المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر قرص أم سليم وعكتها · حديث 21389
276 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي حدثنا عبد الله بن يوسف أنا مالك بن أنس عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة Y أنه سمع أنس بن مالك يقول : قال أبو طلحة ل أم سليم : لقد سمعت كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم أعرف فيه الجوع فهل عندك شيء ؟ قالت : نعم فأخرجتن أقراصا من شعير ثم أخرجت خمارا لهم فلفت الخبز بعضه ببعض ثم أرسلتني إلى رسول الله صلى الله عليهوسلم فذهبت فوجدت رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد ومعه الناس فقال أبي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أرسلك أبو طلحة ؟ ) فقلت : نعم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لمن معه : ( قوموا ) فانطلق وانطلقت بين أيديهم حتى جئت أبا طلحة فأخبرته فقال أبو طلحة : يا أم سليم قد جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم بالناس وليس عندنا من الطعام ما يشبعهم قالت : الله ورسوله أعلم فانطلق أبو طلحة حتى بلغنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأقبل رسول الله و أبو طلحة معه حتى دخلا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هلمي يا أم سليم ما عندك فأتت بذلك الخبز فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم ففت وعصرت أم سليم عكة فأدمته ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شاء الله أن يقول ثم قال : ( ائذن لعشرة ) فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال : ( ائذن لعشرة ) فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال : ( ائذن لعشرة فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال : ( ائذن لعشرة ) فأكل القوم كلهم حتى شبعوا والقوم سبعون أو ثمانون
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم سے کہا :میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا ہے جس میں مجھے بھوک کے آثار محسوس ہوتے ہیں،کیا تمھارے پاس کھانے کا کوئی سامان ہے؟انہوں نے کہا :جی ہاں ! پھر انہوں نے جو کی چند ٹکیاں نکالی اور ان کو کپڑے میں بھیجا ،میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ مسجد میں موجود پایا ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :تجھے ابو طلحہ نے بھیجا ہے ؟میں نے عرض کیا:جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا :اٹھو ! اور آپ چل پڑے ،میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور لوگوں کے آگے چل پڑا حتی ٰ کہ میں حضرت ابو طلحہ کے پاس آیا اور صورت حال بیان کی ۔حضرت ابو طلحہ نے ام سلیم سے کہا :رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں کہ انہیں سیر کرسکے۔ام سلیم نے کہا :اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں ۔پھر ابو طلحہ چلے ،حتیٰ کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچے ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ابو طلحہ کے ساتھ تشریف لائے اور فرمایا :اے ام سلیم !جو کچھ تیرے پاس ہے لے آ۔تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا وہ چند روٹیاں لے آئیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ان کی چوری بناؤ اور ام سلیم نے ایک گھی کا مشکیزہ نچوڑا اور روٹیوں کو تر کیا ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر جو چاہا پڑھا ۔فرمایا :دس لوگو ں کو بلاؤ۔ان کو بلایا گیا تو انہوں نے کھانا کھایا حتیٰ کہ وہ سیر ہو گئے ،پھر وہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا :دس مزید بلا لو ۔انہیں بلایا گیا تو وہ آئے اور کھانا کھایا اور سیر ہو گئے اور چلے گئے ،پھر اور دس کو بلایا وہ بھی کھا کر سیر ہو گئے ،پھر دس کو بلایا حتیٰ کہ تمام لوگوں نے کھانا کھالیا اور تب لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔
إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالک بن أنس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21389
