Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر أم سليم في موت ابنها من أبي طلحة · حديث 21401

288 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : كان ل أبي طلحة ابن من أم سليم فمات فقالت لأهلها لا تحدثوا أبا طلحة بموت ابني حتى أكون أنا الذي أحدثه قال : فجاء فقربت إليه عشاءه وشرابه فأكل وشرب ثم تصنعت له أحسن ما كانت تصنع قبل ذلك فلما شبع وروى وقع بها فلما عرفت أنه قد شبع وروى وقضى حاجته منها قالت : يا أبا طلحة أرأيت لو أن أهل بيت أعاروا عاريتهم أهل بيت آخرين فطلبوا عاريتهم ألهم أن يحبسوا عاريتهم ؟ قال : لا قالت : فاحتسب ابنك قالت : فغضب ثم قال : تركتيني ثم تلطخت بما تلطخت ثم تحدثيني بموت ابني فانطلق إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ألم تر إلى أم سليم صنعت كذا وكذا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بارك الله لكما في عابر ليلتكما ) قال : فبلغت تلك الليلة فحملت قال : فهي و أبو طلحة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما دنوا من المدينة أخذها المخاض فاحتبس عليها أبو طلحة ومضى رسول الله صلى الله عيله وسلم قال : يقول أبو طلحة : يا رب أنك لتعلم أنه كان يعجبني أن أخرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا خرج وأخل معه إذا دخل فهذه احتسبت بما ترى قال : يقول أبو طلحة تقول أم سليم : يا أبا طلحة لا أجد ما كنت أجد فانطلق مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فانطلق حتى قدم مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فضربها المخاض فولدت غلاما فقالت لي أمي : يا أنس لا يطعم شيئا حتى تغدو به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فبت تلك الليلة أكالئه محنيا عليه وهو يبكي حتى أصبح فغدوت به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدت بيده ميسما فلما رأى الصبي معي قال رسول الله صلى الله عليه سولم : ( لعل أم سليم ولدت ) قلت : نعم قال : فوضع المسيم وقعد فأتيته بالصبي فوضعته في حجره فدعا بعجوة من عجوة المدينة فلاكها في فمه حتى ذابت ثم لفظها في فم الصبي فجعل يتلمظ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( انظروا إلى حب الأنصار التمر ) ثم مسح وجهه وسماه عبد الله

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضرت ابو طلحہ کا ،ام سلیم کے بطن سے ایک بیٹا تھا جو وفات پا گیا ۔حضرت ام سلیم نے اہل خانہ سے کہا کہ ابو طلحہ کو میرے بیٹے کی وفات کا کوئی نہ بتائے ،حتی ٰ کہ میں خود ان سے بات کروں گی ۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے رات کا کھانا پانی پیش کیا ،انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پی لیا۔پھر حضرت ام سلیم نے ان کے بناؤ سنگھار کیا جیسا کہ وہ کیا کرتی تھیں۔پھر جب کھانے پانی سے سیراب ہو گئے اور حضرت ام سلیم سے ہمبستر ہوئے۔حضرت ام سلیم نے جب دیکھا کہ وہ ہر قسم کے معاملات سے فارغ ہوگئے ہیں تو کہنے لگیں :اے ابو طلحہ !بھلا بتائیے کہ ایک گھر والے دوسرے گھر والوں کو کوئی چیز ادھار کے طور پر دیں اور جب وہ اپنی چیز واپس مانگیں تو دوسرے گھر والوں کیلئے مناسب ہے کہ وہ ان کی چیز کو روک لیں؟انہوں نے فرمایا :نہیں ۔حضرت ام سلیم نے کہا :اسی سے اپنے بیٹے کا حساب لگالو۔یہ سن کر وہ غصے ہو گئے اور کہا :تم نے مجھے چھوڑے رکھا ،پھر میں اس کام میں آلودہ ہوا جس میں ہوا ۔اور پھر تم مجھے میرے بیٹے کی وفات کا بتا رہی ہو۔وہ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے اورعرض کیا :یا رسول اللہ ! ام سلیم کو دیکھیے کہ اس نے اس طرح کیا ہے ۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کریم تمھارے رات کے عمل میں برکت عطا فرمائے۔لہذا حضرت ام سلیم اس رات کے عمل سے حاملہ ہوگئیں ۔ایک مرتبہ حضرت ابو طلحہ اور ام سلیم کو درد نے آلیا جس کی وجہ سے حضرت ابو طلحہ وہیں رک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے ۔حضرت ابو طلحہ نے دعا کی :اے میرے رب !تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلوں جب وہ نکلیں اور ان کے ساتھ داخل ہوں جب وہ داخل ہوں ۔لیکن اس نے مجھے محبوس کرکے رکھ دیا ہے۔حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں :ام سلیم کہنے لگیں اے ابو طلحہ مجھے وہ درد محسوس نہیں ہو رہا جو میں نے محسوس کیا تھا لہذا آپ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جائیں ۔چناچہ حضرت ابو طلحہ چلے حتی ٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آملے ۔پھر حضرت ام سلیم کو درد ہوا ور انہوں نے ایک لڑکے کو پیدا کیا ۔حضرت انس فرماتے ہیں مجھےامی نے کہا :اے یہ بچہ صبح تک کچھ نہ کھائے حتی ٰ کہ تم صبح اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جانا ۔وہ رات میں نے بچے کی نگہداشت میں گزاری اور وہ روتا رہا حتیٰ کہ صبح ہو گئی ۔میں اس کو صبح ہی صبح لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ میں داغنے کا آلہ پکڑا ہوا تھا ۔میرے ساتھ بچے کو دیکھ فرمایا :لگتا ہے ام سلیم نے بچے کو جنم دیا ہے ؟میں نے عرض کیا جی ہاں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا اور بیٹھ گئے ۔میں بچے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور ان کی گود میں رکھ دیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجور منگوائی اور اسے منہ میں چبا کر بچے کےمنہ میں ڈالا تو وہ اسے چوسنے لگا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :انصار کی کھجور سےمحبت تو دیکھو ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے چہرے کو مسح کیا اور اس کا نام عبداللہ رکھا ۔

الذي أحدثه ← لأهلها لا تحدثوا أبا طلحة بموت ابني حتى أكون ← كان ل أبي طلحة ابن من أم سليم فمات ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21401

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر أم سليم في عرق رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 21402

289 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت Y عن أنس قال : جاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال عندنا فعرق فجاءت أم سليم بقاروة فجعلت تسلت العرق فيها فاستيقظ النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( يا أم سليم ما الذي تصنعين ؟ ) قالت : هذا عرقك نجعله في طيبنا وهو أطيب الطيب

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور قیلولہ (دوپہر کا آرام )فرمایا ،ان کا پسینہ بہنے لگا تو حضرت ام سلیم نے ایک شیشی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اس میں ڈالنا شروع کردیا ۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا :اے ام سلیم تم کیا کررہی ہو؟عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا پسینہ مبارک جمع کررہی ہوں ،ہم اسے اپنی خوشبو میں استعمال کریں گے اور یہ سب سے اچھی خوشبوہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21402

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر أم سليم في عرق رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 21403

290 - حدثنا موسى بن هارون ثنا هاشم بن الحارث الحراني ثنا عبيد الله بن عمرو عن أيوب عن محمد بن سيرين Y عن أم سليم قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقيل عندي فأبسط له نطعا فيقيل عليه فيعرق فكنت أعجن السك بعرقه قال محمد بن سيرين : واستوهبت من أم سليم من ذلك السك فوهبت لي منه فلما مات محمد حنط بذلك السك وكان محمد يعجبه أن يحنط الميت بالسك

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آکر قیلولہ کیا کرتے تھے ۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے بستر بچھا دیا کرتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر آرام فرمالیتے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ بہتا تو میں اسے خوشبو میں ملا لیتی تھی ۔محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلیم سے اس خوشبو کا تحفہ مانگا تو انہوں نے مجھے عطا فرمائی ۔جب محمد بن سیرین کا وصال ہوا تو انہیں اسی خوشبو سے حنوط کیا گیا اور محمد بن سیرین اس بات کو پسند کرتے تھے کہ میت کو خوشبو لگائی جائے ۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21403

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر أم سليم في الغزو مع رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 21404

291 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال وحدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا موسى بن إسماعيل قالا ثنا حماد بن سلمة أنا ثابت البناني Y عن أنس بن مالك أم سليم كانت مع أبي لطحة الأنصاري يوم حنين ومعها خنجر فقال لها أبو طلحة : ما هذا معك يا أم سليم ؟ قالت : خنجر اتخذته أن دنا مني أحد من المشركين أبعج به بطنه فقال أبو طلحة : يا رسول الله تسمع ما تقول أم سليم ؟ تقول كذا وكذا فقلت : يا رسول الله أقبل من بعدنا من الطلقاء انهزموا بك يا رسول الله فقال : ( يا أم سليم أن الله قد كفى وأحسن )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوہ حنین میں حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل تھیں اور آپ کے پاس ایک خنجر تھا ۔حضرت ابو طلحہ نے پوچھا :یہ کیا ہے ؟کہا :یہ خنجر ہے اگر مشرکین میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی ۔حضرت ابو طلحہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے سماعت فرمایا کہ ام سلیم ایسے ایسے کہہ رہی ہے ۔حضرت ام سلیم نے عرض کیا :یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مسلمان ہونے والے ہمارے بعد آگے آئے ہیں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ جنگ میں شرکت کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ام سلیم ! اللہ کافی ہے اوربہتر عمل والا ہے۔

خنجر اتخذته ← لَهَا أَبُو طَلْحَةَ: مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ ← أنس بن مالك أم سليم كانت مع أبي لطحة الأنصاري يوم حنين ومعها خنجر ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21404

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر أم سليم لما زارها رسول الله صلى الله عليه و سلم وصلى في بيتها · حديث 21405

292 - حثدنا الحسين بن اسحاق التستري ثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي ثنا أبي يحيى بن سعد الأنصاري عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك Y أن أم سليم سألت النبي صلى الله عليه و سلم أن يصلي في بيتا ليتخذونه مصلى فأتاها إلى حصير لها أو لهم فنصحته بماء فصلى عليه وصلوا معه

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ وہ ان کے گھر میں نما ز پڑھ دیں تاکہ وہ اس جگہ کو نماز کیلئے مختص کرلیں۔چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور انکی چٹائی کی طرف آئے ،حضرت ام سلیم نے اس پر پانی چھڑکا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور اہل خانہ یا صحابہ کرام نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← أبي يحيى بن سعد الأنصاري ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← حثدنا الحسين بن اسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21405

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21406

293 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا شيبان بن فروخ ثنا محمد بن زياد البرجمي ثنا أبو ظلال Y عن أنس بن مالك عن أمه قالت : كانت لي شاة فجمعت من سمنها عكة فبعث بها مع زينب فقلت : يا زينب أبلغي هذه العكة رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتدم بها قال : فجاءت زينب إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله هذا سمن بعثته إليك أم سليم فقال : ( أفرغوا لها عكتها ) ففرغت العكة ودفعت إليها فجاءت و أم سليم ليست في البيت فعلقت العكة على وتد فجاءت أم سليم فرأت العكة ممتلئة تقطر سمنا فقالت : يا زينب أليس أمرتك أن تبلغي هذه العكة رسول الله صلى الله عيله وسلم يأتدم بها ؟ قالت : قد فعلت فإن لم تصدقيني فتعالي معي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذهبت أم سليم و زينب معها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : إني بعثت إليك معها بعكة فيها سمن فقال : ( قد جاءت بها ) فقلت : والذي بعثك بالهدى ودين الحق إنها ممتلئة سمنا تقطره فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أتعجبين يا أم سليم ؟ إن الله أطعمك )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں ،وہ فرماتی ہیں :میری ایک بکری تھی جس (کے دودھ سے )میں نے ایک مشکیزہ گھی جمع کیا او ر اسے زینب کے ہاتھ بھیجا اور کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادو تاکہ وہ اس کوبطور سالن کے استعمال کریں ۔حضرت زینب ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ گھی کا کنستر ہے جسے ام سلیم نے آپ کے لیے بھیجا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ا س کا برتن خالی کردو۔لہذا برتن خالی کرکے ام سلیم کی طرف واپس بھجوا دیاگیا ۔جب حضرت زینب برتن دینے کے لیے ان کے گھر گئیں تو ام سلیم گھر نہ تھیں ۔تو انہوں نے کنستر کو ایک کیل کے ساتھ لٹکا دیا ۔جب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا گھر واپس لوٹیں تو انہوں نے دیکھا کہ گھی کا برتن بھرا ہوا ہے اور اس سے گھی کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔انہوں نے پوچھا :اے زینب ! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ یہ کنستر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادو تاکہ وہ اس کو بطور سالن کے استعمال کریں؟کہا :جی ہاں میں نے ایسا ہی کیا تھا اگر آپ کو مجھ پر یقین نہیں آرہا تو چلیں میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چلتے ہیں ۔حضرت ام سلیم اور ان کے ساتھ زینب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ،عر ض کیا :یارسول اللہ ! میں نے اس کے ہاتھ آپ کو گھی کا کنستر بھیجا تھا ۔فرمایا :ہاں ! یہ لے آئی تھی ۔حضرت ام سلیم کہتی ہیں ،میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ،وہ تو گھی سے یوں بھرا ہوا ہے کہ اس سے قطرے ٹپک رہے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ام سلیم ! کیا تم اس بات پر تعجب کررہی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کھلا رہا ہے ۔

أُمِّهِ2، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو ظِلَالٍ ← محمد بن زياد البرجمي ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21406

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21407

294 - حدثنا محمد بن محمد بن عقبة الشيباني ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا حماد بن مسعدة عن سليمان التيمي عن أنس Y عن أم سليم أن سابقا كان يسوق بها في نسوة مع النبي صلى الله عليه و سلم يقال له أنشجة فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ( رويدك يا أنجشة كذا سوقك بالقوارير )

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک سائق (چلانے والا )انہیں پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ عورتوں میں چلا تھا ،اسے انجشہ کہتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا :آہستہ چلو اے انجشہ ! عورتوں کو اسی طرح نرمی سے چلا یا کرو۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← أَنَسٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21407

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21408

295 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى ثنا الحجاج بن فروخ التيمي الواسطي ثنا أبو عمار Y عن أنس بن مالك قالت : كنت في بعض حجر نساء النبي صلى الله عيله وسلم وهو عنده إذ جاءه رجل فشكا إليه الحاجة فقال : ( اصبر فولالله ما في آل محمد شسيء منذ سبع ولا أوقد نحت برمة لهم منذ ثلاثة والله لو سألت الله أن يجعل جبال تهامة كلها ذهبا تفعل )

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی کے پاس تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاجت پیش کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :صبر کرو،اللہ کی قسم سات دن سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی شے نہیں اور تین دن سے ان کا چولہا نہیں جلا ۔اللہ کی قسم ! اگر میں اللہ سے عرض کروں کہ تہامہ کے پہاڑ سونے کے ہوجائیں تو وہ واقعی سونے کے بن جائیں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو عَمَّارٍ، ← الحجاج بن فروخ التيمي الواسطي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21408

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21409

296 - حدثنا علي بن بن عبد العزيز حدثني حرمي بن حفص القسملي و محمد بن أبي نعيم الواسطي ثنا وهيب بن أيوب عن أبي قلابة عن أنس Y عن أم سليم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي على الخمرة

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے پتوں سے بنی ہوئ کھردری چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← وهيب بن أيوب ← حرمي بن حفص القسملي و محمد بن أبي نعيم الواسطي ← علي بن بن عبد العزيز

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21409

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21410

297 - حدثنا زكريا بن حمدويه الصفار ثنا عفان ثنا وهيب عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس Y عن أم سليم أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يأتيها فيقيل عندها فتبسط له نطعا فيقيل عليه وكان كثير العرق فكانت تجمع عرقه فتجعله في الطيب والقوارير فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ما هذا ؟ ) قالت : عرقك نجعله في الطيب وكان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي على الخمرة

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لے آیا کرتے اور دوپہر کو آرام فرماتے ۔آپ ان کے لیے بستر بچھا دیتیں اور وہ اس پر قیلولہ فرماتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ بہت بہتا تھا اور وہ ان کا پسینہ جمع کرتیں اور خوشبو میں اور شیشی میں اکھٹا کرلیتیں ۔ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہ کیا کررہی ہو ؟عرض کیا :یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کا پیسنہ خوشبو میں استعمال کرتے ہیں ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھردری چٹائی پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← زكريا بن حمدويه الصفار

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21410

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21411

298 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر أبي شيبة ثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أ نس بن سيرين عن أنس بن مالك Y عن أم سليم أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي في بيتها على الخمرة

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کھردری چٹائی پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أ نس بن سيرين ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← أبو بكر أبي شيبة ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21411

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ما أسندت أم سليم · حديث 21412

299 - حدثنا أبو زيد يوسف بن يزيد القراطيسي ثنا العباس بن طالب ثنا عبد الوارث بن سعيد عن أبي التياح عن أنس بن مالك Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي على الخمرة

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھردری چٹائی پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ ← أبو زيد يوسف بن يزيد القراطيسي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21412

chevron_left Previous
1…91011…24
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter