Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5691

5681 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني يزيد بن أبي حبيب أن ابن شهاب كتب يذكر أن سهل بن سعد أخبره أن عويمرا قال لابن عمه عاصم بن عدي Y انطلق بنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أرأيت لو أني وجدت عند أهلي رجلا أقتله ؟ فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم قوله فرجع فقال عويمر : لأذكرن ذلك له وان كره فأتاه عويمر فقال : أرأيت إن وجدت عند أهلي رجلا فقال : ( ائت بامرأتك فإنه قد نزل فيكما ) فجاء بها فتلاعنا ثم قال : إني قد افتريت عليها ففرق بينهما قال ابن شهاب فكانت سنة في المسلمين فراقه إياها

حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر العجلانی‘ حضرت عاصم کے پاس آئے‘ عرض کی: اے عاصم! آپ میرا مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھیں کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مر دکو پائے تو وہ اس کو قتل کر دے‘ تو کیا اس کے بدلے اسے قتل کیا جائے گا‘ یا کیا کرے؟ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے سوال کو نا پسند کیا اور حضرت عویمر نے کہا: اے عاصم ! کیا کیا؟ حضرت عاصم نے کہا: میں نے کہا: کوئی بھلائی والی بات نہیں لایا‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے ناپسند کیا‘ حضرت عویمر نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور ضرور پوچھوں گا۔ حضرت عویمر نے ان دونوں کے متعلق قرآن کا حکم نازل ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلوایا‘ دونوں کے درمیان لعان کیا۔حضرت عویمر نے کہا: اگر میں اس کو لے کر گیا تو میں اس پر جھوٹ بولوں گا۔ حضرت عویمر نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے پہلے جدائی کر دی۔ حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں : لعان کرنے والوں کے درمیان سنت جاری ہوئی‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھنا! اگر سیاہ اور دھنسی ہوئی آنکھوں والا اور بڑی سرین والا جنے تو یہ اپنی بیوی کے متعلق بات کہنے میں سچا ہے‘ اگر سرخ اور چھوٹے اونٹ کی طرح جنے تو جھوٹا ہے‘ اس نے ناپسند صورت والا جنا۔ حدیث کے الفاظ حمیدی کے ہیں۔

يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5691

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5692

5682 - حدثنا أبومسلم الكشي ثنا حفص بن عمر الحوضي ( ح ) وحدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي قالا ثنا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن سهل بن سعد أنه أخبره قال Y جاء عويمر العجلاني إلى عاصم بن عدي فقال : يا عاصم سل لي رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل وجد مع امرأته رجلا فقتله أيقتل به أم كيف يصنع ؟ فسأل عاصم رسول صلى الله عليه و سلم عن ذلك فعاب المسائل وكرهه فجاء عويمر فقال : يا عاصم ما صنعت ؟ فقال : ما صنعت ؟ إنك لم تأت بخير سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فعاب المسائل فقال عويمر : والله لأتين رسول الله صلى الله عليه و سلم فلأسألنه فأتاه فوجده قد أنزل عليه فيهما فدعاهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فلاعن بينهما فقال عويمر : لئن انطلقت بها لقد كذبت عليها ففارقها قبل أن يأمره النبي صلى الله عليه و سلم قال ابن شهاب : فصارت سنة المتلاعنين ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( انظروها فإن جاءت به أسحم أدعج العينين عظيم الأليتين فلا أراه إلا قد صدق عليها وإن جاءت به أحيمر كأنه وحرة فلا أراه إلا كاذبا ) فجاءت به على النعت المكروه واللفظ لحديث الحميدي

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ عرض کی : یا رسول اللہ! کیا آپ بتائیں گے کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کے پاس کسی آدمی کو پائے تو اسے قتل کر دے اور آپ لوگ اس کو قتل کر دیں‘ یا کیا کرے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دونوں کے معاملہ میں قرآن نے لعان کا حکم ذکر کیا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق حکم نازل کیا گیا‘ فرمایا: دونوں لعان کرو! حضرت سہل فرماتے ہیں: میں وہاں موجود تھا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے یہ لعان کرنے والوں میں سنت جاری ہوئی‘ یہ عورت حاملہ تھی‘ اس آدمی نے اس کے حمل کا انکار کیا اور بچے کی نسبت اس عورت کی طرف کی جاتی تھی۔اس کے بعد میراث کی سنت کا طریقہ چلا کہ وہ بچہ اپنی ماں کا وارث ہو گا اورلڑ کی اللہ کے مقررہ کردہ حصہ کے مطابق وارث ہو گی‘ جو اللہ نے مقرر کیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← أبومسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5692

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5693

5683 - حدثنا أحمد بن إبراهيم بن عنبر البصري ثنا أبو الربيع الزهراني ثنا فليح بن سليمان عن الزهري عن سهل بن سعد الساعدي Y أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يارسول الله أرأيت رجلا رأى مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه به أم كيف يفعل به ؟ فانزل الله عزوجل فيهما ما ذكر في القرآن من التلاعن فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( قد قضي فيك وفى امرأتك ) قال : فتلاعنا وأنا شاهد عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول إن أمسكتها فقد كذبت عليها ففارقها فجرت السنة بعد فيهما أن يفرق بين المتلاعنين وكانت حاملا فانكر حملها وكان يدعى إليها وجرت السنة بعد في الميراث أن يرثها فترث منه ما فرض الله لها

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لعان کی تین طلاقیں کہا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نافذ کیا‘ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سنت طریقہ کہا جاتا تھا۔ حضرت سہل فرماتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا‘ اس کے بعد لعان کرنے والوں کے درمیان طریقہ جاری ہو گیا کہ درمیان جدائی کر دی جائے گی‘ پھر دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکیں گے۔حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: میں عبداللہ کتنا بر ا آدمی ہوتا‘ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جھوٹ بولتا اور میں اپنی طرف سے بات گھڑ لیتا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5693

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5694

5684 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب أخبرني عياض بن عبد الله الفهري عن ابن شهاب عن سهل بن سعد الساعدي Y أن الملاعن طلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فانفذه رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان ما صنع عند رسول الله صلى الله عليه و سلم سنة قال سهل : حضرت هذا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فمضت السنة بعد في المتلاعنين أن يفرق بينهما ثم لا يجتمعان أبدا قال ابن شهاب : وقال الرجل عند ذلك بئس عبد الله أنا إن كذبت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وتحملت فرية

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں لعان کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا‘ میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی‘ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو حضرت عویمر نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو میں جھوٹا ہوں‘ حضرت عویمر نے تین طلاقیں دیں اور کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں جھوٹ بولوں تو میں نے بہت بڑی بات گھڑا لی‘ پھر حاملہ ہوئی اور اس بچہ کی نسبت ماں کی طرف کی جاتی تھی۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيُّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5694

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5695

5685 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب عن سهل بن سعد الساعدي قال Y حضرت لعانهما عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا ابن خمس عشرة سنة فلما فرغا من تلاعنهما قال : يا رسول الله كذبت عليها إن أمسكتها قال : فطلقها ثلاثا وقال : والله لئن كذبت لقد تحملت فرية ثم مرت حاملا وكان الولد إلى أمه

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے‘ جو بنی عجلان سے انصار کے ایک آدمی تھے‘ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے‘ اس نے کہا: آپ میرا مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھیں کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے‘ اسے قتل کر دے تو کیا اسے قتل کیا جائے گا یا کیا کیا جائے گا ؟ وہ آ دمی کچھ دیر ٹھہرا‘ پھر آیا اور اس نے کہا: اے عاصم ! حدیث کا کیا کیا؟ حضرت عاصم نے کہا: تو میرے پاس کبھی کوئی بھلائی والی بات نہیں لایا‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا‘ آپ نے اس طرح کے مسئلہ کو ناپسند کیا‘ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ آپ سے وہی بات عرض کی جو حضرت عویمر نے حضرت عاصم سے عرض کی تھی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اللہ عزوجل نے اس کے اور آپ کی بیوی کے متعلق حکم نازل کیا ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو بلوایا‘ دونوں کے درمیان لعان کروایا‘ حضرت عویمر نے عرض کی: یا رسول اللہ ! لعان کے بعد اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو میں جھوٹا ہوں گا‘ اس کے بعد لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کی سنت جاری ہوئی۔

ابن خمس عشرة سنة فلما فرغا من تلاعنهما ← حضرت لعانهما عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5695

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5696

5686 - حدثنا محمد بن فضيل الملطي حدثنا أبونعيم ثنا إبراهيم ابن إسماعيل بن مجمع ( ح ) وحدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن عثمان بن كرامة ثنا عبيد الله بن موسى عن إبراهيم بن إسماعيل - يعني بن مجمع - عن الزهري عن سهل بن سعد قال Y جاء عويمر رجل من الأنصارمن بني العجلان إلى عاصم بن عدي فقال : سل النبي صلى الله عليه و سلم أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا فقتله أتقتلونه أم كيف يصنع ؟ فلبث الرجل شيئا ثم جاء فقال : يا عاصم ما صنعت فيما قلت ؟ فقال عاصم : إنك لم تأتني بخير قط سال النبي صلى الله عليه و سلم فعاب المسائل فلم تقره نفسه حتى جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال به مثل ما قال لعاصم فقال : ( تعال فقد أنزل الله زوجل فيك وفي صاحبتك ) فدعاهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فلاعن بينهما فقال عويمر : يانبي الله كذبت عليها إن أمسكتها بعد أن لاعنتها فجرت السنة بين المتلاعبين في أن يفرق ببنهما

حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ دولعان کرنے والے آدمی حاضر ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کر دی۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إبراهيم بن إسماعيل يعني بن مجمع ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ کَرَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ← إبراهيم ابن إسماعيل بن مجمع ← ابونعیم ← محمد بن فضيل الملطي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5696

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5697

5687 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا سفيان عن الزهري عن سهل بن سعد Y أنه حضر المتلاعنين وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم فرق بينهم

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے آدمی کو پائے اور اسے قتل کر دے تو کیا اسے بھی قتل کیا جائے گا‘ یا کیا کرے؟ میرا یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھیں‘ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کرنے کو ناپسند کیا‘ حضرت عاصم نے اپنے اوپر برا خیال کیا۔ حضرت عویمر نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ مسئلہ پوچھا جس کے لیے آپ کو کہا گیا تھا ؟ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو میرے پاس کوئی بھلائی والی بات نہیں لایا‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اس طرح کا سوال کرنے کو ناپسند کیا اور ناپسند کہا‘ حتٰی کہ میں نے چاہا کہ میں نکلوں اور آپ کی بیوی کا معاملہ نہ پوچھوں۔ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ عرض کی: یا رسول اللہ! کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے تو کیا اس کو بھی قتل کیا جائے گا‘ یا کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے آپ کے اور آپ کی بیوی کے متعلق حکم نازل کیا‘ آپ جلدی اس کو لائیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد مسجد کی طرف اس عورت کو لے کر گئے‘ اور میں لوگوں کے ساتھ دیکھ رہا تھا‘ انہوں نے لعان کیا‘ جب رسول اللہ فارغ ہوئے تو حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ٹھہرے‘ عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو میں نے ظلم کیا‘ یہ طلاق بتّہ والی ہے۔

الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5697

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5698

5688 - حدثنا محمد بن إبراهيم أبوعامر النحوي ثنا سليمان بن عبدالرحمن الدمشقي ثنا إسماعيل بن عياش عن جعفربن الحارث عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن سهل بن سعد قال : قال عويمر لعاصم Y رجل وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يصنع ؟ سل لي رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك فسأل عاصم رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك فكره المسائل وعابها فعظم ذلك على عاصم وكبر في نفسه فأتاه عويمر فقال : سألت رسوك الله صلى الله عليه و سلم عن الذي أمرتك به ؟ فقال ؟ لم تجئني بخير سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فكره المسائل وعابها حتى وددت أني خرجت من مالي ولم أساله شانك بامرأتك فأتى عويمر صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله رجل وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يصنع ؟ فقال : ( قد أنزل الله فيك وفي صاحبتك فاعجل بها ) فقدمها رسول الله صلى الله عليه و سلم الى المسجد بعد العصر وأنا مع الناس أنظر فتلاعنا فلما فرغا وقف عويمر على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله ظلمتها إن أمسكتها فهي طالق البتة

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لعان کیا‘ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ٹھہرے‘ عرض کی: یا رسول اللہ ! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو میں نے اپنی جان پرظلم کیا‘ اس کو طلاق بتہ دی۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سليمان بن عبدالرحمن الدمشقي ← محمد بن إبراهيم أبوعامر النحوي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5698

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5699

5689 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج ثنا يحيى بن سليمان الجعفي ثنا أبوخالد الأحمر عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن سهل بن سعد Y أن عويمرا لما لاعن إمرأته عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وقف عويمر على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله ظلمتها إن امسكتها فهي طالق البتة

حضرت سہل بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ بنی عجلان کے ایک آدمی آئے‘ اس کے بعد حدیث ذکر کی‘ اس کے بعد حدیث ذکر کی‘ اس کے بعد ابراہیم بن سعد والی حدیث ذکر کی۔

الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبوخالد الأحمر ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← أبو الزنباع روح بن الفرج

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5699

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5700

5690 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا أبو داود ثنا عبد العزيز بن أبي سلمة و إبراهيم بن سعد عن الزهري عن سهل بن سعد أن عاصم بن عدي [ قال ] Y جاء عويمر رجل من بني العجلان فذكر الحديث نحوحديث إبراهيم بن سعد

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ دو لعان کرنے والوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موجود تھے‘ دونوں کے درمیان جدائی کر دی گئی‘ حضرت عویمر نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس کو اگر اپنے پاس رکھوں تو میں جھوٹا ہوں گا۔

جاء عويمر رجل من بني العجلان فذكر الحديث نحوحديث إبراهيم بن سعد ← سهل بن سعد أن عاصم بن عدي ← الزُّهْرِيِّ، ← عبد العزيز بن أبي سلمة و إبراهيم بن سعد ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5700

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5701

5691 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبوبكر بن أبي شيبة ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري Y سمع سهل بن سعد أنه شهد المتلاعنين على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فرق بينهما فقال : يارسول الله كذبت عليها إن أمسكتها

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : بنی عجلان کا ایک آدمی حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا‘ اس نے کہا: اے عاصم ! یہ بتائیں کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا‘ یا کیا کرے؟ میرا یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوال ناپسند سمجھا اور ناپسند خیال کیا۔ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یہ دشوار گزرا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا‘ جب حضرت عاصم اپنے گھر والوں میں آئے تو حضرت عویمر آئے‘ کہا: اے عاصم ! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلہ کو ناپسند کیا جو آپ نے پوچھا تھا۔ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ آپ لوگوں کے درمیان تھے‘ عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بتائیں کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے تو کیا اسے بھی قتل کیا جائے گا‘ یا کیا کیا جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق حکم نازل کیا‘ جاؤ اپنی بیوی کو لے کر آؤ۔ حضرت سہل فرماتے ہیں: دونوں نے لعان کیا‘ میں وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوگوں میں موجود تھا‘ جب دونوں لعان کر کے فارغ ہوئے تو عرض کی: یا رسول اللہ ! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو میں جھوٹا ہوں گا‘ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے پہلے طلاق دے دی‘ آپ کا اپنی بیوی کو جدا کرنا دو لعان کرنے والوں کے لیے بطور سنت جاری ہوا۔

الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5701

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5702

5692 - حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ثنا علي بن الجعد ثنا عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون عن ابن شهاب عن سهل بن سعد قال Y جاء رجل من بني العجلان إلى عاصم بن عدي فقال : يا عاصم أرأيت رجلا وجد مع إمرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يفعل ؟ سل لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم المسائل وعابها حتى كبر على عاصم ما سمع من رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رجع عاصم إلى أهله جاء عويمر فقال : يا عاصم ماذا قال لك رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ [ فقال عاصم ] : قد كره رسول الله صلى الله عليه و سلم المسالة التي سالت عنها فأقبل عويمر حتى سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم في وسط الناس فقال : يارسول الله أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يفعل ؟ قال : ( قد نزل فيك وفي صاحبتك فاذهب فائت بها ) قال سهل : فتلاعنا وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما فرغا من تلاعنهما قال : يا رسول الله كذبت عليها إن أمسكتها قال : فطلقها قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم بطلاقها وكان فراقه إياها سنة بين ا لمتلاعنين

حضرت امام زہری سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کی خاطر تشریف لے گئے‘ پس نماز کا وقت قریب ہو گیا تو مؤذن حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں! پس انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی‘ جب ابھی وہ نماز پڑھا ہی رہے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے حتٰی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی کہ آپ نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے‘ جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں تو انہوں نے توجہ کی تو ان کی نظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ جمے رہیں۔ پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اس پر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا‘ پھر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگے حتٰی کہ لوگوں کی صفوں کے برابر ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے ہو کر نماز پڑھائی‘ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کا سلام پھیرا تو فرمایا : اے ابو بکر ! جب میں نے آپ کو حکم دے دیا تھا تو آپ کو وہاں مصلّٰی پر ٹھہرے رہنے میں کیا رکاوٹ تھی ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کی: ابو قحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہ دیتا تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ان کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھائے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم زیادہ تالیاں کیوں بجا رہے تھے؟ جس آدمی کو نماز میں کوئی چیز شک میں ڈالے تو وہ تسبیح کہے کیونکہ جب وہ تسبیح کہے گا تو وہ اس کی طرف توجہ کرے گا‘ یہ تالی بجانا تو عورتوں کیلئے ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5702

chevron_left Previous
1…303132…75
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter