Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سعيد 563 - سعيد بن عامربن حذيم الجمحي كان ينزل حمص وهو سعيد بن عامر بن حذيم بن سلامان بن ربيعة بن حرقوس بن سعد بن جمح وأمه أروى بنت أبي معيط بن أبي عمروبن أمية بن عبد شمس · حديث 5520

5511 - حدثنا عبدالله بن أحمد بن حنبل حدثني يحيى بن معين ( ح ) وحدثنا العباس بن حمدان الأصبهاني ثنا جعفر بن سريع الكوفي قالا ثنا أبومعاوية عن موسى الصغير عن عبدالرحمن بن سابط عن سعيد ابن عامر بن حذيم قال Y بلغ عمر أنه لا يدخرفي بيته من الحاجة فبعث إليه بعشرة آلاف فاخذها فجعل يفرقها صررا فقالت له امرأته : أين تذهب بهذه ؟ قال : اذهب بها إلى من يرجح لنا فيها فما أبقى منها الا شيئا يسيرا فلما نفذ الذقي كان عندهم قالت له امرأته : اذهب إلى بعض أصحابك الذين أعطيتهم يرجحون لك فخذ من أرباحهم وجعل يدافعها ويماطلها حتى طال ذلك فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو أن حورا اطلعت إصبعا من أصابعها لوجد ريحها كل ذي روح فانا أدعهن لكن والله لأنتن أحق أن أدعكن لهن منهن لكن

حضرت عبدالرحمٰن بن سابط‘ حضرت سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک بات پہنچی کہ آپ اپنے گھر ضرورت کی کوئی شی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی طرف دس ہزار بھیجے‘ آپ نے وہ پکڑے‘ آپ ان کو مختلف تھیلیوں میں ڈالنے لگے‘ آپ کی بیوی نے کہا: آپ کہاں لے کر جا رہے ہیں‘ کہا: میں اس کی طرف لے کر جا رہا ہوں‘ جو ان کا ہم سے زیادہ حقدار ہے‘ پس آپ نے ان میں تھوڑے سے باقی جا چھوڑے‘ جو ان کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا‘ ان کی بیوی نے کہا: اپنے کسی ساتھی کے پاس جائیں جن سے آپ کو ملنے کی اُمید ہے‘ اس سے نفع لے آئیں۔ آپ اس کی بات کو ٹالنے لگے حتٰی کہ کافی دیر ہو گئی پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر جنت کی حوروں میں سے ایک حور اپنی انگلی دنیا میں ظاہر کرے تو اس کی خوشبو ہر روح والی شی محسوس کرے گی‘ میں ان کو چھوڑتا ہوں‘ اللہ کی قسم ! تم زیادہ حق دار ہو کہ ان کے لیے میں تمہیں چھوڑوں اور ان میں سے تمہارے لیے چھوڑوں۔

سعيد ابن عامر بن حذيمٍ، ← عبدالرحمن بن سابط ← مُوسَى الصَّغِيرِ، ← أَبُومُعَاوِيَةُ ← جعفر بن سريع الكوفي ← العباس بن حمدان الأصبهاني ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← عبداللہ بن أحمد بن حنبل،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5520

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سعيد 563 - سعيد بن عامربن حذيم الجمحي كان ينزل حمص وهو سعيد بن عامر بن حذيم بن سلامان بن ربيعة بن حرقوس بن سعد بن جمح وأمه أروى بنت أبي معيط بن أبي عمروبن أمية بن عبد شمس · حديث 5521

5512 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا حماد بن الحسن بن عنبسة الوراق ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفربن سليمان و الحارث بن نبهان عن مالك بن دينار عن شهر بن حوشب عن سعيد بن عامربن حذيم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم يقول Y لوأن امرأة من أهل الجنة أشرفت إلى أهل الأرض لملأت الأرض ريح مسك ولأذهبت ضوء الشمس والقمر ) و أني والله ما كنت لأختارك عليهن ودفع في صدرها - يعني امرأته

حضرت سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر جنتی عورت زمین میں جھانکے تو اس کی مشک کی خوشبو سے زمین بھر جائے‘ اس کی روشنی سے سورج و چاند کی روشنی چلی جائے‘ اللہ کی قسم! مجھے مناسب نہیں کہ میں ان پر تجھے اختیار کروں اور اپنی بیوی کے سینے پر دھادے مارا۔

سعيد بن عامر بن حذيم ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جعفر بن سليمان و الحارث بن نبهان ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ، ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5521

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ من اسمه سعيد 563 - سعيد بن عامربن حذيم الجمحي كان ينزل حمص وهو سعيد بن عامر بن حذيم بن سلامان بن ربيعة بن حرقوس بن سعد بن جمح وأمه أروى بنت أبي معيط بن أبي عمروبن أمية بن عبد شمس · حديث 5522

5513 - حدثنا محمد بن محمد بن عقبة الشيباني الكوفي ثنا الحسن ابن علي الحلواني ثنا شبابة بن سوار ثنا أبوعبدالله الباهلي عن غياث بن سفيان عن عبدالرحمن بن سابط عن سعيد بن عامر الجمحي قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم : يا أبا بكر تعال ويا عمر تعال أمرت أن أؤاخي بينكمابوحي أنزل علي من السماء وأنتما أخوان في الدنيا أخوان في الجنة فليسلم كل واحد منكما على صاحبه وليصافحه فأخذ أبوبكر بيد عمر فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم فقال : يكون قبله يموت قبله وقال : يا زبير يا طلحة تعالا أمرت أن أؤاخي بينكما فأنتما أخوان في الدنيا أخوان في الجنة فليسلم كل واحد منكما على صاحبه ففعلا ثم قال : ( يا علي تعال يا عمار تعال أمرت أن أؤاخي بينكما فانتما أخوان في الدنيا أخوان في الجنة فليسلم كل واحد منكما على صاحبه ففعلا ثم قال لأبي بن كعب و لإبن مسعود مثل ذلك ففعلا ثم قال لأبي الدرداء و لسلمان مثل ذلك ففعلا ثم قال لسعد بن أبي وقاص ولصهب مثل ذلك ففعلا ثم لأبي ذر و لبلال مولى المغيرة بن شعبة مثل ذلك ففعلا ثم قال : يا أسامة ويا أبا هند تعالا - حجاما كان يحجم النبي صلى الله عليه و سلم فيشرب دمه - تعالا فقال لهما مثل ذلك و لأبي أيوب و لعبدالله بن سلام مثل ذلك ففعلا فذكر الحديث

حضرت سعید بن عامر الجہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: اے ابو بکر ! آؤ! اے عمر! آؤ! میں تمہارے درمیان بھائی چارہ قائم کروں وحی الہٰی کے حکم کے مطابق‘ جو مجھ پر آسمان سے اتری ہے‘ دنیا وآخرت میں بھائی ہو‘ تم میں سے ہر ایک دوسرے کو سلام کرے اور مصافحہ کرے‘ پس حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا : جو پہلے ہے‘ وہ پہلے فوت ہو گا۔ پھر فرمایا : اے زبیر! اے طلحہ! تم دونوں آؤ! مجھے تمہارے درمیان بھائی چارے کا حکم ہوا ہے۔ پس تم دونوں دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے بھائی ہو‘ ایک دوسرے کو سلام کرو۔ دونوں نے ایسے ہی کیا‘ پھر فرمایا : اے علی ! آؤ! اے عمار! آؤ! مجھے تمہارا بھائی چارہ کروانا ہے‘ وحی الہٰی کے حکم کے مطابق‘ تم دونوں دنیا اور جنت میں ایک دوسرے کے بھائی ہو‘ تم میں سے ہر ایک دوسرے کو سلام کرے‘ دونوں نے ایسا ہی کیا‘ پھر حضرت اُبی بن کعب اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایسے ہی کہا تو دونوں نے ایسے ہی کیا‘ پھر حضرت ابو درداء اور سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایسے ہی فرمایا‘ پھر حضرت سعد بن ابی وقاص اور صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایسے ہی فرمایا تو دونوں نے ایسے ہی کیا‘ پھر حضرت ابو ذر اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما‘ حضرت مغیرہ کے غلام سے یہی فرمایا تو دونوں نے ایسے ہی کیا‘ پھر فرمایا: اے اسامہ اور ابو ہند ! دونوں آؤ! ابو ہند نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پچھنا لگوایا تھا‘ آپ کا خون نوش کیا تھا‘ دونوں آئے‘ دونوں سے اس کی مثل فرمایا‘ حضرت ابو ایوب اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی ایسے ہی فرمایا۔ پھر حدیث ذکر کی۔

سعيد بن عامر الجمحي ← عبدالرحمن بن سابط ← غِيَاثِ بْنِ سُفْيَانَ ← أبوعبدالله الباهلي ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← الحسن ابن علي الحلواني ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ الْكُوفِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5522

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 564 - سعيد بن العاص بن سعيد بن العاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف · حديث 5523

5514 - حدثنا محمد بن عبدالله الحضرمي ثنا أبوكريب ثنا يحيى ابن يعلى بن الحارث المحاربي عن أبيه عن غيلان بن جامع عن أبي إسحاق عن مصعب بن سعد قال قال عثمان Y أي الناس أفصح ؟ قالوا : سعيد بن العامر

حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: حضرت سعید بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

سعيد بن العامر ← عُثْمَانُ: أَيُّ النَّاسِ أَفْصَحُ؟ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← غَيْلاَنَ بْنَ جَامِعٍ ← أَبِيهِ ← يحيى ابن يعلى بن الحارث المحاربي ← أبوكريب ← محمد بن عبدالله الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5523

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سعيد بن العاص · حديث 5524

5515 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا إسماعيل بن ابي أويس حدثني أخي عن سليمان بن بلال عن محمد بن عبدالله بن أبي عتيق و موسى بن عقبة عن ابن شهاب أخبرني يحيى بن سعيد بن العاص قال Y أستاذن أبوبكر رضي الله عنه على النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم وهومضطجع على فراشه لابس مرط عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم فأذن لأبي بكر وهوكذلك ثم قضى إليه حاجته ثم انصرف ثم استاذن عمر فاذن له وهو على ذلك ثم قض إليه حاجته ثم انصرف قال عثمان : ثم استاذنت عليه فجلس فجمع عليه ثيابه فقضيت إليه حاجتي ثم انصرفت فقالت عائشة : يارسول الله صلى الله عليه و سلم الله مالك لم تفزع لأبي بكر و عمر كما فزعت لعثمان ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم : عثمان رجل حيي وخشيت إن أذنت له وأنا على حالتي تلك أن لا يبلغ في حاجته

حضرت یحییٰ بن سعید بن عاص فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی اس حال میں کہ آپ اپنے بستر پر پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے‘ اپنی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چادر لپیٹی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو اجازت دے دی اور اسی حال پر برقرار رہے پھر ن کی ضرورت پوری فرمائی‘ پھر وہ تشریف لے گئے‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی اجازت دے دی اور اسی حال پر رہے‘ پھر ان کا کام کیا پھر وہ تشریف لے گئے۔ حضرت عثمان فرماتے ہیں: پھر میں نے اجازت طلب کی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے‘ اپنا کپڑا اکٹھا کر لیا اور میرا کام کیا‘ پھر میں واپس آ گیا۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے! آپ نے حضرت ابو بکرو عمر کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیا جس طرح حضرت عثمان کیلئے اہتمام فرمایا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت عثمان انتہائی حیاء والے آدمی ہیں‘ مجھے ڈر لگا کہ اگر میں اسی حالت پر ان کو اجازت دوں تو وہ اپنا کام کروانے کیلئے حاضر ہی نہ ہوں۔

يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← محمد بن عبدالله بن أبي عتيق و موسى بن عقبة ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5524

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سعيد بن العاص · حديث 5525

5516 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهربن السرح المصري ثنا محمد ابن عزيز الأيلي ثنا سلامة بن روح عن عتيل عن ابن شهاب أخبر ني يحيى بن سعيد بن العاص أن سعيد بن العاص أخبره Y أن أبا بكر استاذن على رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم وهومضطجع على فراشه لابس مرط عائشة فأذن لأبي بكر وهوكذلك فقضى أبوبكر حاجته ثم انصرف ثم استاذن عمرو هو على تلك الحال فقضى حاجته ثم انصرف قال عثمان : ثم استاذنت فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم فجمع عليه ثيابه ثم قضيت اليه حاجتى ثم انصرفت فقالت عاثشة : يارسول الله صلى الله عليه و سلم الله مالك لم تفزع لأبي بكر و عمر كما فزعت لعثمان ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم : إن عثمان رجل حيي وأني خشيت أن لوأذنت له وهوعلى تلك الحال أن لا يلقي إلي حاجته

حضرت ابن شہاب زہری سے روایت ہے‘ خبر دی مجھے یحییٰ بن سعید بن عاص نے کہ حضرت سعید بن عاص نے ان کو بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت طلب کی اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چادر پہن کر‘ پس آپ نے اجازت دے دی‘ اس حال پر اور ان کا کام کر دیا پھر وہ چلے گئے‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی حال پر تھے (ان کو اجازت دے کر) ان کا کام کر دیا‘ پھر وہ چلے گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود فرماتے ہیں: پھر میں نے اجازت مانگی‘ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو سمیٹ لیا‘ پھر میرا کام کر دیا تو میں چلا گیا۔ پس حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی:اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے ابو بکرو عمر کے لیے کوئی تکلف نہیں کیا لیکن عثمان کیلئے تکلف کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عثمان بہت زیادہ حیاء والا آدمی ہے اور مجھے ڈر ہوا کہ اگر میں ان کو اسی حال پر اجازت دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے اپنی حاجت ہی پیش نہیں کرے گا۔

عتيل ← سلامة بن روح ← محمد ابن عزيز الأيلي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5525

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سعيد بن العاص · حديث 5526

5517 - حدثنا عبدالله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا عبدالرزاق أنا عمربن حبيب عن إسماعيل بن أمية عن أبيه عن جده قال Y كان لنا غلام يقال له ذكوان اوطهمان وكان له عبد فاعتق نصفه فذكر ذلك النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم قال : يعتق في عتقك ويرق في رقك

حضرت اسماعیل بن امیہ اپنے والد سے‘ وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں‘ کہ ہمارا غلام تھا جس کا نام ذکوان یا طہمان تھا‘ اس کا غلام تھا‘ اس نے آدھا آزاد کر دیا‘ اس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کیا گیا تو آپ نے آزادبھی کیا اور غلام بھی رکھا۔

يعتق في عتقك ويرق في رقك ← ذلك النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم ← كان لنا غلام يقال له ذكوان اوطهمان وكان له عبد فاعتق نصفه ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← عمربن حبيب ← عَبْدُالرَّزَّاقِ ← أَبِي ← عبداللہ بن أحمد بن حنبل،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5526

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سعيد بن العاص · حديث 5527

5518 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا إبراهيم بن زكريا العبدشي ثنا ابو أمية الطائفي من ولد سعيد بن العاص ثنا جدي عن جده سعيد بن العاص Y أن أبا أحيحة جده كان مريضا حين بعث النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم فقال في مرضه : لا ترفعوني من مضجعي لا يعدل اليه ابن أبي كبشة بمكة فقال ابنه وهوعند رأسه : اللهم لا ترفعه

حضرت ابو امیہ الطائفی‘ حضرت سعد بن العاص کی اولاد فرماتے ہیں کہ مجھے میرے دادا سعید بن العاص نے بتایا کہ ابو احیحہ کا دادا بیمار تھا‘ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان نبوت کیا‘ انہوں نے اپنے مرض میں کہا: میرے بستر سے مجھے نہ اٹھانا‘ ابن ابو کبشہ مکہ میں اس کی طرف نہ پھر جائیں‘ ان کا بیٹے ان کے سر کے پاس موجود تھا‘ اس نے عرض کی : اے اللہ! اس کو نہ اٹھا!

جده سعيد بن العاص ← جَدِّي، ← ابو أمية الطائفي من ولد سعيد بن العاص ← إبراهيم بن زكريا العبدشي ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5527

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سعيد بن العاص · حديث 5528

5519 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا إبراهيم بن زكريا ثنا أبوأمية الطائفي حدثني جدي عن جده سعيد بن العاص أن عثمان بن مظعون Y قال : يارسول الله صلى الله عليه و سلم الله أئذن لي في الاختصاء فقال له : يا عثمان إن الله قد أبدلنا بالرهبانية الحنفية السمحة والتكبير على كل شرف فإن كنت منا فاصنع كما نصنع )

حضرت سعید بن عاص فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے خصی ہونے کی اجازت دیں! آپ نے فرمایا: اے عثمان! ہم نے رہبانیت کو بدل کر آسان دین کی طرف پھیر دیا‘ ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہو‘ اگر تو ہم سے ہے تو وہی کام کر جو ہم کر تے ہیں۔

يارسول الله صلى الله عليه و سلم الله أئذن لي في الاختصاء ← جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ ← جَدِّي، ← أبوأمية الطائفي ← إبراهيم بن زكريا ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5528

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ ما أسند سعيد بن العاص · حديث 5529

5520 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا منجاب بن الحارث ثنا خلاد بن عيسى الأحول عن خالد بن سعيد بن العاص عن أبيه عن جده قال Y قدمت بكر بن وائل مكة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم ( ائتهم فاعرضني عليهم فاتاهم أبو بكر فقال : من القوم ؟ قالوا : بنوذهل بن ثعلبة قال : ليس أياكم أريد أنتم الأذناب فقام اليه دغفل فقال ومن أنتم ؟ قال : رجل من قريش قال : أمن بني هاشم ؟ قال : لا قال : فمن بني أمية ؟ قال : لا قال : فأنت من الإذناب ثم عاد اليهم أبوبكر ثانية فقال : من القوم ؟ قالوا : بنوذهل بن شيبان قال أياكم أريد فعرض عليهم قالوا : حتى يجيء شيخنا فلان قال خلاد أحسبه قال : المثنى ابن خارجة فلما جاء شيخهم عرض عليهم أبوبكررضي الله عنه فقال : إن بيننا وبين الفرس حربا فإذا فرغنا مما بيننا وبينهم عدنا فننظر فيما تقول فقال أبوبكر : أرأيت إن غلبتموهم أتتبعنا على أمرنا ؟ قال : لا نشترط لك هذا علينا ولكن إذا فرغنا مما بيننا وبينهم عدنا فنظرنا فيما تقول فلما التقوا يوم ذي قار هم والفرس قال شيخهم : ما اسم الرجل الذي دعاكم إلى ما دعاكم إليه ؟ قالوا : محمد قال : فهوشعاركم فنصروا على القوم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم : بي نصروا

حضرت سعید بن عاص فرماتے ہیں کہ بکر بن وائل قبیلہ کے لوگ مکہ آئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: ان کو میرے پاس لاؤ‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے‘ آپ نے فرمایا: کس قوم سے ہو؟ انہوں نے کہا: بنو ذھل بن شعلبہ سے۔ فرمایا: میری مراد تم نہیں ہو‘ تم اذناب ہو‘ دغفل ان کی طرف کھڑا ہوا‘ اس نے کہا: تم کون ہو؟ قریش کے ایک آدمی نے کہا: کیا بنی ہاشم سے ہو؟ اس نے کہا: نہیں! کہا: بنی امیہ سے؟ کہا: نہیں! کہا: تم اذناب ہو؟ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے‘ فرمایا: کس قوم سے ہو؟ انہوں نے کہا: بنو ذھل بن شیبان سے‘ کہا: تم کس کا ارادہ رکھتے ہو؟ ان کو ان پر پیش کیا‘ انہوں نے کہا: ہمارے بزرگ نہ آئے‘ خلاد نے کہا: میرا خیال ہے کہ مثنیٰ بن خارجہ‘ جب ان کا شیخ آیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے‘ کہا: ہمارے اور ان کے درمیان گھوڑوں کا مقابلہ ہے‘ جب ہم فارغ ہوں گے تو ہمارے اور ان کے درمیان سے ہم تمہارے قول کا انتظار کریں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر غالب آئیں گے تو ہم آپ کی اتباع کریں گے‘ اس نے ہم پر یہ شرط نہ لگائی‘ جب ہم فارغ ہوئے تو ان کے درمیان اور ہمارے درمیان ہم انتظار کریں گے‘ پس جب وہ ذیی قار کے دن ملے تو وہ تھے اور گھوڑے‘ ان کے بزرگ نے کہا: اس آدمی کا نام کیا ہے جو تم کو دعوت دیتا ہے؟ انہوں نے کہا: محمد! اس نے کہا: وہ تمہاری نشانی ہے‘ اپنی قوم کے خلاف ان کی مدد کی گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری وجہ سے ان کی مدد کی گئی۔

المثنى ابن خارجة فلما جاء شيخهم عرض عليهم أبوبكررضي الله عنه ← خَلَّادٌ: أَحْسَبُهُ ← حَتَّى يَجِيءَ شَيْخُنَا فُلَانٌ ← أياكم أريد فعرض عليهم ← بنوذهل بن شيبان ← «مَنِ الْقَوْمُ؟» ← فأنت من الإذناب ثم عاد اليهم أبوبكر ثانية ← لَا۔ ← فَمِنْ بَنِي أُمَيَّةَ؟ ← لَا۔ ← أَمِنْ بَنِي هَاشِمٍ؟ ← رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ← ومن أنتم ← ليس أياكم أريد أنتم الأذناب فقام اليه دغفل ← بنوذهل بن ثعلبة ← «مَنِ الْقَوْمُ؟» ← «قَدِمَتْ بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ مَكَّةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← خالد بن سعيد بن العاص. ← خلاد بن عيسى الأحول ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5529

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 565 - سعيد بن سعد بن عبادة الأنصاري كان ينزل المدينة · حديث 5530

5521 - حدثنا إدريس بن جعفر العطار ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عبدالله بن الأشج عن أبي أمامة بن سهل ابن حنيف عن سعيد بن سعد بن عبادة قال Y كان ببن أبياتنا رويجل ضعيف سقيم محدج فلم يرع الحي إلا وهوعلى أمة من إمائهم يخبث بها فذكرذلك سعد النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم فقال : ( اضربوه حده ) فقال : يارسول الله صلى الله عليه و سلم إنا إن ضبربناه حدا قتلناه إنه ضعيف فقال النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم : خذوا له عثكالا فيه مئة شمراخ فاضربوه به ضربة واحدة )

حضرت سعید بن سعد بن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ایک کمزور بیار لاغر رہتا تھا‘ لوگوں کو اس کے متعلق کوئی بات نہیں تھی مگر وہ ان کی لونڈی سے زنا کرتا‘ اس نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کیا تو آپ نے فرمایا : اس کو حد لگاؤ ! عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس کو حد لگائیں گے تو یہ کمزور ہے‘ مر جائے گا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو سوشاخوں والی ٹہنی مارو‘ اس کے لیے ایک ہی بار مارو۔

سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ← أبي أمامة بن سهل ابن حنيف ← يعقوب بن عبدالله بن الأشج ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5530

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 565 - سعيد بن سعد بن عبادة الأنصاري كان ينزل المدينة · حديث 5531

5522 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبوبكربن أبي شيبة ثنا عبدالله بن نمير ثنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عبدالله بن الأشج عن أبي أمامة ابن سهل بن حنيف عن سعيد بن سعد بن عبادة قال Y كان بين أبياتنا رجل محدج ضعيف فلم يرع إلا وهوعلى لا أمة من إماء أهل الداريخبث بها فرفع شانه سعد إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلىالله عليه وسلم فقال : اجلدوه مئة سوط فقال : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم الله هو أضعف من ذاك لو ضرب مئة مات قال : فخذوا له عثكالا فيه مئة شمراخ فاضربوه ضربة واحدة

حضرت سعید بن سعد بن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ایک کمزور بیکار لاغر رہتا تھا‘ لوگوں کو اس کے متعلق کوئی بات معلوم نہیں تھی مگر وہ ان کی لونڈی سے زنا کرتا‘ اس نے اس کا ذکر رسول اللہ کی بارگاہ میں کیا تو آپ نے فرمایا: اس کوسو کوڑے حد لگاؤ! عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اس کو حد لگائیں گے تو یہ کمزور ہے‘ مر جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس کوسو شاخوں والی ٹہنی مارو‘ اس کے لیے ایک ہی حد ہو جائے گی۔

سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ← أبي أمامة ابن سهل بن حنيف ← يعقوب بن عبدالله بن الأشج ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عبدُاللهِ بنُ نميرٍ ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5531

chevron_left Previous
1…161718…75
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter