المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ خبر أم سليم في موت ابنها من أبي طلحة · حديث 21401
288 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : كان ل أبي طلحة ابن من أم سليم فمات فقالت لأهلها لا تحدثوا أبا طلحة بموت ابني حتى أكون أنا الذي أحدثه قال : فجاء فقربت إليه عشاءه وشرابه فأكل وشرب ثم تصنعت له أحسن ما كانت تصنع قبل ذلك فلما شبع وروى وقع بها فلما عرفت أنه قد شبع وروى وقضى حاجته منها قالت : يا أبا طلحة أرأيت لو أن أهل بيت أعاروا عاريتهم أهل بيت آخرين فطلبوا عاريتهم ألهم أن يحبسوا عاريتهم ؟ قال : لا قالت : فاحتسب ابنك قالت : فغضب ثم قال : تركتيني ثم تلطخت بما تلطخت ثم تحدثيني بموت ابني فانطلق إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ألم تر إلى أم سليم صنعت كذا وكذا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بارك الله لكما في عابر ليلتكما ) قال : فبلغت تلك الليلة فحملت قال : فهي و أبو طلحة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما دنوا من المدينة أخذها المخاض فاحتبس عليها أبو طلحة ومضى رسول الله صلى الله عيله وسلم قال : يقول أبو طلحة : يا رب أنك لتعلم أنه كان يعجبني أن أخرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا خرج وأخل معه إذا دخل فهذه احتسبت بما ترى قال : يقول أبو طلحة تقول أم سليم : يا أبا طلحة لا أجد ما كنت أجد فانطلق مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فانطلق حتى قدم مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فضربها المخاض فولدت غلاما فقالت لي أمي : يا أنس لا يطعم شيئا حتى تغدو به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فبت تلك الليلة أكالئه محنيا عليه وهو يبكي حتى أصبح فغدوت به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدت بيده ميسما فلما رأى الصبي معي قال رسول الله صلى الله عليه سولم : ( لعل أم سليم ولدت ) قلت : نعم قال : فوضع المسيم وقعد فأتيته بالصبي فوضعته في حجره فدعا بعجوة من عجوة المدينة فلاكها في فمه حتى ذابت ثم لفظها في فم الصبي فجعل يتلمظ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( انظروا إلى حب الأنصار التمر ) ثم مسح وجهه وسماه عبد الله
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضرت ابو طلحہ کا ،ام سلیم کے بطن سے ایک بیٹا تھا جو وفات پا گیا ۔حضرت ام سلیم نے اہل خانہ سے کہا کہ ابو طلحہ کو میرے بیٹے کی وفات کا کوئی نہ بتائے ،حتی ٰ کہ میں خود ان سے بات کروں گی ۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے رات کا کھانا پانی پیش کیا ،انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پی لیا۔پھر حضرت ام سلیم نے ان کے بناؤ سنگھار کیا جیسا کہ وہ کیا کرتی تھیں۔پھر جب کھانے پانی سے سیراب ہو گئے اور حضرت ام سلیم سے ہمبستر ہوئے۔حضرت ام سلیم نے جب دیکھا کہ وہ ہر قسم کے معاملات سے فارغ ہوگئے ہیں تو کہنے لگیں :اے ابو طلحہ !بھلا بتائیے کہ ایک گھر والے دوسرے گھر والوں کو کوئی چیز ادھار کے طور پر دیں اور جب وہ اپنی چیز واپس مانگیں تو دوسرے گھر والوں کیلئے مناسب ہے کہ وہ ان کی چیز کو روک لیں؟انہوں نے فرمایا :نہیں ۔حضرت ام سلیم نے کہا :اسی سے اپنے بیٹے کا حساب لگالو۔یہ سن کر وہ غصے ہو گئے اور کہا :تم نے مجھے چھوڑے رکھا ،پھر میں اس کام میں آلودہ ہوا جس میں ہوا ۔اور پھر تم مجھے میرے بیٹے کی وفات کا بتا رہی ہو۔وہ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے اورعرض کیا :یا رسول اللہ ! ام سلیم کو دیکھیے کہ اس نے اس طرح کیا ہے ۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کریم تمھارے رات کے عمل میں برکت عطا فرمائے۔لہذا حضرت ام سلیم اس رات کے عمل سے حاملہ ہوگئیں ۔ایک مرتبہ حضرت ابو طلحہ اور ام سلیم کو درد نے آلیا جس کی وجہ سے حضرت ابو طلحہ وہیں رک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے ۔حضرت ابو طلحہ نے دعا کی :اے میرے رب !تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلوں جب وہ نکلیں اور ان کے ساتھ داخل ہوں جب وہ داخل ہوں ۔لیکن اس نے مجھے محبوس کرکے رکھ دیا ہے۔حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں :ام سلیم کہنے لگیں اے ابو طلحہ مجھے وہ درد محسوس نہیں ہو رہا جو میں نے محسوس کیا تھا لہذا آپ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جائیں ۔چناچہ حضرت ابو طلحہ چلے حتی ٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آملے ۔پھر حضرت ام سلیم کو درد ہوا ور انہوں نے ایک لڑکے کو پیدا کیا ۔حضرت انس فرماتے ہیں مجھےامی نے کہا :اے یہ بچہ صبح تک کچھ نہ کھائے حتی ٰ کہ تم صبح اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جانا ۔وہ رات میں نے بچے کی نگہداشت میں گزاری اور وہ روتا رہا حتیٰ کہ صبح ہو گئی ۔میں اس کو صبح ہی صبح لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ میں داغنے کا آلہ پکڑا ہوا تھا ۔میرے ساتھ بچے کو دیکھ فرمایا :لگتا ہے ام سلیم نے بچے کو جنم دیا ہے ؟میں نے عرض کیا جی ہاں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا اور بیٹھ گئے ۔میں بچے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور ان کی گود میں رکھ دیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجور منگوائی اور اسے منہ میں چبا کر بچے کےمنہ میں ڈالا تو وہ اسے چوسنے لگا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :انصار کی کھجور سےمحبت تو دیکھو ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے چہرے کو مسح کیا اور اس کا نام عبداللہ رکھا ۔
الذي أحدثه ← لأهلها لا تحدثوا أبا طلحة بموت ابني حتى أكون ← كان ل أبي طلحة ابن من أم سليم فمات ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21401
