Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أم مبشر الأنصارية · حديث 21377

264 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر Y قال حدثتني أم مبشر امرأة زيد بن حارثة قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا في نخل لي فقال : ( الك هذا ؟ ) قلت : نعم قال : ( من غرسه أمسلم أم كافر ؟ ) قلت : مسلم قال : ( ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا فيأكل منه طائر أو إنسان أو سبع أو شيء إلا كان له صدقة )

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت اُم مبشر سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو میں کھجور کے باغ میں تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ کھجور کا درخت لگایا وہ مسلمان ہے یا کافر ؟ میں نے عرض کی: مسلمان ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان باغ یاکھیتی لگا تھا ہے اور اس سے جانور یا پرندے یا انسان کھائیں تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا،یعنی اس کو صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔

من غرسه أمسلم أم كافر قلت مسلم ← ألك هذا قلت نعم ← في نخل لي ← دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم ← حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21377

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب 1 · حديث 21378

265 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن أم مبشر وحدثنا زكريا الساجي ثنا محمد بن المثنى ثنا يحيى بن حماد ثنا أبو عوانة عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر Y عن أم مبشر قالت : جاء غلام حاطب إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( والله لا يدخل حاطب الجنة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كذبت إنه شهد بدرا والحديبية )

حضرت اُم بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حاطب کا غلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : اللہ کی قسم حاطب جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تُو جھوٹ بولتا ہے وہ بدراور حد یبیہ میں شریک ہوا ہے ۔

وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّةَ، ← جاء غلام حاطب إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أُمِّ مُبَشِّرٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ← أُمِّ مُبَشِّرٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21378

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب 1 · حديث 21379

266 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن ادريس عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر Y عن أم مبشر قالت سمعت النبي صلى الله عليه و سلم في بيت حفصة وهو يقول : ( لا يدخل النار رجل شهد بدرا والحديبية ) قال حفصة : يا رسول الله أن الله يقول ( وإن منكم إلا واردها كان على ربك حتما مقضيا ) قال : ( ثم مه ) ؟ قالت ( ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا )

22097حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں فرماتے ہوئے سنا کہ جہنم میں وہ آدمی ہرگز نہیں جائے گا جو بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا ہے ۔حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ عزوجل کا فرمان کہ "تم میں سے ہر کوئی جہنم سے گزرے گا ،یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کا مضبوط فیصلہ ہے "آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا :آگے بھی پڑھ:تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے اگلی آیت بھی پڑھی :ثم ننجی الذین اتقو ا الیٰ آخرہ"۔

حَفْصَةَ، ← لا يدخل النار رجل شهد بدرا والحديبية ← النبي صلى الله عليه و سلم في بيت حفصة وهو ← أُمِّ مُبَشِّرٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21379

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب 2 · حديث 21380

267 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا نعيم بن حماد ثنا عبد الله بن إدرس عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر Y عن أم مبشر أن النبي صلى الله عليه و سلم خطب بنت البراء بن معرور قالت : أنى اشترطت لزوجي أن لا أنكح بعده قال : ( إن ذلك لا يصلح )

حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت براء بن معرور کو نکاح کا پیغام بھیجا ،اس نے عرض کی :میں نے اپنے شوہر سے شرط لگائی تھی کہ میں اس کے بعد نکاح نہیں کروں گی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہ بہتر نہیں ہے۔

أُمِّ مُبَشِّرٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عبد الله بن إدرس ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21380

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب 3 · حديث 21381

268 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أي سفيان عن جابر Y عن أم مبشر قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا في حائط من حوائط بني النجار فيه قبور قد موتوا في الجاهلية فخرج فسمعته يقول : ( استعيذوا بالله من عذاب القبر ) فقلت : يا رسول الله وللبقر عذاب ؟ فقال : ( نعم إنهم يعذبون في قبورهم عذابا يسمعه البهائم )

حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میرے پاس آئے ،میں بنی نجار کےباغ میں تھی ،وہاں جاہلیت میں مرنے والوں کی قبریں تھیں ،میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہےتھے :عذاب قبر سے پناہ مانگا کرو۔میں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قبر میں عذاب ہوتا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جی ہاں !ان کی ان کی قبروں میں عذاب دیا جارہا ہے ،اس کی آواز جانور سنتے ہیں ۔

أُمِّ مُبَشِّرٍ ← جَابِرٍ ← أي سفيان ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21381

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب 3 · حديث 21382

269 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا يحيى بن معين ثنا حجاج بن محمد عن ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله Y يقول حدثتني أم مبشر أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول عند حفصة : ( لا يدخل النار إن شاء الله [ رجل ] أحد من أصحاب الشجرة الذين بايعوا تحته ) قالت : بلى يا رسول الله فانتهرها فقالت حفصة ( وإن منكم إلا واردها ) فقال النبي صلى الله علي وسلم : ( ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جنبا )

حضرت ام مبشر رضی اللہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت حضصہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر اللہ نے چاہا تو جہنم میں ان میں سے کوئی آدمی نہیں جائے گا جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ۔عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیوں نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھڑک دیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی :(اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ )"تم میں سے ہر کوئی جہنم میں سے گزرے گا "۔آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے یہ سن کو اس سے اگلی آیت تلاوت فرمائی :"ثم ننجی الذین اتقوا و نذر الظالمین فیھا جثیاً۔"

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21382

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب 3 · حديث 21383

270 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي قال ثنا صفوان بن صالح ثنا الوليد بن مسلم عن المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب عن سعيد بن المسيب Y عن أم مبشر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لها : ( يا أم مبشر من كان لها ثلاثة أفراط من ولده أدخله الله الجنة بفضل رحمته إياهم ) وكانت أم مبشر تطبخ طبيخا فقالت : أو قرطبان ؟ فقال : ( أو فرطان )

حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے انہیں فرمایا :اے ام مبشر ! جس کے تین بچے فوت ہو جائیں ،اللہ عزوجل ان کے صدقے اس آدمی کو اپنے فضل سے جنت میں داخل کرے گا۔حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہ روٹی پکا رہی تھیں ،عرض کی :اگر دو بھی ہوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہاں دو بھی ہوں ۔

أُمِّ مُبَشِّرٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21383

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب 3 · حديث 21384

271 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن عقال الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحاق عن ابن أبي نجيح عن مجاهد Y عن أم مبشر قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ألا أخبركم بخير الناس رجلا ؟ ) قالوا : بلى فأشار بيده نحو المشرق فقال : ( رجل أخذ بعنان فرسه في سبيل الله ينتظر أن يغير أو يغار عليه ألا أخبركم بخير الناس بعده رجلا ؟ قالوا : بلى فأشار بيده نحو الحجار فقال : ( رجل في غنمه يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة يعلم ما حق الله في ماله قد اعتزل الناس )

حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا :تمہیں لوگوں میں سب سے اچھے آدمی کے متعلق نہ بتاؤں ! صحابہ کرام نے عرض کی :کیوں نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا ،فرمایا :وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگا م پکڑ کر اللہ کی راہ میں جہاد کا منتظر ہے کہ وہ کسی پر حملہ کرے یا کوئی اس پر حملہ کردے ،کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس کے بعد سب سے بہتر ہے ؟صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی :کیوں نہیں !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست اقدس سے حجاز کی طرف اشارہ کرکے فرمایا :وہ آدمی جو اپنی بکریوں میں ہو ،نماز قائم کرے اور زکواۃ دے اور اپنے مال میں اللہ کے حق کو جانتا ہو اور لوگوں سے الگ رہتا ہو۔

أُمِّ مُبَشِّرٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21384

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أم بشر بنت البراء بن معرور · حديث 21385

272 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا ابن الأصبهاني ثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن محمد بن إسحاق عن الحارث بن فضيل عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك Y عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال : لما حضرت كعبا الوفاة دخلت عليه أم بشر بنت البراء بن معرور فقالت : يا أبا عبد الرحمن أن لقيت ابني فأقرأه مني السلام قال : يغفر الله لك يا أم بشر نحن أسفل من ذلك فقالت : يا أبا عبد الرحمن أما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( إن أرواح المؤمنين في أجواف طير خضر تعلق بشجر الجنة ؟ ) قال : بلى قالت : فهو ذاك

حضرت عبدالرحمن ٰ بن کعب بن ماک فرماتے ہیں کہ جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے وصال کا وقت آیا تو ان کے پاس حضرت ام بشر بنت براء بن معرور رضی اللہ عنہا آئیں ،عرض کی :اے ابو عبدالرحمن ٰ !اگر میرے بیٹے سے ملاقات ہو تو میرا ان کو سلام کہنا ۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اے ام مبشر ! اللہ آپ کو معاف کرے ! ہم اس سے نیچے والے درجے میں ہوں گے ۔تو ام بشر نے عرض کی :اے ابو عبدالرحمنٰ ! کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں سنا کہ مومنین کی روحیں جنت کے درخت کے ساتھ سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہوں گی ؟فرمایا :کیوں نہیں !تو ام بشر نے فرمایا :وہ بھی وہیں ہوگا۔

فَهُوَ ذَاكَ ← بَلٰی ← إن أرواح المؤمنين في أجواف طير خضر تعلق بشجر الجنة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا ← يغفر الله لك يا أم بشر نحن أسفل من ذلك ← يا أبا عبد الرحمن أن لقيت ابني فأقرأه مني السلام ← لما حضرت كعبا الوفاة دخلت عليه أم بشر بنت البراء بن معرور ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21385

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أم سليم بنت ملحان الأنصارية أم أنس بن مالك من أخبارها · حديث 21386

273 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا جعفر بن سليمان عن ثابت البناني Y عن أنس قال : خطب أبو طلحة أم سليم قبل أن يسلم فقالت : أما إني فيك لراغبة وما مثلك يرد ولكنك رجل كافر وأنا امرأة مسلمة فإن تسلم فذلك مهري لا أسألك غيره فأسلم وتزوجها أبو طلحة

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہاکو نکاح کا پیغام بھیجا مسلمان ہونے سے پہلے ۔حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا :آپ سے نکاح کرنے کی رغبت ہے اور آپ جیسے کی بات رد بھی نہیں کی جاسکتی ہےلیکن بات یہ ہے کہ آپ کافر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں ،اگر آپ مسلمان ہو جاتے ہیں تو یہی میرا مہر ہے ،میں آپ سے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگوں گی ۔پس حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے شادی کرلی۔

«أَمَا إِنِّي فِيكَ لَرَاغِبَةٌ وَمَا مِثْلُكَ يُرَدُّ وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ كَافِرٌ ← خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21386

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أم سليم بنت ملحان الأنصارية أم أنس بن مالك من أخبارها · حديث 21387

274 - حدثنا موسى بن هارون ثنا قتيبة بن سعيد ثنا محمد بن موسى المخزومي الفطري عن عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة Y عن أنس بن مالك قال تزوج أبو طلحة أم سليم وكان صداق ما بينهما الإسلام أسلمت أم سليم قبل أبي طلحة فخطبها فقالت : إني قد أسلمت فإن أسلمت نكحتك فأسلم فكان صداق ما بينهما الإسلام

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے شادی کی ،ان دونوں کے درمیان جو حق مہر مقرر کیا گیا وہ اسلام تھا ،یعنی حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا ۔حضرت ام سلیم ،حضرت ابو طلحہ سے پہلے اسلام لے آئی تھیں ،حضرت ابو طلحہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا :میں اسلام لے آئی ہوں ،اگر آپ اسلام لاتے ہیں تو میں آپ سے نکاح کرتی ہوں اور اس طرح ان دونوں کے درمیان حق مہر اسلام بنا۔

كَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامَ أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ فَخَطَبَهَا ← تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْفِطْرِيُّ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21387

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر قرص أم سليم وعكتها · حديث 21388

275 - حدثنا أبو بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث وحدثنا عبد الرحمن بن معاوية العتبي ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن القرظي يعني محمد بن كعب Y عن أنس بن مالك قال : أتى أبو طلحة أم سليم وهي أم أنس و أبو طلحة رابة فقال : عندك يا أم سليم شيء فإني مررت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يقريء أصحاب الصفة سورة النساء وقد ربط على بطنه حجرا من الجوع فقالت : كان عندي شيء من شعير طحنته ثم أرسلتني إلى الأسواق - والأسواق حوائط لهم - فأتيتهم بشيء من حطب فجعلت منه قرصا ثم قال : أعندك آدم ؟ فقالت : قد كان عندي نحي فيه سمن فلا أدري أبقي فيه شيء ؟ فأتته به فعصره فقال : أن عصر اثنين أبلغ من عصر واحد فعصراه جميعا فأخرجا مثل التمرة فدهنت القرص ثم دعاني فقال : يا أنس تعرف رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قلت : نعم قال : إني تركته مع أصحابه في الصفة يقرئهم فادعه ولا تدع معه غيره انظر أن لا تفضحني فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رآني قال : ( لعل أباك أرسلك إلينا ) قلت : نعم ثم قال للقوم : ( انطلقوا فانطلقوا وهم يومئذ ثمانون رجلا فأمسك يدي فلما دنوت من الدار نزعت يده من يدي فجعل أبو طلحة يطلبني في الدار ويرميني بالحجارة يقول : فضحتني عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم إنه خرج إليه فأخبره الخبر فقال : ( لا يضرك ) فأمرهم فجلسوا ثم دخل فأتيناه بالقرص فقال : ( هل من آدم ؟ ) فقالت أم سليم : يا رسول الله قد كانا عندنا نحي وقد عصرته أنا و أبو طلحة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هلموه فإن عصرته أنا و أبو طلحة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هلموه فإن عصر الثلاثة أ بلغ من عصر الاثنين ) فاتي به فعصره رسول الله صلى الله عليه و سلم معهما فأخرجوا منه مثل التمرة فمسحوا به القرص فمسحه رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده ثم دعا فيه بالبركة ثم قال : ( ادعو لي عشرة ) فدعوت عشرة فأكلوا منه حتى ثملوا شبعا فما زالوا يدخلون عشرة عشرة حتى شبعوا ثم جلس رسول الله صلى الله عليه و سلم وجلسنا معه فأكلنا حتى فضل

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ ،حضرت ام سلیم جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ،کے پاس آئے اور کہا:اے ام سلیم! تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ کو سورۃ النساء پڑھا رہے تھے اور بھوک کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا ۔حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس تھوڑے سے جو تھے ،انہوں نے انہیں پیس لیا اور پھر مجھے باغ میں بھیجا تو میں ان کے لیے کچھ ترکھجوریں لے آیا ،پھر انہوں نے آٹے کی تکیا بنائی ۔حضرت ابو طلحہ نے پوچھا :کیا تمھارے پاس کوئی سالن ہے ؟ام سلیم نے کہا :میرے پاس ایک گھی کا کنستر ہے لیکن میں نہیں جانتی کہ اس میں کچھ باقی ہے یا نہیں ؟پھر وہ اسے نکال کر لے آئیں ،حضر ت ابو طلحہ نے اسے نچوڑ ا تو ام سلیم کہنے لگیں :ایک آدمی سے زیادہ دو کے نچوڑ نے کا فائدہ ہوتا ہے ،پھر ان دونوں نے اکھٹے نچوڑا تو ایک کھجور کے برابر گھی نکالنے میں کامیاب ہو گئے ،پھر آٹے کی تکیہ کو گھی لگایا اور حضرت ابو طلحہ نے مجھے بلایا اور کہا :اے انس ! کیا تم جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچانتے ہو؟میں نے کہا :جی ہاں ! کہا :میں نے انہیں آخری بار صفہ کے چبوترے پر صحابہ کو پڑھا تے ہوئے دیکھا تھا ،تم انہیں دعوت دے آؤ اور ان کے ساتھ کسی کو مت بلانا اور دیکھنا کہ مجھے رسوا نہ کردینا ۔لہذا میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا :لگتا ہے تجھے تیرے باپ نے ہماری طرف بھیجا ہے ؟میں نے عرض کیا :جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا :چلو ! تو وہ سب چل پڑے ،اس دن ان کی تعداد تقریباً اسی افرا د تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ،پھر جب ہم گھر کے قریب ہو گئے تو میں ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا ،حضرت ابو طلحہ مجھے گھر میں تلاش کرتے اور کنکر یاں مارتے اور کہتے جاتے کہ تو نے مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رسوا کردیا ۔پھر وہ خود نکلے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تجھے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو صحابہ کرام بیٹھ گئے ،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی کا ٹکڑا پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا کوئی سالن ہے عرض کیا :یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس گھری کا ایک مشکیزہ تھا جسے میں نے اور ابو طلحہ نے نچوڑ لیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اسے لے کر آؤ ! دوبندوں سے زیادہ تین آدمیوں کا نچوڑنا فائدہ مند ہو تا ہے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشکیزہ پیش کردیا گیا ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس کو نچوڑا تو کھجور کے برابر گھی برآمد ہوا ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اسے روٹی پر لگایا اور دست اقدس سے مس کیا ،پھر اس میں برکت کی دعا فرمادی ،فرمایا :دس بندے بلا لو ۔میں نے دس بندوں کو بلایا تو وہ شکم سیر ہو کر اٹھ گئے ،پھر وہ دس دس کرکے آتے جاتے حتیٰ کہ سب نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی ساتھ بیٹھ گئے ،ہم نے بھی اس میں سے کھایا حتی ٰ کہ وہ کھانا پھر بھی باقی بچ گیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← القرظي يعني محمد بن كعب ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21388

chevron_left Previous
1…789…24
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter