Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21282

170 - حدثنا محمد بن السري بن مهران الناقد ثنا أبو السكين زكريا بن يحيى الطائي حدثني عم أبي زحر بن حصن Y عن جده حميد بن منهب الطائي قال : كانت هند بنت عتبة عند الفاكه بن المغيرة المخزومي وكان الفاكه من فتيان قريش وكان له بيت للضيافة يغشاه الناس من غير إذن فخلا ذلك البيت يوما واضطجع الفاكه و هند فيه وقت القائلة ثم خرج الفاكه في بعض حاجاته فأقبل رجل ممن كان يغشاه فولج البيت فلما راى المرأة ولى هاربا فأبصره الفاكه وهو خارج من البيت فأقبل إلى هند فضربها برجله وقال لها : من هذا الذي كان عندك ؟ قالت : ما كان عندي أحد وما انتبهت حتى انبهتني قال : الحقي بأهلك وتكلم فيها الناس فقال لها أبوها يا بنية أن الناس قد أكثروا فيك فنبئيني نبأك فإن يكن الرجل عليك صادقا دسست إليه من يقتله فتنقطع عنك القالة وإن كان كاذبا حاكمته إلى بعض كهان اليمن فحلفت له بما كانوا يحلفون به إنه لكاذب عليها فقال لل فاكه : يا هذا إنك قد رميت ابنتي بأمر عظيم فحاكمني إلى بعض كهان اليمن فخرج عتبة في جماعة من بني عبد مناف وخرج الفاكه في جماعة من بني مخزوم وخرجت معهم هند ونسوة معها فلما شارفوا البلاد وقالوا نرد على الكاهن تنكر حال هند وتغير وجهها فقال لها أبوها : إني قد أرى ما بك من تكر الحال وما ذاك إلا لمكروه عندك أفلا كان هذا من قبل أن يشهد الناس مسيرنا ؟ فقالت : لا والله يا أبتاه ما ذاك لمكروه ولكني أعرف أنكم تأتون بشرا يخطيء ويصيب ولا آمن أن يسمني بسمة تكون على سبة في اعرب فقال : إني أختبره قبل أن ينظر في أمرك فصفر بفرسه حتى أدلى ثم أخذ حبة من بر فأدخلها في احليله وأوكأ عليها بسير فلما صبحوا أكرمهم ونحر لهم فلما قعدوا قال له عتبة : إنا قد جئناك في أمر وأني قد اختبا لك خبأ أختبرك به فانظر ما هو ؟ قال : نمرة في كمرة قال : أريد أبين من هذا قال : حبة من بر في احليل مهر قال : صدقت أنظر في أمر هؤلاء النسوة فجعل يدعو من إحداهن فيضرب كتفها ويقول : انهضي حتى دنا من هند فضرب كتفها وقال : قومي غير وحشاء ولا زانية ولتلدن غلاما يقال له معاوية : فنهض لها الفاكه فأخذ بيدها فنترت يدها من يده وقالت : إليك فوالله لأحرصن على أن يكون ذلك من غيرك فتزوجها أبو سفيان فجاءت ب معاوية

حضرت حمید بن منھب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہند بن عتبہ پہلے فاکہ بن مغیرہ کے نکاح میں تھی ، فاکہہ قریش کے جوانوں میں سے تھا اور اس کا ایک مکان تھا جہاں ضیافتیں ہوتی رہتی رتھیں اور لو گ بغیر اجازت کے بھی وہاں گھس آیا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ مکان خالی تھا اور فاکہہ اور ہندوہاں قیلولہ کر رہے تھے، فاکہہ کسی کام سے باہر چلا گیا اور ہند و ہیں سوئی ہوئی تھی ، ایک آدمی جو بلااجازت آجانے والوں میں سے تھا ، گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر آگیا ، لیکن جب اس نے عورت کو سوتے ہوئے دیکھا تو واپس بھاگا ، جب وہ گھر سے نکل رہا تھا تو فاکہہ نے اسے دیکھ لیا۔ وہ ہند کے پاس آیا اور پاؤں سے ٹھوکر مار کر اسے جگا یا اور کہا: یہ کون تھا جو تمہارے پاس سے بھاگا ہے۔ اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی بھی نہ تھا اور یہی سوئی ہوئی تھی ، تم نے آکر بیدار کیا ہے ۔ فاکہہ نےکہا: تم انے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔ لوگوں نےہند کے بارےمیں چہ میگوئیاں شروع کر دیں ، اس کے باپ نےکہا: اے میری بچی! لوگوں نے تمہارے بارے میں بہت زیادہ باتیں کرنی شروع کردی ہیں ، تُو مجھے اپنی اصل بتا دے ، اگر یہ آدمی سچا ہے تو میں خاموشی سے اسے قتل کر اد یتا ہوں تاکہ تمہارے بارےمیں باتیں ختم ہو جائیں اور اگر وہ جھوٹا ہے تو میں یمن کے کاہنوں سے فیصلہ کرواؤں گا۔ ہند نے حلف اُٹھایا جیسے لوگ حلف اُٹھاتے تھے اور کہا کہ یہ شخص اس حوالے سے جھوٹا ہے۔ اس کے باپ نے فاکہہ سے کہا: تُو نےمیری بیٹی پر بڑا سنگین الزام لگایا ہے ، لہٰذا ایک یمنی کا ہن سے فیصلہ کروانے کےلیے تیار ہو جا ۔ پھر عتبہ ، بنو عبد بن مناف کی جماعت میں اور فاکہہ ،بنی مخزوم کے گروہ کےساتھ نکلا اور ہند چند عورتوں کے ساتھ نکلا اور ہند چند عورتوں کے ساتھ نکلی ، جب وہ لوگ شہر میں پہنچے تو کہنے لگے کہ ہند کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں جیسے ہی ہم کاہن کے پاس پہنچنے والے ہیں، اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ہے ۔ یہ صورت حال دیکھ کر اس کے والد نے اس سے کہا: میں تمہاری حالت کا بگاڑ دیکھ رہاہوں اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب کسی میں بُرائی ہوتی ہے، اس سے پہلے کہ لوگ ہمارے سفر سے آگاہ ہو جائیں ، مجھے صاف بات بتادے ۔ ہند نے کہا: اباجان! اللہ کی قسم ! ایسی بات نہیں ہے ۔ دراصل تم لوگ ایک انسان ہی کے پاس جا رہے ہو اور انسان کبھی خطاء کرتا ہے اور کبھی درست بات بھی کر لیتا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے کوئی ایساعیب نہ لگا دے جو عرب میں میری ذات پر گالی تصور کی جانے لگے ۔ اس کے باپ نےکہا: تمہارے معاملے پر بات کرنے سے پہلے میں اس کا ہن کا امتحان لو گا ۔ لہٰذا اس نے اپنے گھوڑے کو خالی کیا اور اس کے پیشاب کے سوراخ میں گندم کا دانہ ڈال کر بند کردیا ۔ جب صبح ہوئی تو کاہن نے ان سب کی مہمان نوازی کی اور ان کے لیے قربانی نہیں کی، جب سب لوگ بیٹھ گئے تو عتبہ نے کہا: ہم آپ کے پاس بڑے اہم مسئلے میں حاضر ہوئے ہیں ، میں نے آپ کے امتحان کے طور پر کچھ چھپا رکھا ہے ، آپ بتائیں کہ وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا: میں اس کو بیان کر دیتا ہوں کہ وہ گندم کا ایک دانہ ہے جسے گھوڑے کے پیشاب کےسوراخ میں چھپایا گیا ہے۔ اس نےکہا: تم نے سچ کہا ہے، اب ان عورتوں کے احوال بتایئے ! کاہن اُٹھا اور ایک ایک عورت کے پاس آیا اور اسے بٹھا تا رہاحتیٰ کہ وہ ہند کے پاس آیا اور اس کے کند ھے پر ضرب لگا کر بولا : کھڑی ہو جا ! تُو فاحشہ اور زانیہ نہیں ہے ، تُو ایک لڑکے کو جنم دے گی جس کو معاویہ کہا جائے گا۔ یہ سن کر فاکہہ اس کی طرف لپکا اور اس کا (یعنی ہند کا ) ہاتھ پکڑ لیا لیکن اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کہا: اپنی حد میں رہو! اللہ کی قسم ! میں چاہتی ہوں کہ وہ لڑکا تمہارے سوا کسی اور سے پیدا ہو۔ اس کے بعد حضرت ابو سفیان نے اس سے شادی کی اور حضرت معاویہ پیدا ہوئے۔

جده حميد بن منهب الطائي ← عَمُّ أَبِي زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ، ← أبو السكين زكريا بن يحيى الطائي، ← مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21282

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21283

171 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عروة Y عن عائشة قالت : جاءت هند إلى النبي صلى اله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله والله ما كان على ظهر الأرض أهل خباء أحب من أن يذلهم الله من أهل خبائك وما على وجه الأرض اليوم أهل خباء أحب إلى أن يعزهم الله من أهل خبائك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( وأيضا والذي نفسي بيده قال معمر : يعني ليزدادن ثم قالت : يا رسول الله أن أبا سفيان رجل ممسك فهل علي جناح أن أمسك على عياله من ماله بغير أذنه ؟ قال النبي صلى الله عليه و سلم : ( لا حرج عليك أن تنفقي عليهم بالمعروف )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یار سول اللہ ! اللہ کی قسم ! روئے زمین پر آپ کے گھر والوں سے سے بڑھ کر کوئی ایسانہ تھا جس کے بارے میں میری خواہش ہو کہ اللہ اسے ذلیل کردے اور اب یہ حال ہے کہ آپ کے گھر والوں سے بڑھ کر روئے زمین پرکوئی ایسا نہیں جس کے بارے میں میری خواہش ہو کہ اللہ اسے عزت عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے بقضہ قدرت میں میری جان ہے ! ایسے ہی ہے ۔ پھر اس نے عرض کیا: یار سول اللہ ! بے شک ابو سفیان پیسے روک کررکھنے والے انسان ہیں ،اگر میں ان کی اجازت کے بغیر ان کے مال سے اپنے بچوں کے لیے کچھ پیسے لے لیا کرو ں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بقدر ضرورت ان پر خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی ، اس نے عرض کی: ابو سفیان کنجوس آدمی ہے ، وہ مجھے مال نہیں دیتا ہے اور میرے بچوں کو بھی نہیں دیتا مگر جو میں خود سے لے لوں ، تو کیا میں اس کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر لوں تو میرے لیے گناہ تو نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا تجھے کفایت کرے تو اپنے لیے اور بچوں کے لیے اچھے طریقے سے لے ۔

جاءت هند إلى النبي صلى اله عليه وسلم فقالت ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21283

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21284

172 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن ابن جريج أخبرني هشام بن عروة عن أبيه أنه حدثه عن عائشة Y أن هندا أم معاوية جاءت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : أنا أبا سفيان جاءت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : أنا أبا سفيان رجل شحيح وإنه لا يعطيني وولدي إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم فهل علي في ذلك شيء ؟ قال : ( خذي ما يكفيك وبنيك بالمعروف )

NOT FOUND

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21284

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21285

172 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y قالت هند أم معاوية : يا رسول الله الله إن أبا سفيان رجل شحيح فهل علي جناح أن آخذ من ماله سرا ؟ قال : ( خذي أنت وبنيك ما يكفيك بالمعروف )

حضرت امیر معاویہ کی والدہ حضرت ہند نے عرض کی: یار سول اللہ ! ابوسفیان کنجوس آدمی ہے ، کیا میرے ذمہ کوئی گناہ تو نہیں اگر میں اس کے مال سے چھپا کر کچھ لے لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تُو اپنےلیے اور اپنے بچوں کے لیے جتنا کفایت کرے ، اچھے طریقے سے لے۔

هِنْدُ أُمُّ مُعَاوِيَةَ: ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21285

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21286

173 - حدثنا محمد بن معاذ الحلبي ثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي حدثني أبي عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن عائشة قالت : جاءت هند أم معاوية إلى رسولالله صلى الله عليه و سلم فقالت : أنا أبا سفيان رجل شحيح ولا يعطيني ما يكفيني وولدي إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم فهل علي في ذلك حرج ؟ فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم ( خذي ما يكفيك وبنيك بالمعروف )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کی والدہ حضرت ھند ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی: یار سول اللہ ! ابو سفیان کنجوس آدمی ہے ، وہ مجھے کوئی مال نہیں دیتا اور نہ میرے بچوں کو مگر یہ کہ میں اس کی لاعلمی میں کچھ لے لوں ، تو کیا مجھے اس پر گناہ ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تُو اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے جتنا کفایت کر ے اچھے طریقے سے لے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21286

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21287

174 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أبي عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة Y أن هندا أم معاوية جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إن أبا سفيان رجل شحيح وإنه لا يعطي ولدي إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم فهل علي في ذلك شيء ؟ فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم : ( خذي ما يكفيك وبنيك بالمعروف )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کی والدہ حضرت ھند ، حضور کی بار گاہ میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی: یار سول اللہ ! ابو سفیان کنجوس آدمی ہے، وہ مجھے کوئی مال نہیں دیتا اور نہ میرے بچوں کو مگر یہ کہ میں اس کی لاعلمی میں کچھ لے لوں ، تو کیا مجھے اس پر گناہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تُو اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے جتنا کفایت کرے اچھے طریقے سے لے ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21287

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21288

175 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا محمد بن أبي عمر العدني ثنا وكيع بن الجراح عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن عائشة قالت : جاءت هند إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : أنا أبا سفيان رجل شحيح ولا يعطيني وولدي ما يكفيني إلا ما أخذت من ماله وهو لا يعلم فقال : ( خذي لك ولولدك ما يكفيك بالمعروف )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کی والدہ حضرت ھند ، حضور کی بار گاہ میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی: یار سول اللہ ! ابو سفیان کنجوس آدمی ہے، وہ مجھے کوئی مال نہیں دیتا اور نہ میرے بچوں کو مگر یہ کہ میں اس کی لاعلمی میں کچھ لے لوں ، تو کیا مجھے اس پر گناہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تُو اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے جتنا کفایت کرے اچھے طریقے سے لے ۔

جاءت هند إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21288

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21289

176 - حدثنا أحمد بن الفضل العسكري ثنا سعيد بن حفص النفيلي ثنا يونس بن راشد عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن عائشة أن هندا أم معاوية جاءت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله أن أبا سفيان رجل شحيح وإنه لا يعطيني وولدي إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم فهل علي في ذلك من شيء ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( خذي ما يكفيك وبنيك بالمعروف )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کی والدہ حضرت ھند ، حضور کی بار گاہ میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی: یار سول اللہ ! ابو سفیان کنجوس آدمی ہے، وہ مجھے کوئی مال نہیں دیتا اور نہ میرے بچوں کو مگر یہ کہ میں اس کی لاعلمی میں کچھ لے لوں ، تو کیا مجھے اس پر گناہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تُو اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے جتنا کفایت کرے اچھے طریقے سے لے ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ ← سَعِیْدُ بْنُ حَفصٍ النُّفَیْلِیُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْكَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21289

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21290

177 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسن بن حماد الضبي ثنا يحيى بن يمان عن معمر عن الزهري عن عروة بن الزبير Y عن هند قالت : قلت : يا رسول الله أن أبا سفيان رجل ممسك أفنطعم عبيدنا من ماله ؟ قا ل : ( نعم )

حضرت ھند فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یار سول اللہ ! ابو سفیان کنجوس آدمی ہے ، کیامیں اس کے مال سے اپنے غلاموں کے لیے مال لے سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔

قُلْتُ ← هِنْدٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الضَّبِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21290

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هجيمة أم الدرداء ويقال اسمها خيرة وقد كتبناه في باب الخاء · حديث 21291

178 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني ثنا شريك عن خلف بن حوشب عن ميمون بن مهران Y عن أم الدرداء قال : قيل لها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا ؟ قالت : نعم سمعته يقول : ( أول ما يوضع في الميزان الخلق الحسن )

حضرت میمون بن مہران بیان کرتے ہیں کہ حضرت اُم الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا : کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے ؟ آپ نے کہا:ہاں!میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا : میزان میں سب سے زیادہ بھاری شے جو ہوگی وہ اچھے اخلاق ہوں گے ۔

أَوَّلُ مَا يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ. ← نَعَمْ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا ← قيل لها ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21291

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هجيمة أم الدرداء ويقال اسمها خيرة وقد كتبناه في باب الخاء · حديث 21292

179 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا سويد بن سعيد ثنا رشدين بن سعد عن زبان بن فائد عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه قال Y سمعت أم الدرداء تقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( والذي نفسي بيده ما من امراة تضع ثيابها في غير بيت زوجها أو أمهاتها إلا وهي هاتكة كل ستر بينها وبين الرحمن عز و جل )

حضرت سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، اُنہوں نے کہا کہ میں نے حضرت اُم الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! جس عورت نے اپنے شوہر اور ماں باپ کے گھر کے علاوہ کسی جگہ کپڑے اتارے تو اس نے اپنے اور رحمٰن کے درمیان حائل پردے کوضائع کر دیا ۔

أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ: ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← رشدين بن سعد ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21292

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter