المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ طاووس عن ابن عباس ] · حديث 11021
11001 - حدثنا أحمد بن عمرو البزار ثنا عبد الله بن شبيب ثنا يحيى بن أبي قتيلة ثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن مالك عن زياد بن سعد عن أبي الزبير عن أبي معبد و طاوس عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مزدلفة كلها موقف وارتفعوا عن بطن محسر ومنى كلها منحر
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے اس شہر کو اس وقت بنایا جس وقت آسمان و زمین بنائے اور ڈھالا ‘اس وقت جب سورج و چاند کو ڈھالا اور مجھ سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں ہوا اور میرے لیے بھی ‘دن کی ایک گھڑی حلال ہوا پھر اسی طرح حرمت لوٹ آئی جس طرح پہلے تھی۔ پس عرض کی گئی: یہ خالد بن ولید تھے ‘جنہوں نے قتل کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں ! جا کر حضرت خالد بن ولید سے کہو کہ قتل سے ہاتھ اُٹھا لے۔ پس اس آدمی نے ان کے پاس آکر یوں کہا: بے شک اللہ کے نبی فرما رہے ہیں جس پر تجھے قدرت ہو ‘اسے قتل کر دے۔ پس اُنہوں نے ستّر کو قتل کیا۔ پس کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر یہ بات ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ) حضرت خالد بن ولید کی طرف آدمی بھیج کر فرمایا: تجھے میں نے قتل سے روکا نہ تھا؟ اُنہوں نے جواب دیا: فلاں آدمی نے مجھے آکر کہا کہ آپ کا حکم ہے جس پر قادر ہو قتل کر دو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس آدمی کو بلوایا ‘فرمایا: کیا میں نے تجھے یہ حکم دیا تھا؟ اُس نے عرض کی : ایک کام کا ارادہ آپنے کیا اور ایک کام کا ارادہ اللہ نے کیا ‘پس اللہ کا امر آپ کے امر پر فوقیت پا گیا۔ پس مجھے طاقت نہ ہوئی مگر اسی بات کے کرنے کی جو ہوئی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور جواب ارشاد نہ فرمایا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أبي معبد و طاوس ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي قُتَيْلَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11021
