبى ما عن يمينة وشماله من حجر وشجر )
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے بلوایا گیا‘ آپ ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے گئے‘ نماز کا وقت ہوا تو صحابہ کرام آپ کا انتظار کرنے لگے‘ جب دیر ہوئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے ہوئے‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے ہوئے‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئے‘ جب لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیچھے کرنے کے لیے تالیاں بجانے لگے‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیچھے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے ہوئے‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے‘ آپ نے فرمایا: کیا بات ہے! تالیاں بجانے کی بجائے سبحان اللہ مردوں کے لیے اور عورتوں کے لیے تالیاں ہیں۔
يمينة وشماله من حجر وشجر ← «مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سهل بن سيد ← أَبِي حَازِمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5751
