المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص · حديث 21353
240 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم الفضل بن دكين وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو الوليد الطيالسي [ قالا ] ثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص عن أبيه عن عمرو Y عن أم خالد بنت خالد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتي بثياب فيها خميصة صغيرة فقال : ( من ترون تكسو هذه ؟ ) فسكت القوم فقال : ائتوني ب ( أم خالد ) فأتي بي أحمل فأخذ الخميصة بيده فألبسني إياها فقال : ( ابلي واخلقي ابلي واخلقي ) قالت : فكان فيها علم أخضر أو أصفر فقال : يا أم خالد هذه سناه ) وسناه بالحبشية حسن
حضرت اُم خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے آئے ، اس میں چھوٹی چادر تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کے متعلق تم خیال کرتے ہو کہ یہ اس کو پہنائی جائے ؟ قوم خاموش رہی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پا س اُم خالد کو لاؤ! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے چادر پکڑی اور مجھے پہنائی ۔اور فرمایا: اسے پہن کر بوسیدہ اور پرانا کر و ۔ حضرت اُم خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : اس میں سبزیازرد نشانات تھے ۔ فرمایا: اے اُم خالد! یہ سناہ ہے اور سناہ حبشی زبان میں حسن ، یعنی اچھی چیز کو کہتے ہیں ۔
أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ ← عَمْرٍو، ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أبو نعيم الفضل بن دكين وحدثنا أبو مسلم الكشي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21353
