Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5325

5318 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة في تسمية من شهد بدرا من الأنصار Y سعد بن معاذ بن النعمان بن امرىء القيس بن زيد بن عبد الأشهل

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے جو بدر میں شریک ہوئے ان کے ناموں میں سے ایک نام حضرت سعد بن معاذ بن نعمان بن امرء القیس بن زيد بن عبد الاشہل کا بھی ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5325

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5326

5319 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد ابن إسحاق المسيي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار من النبيت ثم من بني عبد الأشهل سعد بن معاذ بن النعمان بن امرىء القيس

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں: انصار اور بنی عبدالاشہل سے جو بدر میں شریک ہوئے‘ ان کے ناموں میں سے ایک نام سعد بن معاذ بن نعمان بن امرء القیس کا بھی ہے۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← محمد ابن إسحاق المسيي ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5326

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5327

5320 - حدثنا أحمد بن عبدالله بن عبدالرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام السدوسي ثنا زياد بن عبد الله البكائي عن محمد بن إسحاق Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار ثم من بني عبد الأشهل سعد بن معاذ بن النعمان بن امرىء القيس بن زيد بن عبد الأشهل بن جشم بن الحارث بن الخزرج بن عمرو بن عوف بن مالك بن الأوس

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی عبداشہل سے جو بدر میں شریک ہوئے‘ ان کے ناموں میں سے ایک نام سعد بن معاذ بن نعمان بن امرء القیس بن زید بن عبدالاشہل بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس ہے۔

زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← عبد الملك بن هشام السدوسي ← أحمد بن عبدالله بن عبدالرحيم البرقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5327

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5328

5321 - حدثنا محمد بن عبدالله الحضرمي ثنا أحمد بن أسد البجلي ثنا خالد بن عبد الله عن محمد بن عمرو بن عوف عن الماجشون قال قال سعد بن معاذ Y ثلاث أنا عما سواهن ضعيف ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا إلا علمت أنه حق ولا صليت صلاة فحدثت نفسي بغيرها حتى أنفتك عنها ولا تبعت جنازة فحدثت نفسي بغير ما إياه قائلة ومقول لها

حضرت ماجشون فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تین چیزیں ہیں ان کے علاوہ کمزور ہیں‘ جو میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے‘ میرا یقین ہے کہ وہ حق ہے‘ میں نے کوئی نماز پڑھی ہے‘ میرے دل میں اس کے علاوہ کوئی شی آئی ہے‘ میں اس سے جدا ہوا‘ میں جس جنازہ میں شریک ہوا ہوں‘ میرے دل میں نماز کے علاوہ کچھ پیدا ہوا‘ جس کا کوئی کہنے والا ہے اور جس کیلئے کچھ کہا ہوا ہے۔

عَمَّا سِوَاهُنَّ ضَعِيفٌ: مَا ← سعد بن معاذ ثلاث ← الْمَاجِشُونُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أحمد بن أسد البجلي ← محمد بن عبدالله الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5328

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5329

5322 - حدثنا محمد بن عبدالله الحضرمي ثنا ليث بن هارون العكلي ثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة حدثني محمد بن عمرو عن أبي سلمة أن سعد بن معاذ قال Y ثلاث خصال في ما حدث رسول الله صلى الله عليه و سلم بحديث إلا صدقته وعلمت أنه حق وما حضرت ميتا إلا حضرت نفسي بما يقول وما يقال له ولا صليت صلاة فحدثت نفسي بغيرها حتى أقضي صلاتي

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تین باتیں مجھ میں ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات بیان کی‘ اس کی میں نے تصدیق کی ہے‘ اور میں نے یقین کر لیا کہ وہ حق ہے‘ جو کوئی جنازہ آیا ہے‘ میں خود حاضر ہوا ہوں‘ جو کہتا ہے یا اس کیلئے کہا جاتا ہے‘ میں نے کوئی نماز پڑھی ہے‘ میرے دل میں اس کے علاوہ خیال پیدا ہوا‘ تو میں نے نماز قضاء کی ہے۔

أبي سلمة أن سعد بن معاذ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← موسى بن عبيدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← ليث بن هارون العكلي ← محمد بن عبدالله الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5329

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5330

5323 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم ( ح ) وحدثنا محمد بن يحيى القزاز ثنا حفص بن عمر الحوضي قالا ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي أمامة بن سهل عن سعد أبي سعيد الخدري Y أن النبي صلى الله عليه و سلم بعث إلى سعد بن معاذ في أمر بني قريظة فجاء سعد على حمار قد كادت رجلاه تبلغان الأرض فلما رآه النبي صلى الله عليه و سلم قال لأصحابه : قوموا إلى سيدكم فقال له النبي صلى الله عليه و سلم إن هؤلاء قد رضوا بحكمك فاحكم فيهم قال : أحكم فيهم أن تقتل مقاتلتهم وأن تسبى ذراريهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لقد حكمت بحكم الله وحكم الملك

حضرت سعد ابو سعید الخدری فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پیغام بھیجا‘ بنی قریظہ کے معاملہ میں‘ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ گدھے پر آئے‘ آپ کے پاؤں زمین پر لگنے لگے‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: یہ تمام تیرے فیصلہ پر راضی ہیں‘ ان میں فیصلہ کر۔ حضرت سعد نے عرض کی : ان کے باہم لڑائی کرنے والوں کوقتل کیا جائے اوران کے بچوں کو قیدی کیا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ نے اللہ عزوجل کے حکم کے ساتھ اور بادشاہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

سعد أبي سعيد الخدري ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5330

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5331

5324 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا عبد الله بن يزيد المقري الدمشي ثنا صدقة بن عبد الله عن عياض بن عبد الرحمن عن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه عن جده قال Y كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم فجاء سعد بن معاذ فقال رسول صلى الله عليه و سلم : هذا سيدكم

حضرت سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف اپنے والد سے‘ وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا سردار ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عبد الله بن يزيد المقري الدمشي ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5331

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5332

5325 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أن Y سعد بن معاذ رمي في أكحله يوم الخندق فضرب له رسول الله صلى الله عليه و سلم خباء في ا المسجد ليعوده قريبا فبرأ حتى تحجر كلمه للبرء فقال : اللهم انك تعلم أن أحب الناس كان إلي قتالا لقوم كذبوا نبيك وأخرجوه وقاتلوه وفعلوا وإني أظن أنك قد وضعت الحرب بيننا وبينهم اللهم إن كنت أبقيت بيننا وبينهم قتالا فابقني لقتالهم فبينما هو ذات ليلة إذ تفجر كلمه فسال الدم من جرحه حتى دخل خباء إلى جنبه فقال الله أهل الخباء يا أهل الخباء ما هذا الذي يأتينا من قبلكم ؟ فنظروا فإذا سعد قد انفجر كلمه والدم له هدير فمات

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ کے ٹخنے میں تیر لگا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں ان کیلئے خیمہ نصب کروایا تاکہ قریب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کر سکیں، پس زخم چھوٹ گیا یہاں تک کہ آپ کا زخم پتھر کی طرح سخت ہو گیا۔ پس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی: اے اللہ! بے شک تو جانتا ہے کہ جہاد مجھے سب چیزوں سے زیادہ پسند ہے‘ ایک ایسی قوم ہے جس نے تیرے نبی کو جھٹلایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا‘ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنت کی اور برا سلوک کیا۔ میرا گمان ہے کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کروائے گا‘ اے اللہ ! اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ باقی رکھنی ہے تو ان کے ساتھ جہاد کیلئے مجھے باقی رکھنا‘ پس دوران ایک رات ان کے زخم سے خون پھوٹ پڑا تو ان کے زخم سے یوں خون بہا کہ ساتھ والے خیمے میں داخل ہو گیا‘ پس مسافروں نے کہا: اے خیمہ والو! یہ کیا چیز ہے جو تمہاری طرف سے ہماری طرف آ رہی ہے۔ پس انہوں نے دیکھا تو اچانک نگاہ پڑی کہ حضرت سعد کے زخم سے خون پھوٹ پڑا ہے اور خون اتنا بہا کہ (اسی میں) آپ کا وصال ہو گیا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5332

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5333

5326 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا الحسين بن عيسى بن ميسرة الرازي ثنا علي بن عبدالله العامري ثنا عبد الكريم أبو أمية عن الحسن و عطاء عن أبي عباس قال Y رمي سعد بن معاذ رضي الله عنه يوم قريظة والنضير فقطع أكحله فحسمه رسول الله صلى الله عليه و سلم فتفير وانتفض فحسمه الثانية فقال سعد رضي الله عنه : اللهم لاتنزع نفسي حتى تقرعيني من قريظة والنضير

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قریظہ اور نضیر کے دن تیر لگایا‘ ان کا ٹخنہ کٹ گیا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آگ سے داغ دیا‘ وہ اس طرح ہو گیا جیسے مٹی ڈال دی گئی ہو اور پھر جھاڑ دی گئی دوسری مرتبہ آیا‘ تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ !: مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ قبیلہ قریظہ اور نفیر سے آنکھیں ٹھنڈی کروں۔

أَبي عباس. ← الحسن و عطاء ← عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، ← علي بن عبدالله العامري ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَةَ الرَّازِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5333

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5334

5327 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y أن سعد بن معاذ رضي الله عنه رمي يوم الخندق رمية فقطعت الأكحل من عضده فزعموا أنه رماه حيان بن قيس أحد بني عامر بن لؤ ي ثم أخو بني العرقة ويقول آخرون رماه أبو أسامة الجشمي فقال سعد بن معاذ رضي الله عنه : رب اشفني من بني قريظة قبل الممات فرقا الكلم بعدما قد انفجر قال : وأقام النبي صلى الله عليه و سلم على بني قريظة حتى سألوه أن يجعل بينه وبينهم حكما ينزلون على حكمه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اختاروا من أصحابي من أردتم فلنستمع لقوله فاختاروا سعد ابن معاذ فرضي به رسول الله صلى الله عليه و سلم وسلموا وأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بأسلحتهم فجعلت في بيت وأمر بهم فكتفوا وأوثقوا فجعلوا في دار أسامة ابن زيد وبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى سعد بن معاذ فأقبل على حمار أعرابي يزعمون أن وطأه برذعه من ليف واتبعه رجل من بني عبد الأشهل فجعل يمشي معه يعظم حق بني قريظة ويذكرحلفهم والذى أبلوهم يوم بعاث و أنهم اختاروك على من سواك رجاء عطفك وتحننك عليهم فاستبقهم فانهم لك حمال وعدد قال : فأكثر ذلك الرجل ولم يحر إليه سعد شيئا حتى دنوا فقال له الرجل : ألا ترجع إلي شيئا ؟ فقال سعد : والله لا أبالي في الله لومة لائم ففارقه الرجل فأتى إلى قومه قد يئس من أن يستبقيهم وأخبرهم بالذي كلمه به والذي رجع إليه ونفذ سعد حتى أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا سعد احكم بيننا وبينهم فقال سعد رضي الله عنه : أحكم فيهم بان تقتل مقاتلتهم ويغتنم سبيهم وتؤخذ أموالهم وتسبى ذراريهم ونساؤهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لاحكم فيهم سعد بن معاذ بحكم الله ويزعم ناس أنهم نزلوا على حكم رسول الله صلى الله عليه و سلم فرد رسول الله صلى الله عليه و سلم الحكم فيهم إلى سعد بن معاذ فأخرجوا رسلا رسلا فضربت أعناقهم وأخرج حيي بن أخطب فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل أخزاك الله ؟ فقال : قد ظهرت علي وما ألوم نفسي فيك فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخرج إلى أحجار الزيت التي بالسوق فضربت عنقه كل ذلك بعين سعد بن معاذ وزعموا أنه كان برىء كلم سعد وتحجر بالبرء ثم انه دعا فقال : اللهم رب السماوات والأرض فإنه لم يكن في الأرض قوم أبغض إلي من قوم كذبوا رسولك وأخرجوه لأني أظن أن قد وضعت الحرب بيننا وبينهم فإن كان بقي بيننا وبينهم قتال فابقني أقاتلهم فيك لأن كنت قد وضعت الحرب بيننا وبينهم فا فجر هذا المكان واجعل موتي فيه ففجره الله تبارك وتعالى وإنه لراقد بين ظهري الليل فما دروا به حتى مات ومارقأ الكلم حتى مات رحمه الله

حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خندق کے دن تیر لگا‘ جس نے ان کے بازو سے‘ لوگوں کا گمان ہے کہ آپ کو بنو عامر بن لؤی کے ایک آدمی حبان بن قیس نے تیر مارا پھر بنو عرقہ کا بھائی۔ کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو ابو اسامہ جشمی نے تیر مارا۔ حضرت سعد بن معاذ دعا کرتے: اے میرے رب ! موت سے پہلے مجھے بنو قریظہ سے شفا دے! پس آپ کا زخم پھوٹنے کے بعد خشک ہو گیا۔ راوی کا بیان ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بنی قریظہ کے سامنے کھڑا کیا حتٰی کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ وہ ان کے اور اپنے درمیان ثالث مقرر کریں‘ وہ آپ کے فیصلے کو مانیں گے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ میں سے جس کو چاہو چن لو‘ ہم اس کی بات غور سے سنیں گے۔ پس انہوں نے حضرت سعد بن معاذ کا انتخاب کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کے ساتھ اپنی رضا مندی کا اظہار کیا اور انہوں نے بھی تسلیم کیا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان اسلحہ کے حوالے سے حکم جاری کیا اور وہ سارا ایک گھر میں رکھ دیا گیا‘ آپ نے ان کے لیے حکم فرمایا: ان کی مشکین کس دی گئیں اور انہیں بیڑیاں ڈال دی گئیں‘ پس وہ حضرت اسامہ بن زید کے گھر میں اکٹھے ہو گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ کی طرف آدمی بھیجا۔ پس آپ ایک دیہاتی کے گدھے پر آئے‘ وہ گمان کر رہے تھے کہ اس کی جھل کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی تھی۔ آپ کے پیچھے بنو عبداشہل کا ایک آدمی تھا‘ پس وہ آپ کے ساتھ چل رہا تھا اور بنو قریظہ کے حق کو ثابت کر رہا تھا‘ ان کے حلیفوں کا ذکر کر رہا تھا اور اس آدمی کا جس نے ان کو بعاث کی جنگ میں آزمایا تھا اور بے شک انہوں نے تیرے سوا کو چھوڑ کر تجھے انتخاب کیا ہے‘ تیری مہربانی پر بھروسہ کیا ہے اور جو تیرا ان سے پہلا ہے پس ان کو مدینہ میں باقی رکھنا کیونکہ وہ تیری خوبصورتی اور تعداد ہیں۔ راوی کا بیان ہے: اس آدمی نے بہت باتیں کیں لیکن حضرت سعد نے کسی پر توجہ نہ دھری یہاں تک کہ وہ لوگ قریب ہوئے۔ پس اس آدمی نے آپ سے کہا: مجھے کسی بات کا جواب نہیں دیں گے۔ پس حضرت سعد نے فرمایا: قسم بخدا! اللہ کے معاملہ میں مجھے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں ہے۔ پس وہ آدمی آپ سے جدا ہو گیا۔ پس وہ اپنی قوم کی طرف اس حال میں آیا کہ وہ ان کو باقی رکھنے سے مایوس ہو چکا تھا۔اس نے اپنی قوم کے افرادکو اس بات کی خبر دی جو اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کی اور اس کا جو جواب آپ نے دیا اور حضرت سعد آگے بڑھ گئے‘ یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کیجئے ! پس حضرت سعد نے فرمایا: ان کے بارے میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے باہم لڑنے والوں کوقتل کر دیا جائے ان کے قیدیوں کو مال غنیمت بنا لیا جائے‘ ان کے مال لے لیے جائیں اور ان کے بچوں اور ان کی عورتوں کو غلام بنا لیا جائے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت سعد نے اللہ کے حکم کے ساتھ فیصلہ کیا ہے‘ لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے پہ اعتماد کیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف لوٹا دیا‘ پس آہستہ آہستہ انہیں نکالا گیا‘ پس ان کی گردنیں مار دی گئیں۔ حیی بن اخطب کو نکالا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ نے تجھے رسوا نہیں کیا۔ اس نے کہا: آپ نے مجھ پر ظاہر کر دیا اور آپ کے بارے میں میں اپنے آپ کو ملامت نہیں۔ کرتا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بازار کے ساتھ ریت کے پتھروں کی طرف نکالنے کا حکم دیا۔ پس اس کی گردن مار دی گئی۔ یہ سارا کام حضرت سعد بن معاذ کی آنکھوں کے سامنے ہوا‘ لوگوں نے گمان کیا کہ حضرت سعد کا زخم چھوٹ گیا ہے جبکہ وہ چھوٹنے کے ساتھ پتھر کی طرح ہو گیا‘ پھر انہوں نے دعا کی‘ عرض کی اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے رب! پس تیری زمین میں میرے نزدیک اس قوم سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی نہیں جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور اپنے شہر سے نکال دیا اور میرا کامل گمان ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان جنگ برپا ہو گی۔ پس اگر ہمارے اور ان کے درمیان قتال باقی رہا تو مجھے بھی باقی رکھنا میں تیری رضا کی خاطر ان سے جہاد کروں گا اور اگر تو ہمارے اور ان کے درمیان جنگ برپا کر چکا ہے (اور نہیں کرے گا) تو اس جگہ سے خون جاری فرما دے اور میری شہادت کا سبب اس کو بنا دے‘ پس اللہ تعالیٰ نے اس سے خون جاری کر دیا‘ اس حال میں کہ وہ رات کے پچھلے پہر سوئے ہوئے تھے‘ پس خون بہتا رہا حتٰی کہ آپ نے شہادت پائی‘ آپ کی وفات تک وہ زخم خشک نہیں ہوا۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5334

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5335

5328 - حدثنا إبراهيم بن متويه الأصبهاني ثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري ثنا يحيى بن سعيد الأموي عن مسلم بن أبي مسلم عن مجاهد عن ابن عباس قال Y جعلت أم سعد تقول : ( ويل أمك سعدا حزامة وجدا ) فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تزيدين على هذا وكان والله ما علمت حازما في أمره قويا في أمر الله

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ اُم سعد کہنے لگیں: تیری ماں کی بربادی ہے‘ اے سعد! ایک ہی زخم ہے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اس سے زیادہ نہ کہنا‘ اللہ کی قسم! مجھے اس کے متعلق علم ہے‘ یہ اپنے معاملہ میں محتاط اور اللہ کے معاملہ میں طاقتور تھا۔

جعلت أم سعد تقول ويل أمك سعدا حزامة وجدا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← مسلم بن أبي مسلم ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَّوَيْهٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5335

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 526 - سعد بن معاذ الأنصاري ثم الأشهلي بدري أحدي يكنى أبا عمرو استشهد يوم الخندق · حديث 5336

5329 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبوجعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق Y قالت : أم سعد حين احتمل نعشه وهي تبكيه : ( ويل أم سعد سعدا حزامة وجدا وسيدا سد به مسدا ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كل باكية تكذب إلا باكية سعد بن معاذ

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جس وقت حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو اُم سعد رونے لگیں‘ اُم سعد کے لیے ہلاکت ہے! اے سعد! دور اندیش ہے‘ پانے والا ہے اور سردار ہے‘ جو قائم مقام ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر رونے والی جھوٹی ہو سکتی ہے سوائے سعد بن معاذ کی رونے والی (ان کی ماں) کے۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أبوجعفر النفيلي ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5336

chevron_left Previous
1234…75
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter