المعجم الکبیر للطبرانی · باب الهاء ‹ هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها · حديث 21282
170 - حدثنا محمد بن السري بن مهران الناقد ثنا أبو السكين زكريا بن يحيى الطائي حدثني عم أبي زحر بن حصن Y عن جده حميد بن منهب الطائي قال : كانت هند بنت عتبة عند الفاكه بن المغيرة المخزومي وكان الفاكه من فتيان قريش وكان له بيت للضيافة يغشاه الناس من غير إذن فخلا ذلك البيت يوما واضطجع الفاكه و هند فيه وقت القائلة ثم خرج الفاكه في بعض حاجاته فأقبل رجل ممن كان يغشاه فولج البيت فلما راى المرأة ولى هاربا فأبصره الفاكه وهو خارج من البيت فأقبل إلى هند فضربها برجله وقال لها : من هذا الذي كان عندك ؟ قالت : ما كان عندي أحد وما انتبهت حتى انبهتني قال : الحقي بأهلك وتكلم فيها الناس فقال لها أبوها يا بنية أن الناس قد أكثروا فيك فنبئيني نبأك فإن يكن الرجل عليك صادقا دسست إليه من يقتله فتنقطع عنك القالة وإن كان كاذبا حاكمته إلى بعض كهان اليمن فحلفت له بما كانوا يحلفون به إنه لكاذب عليها فقال لل فاكه : يا هذا إنك قد رميت ابنتي بأمر عظيم فحاكمني إلى بعض كهان اليمن فخرج عتبة في جماعة من بني عبد مناف وخرج الفاكه في جماعة من بني مخزوم وخرجت معهم هند ونسوة معها فلما شارفوا البلاد وقالوا نرد على الكاهن تنكر حال هند وتغير وجهها فقال لها أبوها : إني قد أرى ما بك من تكر الحال وما ذاك إلا لمكروه عندك أفلا كان هذا من قبل أن يشهد الناس مسيرنا ؟ فقالت : لا والله يا أبتاه ما ذاك لمكروه ولكني أعرف أنكم تأتون بشرا يخطيء ويصيب ولا آمن أن يسمني بسمة تكون على سبة في اعرب فقال : إني أختبره قبل أن ينظر في أمرك فصفر بفرسه حتى أدلى ثم أخذ حبة من بر فأدخلها في احليله وأوكأ عليها بسير فلما صبحوا أكرمهم ونحر لهم فلما قعدوا قال له عتبة : إنا قد جئناك في أمر وأني قد اختبا لك خبأ أختبرك به فانظر ما هو ؟ قال : نمرة في كمرة قال : أريد أبين من هذا قال : حبة من بر في احليل مهر قال : صدقت أنظر في أمر هؤلاء النسوة فجعل يدعو من إحداهن فيضرب كتفها ويقول : انهضي حتى دنا من هند فضرب كتفها وقال : قومي غير وحشاء ولا زانية ولتلدن غلاما يقال له معاوية : فنهض لها الفاكه فأخذ بيدها فنترت يدها من يده وقالت : إليك فوالله لأحرصن على أن يكون ذلك من غيرك فتزوجها أبو سفيان فجاءت ب معاوية
حضرت حمید بن منھب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہند بن عتبہ پہلے فاکہ بن مغیرہ کے نکاح میں تھی ، فاکہہ قریش کے جوانوں میں سے تھا اور اس کا ایک مکان تھا جہاں ضیافتیں ہوتی رہتی رتھیں اور لو گ بغیر اجازت کے بھی وہاں گھس آیا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ مکان خالی تھا اور فاکہہ اور ہندوہاں قیلولہ کر رہے تھے، فاکہہ کسی کام سے باہر چلا گیا اور ہند و ہیں سوئی ہوئی تھی ، ایک آدمی جو بلااجازت آجانے والوں میں سے تھا ، گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر آگیا ، لیکن جب اس نے عورت کو سوتے ہوئے دیکھا تو واپس بھاگا ، جب وہ گھر سے نکل رہا تھا تو فاکہہ نے اسے دیکھ لیا۔ وہ ہند کے پاس آیا اور پاؤں سے ٹھوکر مار کر اسے جگا یا اور کہا: یہ کون تھا جو تمہارے پاس سے بھاگا ہے۔ اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی بھی نہ تھا اور یہی سوئی ہوئی تھی ، تم نے آکر بیدار کیا ہے ۔ فاکہہ نےکہا: تم انے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔ لوگوں نےہند کے بارےمیں چہ میگوئیاں شروع کر دیں ، اس کے باپ نےکہا: اے میری بچی! لوگوں نے تمہارے بارے میں بہت زیادہ باتیں کرنی شروع کردی ہیں ، تُو مجھے اپنی اصل بتا دے ، اگر یہ آدمی سچا ہے تو میں خاموشی سے اسے قتل کر اد یتا ہوں تاکہ تمہارے بارےمیں باتیں ختم ہو جائیں اور اگر وہ جھوٹا ہے تو میں یمن کے کاہنوں سے فیصلہ کرواؤں گا۔ ہند نے حلف اُٹھایا جیسے لوگ حلف اُٹھاتے تھے اور کہا کہ یہ شخص اس حوالے سے جھوٹا ہے۔ اس کے باپ نے فاکہہ سے کہا: تُو نےمیری بیٹی پر بڑا سنگین الزام لگایا ہے ، لہٰذا ایک یمنی کا ہن سے فیصلہ کروانے کےلیے تیار ہو جا ۔ پھر عتبہ ، بنو عبد بن مناف کی جماعت میں اور فاکہہ ،بنی مخزوم کے گروہ کےساتھ نکلا اور ہند چند عورتوں کے ساتھ نکلا اور ہند چند عورتوں کے ساتھ نکلی ، جب وہ لوگ شہر میں پہنچے تو کہنے لگے کہ ہند کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں جیسے ہی ہم کاہن کے پاس پہنچنے والے ہیں، اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ہے ۔ یہ صورت حال دیکھ کر اس کے والد نے اس سے کہا: میں تمہاری حالت کا بگاڑ دیکھ رہاہوں اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب کسی میں بُرائی ہوتی ہے، اس سے پہلے کہ لوگ ہمارے سفر سے آگاہ ہو جائیں ، مجھے صاف بات بتادے ۔ ہند نے کہا: اباجان! اللہ کی قسم ! ایسی بات نہیں ہے ۔ دراصل تم لوگ ایک انسان ہی کے پاس جا رہے ہو اور انسان کبھی خطاء کرتا ہے اور کبھی درست بات بھی کر لیتا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے کوئی ایساعیب نہ لگا دے جو عرب میں میری ذات پر گالی تصور کی جانے لگے ۔ اس کے باپ نےکہا: تمہارے معاملے پر بات کرنے سے پہلے میں اس کا ہن کا امتحان لو گا ۔ لہٰذا اس نے اپنے گھوڑے کو خالی کیا اور اس کے پیشاب کے سوراخ میں گندم کا دانہ ڈال کر بند کردیا ۔ جب صبح ہوئی تو کاہن نے ان سب کی مہمان نوازی کی اور ان کے لیے قربانی نہیں کی، جب سب لوگ بیٹھ گئے تو عتبہ نے کہا: ہم آپ کے پاس بڑے اہم مسئلے میں حاضر ہوئے ہیں ، میں نے آپ کے امتحان کے طور پر کچھ چھپا رکھا ہے ، آپ بتائیں کہ وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا: میں اس کو بیان کر دیتا ہوں کہ وہ گندم کا ایک دانہ ہے جسے گھوڑے کے پیشاب کےسوراخ میں چھپایا گیا ہے۔ اس نےکہا: تم نے سچ کہا ہے، اب ان عورتوں کے احوال بتایئے ! کاہن اُٹھا اور ایک ایک عورت کے پاس آیا اور اسے بٹھا تا رہاحتیٰ کہ وہ ہند کے پاس آیا اور اس کے کند ھے پر ضرب لگا کر بولا : کھڑی ہو جا ! تُو فاحشہ اور زانیہ نہیں ہے ، تُو ایک لڑکے کو جنم دے گی جس کو معاویہ کہا جائے گا۔ یہ سن کر فاکہہ اس کی طرف لپکا اور اس کا (یعنی ہند کا ) ہاتھ پکڑ لیا لیکن اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کہا: اپنی حد میں رہو! اللہ کی قسم ! میں چاہتی ہوں کہ وہ لڑکا تمہارے سوا کسی اور سے پیدا ہو۔ اس کے بعد حضرت ابو سفیان نے اس سے شادی کی اور حضرت معاویہ پیدا ہوئے۔
جده حميد بن منهب الطائي ← عَمُّ أَبِي زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ، ← أبو السكين زكريا بن يحيى الطائي، ← مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21282
