المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ سعيد بن جبير عن ابن عباس · حديث 12305
12279 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو عمر الضرير حفص بن عمر ( ح ) وحدثنا أبو معن ثابت بن نعيم الهوجي ثنا آدم بن أبي إياس ( ح ) وحدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا أبو نصر التمار قالوا : ثنا حماد بن سلمة أنا عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لما كانت الليلة أسري بي فيها وجدت رائحة طيبة فقلت : ما هذه الرائحة الطيبة يا جبريل ؟ قال : هذه رائحة ماشطة بنت فرعون وأولادها فقلت : ما شأنها ؟ قال : بينا هي تمشط بنت فرعون إذا سقط المشط من يدها فقالت : بسم الله فقالت بنت فرعون : أبي ؟ فقالت : لا ولكن ربي وربك ورب أبيك الله قالت : وإن لك ربا غير أبي ؟ قالت : نعم قالت : فأعلمه ذلك ؟ قالت : نعم فأعلمته فدعا بها فقال : يا فلانة ألك رب غيري ؟ قالت : نعم ربي وربك الله فأمر ببقرة من نحاس فأحميت ثم أخذ أولادها يلقون فيها واحدا واحدا فقالت : إن لي إليك حاجة قال : وماهي ؟ قالت : أحب أن تجمع عظامي وعظام ولدي في ثوب واحد فتدفنا جميعا قال : وذلك لك علينا فلم يزل أولادها يلقون في البقرة حتى انتهي إلى ابن لها رضيع فكأنها تقاعست من أجله فقال لها : يا أمه اقتحمي فإن عذاب الدنيا أهو من عذاب الآخرة قال ابن عباس : فتكلم أربعة صغار عيسى بن مريم و صاحب جريج وشاهد يوسف وابن ماشطة فرعون واللفظ لحديث أبي عمر الضرير
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ‘جب اپنی نماز پڑھنے کی جگہ کھڑے ہوئے تو اپنے سامنے کھڑا ایک درخت دیکھا۔ اس نے کہا: تیرا نام کیا ہے؟ اُس نے جواب دیا: خروب ! فرمایا: کس کام کیلئے ہے؟ اُس نے عرض کی: اس گھر کی خرابی کیلئے۔ پس حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی: اے اللہ! جنوں پر میری موت کو پوشیدہ رکھنا یہاں تک کہ انسانوں کو یقین ہو جائے کہ جن غیب نہیں جانتے۔ فرماتے ہیں: پس اُنہوں نے پاک عصا بنوایا ‘اس پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے (فرشتۂ اجل نے اپنا کام کیا ‘اسی حال میں ایک سال کھڑے رہے ) تو اس عصا کو زمین نے کھایا تو وہ گر پڑا اور آپ علیہ السلام بھی زمین پر آئے۔ پس اُنہوں نے زمین کے کھائے کو اکٹھا کیا تو اسے اردگرد پایا۔ اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا کہ جن اگر غیب جانتے ہوتے تو پورا سال سخت عذاب میں نہ رہتے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کو اس طرح پڑھتے ‘پس جنوں نے (بامرِ مجبوری )زمین کا شکریہ ادا کیا ‘پس وہ اس کے پاس پانی لائے جہاں وہ تھی۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← وحدثنا أبو معن ثابت بن نعيم الهوجي ← أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12305
