Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما روى الزهري عن سهل بن سعد باب · حديث 5679

5669 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا أبو داود ثنا زمعة بن صالح عن الزهري عن سهل بن سعد Y أن رجلا اطلع من جحر إلى النبي صلى الله عليه و سلم ومع رسول الله صلى الله عليه و سلم مدرى يحك به رأسه فقال : ( لوأني أعلم أنك تنظر لقمت حتى أطعن به في عينك إنما جعل الاذن من أجل البصر )

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک میں جھانکا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کنگھی تھی جس کے ساتھ آپ اپنا سر رگڑتے تھے (یا کنگھی کرتے تھے) تو آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں تیری آ نکھ پھوڑ دیتا۔

الزُّهْرِيِّ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5679

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما روى الزهري عن سهل بن سعد باب · حديث 5680

5670 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا زكريا بن يحيى كاتب العمري ثنا رشدين بن سعد عن يونس بن يزيد عن محمد بن إسحاق عن محمد بن مسلم الزهري عن سهل بن سعد قال Y اطلع على رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل وفي يد رسول الله صلى الله عليه و سلم عود أومدرى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لو أعلم أنك تنظرني لفقأت عينك )

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک میں جھانکا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کنگھی تھی جس کے ساتھ آپ اپنا سر رگڑتے تھے (یا کنگھی کرتے تھے) تو آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں اس کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا (کیونکہ) طلب اجازت تو آنکھ کی خاطر ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← رشدين بن سعد ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، كَاتِبُ الْعُمَرِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5680

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما روى الزهري عن سهل بن سعد باب · حديث 5681

5671 - حدثنا محمد بن نصر بن حميد البزاز ثنا أبوخيثمة زهير بن حرب ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن صالح عن كيسان عن ابن شهاب أن سهل بن سعد أخبره Y أن رجلا اطلع من جحرفي باب النبي صلى الله عليه و سلم ومع رسول الله صلى الله عليه و سلم مدرى يحك به رأسه فلما رآه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( لوأعلم أنك تبصرني لطعنت به في عينيك انما جعل الإستئذان من أجل البصر )

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک میں جھانکا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کنگھی تھی جس کے ساتھ آپ اپنے سر میں کنگھی کرتے تھے تو آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں اس کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا۔

ابن شهاب أن سهل بن سعد ← كيسان. ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أبوخيثمةَ زهيرُ بنُ حربٍ: ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَزَّازُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5681

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما روى الزهري عن سهل بن سعد باب · حديث 5682

5672 - حدثنا أحمد بن محمد بن صدقة ثنا إسماعيل بن مسعود الجحدري ثنا فضيل بن سليمان عن عمربن سعيد عن الزهري عن سهل ابن سعد قال Y نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رجل ينظرفي بيته وفي يد رسول الله صلى الله عليه و سلم مدرى يرجل به رأسه فقال : ( لو أعلم أنك تبصرني لطعنت به في عينك )

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک میں دروازے سے جھانکا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کنگھی تھی جس کے ساتھ آپ اپنے سر میں کنگھی کرتے تھے تو آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں اس کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا (کیونکہ) طلب اجازت تو آ نکھ کی خاطر ہے۔

سَهْلِ ابْنِ سَعْدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5682

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما روى الزهري عن سهل بن سعد باب · حديث 5683

5673 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا محمد ابن عزيزالأيلي ثنا سلامة بن روح عن عقيل عن ابن شهاب أخبرني سهل ابن سعد الساعدي Y أن رجلا اطلع من جحرفي باب رسول الله صلى الله عليه و سلم ومع رسول الله صلى الله عليه و سلم مدرى يرجل به رأسه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لوأعلم أنك تنظرني لطعنت به في عينك إنما جعل الإذن من أجل النظر )

حضرت ابن شہاب نے لعان کرنے والوں کے بارے اور اس میں سنت طریقہ کے بارے بنو ساعدہ کے ایک فرد حضرت سہل بن سعد کی حدیث کے حوالے سے خبر دی کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے آپ کا کیا حکم ہے جو اپنی بیوی کے پاس (مشکوک حالت میں) کسی آدمی کو پائے‘ کیا وہ اس کو قتل کر دے تو لوگ اس کو قتل کر دیں یا وہ کیسے عمل کرے؟ پس اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل کیا وہ جو لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں ذکر کیا گیا ہے‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا : تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے‘ پس ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا‘ میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ پس جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو اس آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! اب اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو میں جھوٹا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوئی حکم فرمانے سے پہلے ہی اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں‘ جوں ہی وہ دونوں لعان سے فارغ ہوئے‘ پس اس آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی اس کو اپنے سے جدا کر دیا‘ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دو لعان کرنے والوں کے درمیان یہی تفریق ہو گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اگر یہ عورت سرخ رنگ کا اور چھوٹے قد کا بچہ جنے گویا چھوٹے قد کا اونٹ (یا چھپکلی نما جانور) ہے‘ تو میرا خیال ہے کہ وہ سچی ہو گی اور وہ جھوٹا ہو گا اور اگر وہ کالے رنگ کا موٹی آنکھوں والا اور بڑی سرین والا بچہ جنے تو میری رائے ہے کہ اس آدمی نے سچ بولا (اور اس عورت نے جھوٹ بولا)۔ پس وہ عورت اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ شکل والا بچہ لے کر آئی۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← محمد ابن عزيزالأيلي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5683

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5684

5674 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا ابن جريح أخبرني ابن شهاب عن الملاعنة وعن السنة فيها عن حديث سهل ابن سعد أخي بني ساعدة أن رجلا من الأنصار جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال Y يارسول الله صلى الله عليه و سلم أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يفعل ؟ فانزل الله عزوجل في شأنه ما ذكر في القرآن من أمر المتلاعنين فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( قد قضى الله فيك وفي إمرأتك ) قال : فتلاعنا في المسجد وأنا شاهد فلما فرغا قال : كذبت عليها يا رسول الله إن امسكتها فطلقها ثلاثا قبل أن يامره النبي صلى الله عليه و سلم حين فرغا من التلاعن ؟ ففارقها عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( ذلك التفريق بين كل متلاعنين ) و قال النبي صلى الله عليه و سلم : ( إن جاءت به أحيمر قصيرا كأنة وحرة فلا أراها إلا قد صدقت وكذب عليها وإن جاءت به أسود أعين ذا أليتين فلا أراه إلا قد صدق عليها ) فجاءت به على المكروه من ذلك

حضرت شہاب سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی نے ان کو خبر دی کہ عویمر بن اشقر عجلانی‘ حضرت عاصم بن عدی انصاری کے پاس آیا تو اس نے ان سے کہا: اے عاصم ! اس آدمی کے بارے تیری کیا رائے جواپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھے‘ کیا وہ اس کوقتل کر دے تو لوگ اس کوقتل کریں یا وہ کیسے کرے؟ اے عاصم ! اس بارے میں میرے لیے آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کریں۔ پس حضرت عاصم نے اس بارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کے سوالات کو ناپسند کیا اور اسے معیوب قرار دیا‘ حتٰی کہ حضرت عاصم پر یہ بات گراں گزری جو انہوں نے رسول کریم ہم سے سوال کیا‘ پس جب حضرت عاصم اپنے گھر والوں کی طرف واپس آئے تو حضرت عویمر نے ان کے پاس آ کر کہا: اے عاصم! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے کیا فرمایا؟ پس حضرت عاصم نے عویمر سے فرمایا: تو میرے پاس خیر کے ساتھ بھی نہیں آیا‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سوال کو ہی ناپسند کیا ہے جس کے بارے تو نے پوچھا تھا۔ پس عویمر نے کہا قسم بخدا! میں نہیں رُکوں گا حتٰی کہ اس بارے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لوں۔ پس عویمر بذات خود آگے بڑھے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے عین درمیان میں تھا۔ پس عرض کی : اس آدمی کے بارے آپ کا کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھے تو کیا وہ اس کو قتل کرے تو لوگ اس کو قتل کر دیں یا وہ کیسے لائحہ عمل اختیار کرے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے اور تیری بیوی کے بارے اللہ نے حکم نازل فرما دی ہے‘ پس جا کر اسے لے آ۔ حضرت سہل فرماتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا جبکہ میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا۔ پس جب وہ فارغ ہوئے تو عویمر بولے: اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں میں اس پر جھوٹ بولنے والا شمار ہوں گا۔ پس عویمر نے اسے تین طلاقیں دے دیں‘ اس سے پہلے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے کوئی حکم دیں۔ حضرت ابن شہاب کہتے ہیں: یہی طریقہ ہے۔

حديث سهل ابن سعد أخي بني ساعدة ← السُّنَّةِ فِيهَا ← الْمُلَاعَنَةِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5684

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5685

5675 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك ( ح ) وحدثنا بكربن سهل ثنا عبد الله بن يوسف أنا مالك عن ابن شهاب أن سهل بن سعد الساعدي أخبره Y أن عويمر بن أشقر العجلاني أتى عاصم بن عدي الأنصاري فقال له : يا عاصم أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يفعل ؟ سل لي يا عاصم عن ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأل عاصم عن ذلك رسول صلى الله عليه و سلم فكره المسائل وعابها حتى كبر على عاصم ما سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رجع عاصم إلى أهله أتاه عويمر فقال : يا عاصم ماذا قال لك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عاصم لعويمر : لم تأتني بخير قط قد كره رسول الله صلى الله عليه و سلم المسالة التي سألته عنها فقال عويمر : والله لا أنتهى حتى أساله عنها فأقبل عويمر حتى أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في وسط الناس فقال : يا رسول الله أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يفعل ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( قد انزل فيك وفي صاحبتك فاذهب فائت بها ) فقال سهل : فتلاعنا وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما فرغا قال عويمر : كذبت عليها إن أمسكتها فطلقها عويمر ثلاثا قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ابن شهاب : فكانت سنة المتلاعنين

حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر بنی عجلان والے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عاصم ! آپ بتائیں گے کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے آدمی کو دیکھے تو وہ اس کوقتل کرے تو تم لوگ اس کو قتل کر دو‘ یا کیا کرے؟ اے عاصم ! اس بارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ ! اس کے بعد اس جیسی حدیث ذکر کی۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5685

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5686

5676 - حدثنا أبو خليفة ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء ثنا جويرية بن أسماء عن مالك بن أنس عن بن شهاب ان سهل بن سعد الساعدي أخبره ان عويمرا من بني العجلان Y اتى عاصم بن عدي فقال يا عاصم أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يعمل فسل لي عن ذلك يا عاصم رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر نحوه

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر‘ حضرت عاصم بن عدی کے پاس آئے‘ حضرت عاصم بنی عجلان کے سردار تھے‘ حضرت عویمر نے کہا: آپ اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے‘ کیا اسے قتل کرے اور لوگ اس کوقتل کر دیں یا کیا کرے؟ اور کہا: آپ میرے مسئلہ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھیں۔ اس کے متعلق عاصم‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ عرض کی: یا رسول اللہ! ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کرے اور لوگ اس کو قتل کر دیں یا کیا کرے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس بات کو نا پسند کیا۔ حضرت عویمر نے پوچھا‘ حضرت عاصم نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھنے کو ناپسند کیا اور اعراض کیا‘ حضرت عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ کر ہی آؤں گا‘ اس کے متعلق حضرت عویمر نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اس کو قتل کرے اور لوگ قصاصاً اس کو قتل کر دیں یا کیا کرے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے اور تیری بیوی کے متعلق اللہ عزوجل نے قرآن میں حکم نازل کیا ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا‘ اس کے مطابق جو اللہ نے قرآن میں بیان کیا‘ دونوں نے لعان کیا‘ پھر حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھا تو میں نے ظلم کیا‘ پھر طلاق دے دی جو بعد میں آنے والے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھنا اگر اس عورت کے ہاں بچہ پیدا ہوسیاہ اور موٹی سرین والا‘ تیلی پنڈلیوں والا ہو تو عویمر اس کے متعلق سچ بولتا ہے‘ اگر سرخ رنگ اور چھوٹے قد والا ہو تو عویمر کے متعلق یہ عورت سچ بولتی ہو گی‘ اس عورت نے اس طرح جنا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا تھا۔ حضرت عویمر کی تصدیق سے تو وہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہو گا۔

بن شِهَابٍ ← مالک بن أنس ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5686

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5687

5677 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا الأوزاعي حدثني الزهري عن سهل بن سعد الساعدي Y ان عويمرا اتى عاصم بن عدي وكان سيد بني العجلان فقال كيف تقول في رجل وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يصنع وقال سل لي رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك فاتى عاصم النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله رجل وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يصنع قال فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم المسائل فسأله عويمر فقال ان رسول الله صلى الله عليه و سلم كره المسائل وعابها قال عويمر والله لا انتهي حتى أسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك قال فجاء عويمر فقال يا رسول الله رجل وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يصنع فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد انزل القرآن فيك وفي صاحبتك وامرهما رسول الله صلى الله عليه و سلم بالملاعنة بما بينها الله في كتابه فتلاعنا ثم قال يا رسول الله ان حبستها فقد ظلمتها قال ثم طلقها فكانت سنة لمن جاء بعدهما من المتلاعنين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم انظروا فإن جاءت به اسحم ادعج عظيم الاليتين خدلج الساقين فلا احسب الا عويمر قد صدق عليها وان جاءت به أحيمر كأنه وحرة فلا احسب عويمرا الا قد كذب عليها قال فجاءت به على النعت الذي نعت رسول الله صلى الله عليه و سلم من تصديق عويمر وكان نسب هذا إلى أمه

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر‘ حضرت عاصم بن عدی کے پاس آئے‘ کہا: آپ بتائیں کہ اگر کوئی آدمی اپنی عورت کے ساتھ کسی مردکو پائے تو وہ اسے قتل کر دے تو کیا اس کو اس کے بدلہ قتل کیا جائے گا؟ اے عاصم! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھیں! حضرت عاصم آئے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ آپ نے ناپسند کیا اور نامناسب کہا۔ حضرت عویمر نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا‘ حضرت عویمر نے کہا: حضرت عاصم کے بعد قرآن کی آیت نازل ہو چکی تھیں‘ حضور ٹی ایم سے پوچھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے متعلق قرآن کی آیت نازل ہوئی ہے۔ آپ نے دونوں کو بلوایا‘ دونوں آگے ہوئے‘ دونوں نے لعان کیا‘ حضرت عویمر نے عرض کی : یا رسول اللہ! اگر میں اس کو پاس رکھوں تو میں اس کے متعلق جھوٹا ہوں گا۔ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طلاق دے دی‘ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جدا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا‘ لعان کا طریقہ شروع ہوا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: دیکھنا اگر یہ سرخ چھوٹے قد کا بچہ جنے تو میرا خیال ہے کہ عویمر نے اس پر جھوٹ بولا اور اگر وہ کالا سیاہ موٹی آنکھوں اور بڑی سرین والا بچہ بنے تو عویمر نے سچ بولا‘ تو وہ مکروہ شکل والا بچہ لائی۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5687

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5688

5678 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ومحمد بن يحيى المروزي قالا ثنا عاصم بن علي ثنا بن أبي ذئب عن الزهري عن سهل بن سعد ان عويمرا جاء إلى عاصم بن عدي فقال Y أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا فيقتله فتقتلونه به سل يا عاصم النبي صلى الله عليه و سلم فجاء عاصم فسأل النبي صلى الله عليه و سلم فكره المسائل وعابها فرجع فأخبره أن النبي صلى الله عليه و سلم كره المسائل وعابها فقال عويمر فوالله لآتين رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء وقد أنزل القرآن خلف عاصم فسأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم قد أنزل فيكم قرآن فدعاهما فتقدما فتلاعنا ثم قال كذبت عليها يا رسول الله ان أمسكتها ففارقها وما أمره النبي صلى الله عليه و سلم بفراقها فجرت سنة التلاعنين فقال النبي صلى الله عليه و سلم انظروا فإن جاءت به أحمر قصيرا مثل الوحرة فلا أراه الا قد كذب عليها وان جاءت به أسحم أعين ذا أليتين فلا أحسبه الا قد صدق عليها فجاءت به على الأمر المكروه

حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کیا بتاتے ہیں اس آدمی کے متعلق کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے‘ کیا وہ اس کو قتل کرے؟ اللہ عزوجل نے لعان کا ذکر قرآن میں کیا‘ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے تیرے اور تیری بیوی کے متعلق فیصلہ کیا‘ دونوں نے لعان کیا‘ میں وہاں موجود تھا‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جدائی کی‘ اس کے بعد لعان کرنے والوں کے درمیان یہ سنت جاری ہو گئی‘ وہ عورت حاملا تھی‘ اس نے حمل کا انکار کر دیا‘ اس لڑکے کی نسبت اس کی ماں کی طرف کی جاتی تھی‘ پھر میراث میں سنت جاری کی گئی کہ لڑکا اس کا اور ماں اس لڑکے کے مال کی وارث ہو گی جو حصہ مقرر کیا گیا۔

سهل بن سعد أن عويمرا جاء إلى عاصم بن عدي ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عمر بن حفص السدوسي ومحمد بن يحيى المروزي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5688

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5689

5679 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني عقيل عن ابن شهاب عن سهل بن سعد أنه قال Y ان رجلا من الأنصار جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله ؟ فأنزل الله عزوجل في شانه ما ذكر في القران من التلاعن فقال : ( قد قضي فيك وفي امرأتك ) قال : فتلاعنا وأنا شاهد ثم فارقها عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فكانت السنة بعد فيهما أن يفرق بين المتلاعنين وكانت حاملا فانكر حملها فكان ابنها يدعى إلى أمه ثم جرت السنة في الميراث أنه يرثها ابنها وترث منه ما فرض لها

حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اس نے عرض کی : آپ بتائیں گے کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے تو اس کے لیے‘ حضرت ابوصالح والی حدیث ذکر کی‘ حضرت لیث سے وہ حضرت عقیل سے روایت کرتے ہیں۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5689

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ باب 1 · حديث 5690

5680 - حدثنا محمد بن عبد الرحيم بن نمير المصري ثنا سعيد بن عفير حدثني الليث عن عقيل و رشدين بن سعد عن عقيل و قرة بن عبد الرحمن عن ابن شهاب عن سهل بن سعد Y أن رجلا من الأنصار جاء إلى رسول صلى الله عليه و سلم فقال : أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا فذكر نحو حديث أبي صالح عن الليث عن عقيل

حضرت یزید بن ابو حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن شہاب ذکر کرتے ہیں کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتاتے ہیں کہ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے چچا زاد حضرت عاصم بن عدی سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ کہا: کیا آپ بتائیں گے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اس کو قتل کرے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس کی بات کو ناپسند کیا۔ وہ واپس آئے تو حضرت عویمر نے کہا: میں اس کا ذکر ضرور کروں گا‘ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے نا پسند کریں۔ حضرت عویمر آئے‘ عرض کی : کیا آپ بتائیں گے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے ؟ آپ نے فرمایا: تیرے اور تیری بیوی کے متعلق اللہ عزوجل نے حکم نازل کیا ہے‘ حضرت عویمر اپنی بیوی کو لائے‘ دونوں نے لعان کیا‘ پھر کیا۔ اگر میں نے اس پر افترا باندھا ہے‘ دونوں کے درمیان جدائی کر دی گئی۔ حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں: مسلمان کے درمیان یہ سنت طریقہ جدائیگی کرنے کا ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عقيل و قرة بن عبد الرحمن ← عقيل و رشدين بن سعد ← اللَّيْثُ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ نُمَيْرٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5690

chevron_left Previous
1…293031…75
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter