المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11789
11765 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا أبو عوانة عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس قال Y ماتت شاة لسودة بنت زمعة فقالت : يا رسول الله ماتت فلانة تعني الشاة فقال : ألا أخذتم مسكها ؟ فقالوا : أناخذ مسك شاة قد ماتت ؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما قال { قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير } إنكم لا تطعمونه إنما تدبغونه فتنتفعون به فأرسلت إليها فسلخت مسكها فدبغته فاتخذت منه قربة حتى تخرقت عندها
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں: دو عورتیں تھیں ‘ان میں سے ایک نے دوسری پر پتھر پھینکا تو اس کا بچہ مر کر گر گیا ‘اس کے بعد عورت بھی مرگئی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عاقلہ پر دیت کا فیصلہ فرمایا ‘اس عورت کے چچا نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اس نے جو بچہ گرایا ہے اُس کے بال ہی آگ چکے تھے۔ قتل کرنے والی عورت کا باپ بولا: یہ جھوٹ ہے قسم بخدا! نہ وہ رویا نہ اس نے کوئی بات سمجھی ‘نہ پیا اور نہ اس نے کوئی چیز کھائی ‘ایسے کا خون تو ضائع جائے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا نام اُم عطیف تھا۔
مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11789
