المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5691
5681 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني يزيد بن أبي حبيب أن ابن شهاب كتب يذكر أن سهل بن سعد أخبره أن عويمرا قال لابن عمه عاصم بن عدي Y انطلق بنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أرأيت لو أني وجدت عند أهلي رجلا أقتله ؟ فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم قوله فرجع فقال عويمر : لأذكرن ذلك له وان كره فأتاه عويمر فقال : أرأيت إن وجدت عند أهلي رجلا فقال : ( ائت بامرأتك فإنه قد نزل فيكما ) فجاء بها فتلاعنا ثم قال : إني قد افتريت عليها ففرق بينهما قال ابن شهاب فكانت سنة في المسلمين فراقه إياها
حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر العجلانی‘ حضرت عاصم کے پاس آئے‘ عرض کی: اے عاصم! آپ میرا مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھیں کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مر دکو پائے تو وہ اس کو قتل کر دے‘ تو کیا اس کے بدلے اسے قتل کیا جائے گا‘ یا کیا کرے؟ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے سوال کو نا پسند کیا اور حضرت عویمر نے کہا: اے عاصم ! کیا کیا؟ حضرت عاصم نے کہا: میں نے کہا: کوئی بھلائی والی بات نہیں لایا‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے ناپسند کیا‘ حضرت عویمر نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور ضرور پوچھوں گا۔ حضرت عویمر نے ان دونوں کے متعلق قرآن کا حکم نازل ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلوایا‘ دونوں کے درمیان لعان کیا۔حضرت عویمر نے کہا: اگر میں اس کو لے کر گیا تو میں اس پر جھوٹ بولوں گا۔ حضرت عویمر نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے پہلے جدائی کر دی۔ حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں : لعان کرنے والوں کے درمیان سنت جاری ہوئی‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھنا! اگر سیاہ اور دھنسی ہوئی آنکھوں والا اور بڑی سرین والا جنے تو یہ اپنی بیوی کے متعلق بات کہنے میں سچا ہے‘ اگر سرخ اور چھوٹے اونٹ کی طرح جنے تو جھوٹا ہے‘ اس نے ناپسند صورت والا جنا۔ حدیث کے الفاظ حمیدی کے ہیں۔
يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5691
