المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21413
300 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن سعيد بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري عن أنس بن مالك Y عن أم سليم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم زارهم يوما فدعا لي حتى ما أبالي أن يزيد فقلت له : أن لي من أهلي من له عندي خاصة فأنا أحب أن تدعو لها بخاصته عندي قال : ( ومن هو ؟ ) قلت : أنس خادمك بأبي أنت وأمي قال : فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى ما أبالي أن لا يزيد وكان فيما دعا أن قال : ( وأعطه مالا وولدا ) قال أنس : فما أعلم أحد أصاب من رخاء العيش اللين مثل ما أصبت ولقد دفنت بيدي هاتين مائة من ولدي لا أقول سقطا ولا ولد ولد
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور میرے لیے دعا فرمائی حتی کہ مجھے مزید دعاؤں کی ضرورت محسوس نہ ہوئی ۔میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اہل خانہ میں ایک ایسا بھی ہے جو مجھے بہت عزیز ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :وہ کون ہے ؟میں نے عرض کیا :میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں وہ آپ کا خادم انس رضی اللہ عنہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے دعا فرمائی حتی ٰ کہ مجھے محسوس نہیں ہوا کہ انہوں نے دعا میں اضافہ نہیں کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعائیں فرمائیں ان میں یہ دعا بھی تھی"اے اللہ ! اس کو مال اور اولاد عطا فرما۔"حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نہیں جانتا کہ خوش عیشی میں جتنی راحت مجھے ملی ہے کسی اور کو بھی ملی ہو اور میں نے اپنے ان ہاتھوں سے اپنی اولاد میں سے ایک سو افراد کو دفن کیا ہےاور میں نہیں کہتا ہے کہ وہ میرے بیٹے تھے یا پوتے پوتیاں ۔
أُمِّ سُلَيْمٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21413
