Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21413

300 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن سعيد بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري عن أنس بن مالك Y عن أم سليم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم زارهم يوما فدعا لي حتى ما أبالي أن يزيد فقلت له : أن لي من أهلي من له عندي خاصة فأنا أحب أن تدعو لها بخاصته عندي قال : ( ومن هو ؟ ) قلت : أنس خادمك بأبي أنت وأمي قال : فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى ما أبالي أن لا يزيد وكان فيما دعا أن قال : ( وأعطه مالا وولدا ) قال أنس : فما أعلم أحد أصاب من رخاء العيش اللين مثل ما أصبت ولقد دفنت بيدي هاتين مائة من ولدي لا أقول سقطا ولا ولد ولد

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور میرے لیے دعا فرمائی حتی کہ مجھے مزید دعاؤں کی ضرورت محسوس نہ ہوئی ۔میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اہل خانہ میں ایک ایسا بھی ہے جو مجھے بہت عزیز ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :وہ کون ہے ؟میں نے عرض کیا :میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں وہ آپ کا خادم انس رضی اللہ عنہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے دعا فرمائی حتی ٰ کہ مجھے محسوس نہیں ہوا کہ انہوں نے دعا میں اضافہ نہیں کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعائیں فرمائیں ان میں یہ دعا بھی تھی"اے اللہ ! اس کو مال اور اولاد عطا فرما۔"حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نہیں جانتا کہ خوش عیشی میں جتنی راحت مجھے ملی ہے کسی اور کو بھی ملی ہو اور میں نے اپنے ان ہاتھوں سے اپنی اولاد میں سے ایک سو افراد کو دفن کیا ہےاور میں نہیں کہتا ہے کہ وہ میرے بیٹے تھے یا پوتے پوتیاں ۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عبد الله بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21413

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21414

301 - حدثنا أحمد بن القاسم بن مساور الجوهري ثنا سعيد بن سليمان الواسطي ثنا سعيد بن عبد الرحمن الجمحي عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس Y عن أمه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ایک اور سند کے ساتھ مذکورہ روایت مروی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أُمِّهِ2، ← أَنَسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21414

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21415

302 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الصلت بن مسعود الجحدري ثنا جعفر بن سليمان عن ثابت عن أنس Y عن أم سليم قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يغزو بنا معه لنسوة من الأنصار فنسقي المرضى ونداوي الجرحى

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کو چھ انصاری عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کیا کرتے تھے۔ہم مریضوں کو پانی پلاتے اور زخمیوں کو دوائی دیتی تھیں۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21415

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21416

303 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا يحيى بن معين ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن قتادة عن أنس Y عن أم سليم أنها قالت لرسول الله صلى الله عليه و سلم : خادمك أنس ادع الله له فقال : ( اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته )

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا :انس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی :اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں کثرت فرما اور جو کچھ اسے عطا فرمائے اس کو اس کے لیے بابرکت بنا دے۔

«اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ» ← لرسول الله صلى الله عليه و سلم خادمك أنس ادع الله له ← أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21416

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21417

304 - حدثنا الحسن بن العباس الرازي ثنا سهل بن عثمان ثنا عبد الرحيم بن سليمان عن جنيد بن أبي وهرة التيمي عن عبد الملك بن أبي بشر عن حفصة بنت سيرين عن أم سليم قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وحدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا آدم ثنا شيبان وحدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا الحسن بن موسى الأشيب ثنا شيبان عن ليث عن عبد الملك بن أبي بشير عن حفصة بنت سرين عن أم سليم Y عن أم أنس قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أنس قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إذا توفيت المرأة فأرادوا أن يغسلوها فليبدأوا ببطنها فليمسح بطنها مسحا رفيقا إن لم تكن حبلى فإن كان حبلى فلا تحركنها فإن أردت غسلها فابدئي بسفليها فألقي على عورتها ثوبا ستيرا ثم خذي كرسفة فاغسليها فأحسني غسلها ثم ادخلي يدك من تحت الثوب فامسحيها بكرسف ثلاث مرات فأحسني مسحها قبل أن توضئيها ثم وضئيها بماء فيه سدر ولتفرغ الماء امرأة وهي قائمة لا تلي شيئا غيره حتى تنقي بالسدر وأنت تغسلين وليل غسلها أولى النساء بها وإلا فامرأة ورعة فإن كانت صغيرة أو ضعيفة فلتلها امرأة ورعة مسلمة فإذا فرغت من غسل سفلتها غسلا نقيا بماء وسدر فتلوضئها وضوء الصلاة فهذا بيان وضوئها ثم اغسليها بعد ذلك ثلاث مرات بماء وسدر فابدئي برأسها قبل كل شيء فانقي غسله من السدر بالماء ولا تسرحي رأسها بمشط فإن حدث بها حدث بعد الغسلات الثلاث فاجعليها خمسا فإن حدث في الخامسة فاجعليها سبعا وكل ذلك فليكن وترا بماء وسدر فإن كان في الخامسة أو الثالثة فأجعلي فيه شيئا من كافور وشيئا من سدر ثم اجعلي ذلك في جر جديد ثم اقعديها فأفرغي عليها وابدئي برأسها حتى تبلغي رجليها فإذا فرغت منها فألقي عليها ثوبا نظيفا ثم ادخلي يدك من وراء الثوب فانزعيه عنها ثم احشي سفلتها كرسفا ما استطعت واحشي كرسفها من طيبها ثم خذي سبية طويلة مغسولة فأربطيها على عجزها كما تربط على النطاق ثم اعقديها بين فخذيها وضمي فخذيها ثم ألقي طرف السبية من عجزها إلى قريب من ركبتيها فهذا شأن سفلتها ثم طيبيها وكفنيها واطوي شعرها ثلاثة أقرب قصة وقرنين ولا تشهبيها بالرجال وليكن كفنها في خمسة أثواب أحدها الإزار تلغي به فخذيها ولا تنقضي من شعرها شيئا بنورة ولا غيرها وما يسقط من شعرها فاغسليه ثم أغرزيه في شعر رأسها وطيبي شعر رأسها فأحسني تطييبه ولا تغسليها بماء مسحن واخمريها وما تكفينها به بسبع نبذات إن شئت واجعلي كل شيء منها وترا وإن بدا لك أن تخمريها في نعشها فاجعليه وترا هذا شأن كفنها ورأسها وإن كانت محدورة أو مخصونة أو أشباه ذلك فخذي خرقة واحدة واغمسيها في الماء واجعلي تتبعي كل شيء منها ولا تحركيها فإني أخشى أن يتنفس منها شيء لا يستطاع رده )

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب عورت فوت ہو جائے اور لوگ اسے غسل دینا چاہیں تو اس کے پیٹ سے شروع کریں ۔اس کے پیٹ کو نرمی سے ٹٹولیں کہ وہ حاملہ تو نہیں ،اگر وہ حاملہ ہو تو اسے زیادہ حرکت نہ دیں ۔(غالبا ام سلیم سے فرمایا )جب تو اسےغسل دینے لگے تو اس کے نچلے حصے سے شروع کر ۔اس کی شرمگاہ پر کپڑا ڈال دے پھر روئی لے کر اچھی طرح دھو۔پھر کپڑے کے نیچے سے ہاتھ لے جا کر تین مرتبہ روئی سے صاف کرو۔اور وضو کروانے سے پہلے خوب اچھی طرح صاف کرلو۔پھر اسے بیری کے پتوں والے پانی سے وضو کراؤ۔اور ایک عورت کھڑی ہو کر اس پر بیری والا پانی ڈالے اور تم اسے اچھی طرح سے ملو۔بہتر ہے کہ عورت کو اس کے قریبی رشتے دار خاتون غسل دے اور اگر نہ ہو تو کوئی متقی عورت غسل دے۔اور اگر فوت ہونے والی بچی ہو یا بوڑھی ہو تو اس کے پاس ایک مسلمان متقی عورت ہونی چاہیے۔اور پھر جب اس کے نچلے حصے کو اچھی طرح دھو کر فارغ ہو جاؤ تو اسے نما ز کی طرح کا وضو کرواؤ ۔اس کے وضو کا بیان ہے ۔اس کے بعد اسے تین مرتبہ بیری کے پتوں والے پانی سے غسل دو اور سب سے پہلے اس کے سر کی طرف سے شروع کرو۔اور اس کے سر گردن کے سہارے مت چھوڑو۔اگر تین مرتبہ غسل دینے کے بعد کوئی نجاست نکل آئے تو پانچ مرتبہ غسل دو اور اگر اس کےبعد بھی نجاست نکل آئے تو سات مرتبہ غسل دو اور جتنی مرتبہ بھی غسل دو طاق تعداد میں پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہئے ۔جب پانچویں یا تیسری مرتبہ غسل دینے لگو تو اس میں تھوڑا سا کافور اور تھوڑے سے بیری کے پتے ڈال لو۔اور اسے نئے برتن میں ڈالو ۔پھر اس کو بٹھا دو اور اس سر سے شروع کرکے پاؤں تک پانی بہاؤ۔جب اس سے فارغ ہو جاؤ تو اس پر صاف ستھرا کپڑا ڈال دو پھر اس کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر نیچے والا کپڑا ہٹا دو۔پھر اس کے نچلے حصے میں جتنی ممکن ہو روئی بھر دو اور روئی کو خوشبو لگا لو ۔اور پھر ایک دھلی ہوئی لمبی چادر لو اور اسے اس کی کمر سے باندھو جیسے کمر بند باندھا جاتا ہے۔پھر اس کی رانوں میں گرہ لگاؤ اور اس کے کولہوں کو دباؤ۔پھر اس چادر کی ایک طرف کو کمر سے گھٹنوں کی طرف ڈالو،یہ نچلے حصے کا بیان ہے ،پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ اور اس کے بالوں کی تین مینڈھیاں بناؤ،ایک چھوٹی اور دو بڑی ۔اور مردوں کی مشابہت نہ کرواور اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہونا چاہیئے ۔ان میں سے ایک وہ جو اس کی رانوں سے ملا ہوا ہونا چاہیے ۔اور اس کےبالوں کو بالصفاپاؤڈر وغیرہ یا کسی اور چیز سے صاف نہ کرواور اگر بالوں میں سے کچھ گر جائیں انہیں دھو ڈالو۔پھر اس کے بالوں میں کنگھی کرو اور خوشبو لگاؤ۔اور خوب اچھی طرح خوشبو لگاؤ ۔اور اسے گرم پانی سے غسل نہ دو اور ڈوپٹہ اوڑھاؤ اور جو اسے کفن دو اگر تم چاہو تو وہ سات ٹکڑوں میں ہو اور ہر چیز کو طاق عدد کے مطابق رکھو اور اگر تم اس کی بگ بنانا چاہو تو اسے بھی طاق عدد کے مطابق رکھو یعنی ایک ہی بناؤ ۔یہ اس کے کفن اور سر کا بیان ہے۔اور اگر اس کے پیٹ سے کوئی چیز بہے یا کوئی پھنسی وغیرہ ہو تو کپڑے کا ٹکڑا لے کر پانی سے بھگو کر اسے صاف کردو۔اور زیادہ حرکت نہ دو ،مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی ایسی چیز نہ نکل آئے جسے لوٹا یا نہ جا سکتا ہو۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عبد الملك بن أبي بشر ← جنيد بن أبي وهرة التيمي ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21417

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21418

305 - حدثنا معاذ بن المثنى ثا علي بن عثمان وحدثنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا يحيى الحماني قالا ثنا عبد الواحد بن زياد عن عثمان بن حكيم عن عمرو بن عمر الأنصاري قال Y سمعت أم سليم تقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة أولاد لم يبلغوا الحنث إلا أدخلهم الله الجنة بفضل رحمته إياهم ) فقلت : واثنان فقال : ( واثنان )

جناب ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :کوئی ایسے دو مسلمان نہیں کہ جن کے تین بچے بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو گئے ہوں اور اللہ انہیں اپنے فضل و رحمت سے ان کے صدقے جنت عطا نہ فرمائے ۔میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ ! اور دو کا بھی یہی حکم ہے ؟فرمایا :ہاں دو بھی۔

أم سليمٍ تقول: ← عمرو بن عمر الأنصاري ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← معاذ بن المثنى ثا علي بن عثمان

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21418

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21419

306 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر أبي شيبة ثنا عبد الله بن نمير عن عثمان بن حكيم حدثني عمرو الأنصاري Y عن أم سليم بنت ملحان قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة من أولادهما لم يبلغوا الحنث إلا أدخلهم الله الجنة بفضل رحمته إياهما )

جناب ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :کوئی ایسے دو مسلمان نہیں کہ جن کے تین بچے بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو گئے ہوں اور اللہ انہیں اپنے فضل و رحمت سے ان کے صدقے جنت عطا نہ فرمائے ۔

أم سليم بنت ملحان ← عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أبو بكر أبي شيبة ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21419

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21420

307 - حدثنا الحسين بن علي المعمري ثنا عمرو بن أبي عاصم ثنا أبي ثنا ابن جريج عن عبد الكريم أن البراء بن زيد بن بنت أنس Y أخبر أم سليم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل عليها وعندها قربة معلقة فقام إليها فشرب من فمها فقامت إلى فم القربة فقطعتها

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے وہاں ایک مشک لٹک رہی تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور کھڑے ہو کر اس سے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا۔پھر حضرت ام سلیم اٹھیں اور اس مشک کا منہ کا ٹ کر بطور برکت کےسنبھال کر رکھ لیا۔

عبد الكريم أن البراء بن زيد بن بنت أنس أخبر أم سليم ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ← الحسين بن علي المعمري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21420

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21421

308 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا الصلت بن مسعود الجحدري ثنا سليم بن أخضر عن ابن عون عن محمد بن يوسف Y عن أم سليم قالت : قربت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم كتفا مشوية فأكل منها ثم قام إلى الصلاة ولم يتوضأ

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی ہوئی دستی پیش کی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا پھر نماز کیلئے اٹھ گئے اور دوبارہ وضو نہیں فرمایا ۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21421

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21422

309 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ثنا اسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن عبد الله عن حكيم بن حكيم عن عباد بن حنيف عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أم سليم Y أم أنس بن مالك أنها أتت النبي صلى الله عليه و سلم وهو في بيت أم سلمة وعنده رهط وهم جلوس فجلست حتى خرجوا فقلت يا رسول الله إني لن أدع أمرا يفقهني في ديني ويقربني من الله أن أسأل عنه أرأيت رسول الله المرأة ترى في المنام ما يرى الرجل أتغتسل ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إذا رأت الماء فلتغتسل ) فقالت أم سلمة : تربت يداك يا أم سليم فضحت النساء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بل تربت يداك أنت لولا ذلك ما أشبه الولد أمه )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تب ان کے پاس لوگوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی ۔چناچہ وہ بھی بیٹھ گئیں اور جب لو گ اٹھ کر چلے گئے تو انہوں نے عرض کیا :یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی بات جو مجھے میرا دین سمجھائے یامجھے اللہ کے قریب کردے میں نے کھبی پوچھے بنا نہیں چھوڑی ۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے بتائیے کہ کوئی عورت خواب میں وہی کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا وہ غسل کرے؟فرمایا :جب وہ تری دیکھے تو غسل کرلے ۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا :اے م سلیم تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں تو نے عورتوں کو رسوا کردیا ۔(یعنی عورتوں کو احتلام نہیں ہوتا اور تم اس طرح کا مسئلہ پوچھ رہی ہو)اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تمھارے ہاتھ خاک آلود ہوں ،اگر یہ چیز نہ ہو تو بچے ماں کے مشابہ پیدا نہ ہوں ۔

أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عباد بن حنيف ← حَکِيمِ بْنِ حَکِيمٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21422

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21423

310 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا يعقوب بن حميد ثنا عبد الله بن محمد أبو علقمة الفروي عن إسحاق بن عبد الله عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم Y أخبرتني أم سليم قالت : دخلت على عاشة فقلت : أين رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقالت : في البيت يوحى إليه ثم مكثت ما شاء الله أن أمكث ثم سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( يا عائشة هذا جبريل عليه السلام يقرأ عليك السلام )

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ہی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہو رہا ہے ۔میں وہاں رکی رہی جب تک اللہ نے چاہا ۔پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہےتھے :اے عائشہ! یہ جبریل کھڑے ہیں اور تجھے سلام کہتے ہیں۔

يا عائشة هذا جبريل يقرأ عليك السلام ← النبي صلى الله عليه و سلم ← فِي الْبَيْتِ يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ، ثُمَّ ← دخلت على عاشة فقلت أين رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم أخبرتني أم سليم ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← عبد الله بن محمد أبو علقمة الفروي ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21423

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21424

311 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا محمد بن مسلم بن وارة ثنا محمد بن سعيد بن سابق ثنا عمرو بن أبي قيس عن سعيد بن مسروق عن عبابة بن رفاعة Y عن أم سليم قالت : توفي ابن لي وزوجي غائب فقمت فسجيته في ناحية من البيت فقدم زوجي فقمت فتطيبت له فوقع علي ثم أتيته بطعام فجعل يأكل فقلت : ألا أعجبك من جيراننا ؟ قال : وما لهم : قلت أعيروا عارية فلما طلبت منهم جزعوا قال : بئس ما صنعوا فقلت : هذا ابنك : قال لا جرم لا تغلبيني على الصبر الليلة فلما أصبح غدا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال : ( الله بارك لهم في ليلتهم ) فلقد رأيت لها بعد ذلك في المسجد سبعة كلهم قد قرأوا القرآن

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے ایک بیٹا فوت ہو گیا اور میرے شوہر گھر پر نہ تھے ۔میں نے اسے گھر کے ایک گوشے میں ڈھانپ کر رکھ دیا ۔جب میرےشوہر گھر آئے تو میں نے ان کے خوشبو لگائی اور انہوں نے مجھ سے ہمبستری کی پھر میں نے انہیں کھانا دیا اور وہ کھانے لگے تو میں نے کہا:ہمارے پڑوسیوں پر تعجب ہے ۔شوہر نے پوچھا :انہیں کیا ہوا ؟میں نے کہا :انہیں کوئی چیز ادھار دی جاتی ہے تو جب مانگی جائے تو چیخ و پکار کرتے ہیں۔کہا :یہ انہوں نے اچھا نہیں کیا ۔میں نے کہا :پھر یہ تمھارا بیٹا ہے ۔(جوا للہ نے دیا تھا اب واپس لے لیا تو رونا کیسا؟)شوہر نے کہا :آج کی رات تو صبر میں مجھ سے غالب نہیں آسکتی ۔جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنا یا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دی :اے اللہ ! ان کی رات کے معاملے میں برکت عطا فرما ۔راوی کہتے ہیں :میں نے ام سلیم کے ساتھ بیٹے مسجد میں دیکھے اور وہ سارے قرآن پڑھ رہے تھے۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← عَبَابَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21424

chevron_left Previous
1…101112…24
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter