Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5581

5572 - حدثنا هارون بن كامل المصري ثنا عبدالله بن صالح حدثني الليث حدثني يونس عن ابن شهاب عن أبي أمامة بن سهل عن أبيه Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم الله قال : ( لا يقولن أحدكم خبثت نفسي و ليقل لقست نفسي )

حضرت سہل بن حنیف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہرگز کوئی یہ نہ کہے کہ میرا دل برا ہے‘ بلکہ کہے کہ میرا دل سخت ہو گیا ہے۔

لا يقولن أحدكم خبثت نفسي و ليقل لقست نفسي ← رسول الله صلى الله عليه و سلم الله ← أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عبداللہ بن صالح، ← هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5581

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5582

5573 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا يعقوب بن حميد ثنا أيوب بن عبدالله بن عمروبن بلال عن إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع عن ابن شهاب عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن سهل بن حنيف Y أنه خرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى إذا كان بالخرار دخل ماء يغتسل وكان رجلا يضاء فمر به عامر بن ربيعة فقال : لم أركاليوم حسن شيء ولا جلد مخباة فما لبث سهلا أن لبط فدعا له نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( على م يقتل أحدكم أخاه ؟ من تتهمون به ؟ ) قالوا : عامر بن ربيعة فدعا عامرا ودعا بإناء فيه ماء فأمر عامرا فغسل وجهه في الماء وأطراف يديه وركبتيه وأطراف قدميه ثم أخذ النبي صلى الله عليه و سلم ضبعي إزار عامر وداخلته فغمرها في الماء ثم أفرغ الإناء على رأس سهل وأكفا الإناء من دبره فأطلق سهل لابأس به

حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف‘ حضرت سہل بن حنیف سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے‘ جب مقام خرار پر پہنچے تو یہ غسل کرنے کے لیے پانی کے پاس آئے‘ حضرت سہل سفید آدمی تھے‘ ان کے پاس سے حضرت عامر بن ربیعہ گزرے‘ عامر بن ربیعہ نے کہا: آج تک میں نے ان جیسی خوبصورت شی نہیں دیکھی‘ نہ پردہ میں رہنے والی عورت کچھ دیر بعد حضرت سہل بیہوش ہو کر گر پڑے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحضرت سہل کو بلوایا‘ فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ تم شک کس پر کرتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: عامر بن ربیعہ پر۔ آپ نے عامر بن ربیعہ کو بلوایا‘ آپ نے پانی کا برتن منگوایا‘ عامر کو حکم دیا‘ حضرت عامر نے پانی کے ساتھ اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ اور گھٹنے اور دونوں پاؤں کی طرفیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عامر کا تہبند پکڑا شرمگاہ پر پانی چھڑکا‘ پھر پانی کا برتن پکڑا‘ حضرت سہل سے فرمایا: کچھ پانی ان کے سر کے اوپر ڈالا‘ ان کی پیٹھ پیچھے سے برتن انڈیل دیا‘ حضرت سہل تندرست ہو گئے‘ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ کوئی تکلیف ہی نہیں تھی۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إبْرَاهِيمُ بْنُ إسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ← أيوب بن عبدالله بن عمرو بن بلال ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5582

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5583

5574 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال Y رأى عامر بن ربيعة سهل بن حنيف وهويغتسل فعجب منه فقال : بالله ما رأيت كاليوم مخبأة في خدرها أو قال فتاة في خدرها قال : فلبط به حتى ما يرفع رأسه قال : فذكرذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم الله فقال : ( هل تتهمون أحدا ؟ ) فقالوا : لا يارسول الله إلا أن عامر بن ربيعة قال له كذا وكذا قال : فدعاه ودعا عامر بن ربيعة فقال ( سبحان الله على م يقتل أحدكم أخاه إذا رأى منه شيئا يعجبه فليدع له بالبركة ) قال : ثم أمره فغسل له فغسل وجهه وظاهركفيه ومرفقيه وغسل صدره وداخلة إزاره وركبتيه وأطراف قدميه في الإناء ظاهرهما ثم أمربه فصب على رأسه وكفا الإناء من خلفه حسبته قال : وأمره فحسا منه حسوات فأمره فقام فراح مع الركب

حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ حضرت عامر بن ربیعہ نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل کرتے ہوئے دیکھا‘ ان کو پسند آیا تو حضرت عامر نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج تک با پردہ خاتون کو بھی اس جیسا نہیں دیکھا۔ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے ہوش ہو کر گر پڑے‘ سر نہ اٹھا سکے۔ اس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم کس پر شک کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! عامر بن ربیعہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے‘ اس نے ایسے ایسے کہا ہے۔ آپ نے سہل اور عامر بن ربیعہ کو بلوایا اور فرمایا: اللہ پاک ہے کس بات پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارنا چاہتا ہے‘ جب تم میں سے کوئی کسی شی کو دیکھے جو اسے اچھی لگے تو وہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عامر کو ان کیلئے غسل کا حکم دیا‘ پس انہوں نے اپنا چہرہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھوئے اور اپنا سینہ اور چادر کے اندر سے گھٹنے اور پاؤں دھوئے برتن میں‘ پھر آپ نے حضرت سہل کے سر پر پانی چھٹرکنے کا حکم دیا اور ان کے پیچھے سے ان کے برتن کے لیے پانی ڈالا گیا۔ داؤد حدیث فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ چند چُلو پانی بہانے کا حکم دیا‘ حضرت سہل اس کے بعد کھڑے ہوئے اور قافلے کے ساتھ سوار ہو کر چل پڑے۔

أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5583

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5584

5575 - حدثنا أبويزيد القراطيسي ثنا عبدالله بن عبدالحكم أنا مالك ( ح ) وحدثنا علي بن عبدالعزيز ثنا القعنبي عن مالك ( ح ) وحدثنا بكربن سهل الدمياطي ثنا عبدالله بن يوسف عن مالك عن ابن شهاب عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف أنه قال Y رأى عامربن ربيعة سهل بن حنيف يغتسل فقال : والله ما رأيت كاليوم ولا جلد مخبأة فلبط سهل بن حنيف والله ما يرفع رأسه فقال : هل تتهمون له أحدا ؟ ! قالوا : نتهم عامربن ربيعة فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عامر بن ربيعة فتغيظ عليه وقال : على م يقتل أحدكم أخاه ؟ أ لا بركت ؟ اغتسل - له ) فغسل له عامر وجهه ويديه ومرفقيه وركبتيه وأطراف رجليه وداخلة إزاره في قدح ثم صب عليه فراح سهل ليس به بأس

حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کونسل کرتے ہوئے دیکھا‘ کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج تک اس جیسی کوئی باپردہ خاتون بھی نہیں دیکھی‘ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے ہوش ہو کر گر پڑے‘ اپنا سر بھی نہیں اٹھا سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کس پر شک کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عامر بن ربیعہ پر۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحضرت عامر بن ربیعہ کو بلوایا‘ آپ غصہ ہوئے‘ فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارنا چاہتا ہے‘ کیا برکت کی دعا نہیں کر سکتا ہے؟ عامر کو غسل کرنے کا کہا‘ حضرت عامر نے اپنا چہرہ دھویا اور کہنیاں اور گھٹنے اور پاؤں دونوں اطراف‘ پھر حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پانی ڈالا گیا تو حضرت سہل تندرست ہو گئے‘ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ کوئی بیماری ہی نہیں ہے۔

أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← عبدُاللهِ بنُ يوسفَ: ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← علی بن عبدالعزیز، ← مَالِكٍ، ← عبدالله بن عبدالحكم ← أبويزيد القراطيسي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5584

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5585

5576 - حدثنا أبوخليفة ثنا عبدالله بن محمد بن أسماء ثنا جويرية ابن أسماء عن مالك بن أنس عن ابن شهاب أن سهل بن سعد الساعدي أخبره Y أن عويمرا من بني العجلان أتى عاصم بن عدي فقال : يا عاصم أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يعمل ؟ فسل لي عن ذلك يا عاصم رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنحوه

حضرت عامر بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ حضرت عامر بن ربیعہ‘ بنی عدی بن کعب کے بھائی‘ نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا‘ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مقام خراز پر تھے اور غسل کر رہے تھے‘ حضرت عامر نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج کے دن تک ان جیسی کوئی باپردہ خاتون ہی نہیں دیکھی‘ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے ہوش ہو کر گر پڑے‘ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا‘ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! آپ سہل بن حنیف کو نہیں دیکھ رہے کہ یہ اپنا سر نہیں اٹھا رہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کس پر شک کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی : عامر بن ربیعہ پر کہ وہ گزر رہے تھے اس حالت میں کہ یہ غسل کر رہے تھے اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے کوئی باپرہ خاتون بھی آج تک اس جیسی نہیں دیکھی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا‘ غصہ ہوئے‘ فرمایا: کس بات پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارنا چاہتا ہے‘ کیا تم برکت کی دعا نہیں کر سکتے ؟ اس کیلئے غسل کرو‘ حضرت عامر نے غسل کیا ‘ حضرت سہل بن حنیف قافلے کے ساتھ چل دیئے‘ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ بیماری ہی نہیں تھے۔

أن عويمرا من بني العجلان أتى عاصم بن عدي ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، ← مالک بن أنس ← جويرية ابن أسماء ← عبدالله بن محمد بن أسماء ← أبوخليفة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5585

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5586

5577 - حدثنا عبدالله بن محمد بن سعيد بن أبي م - ريم ثنا محمد ابن يوسف الفريابي ثنا الأوزاعي حدثني الزهري عن سهل بن سعد الساعدي Y إن عويمرا أتى عاصم بن عدي وكان سيد بني العجلان فقال : كيف تقول في رجل وجد مع امراته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يصنع ؟ وقال : سل لي رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك فأتى عاصم النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم الله رجل وجد مع امرأته رجلا ايقتله فتقتلونه ام كيف يصنع ؟ قال : فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم الله المسائل فسأله عويمر : فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كره المسائل وعابها قال عويمر : والله لا أنتهى حتى أسال رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك قال : فجاء عويمر فقال : يارسول الله صلى الله عليه و سلم الله رجل وجد مع امرأته رجلا أيقتله فتقتلونه أم كيف يصنع ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أنزل القرآن فيك وفي صاحبتك وأمرهما رسول الله صلى الله عليه و سلم بالملاعنة بما بينها الله في كتابه فتلاعنا ثم قال : يارسول الله إن حبستها فقد ظلمتها قال : ثم طلقها فكانت سنة لمن جاء بعدهما من المتلاعنين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انظروا فان جاءت به أسحم أدعج عظيم الأليتين خدلج الساقين فلا أحسبت إلا عويمرا قد صدق عليها وإن جاءت به أحيمر كأنه وحرة فلا أحسب عويمرا إلا قد كذب عليها قال : فجاءت به على النعت الذي نعت رسول الله صلى الله عليه و سلم من تصديق عويمر وكان نسب هذا إلى أمه

حضرت ابن شہاب سے مروی ہے‘ ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری نے مجھے خبر دی کہ عامر بن ربیعہ عدوی‘ سہل کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ تالاب میں نہا رہے تھے تو انہوں نے کہا: قسم بخدا! میں نے آج کی طرح کسی کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی پردہ نشیں دوشیزہ کی جلد کو دیکھا (یہ وہ آدمی تھا جس کی نظر لگتی تھی) پس سہل گر گئے۔ پس ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا اور عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! سہل حنیف کو کیا ہو گیا ؟ قسم بخدا! وہ سر بھی نہیں اٹھا سکتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں کسی پر شک ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! یہ غسل کر رہے تھے اس حال میں عامر بن ربیعہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: میں نے آج کی طرح کبھی نہیں دیکھا اور نہ پردہ نشین کنواری لڑکی کی جلد کو دیکھا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عامر بن ربیعہ کو بلا کر ناراض ہوئے اور فرمایا: کس بات پر تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے؟ اگر تم برکت کی دعا نہیں کر سکتے‘ اب اس کی خاطر غسل کرو۔ پس عامر نے غسل کیا تو (حضرت سہل کو آرام آ گیا) وہ قافلے کے ساتھ چل پڑے۔ حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں: وہ غسل جو کرتے کراتے ہو‘ ہم نے اپنے علماء کو دیکھا ہے‘ وہ یہ کہ اس آدمی کو ایک بڑا پیالہ کے ساتھ لایا جائے جس نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے‘ اس میں پانی ہو‘ اس پیالے کو زمین سے اوپر اٹھا کر اس کے سامنے روک لیا جائے‘ جس نے نظر لگائی ہے وہ اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے۔ پس ایک ہی بار اس کے چہرے پر یوں انڈیلا جائے کہ پانی واپس پیالے میں آئے پھر اپنا بایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے۔ پس اپنا دایاں پیالے میں دھوئے‘ ایک ہی بار انڈیلنے سے پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کر کے‘ ایک بار انڈیل کر اپنا بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے‘ پھر دونوں ہاتھ اکٹھے پانی میں دھوئے‘ پھر ایک ہی باراسی پیالے میں اپنا سینہ دھوئے پھر اپنا بایاں ہاتھ داخل کر لے پھر اس پانی سے ایک چُلو بھرے اور اس کو اپنی ہتھیلی کے ظاہر پر ڈالے اس پیالے میں پھر بایاں ہاتھ داخل کر کے اسی پیالے میں اپنی دائیں کہنی پر انڈیلے‘ اس حال میں کہ وہ اس کے ہاتھ میں ہو‘ اپنی گردن تک (دھو ڈالے)۔ پھر اسی کی مثل اپنی بائیں کہنی کے ساتھ کرے۔ پھر اسی کی مثل کر‘ انگلیوں کی جڑوں کے پاس سے لے کر اپنے دائیں پاؤں کے ظاہر سے کرے اور بائیں پاؤں سے اسی طرح کرے‘ پھر وہ اپنا بایاں ہاتھ داخل کر کے اپنے دائیں گھٹنے کے ظاہر پر ڈالے پھر بائیں سے اسی طرح کرے پھر اپنی ازار کے اندر داخل کرے پھر جس کے ہاتھ میں پیالہ ہو وہ پیالہ کو اٹھائے۔ پس اس کو اپنے دائیں گھٹنے کے ظاہر پر انڈیلے‘ پھر وہ آدمی جس کے ہاتھ میں پیالہ ہے‘ وہ پیالے کو اٹھائے جس کو نظر لگی ہے‘ اس کے سر کے پیچھے سے اس پر انڈیل دے پھر اس کے پیچھے سے‘ سطح زمین پر اس پیالے کو اوندھا کر دیا جائے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد ابن يوسف الفريابي ← عبدالله بن محمد بن سعيد بن أبي م ريم

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5586

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5587

5578 - حدثنا عمربن حفص السدوسي و محمد بن يحيى المروزي قالا ثنا عاصم بن علي ثنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن سهل بن سعد Y أن عويمرا جاء إلى عاصم بن عدي فقال : أرأيت رجلا وجد مع إمرأته القدح ثم يدخل اليسرى في الماء فيغسل يده اليمنى صبة واحدة في القدح ثم يدخل يده اليمنى فيغسل يده اليسرى صبة واحدة إلى المرفقين ثم يدخل يديه جميعا في الماء فيغسل صدره صبة واحدة في القدح ثم يدخل يده اليسرى فيغرف فن الماء فيصبه على ظهركفه اليمن صبة واحدة في القدح ثم يدخل يده اليسرى فيصب على مرفق يده اليمنى صبة واحدة في القدح وهو في يده إلى عنقه ثم يفعل مثل ذلك في مرفق يده اليسرى ثم يفعل مثل ذلك في ظهرقدمه اليمنى من عند أصول الأصابع واليسرى كذلك ثم يدخل يده اليسرى فيصب على ظهرركبته اليمنى ثم يفعل باليسرى مثل ذلك ثم يغمس داخلة إزاره اليمن ثم يقوم الذي في يده القدح بالقدح فيصبه على ظهرركبته اليمنى ثم يقوم الذي في يده القدح بالقدح فيصبه على رأص المعيون من وراثه ثم يكفا القدح على وجه الأرض من ورائه وجه الأرض من ورائه

حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ غسل کر رہے تھے‘ انہوں نے کہا: میں نے کوئی پردہ نشین کنوری لڑکی بھی اس طرح نہیں دیکھی‘ پس وہ گر گئے حتٰی کہ سخت درد کی وجہ سے صحیح طریقے سے نمز بھی نہ پڑھ سکے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا‘ ان پر ناراض ہوئے اور فرمایا: تو نے اسے قتل کر دیا‘ کس بات پر تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کوقتل کرتا ہے؟ تو نے برکت کی دعا کیوں نہیں کی؟ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑے ڈول میں پانی منگوا کر فرمایا: تم (دونوں) غسل کرو‘ پس انہوں نے غسل کیا تو وہ قافلے کے ساتھ چل نکلے۔

سهل بن سعد أن عويمرا جاء إلى عاصم بن عدي ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عمربن حفص السدوسي و محمد بن يحيى المروزي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5587

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5588

5578 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبوبكربن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا ثنا شبابة بن سوار ثنا ابن أبي ذئب عن ابن شهاب عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه Y أن عامربن ربيعة مربه وهويغتسل فقال : ما رأيت ولا جلد مخبأة فلبط به حق ما يصلي من شدة الوجع فأخبر بذلك النبي صلى الله عليه و سلم فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فتغيظ عليه وقال : قتلتة على م يفتل أحدكم أخاه ؟ ألا بركت ؟ فأمرالنبي صلى الله عليه و سلم بذنوب من ماء فقال : اغسلوه فاغتسل فخرج مع الركب

حضرت عقیل سے روایت ہے کہ حضرت محمد بن مسلم بن شہاب نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری نے ان کو خبر دی کہ عامر بن ربیعہ نے ان کو بتایا کہ وہ حضرت سہل بن حنیف کے پاس سے گزرے جبکہ وہ تالاب میں غسل کر رہے تھے تو انہوں نے کہا قسم بخدا! آج کی طرح میں نے کبھی کوئی کنواری پردہ نشین بھی نہیں دیکھی۔ پس اسی سے حضرت سہل گر گئے‘ پس انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا‘ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول ! سہل بن حنیف کو کیا ہو گیا۔ پس قسم بخدا! وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو کسی پر شک ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں! حضرت عامر بن ربیعہ ان کے پاس سے گزرے ہیں جبکہ وہ غسل کر رہے تھے تو انہوں نے کہا: خدا کی قسم ! (ہائے) میں نے آج تک کبھی کوئی پردہ نشین کنواری دوشیزہ بھی اس طرح نہیں دیکھی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عامر بن ربیعہ کو بلا کر ان پر ناراض ہوئے اور ان سے فرمایا: کس بات پر تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کوقتل کرتا ہے اور اس کے لیے برکت کی دعا نہیں کرتا ؟ اس کی خاطر غسل کرو۔ پس عامر نے غسل کیا تو حضرت سہل تندرست ہو کر قافلے کے ساتھ چل پڑے۔

أبيه أن عامر بن ربيعة مربه وهويغتسل ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5588

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5589

5579 - حدثنا عمروبن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا محمد بن علي الأبلي ثنا سلامة بن روح عن عقيل أخبرني محمد بن مسلم بن شهاب أن أبا أمامة بن سهل بن حنيف الأنصاري أخبره Y أن عامربن زبيعة أخبره أنه مر على سهل بن حنيف وهويغتسل في الخرار فقال : والله ما رأيت كاليوم قط ولا جلد مخبأة فلبط به سهل فأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم الله فقيل : يارسول الله صلى الله عليه و سلم هل لك في سهل بن حنيف فوالله ما يرفع رأسه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل تتهمون به من أحد ؟ قالوا : نعم مر عليه عامر بن ربيعة وهو يغتسل فقال : والله مارأيت كاليوم قط ولا جلد مخبأة فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عامرا فتغيظ عليه وقال له : على م يقتل أحدكم أخاه ولا يبرك ؟ اغتسل له فغسل عامر فراح سهل مع الركب

حضرت محمد بن ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا‘ وہ فرما رہے تھے کہ حضرت سہل بن حنیف تالاب یا چشمے پر نہائے‘ پس انہوں نے وہ جبّہ ا تارا جو ان پر تھا جبکہ عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے‘ انہوں نے کہا جبکہ آپ سب سے زیادہ سفید اور سب سے زیادہ حسین جلد والے تھے تو حضرت عامر نے ان کے لیے کہا: آج کی طرح میں نے کوئی کنواری عورت بھی نہیں دیکھی۔ پس حضرت سہل اسی جگہ گر گئے اور ان کی تکلیف زیادہ ہو گئی۔ پس ان کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لائی گئی‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی گئی کہ سہل کو تکلیف ہو گئی ہے‘ وہ آپ کے ساتھ جانے کے قابل نہیں رہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے‘ پس حضرت سہل نے حضرت عامر والے کام کی آپ کوخبر دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس بات پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے؟ کیا تو نے برکت کی دعا نہ کی؟ بے شک نظر لگنا حق ہے‘ اس کی خاطر وضو کرو۔ پس عامر نے ان کے لیے وضو کیا تو حضرت سہل‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑے کہ ان کو کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأُبُلِّيُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5589

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5590

5580 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك عن محمد ابن أبي أمامة بن سهل بن حنيف أنه سمع أباه يقول Y اغتسل سهل بن حنيف بالخرار فنزع جبة كانت عليه و عامر بن ربيعة ينظر قال : وكان رجلا أبيض حسن الجلد فقال له عامر : ما رأيت كاليوم ولا جلد عذراء فوعك سهل مكانه واشتد وعكه فأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبر أن سهلا قد وعك وأنه غير رائح معك فأتاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره سهل الذي كان من شأن عامر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( على م يقتل أخدكم أخاه ؟ ألا بركت ؟ إن العين حق توضأ له ) فتوضأ له عامر فراح سهل مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس به باس

حضرت ابو امامہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کسی غزوہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے‘ پس وہ ایک تالاب کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس میں غسل کیا جبکہ آپ خوبصورت جسم والے تھے‘ پس ان کے پاس سے ایک انصاری آ دمی گزرے‘ انہوں نے کہا: آج کی طرح میں نے کوئی پرده نشین کنواری دوشیزہ کو بھی نہیں دیکھا‘ ان کی تخلیق پر تعجب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ پس اسی سے آپ گر پڑے‘ انہیں اٹھا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس بات کی خبر دی‘ جو انصاری نے کہی تھی‘ پس انہوں نے عرض کی: فلاں آدمی میرے پاس سے گزرا تو اس نے اس اس طرح کی بات کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی ایک کو کیا رکاوٹ ہے کہ جب وہ اپنے بھائی کی کوئی شی یا مال دیکھے اور اس پر اسے تعجب ہو تو وہ اس کیلئے برکت کی دعا کرے (یا ماشاءاللہ کہے) کیونکہ نظر لگنا برحق ہے۔

محمد ابن أبي أمامة بن سهل بن حنيف ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5590

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5591

5581 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحمامي و جبارة بن مغلس قالا ثنا عبد الرحمن بن الغسيل حدثني مسلمة بن خالد الأنصاري عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه Y أنه كان مع النبي صلى الله عليه و سلم في بعض غزواته فمر بغدير فاغتسل فيه وكان رجلا حسن الجسم فمر به رجل من الأنصار فقال : مارأيت كاليوم ولا جلد مخبأة تعجبا من خلقه فلبط به وحمل محمولا إلى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فأخبره بما قال الأنصاري فقال : مر بي فلان فقال : كذا وكذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما يمنع أحدكم اذا رأى من أخيه ما يعجبه من نفسه أو في ماله أن يبرك عليه ؟ فإن العين حق )

حضرت سہل بن حنیف فرماتے ہیں: میں تالاب میں داخل ہوا تاکہ میں غسل کروں تو حضرت عامر بن ربیعہ نے کہا: میں نے آج کی طرح مخلوق اور رنگ کبھی نہیں دیکھا گویا پردہ نشین کنواری دو شیزہ ہے‘ پس مجھے تیز نظر سے دیکھا گیا تو مجھے بخار ہو گیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک کس بات پر اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے‘ جب اسے اپنے بھائی کی کوئی شی تعجب میں ڈالے تو وہ برکت کی دعا کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنا چہرہ‘ دونوں ہاتھ‘ ازار بند کے اندر کی ایک طرف اور اپنے گھٹنے دھونے کا حکم دیا‘ پھر وہ اس سے کچھ پئے اور پھر اس پر (نظر لگے آدمی پر) انڈیل دی جائے‘ (یہ کام کرنے سے) وہ اٹھ کر لوگوں کے ساتھ چل پڑے۔

أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ خَالِدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ← يحيى الحمامي و جبارة بن مغلس ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5591

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سهل بن حنيف [ أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه ] · حديث 5592

5582 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال ثنا يعقوب بن حميد ثنا المغيرة ابن عبد الرحمن عن أبي معشز عن عبد الله بن أبي حبيبة عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال Y دخلت الخرار أغتسل فقال عامر بن ربيعة ما رأيت كاليوم خلقا ولونا كأنه خلق مخبأة فتلح بي فحميت فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : على م يقتل أحدكم أخاه إذا أعجبه من أخيه شيء فليدع بالبركة وأمره النبي صلى الله عليه و سلم أن يغسل وجهه ويديه وطرف إزاره وركبتيه ثم شرب منه وصب عليه فراح مع الناس

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سعد بن زرارہ کے پاس تشریف لائے تاکہ ان کی عیادت کریں‘ اس درد کے سبب جو کانٹا چبھنے کے سبب ان کو تھا اور ان کے کندھے پر داغا گیا تو فوت ہو گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کے لیے بُری میت وہ ہے جس کے لیے وہ کہتے : اس کے ساتھی نے ان کو دوا دی لیکن دوا نے اس کوکوئی فائدہ نہ دیا۔

دخلت الخرار أغتسل ← أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← أبي معشز ← المغيرة ابن عبد الرحمن، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5592

chevron_left Previous
1…212223…75
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter