المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ مجاهد عن ابن عباس ] · حديث 11069
11049 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري ثنا إسماعيل بن مسلم عن الحكم عن مجاهد عن ابن عباس قال Y كان الفضل أكبر مني وكان يردفني فأكون بين يديه فارتدفت أنا وأخي حمارة فانتهينا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلي بالناس بعرفة فنزلنا بين يديه ودخلنا فصلينا وتركناها ترعى بين يديه ولمي يقطع صلاته
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امیر حمزہ ( کی لاش) کے پاس آکر کھڑے ہوئے تو ان کی حالت کو توجہ سے ملاحظہ فرمایا ‘پھر کہا: اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ عورتیں پریشان ہوں گی تو میں اُن کو قبر میں دفن نہ کرتا اور ایسے ہی پڑا رہنے دیتا یہاں تک کہ یہ درندوں کے پیٹوں میں چلے جاتے اور پرندوں کے پوٹوں میں یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو وہاں سے دوبارہ جلا کر اُٹھاتا۔ راوی کا بیان ہے: اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور (اے مسلمانو!) اگر تم (بدلہ لیتے ہوئے کسی کو ) تکلیف پہنچاؤ تو ویسے ہی تکلیف پہنچاؤ جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے ۔۔۔۔۔یمکرون ‘‘کے قول تک۔ پھر ان کو قبلہ کی طرف رکھنے کا حکم دیا پھر ان پر نو تکبیر کہیں ‘پھر ان کے پاس دیگر شہداء کو اکٹھا کیا ‘جب بھی کسی شہید کو لایا جاتا تو اسے حضرت حمزہ کے ساتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی نماز پڑھتے۔ حضرت امیر حمزہ کا اور دیگر شہداء پر یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اور شہداء پر بہتّر مرتبہ نماز پڑھی پھر صحابہ پر کھڑے ہوئے اور اُن کو دفن کیا اور جب قرآن نازل ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کیا ‘درگزر فرمایا اور مثلہ کو ترک کر دیا۔
كان الفضل أكبر مني وكان يردفني فأكون بين يديه فارتدفت ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11069
