Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيلة بن مخرمة العنبرية · حديث 21113

1 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا حفص بن عمر أبو عمر الضرير الحوضي وحدثنا معاذ بن المثنى والمفضل بن الحباب أبو خليفة قالا ثنا عبد الله بن سوار بن قدامة بن عنزة العنبري وحدثنا يعقوب بن إسحاق المخرمي ثنا عفان بن مسلم وحدثنا محمد بن زكريا الغلابي ثنا عبد الله بن رجاء العداني وحدثنا محمد بن هشام بن أبي الدميك المستملي ثنا عبيد الله بن محمد بن عائشة التيمي قالوا ثنا عبد الله بن حسان العنبري أبو الجنيد أخو بني كعب العنبري حدثتني جدتاي صفية و دحيبة ابنتا عليبة وكانتا ربيبتي قيلة Y أن قيلة بنت مخرمة حدثتهما أنها كانت تحت حبيب بن الزهر أخي بني جناب فولدت له النساء ثم توفي فانتزع بناتها منها أثوب [ ثوب ] بن زهر عمهن فخرجت تبتغي الصحابة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في أول الإسلام فبكت جويرية منهن حديباء قد كنت أخذتها الغرصة وهي أصغرهن عليها سبيج لها من صوف فرحمتها فاحتملتها معها فبينما هما ترتكان الجمل إذ انتفجت الأرنب فقالت الحديباء القصية لا والله لايزال كعبك أعلى من كعبك أثوب في هذا الحديث أبدا ثم [ لما ] سنح الثعلب فسمته أسما غير الثعلب نسميه عبد الله بن حسان ثم قالت [ فيه ] ما قالت في الأرنب فبينما هما ترتكان إذ برك الجمل وأخذته رعدة فقالت الحديباء : القصية أدركتك والله أحدة أثوب فقلت واضطررت إليها ويحك ما أصنع ؟ قالت : قلبي ثيابك ظهورها لبطونها وتدحرجي ظهرك لبطنك وقلبي أحلاس جملك : ثم خلعت سبيجها فقلبته وتدحرجت ظهرها لبطنها فلما فعلت ما أمرتني انتفض الجمل ثم قام بتفاج وبال فقالت الحديباء : أعيدي عليك أذاتك ففعلت ما أمرتني به فأعدتها ثم خرجتا ترتك فإذا أثوب على أثرنا بالسيف مصلتا فوألنا إلى حواء ضخم فداراه حتى ألقى الجمل إلى رواق البيت الأوسط جمل ذلول فاقتحمت داخله بالجارية فأدركني بالسيف فأصاب ظبته طائفة من قرون رأسي وقال : ألقي إلي بنت أخي يا دفار فرميت بها إليه فجعلها على منكبه فذهب بها وكنت أعلم به من أهل البيت ومضيت إلى أخت لي ناكح في بني شيبان ابتغى الصحابة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أول الإسلام فبينما أنا عندها ذات ليلة من الليالي تحسب عيني نائمة جاء زوجها من السامر فقال : وأبيك لقد وجدت ل قيلة صاحبا صاحب صدق فقالت أختي من هو ؟ قالت : حريث بن حسان الشيباني عاد وافد بكر بن وائل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ذا صباح فقالت أختي الويل لي لا تسمع بهذا أختي فتخرج مع أخي بكر بن وائل بين سمع الأرض وبصرها ليس معها من قومها رجل فقال : لا تذكريه لها فإني غير ذاكرة لها فسمعت ما قالا : فغدوت فشددت على جملي فوجدته غير بعيد فسألته الصحبة فقال : نعم وكرامة وركابه مناخة عندي فخرجت معه صاحب صدق حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلي الناس صلاة الغداة وقد أقيمت حين شق الفجر والنجوم شابكة في السماء والرجال لا تكاد تعارف من ظلمة الليل فصفتت مع الرجال امرأة حديثة عهد بجاهلية فقال لي الرجل الذي يليني من الصف : امرأة أنت أم رجل ؟ فقلت : لا بل امرأة فقال : إنك قد كدت تفتنيني فصلي في النساء وإذا صف من النساء قد حدث عند الحجرات لم أكن رأيته حين دخلت فكنت فيهن حتى إذا طلعت الشمس دنوت فجعلت إذا رأيت رجلا ذا رداء وذا قشر طمح إليه بصري لأرى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوق الناس حتى جاء رجل بعدما ارتفعت الشمس فقال : السلام عليك يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( وعليك السلام ورحمة الله ) وعليه أسمال مليتين قد كانتا بزعفران وقد نقضتا وبيده عسيب نخلة مقصر [ مقشو ] [ قفر ] غير خوصتين من أعلاه قاعد القرفصاء فلما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم المتخشع في الجلسة أعدت من الفرق فقال له جليسه : يا رسول الله أرعدت المسكينة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ينظر إلي وأنا عند ظهره : ( يا مسكينة عليك السكينة ) فلما قالها رسول الله صلى الله عليه و سلم أذهب الله عني ما كان دخل في قلبي من الرعب وتقدم صاحبي أول رجل حريث بن حسان فبايعه على الإسلام وعلى قومه ثم قال : يا رسول الله اكتب بيننا وبين بني تميم بالدهناء لا يجاوزها إلينا منهم إلا مسافر أو مجاورز فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اكتب بالدهناء يا غلام ) فلما أمر له بها شخس بي وهي وطني وداري فقالت : يا رسول الله لم يسألك السوية من الأمر إذ سألك إنما هذه الدهناء عندك مقيد الجمل ومرعى الغنم ونساء بني تميم وراء ذلك فقال : ( أمسك يا غلام صدقت المسكينة المسلم أخو المسلم يسعهما الماء والشجر ويتعارفان على القيان ) فلما رأى ذلك حريث قد حيل دون كتابه ضرب بإحدى يديه على الأخرى ثم قال : كنت أنا وأنت كما قال : وحتفها تحمل ضأن بأظلافها فقثالت : والله ما أعلم إن كنت لدليلا في الظلماء تدولا لدى الرجل عفيفا عن الرفيقة حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن لا تلمني على أن أسأل حظي إذ سألت حظك قال : وما حظك في الدهناء لا أبا لك ؟ قلت : مقيد جملي تسأله لجمل امرأتك قال : لا جرم إني أشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم إني لك أخ وصاحب ما حييت إذ ثنيت على هذا عنده فقتلك إذ بدأتها فلن أضيعها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أيلام ابن هذه أن يفصل الخطة وينصر من وراء الحجرة ؟ ) فبكيت ثم قلت : قد والله ولدته يا رسول الله حراما فقاتل معك يوم الربذة ثم ذهب يميرني من خيبر فأصابته حماها فمات فترك على النساء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فوالذي نفسي بيده لو لم تكوني مسكينة لجررناك على وجهك أو لجررت على وجهك - شك عبد الله بن حسان أي الحرفين حدثته المرأتان - أتغلب أحداكن أن تصاحب في الدنيا معروفا فإذا حال بينه وبين من هو أولى به استرجع ثم قال : رب آسني ما أمضيت فأعطني على ما أبقيت فوالذي نفس محمد بيده إحداكن لتبكي فتستعين له صويحبة فيا عباد الله لا تعذبوا موتاكم ) ثم كتب لها في قطيعة أديم أحمر : ( لقبلة والنسوة من بنات قبلة ألا يظلمن حقا ولا يكرهن على منكح وكل مؤمن ومسلم لهن نصير أحسن ولا تسئن ) قال محمد بن هشام : فسره لنا ابن عائشة قال : الفرصة ذات الحدب والفرصة القطعة من المسك والفرصة الدولة يقال انتهز فرصتك أي دولتك السبيج سمل كساء الرتكان ضرب من السير الانتفاج [ السعي ] السفر شنح أي ولاك ميامنه وبعض العرب بجعل مياسره وهم يتطيرون بأحدهما ويتفاءلون بالآخر تفاخ تفتح فوألنا لحبأنا إلى حواء دفار يا منتنة من ذلك قول العرب في الدنيا أم دفر لنتنها ثم نشدت عنه استخبرت عنه المقشو المقشور الفتان الشياطين واحدتها قاين ( حتفها تحمل ضأن بأظلافها ) مثل من أمثال العرب في شاة بحثت بأظلافها في الأرض فأظهرت مدية فذبحت بها فصارت مثلا القضية انقضاء الأمور وشخص أي ارتفع بصري فكبرا من أكبار ما سمعت آسني أي اجعل لي أسوة بما تعطي به قال ابن متمم بن نويرة : ( فقلت لها طول الأسى إذ سألتني ... ولوعة حزن تترك الوجه اسفعا ) أسفع أي أسود

حضرت قیلہ بنت مخرمہ حدیث بیان فرماتی ہیں کہ وہ بنو جناب قبیلے کے ایک فرد حبیب بن ازہر کی بیوی تھیں تو ان کے ہاں بیٹیاں پیداہوئیں پھر وہ آدمی فوت ہو گیا ۔ بچیوں کے چچا اثواب بن زہر نے ان سے ان کی بیٹیاں لے لیں ۔ پس وہ ابتدائے اسلام میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نکلیں تاکہ صحابہ کو تلاش کریں تو جویرہ رونے لگی۔ ان (بیٹیوں) میں اے ایک حدیباء تھی ، یہ کبڑی ہوگئی ، یہ اُں سب میں سے چھوٹی تھی، اس کے اوپر اون کی چادر کاپلوتھا ۔ پس ان کو اس پر رحم آیا اور اس کو اپنے ساتھ اٹھا لیا۔ اسی دوران کہ یہ اونٹ کوآہستہ آہستہ چلا رہی تھیں جب اَرنب نے تیزی دکھائی ۔ پس حدیباء قصبہ نے کہا: بخدا!اس بات میں تیرا مرتبہ اثواب سے ہمیشہ بلند رہے گا۔ پھر جب ثعلب سلامتی کے ساتھ واپس آئی تو اس کا نام ثعلب کو چھوڑ کر دوسرا رکھا، جو عبداللہ بن حسان (راوی حدیث ) کو بھول گیا ۔ اسی دوران کہ وہ آہستہ آہستہ چل رہی تھیں جب اونٹ بیٹھ گیا اور کانپنے لگا۔ حدیباء قصبہ نے کہا: بخدا! (اے سواری) تجھے اثواب کی پکڑنے آلیا ہے ۔ میں نے اُسے کہا جبکہ میں بے چین تھی ، تجھے افسوس! اب میں کیا کروں؟ کہا: تواپنے کپڑے بدل لے ، اوپر والے نیچے کر لے ، اپنے باطن کے لیے اپنی پیٹھ کو لڑھکا اور اپنے اونٹ کی جھل بھی بدل لے پھر اس سے چادرکا پلواُتارلیا۔ پس اُس نے کپڑے بدلے اور اپنے باطن کے لیے اپنی پیٹھ کو لڑھکا یا ۔ پس جب وہ کر لیا ، جو میں نے اُسے کہا تھا تو اونٹ تھر تھر ا(جھٹک) کر کھڑا ہو گیا ، اپنی ٹانگیں چوڑی کر کے اس نے پیشاب کیا تو میں نے اسے تیار کیا ۔ حدیباء نے کہا: مجھے میری چیزیں واپس کردیں تو میں وہی کروں گی، جو آپ مجھے حکم دیں گی ۔ میں نے اسے واپس کر دیں ۔ وہ دونوں آہستہ آہستہ چلنے لگیں ۔ پس اثواب بھی تلوار سونت کر ہمارےکے نشانات پر تھا ۔ ہم نے ایک موٹی گھیرے والی دیوار کے ساتھ پناہ لی۔ پس وہ اس کے ارد گرد گھومایہاں تک کہ درمیانے گھر کے صحن میں اونٹ کو بیٹھا دیاگیا ۔ وہ نرم خواونٹ تھا ۔ میں بچی کو لے کر اس کے اندر گھس گئی ۔ پس اُس نے مجھے تلوار کے ساتھ پالیا، میرے سر کے درمیان میں چند وار لگے ۔ اُس نے کہا: اے ذلیل ! میری بھتیجی کو میرے حوالے کر دے ۔ پس میں نےاُس کے حوالے کر دیا ۔ اُس نے اپنے کندھے پر سوار کر لیا اور اُسے لے کر چلا گیا ۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس بچی کا تعلق اس کے گھر انے سے ہے ۔ میں اپنی اُس بہن کی طرف چلی جس کا نکاح بنو شیبان قبیلے میں ہوا تھا تاکہ ابتدائے اسلام میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو تلاش کروں ۔ اسی دوران کہ میں راتوں میں سے ایک رات اپنی بہن کے پاس سوئی ہوئی تھی جب اس کا خاوند سامر سے واپس آیا ۔ اُس نے کہا: تیرے باپ کی قسم! میں نے قیلہ کے لیے ساتھی تلاش کیا ہے ، جو صاحب صدق و صفا ہے ۔ میری بہن نے کہا: وہ کون ہے ؟ اُس نے کہا: حریث بن حسان شیبانی نے ، جو صبح بکر بن وائل کے وفد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس آیا ہے ۔ میری بہن نے کہا: میرے لیے بربادی ہو اس کو میری بہن نہ سنے ۔ پس وہ زمین کے سمع و بصر کے درمیان بکر بن وائل کے ایک فرد کے ساتھ نکلی، جبکہ اس کی قوم کا کوئی آدمی اس کے ساتھ نہ تھا ۔ مرد نے کہا: تو اُس کو ذکر نہ کرنا ، کیونکہ میں نے اس کے سامنے اس کا ذکر نہیں کیا ۔ پس میں نے ان دونوں کی بات سن لی تھی ۔ پس میں نے صبح کی ۔ میں نے اپے اونٹ پر جھل ڈالی ۔ پس میں نے اسے زیادہ دو ر نہ پایا ۔ میں نے اس سے سنگت کا سوال کیا تو اس نے کہا: ہاں ٹھیک ہے ، لیکن عزت کے ساتھ ۔ اس کی سواری میرے پاس بیٹھی تھی ۔ میں اس کے ساتھ نکلی جبکہ وہ صاحب صدق تھا یہاں تک کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ آپ لوگوں کو صبح کی نماز پڑھارہے تھے ۔ نماز کھڑے ہوچکی تھی ، جب پھوہ پھوتی جبکہ ستارے آسمانے میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے ۔لوگ رات کی تاریکی کی وجہ سے ایک دوسرے کوپہچان نہیں رہے تھے ۔ میں مردوں کی صف کے ساتھ مل گئی ، میں ایک ایسی عورت تھی ، جس کا جاہلیت کا زمانہ قریب تھا۔ مجھ سے ایک مرد نے کہا وصف میں میرا ساتھ ملاہو اتھا۔ تو عورت ہے یا مرد ہے ؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ عورت عورت ہوں ۔ اس نے کہا: تو کسی فتنہ کا شکار نہ ہو جائے تو عورتوں کی صف میں جا کر نماز پڑھ ۔ عورتوں کو صفیں ازواج مطہرات کے حجروں کے قریب تھیں ،جب میں داخل ہوئی تو میں نے اُس آدمی کو نہ دیکھا تھا ۔ پس میں عورتوں میں ہوگئی یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا۔ میں قریب ہوئی ۔ جب میں نے اُس چادر والے اور باریک کپڑوں والے آدمی کو دیکھا تو میری نگاہ اس کی طرف اٹھنا شروع ہوئی تاکہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کے اوپر سے دیکھو(مجھے معلوم نہ تھا ، اللہ کے رسول کون ہیں ) سورج بلند ہونے کے بعد ایک آدمی نے آکر کہا : "اسلام علیک یار سول اللہ !" تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "وعلیک السلام و رحمۃ اللہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پرانی چادریں پہن رکھیں تھیں، جن میں زعفران لگائی گئی تھی اور و ہ زعفران کو جھاڑ چکی تھیں ۔ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی چھیلی ہوئی ، اوپر سے پتوں سے خالی چھوٹی سے چھڑی تھی۔ گھٹنے کھڑے کر کے دونوں بازؤں سے حلقہ بنا کر بیٹھے تھے ۔ پس جب میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح خشوع و خضوع کی حالت میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ڈر سے مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ہم مجلس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ مسکینہ کانپ رہی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبکہ آپ مجھے دیکھ نہیں رہے تھے ، کیونکہ میں آپ کے پیٹھ پیچھے تھی۔ اے مسکینہ! سکون کر ۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل کا ڈر ختم کردیا ۔ میرا ساتھی حریث بن حسان سب سے پہلے آگے ہوا۔ اُس نے اسلام اور آپ کی قوم پر بیعت کی ۔ پھر عرض کی: اے اللہ کے رسول ! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دھناء (صحراء) ولی جگہ لکھ دیں ، اُن میں سے کوئی بھی اس سے ہماری طرف نہ بڑھے سوائے مسافر یا پھر تجاوز کر نےوالا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے غلام ! صحراء ان کو لکھ دے ۔ پس جب آپ نے اسے حکم دیا تو وہ میرے طرف دیکھ رہا تھا کیو نکہ وہ میر ا وطن اور میرا گھر تھا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! جب اس نے آپ سے سوال کیا تو اس نے برابری نہیں کی۔ دھناء تو آپ کے ہاں اونٹ باندھنے کی جگہ اور بھیڑ بکریوں کی چراگاہ ہے جبکہ بنو تمیم کی عورتیں اور بیٹے تو اس کے پیچھے رہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے غلام ! رک جا ۔ مسکینہ نے سچ کہا۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، ان میں پانی اور درخت کی وسعت ہوتی ہے اور وہ لونڈیوں کی خدمت کے سلسلے میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں ۔ پس جب حریث نے یہ چیز دیکھی کہ کتابت میں رکاوٹ آگئی ہے تو اُس نے اپنا ہاتھ دوسرے پر مار کر کہا: میں ہوں اور تو ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اُسے خودہی اپنی سوئے تدبیر سے مصیبت ملی ۔ عورت نے کہا: بخدا! میں نہیں جانتی اگر آپ نے تاریکی میں راہنماکا کر دار ادا کیا ہے ، ایک ایسے آدمی کے پاس جو رفیقہ سے پاک ہے یہاں تک کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئے ، لیکن تو مجھے اس بات پر ملامت تو نہ کر کہ میں نے اپنا حصہ مانگا ہے جب تونے اپنا حصہ مانگا ۔ اُس نے کہا: دھناء میں تیرا کیا حصہ ہے ؟ تیرا باپ مرے ۔ میں نے کہا: وہ میرے اونٹوں کے باندھنے کی جگہ ہے اور تو اپنی بیوی کے اونٹوں کے لیے مانگ رہا ہے ۔ اُس نے کہا: کوئی حرج نہیں بیشک میں اللہ کے رسول کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تیرا بھائی اور ساتھی جب تک میں زندہ ہوں ، جب تو نے مجھ پر اعتماد کیا ہے ۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہے ۔ میں نے کہا: جب میں نے شروع کیا تو میں ہرگز اسے ضائع نہ کروں گی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے بیٹے کو ملامت کی جائے گی کہ اس نے ایک ٹکڑہ الگ کر لیا اور حجرہ کے پیچھے والوں کی مدد کرتا ہے ۔میں رو پڑی پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! بخدا! میں نے اسے حرامی جنا۔ اُس نے رنذہ کے دن آپ کی معیت میں قتال کیا پھر وہ مجھے خیبر سے گزارکر لایا ۔ اُسے بخار ہو گیا اور وہ مر گیا ۔ اُس نے مجھ پر بیٹیوں کا بوجھ چھوڑا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے ، اُس ذات کی ، جس کے قبضے میری جان ہے ، اگر تو مسکینہ نہ ہوتی تو ہم تجھے منہ کے بل گھسیٹتے یا فرمایا: تجھے منہ کے بل گھسیٹا جاتا ۔ حضرت عبداللہ بن حسان کو شک ہے کہ ان دو الفاظ میں سے کون سا لفظ دونوں عورتوں نے روایت کیا ۔ کیا تم میں سے کوئی ایک مغلوب ہوتی ہے ، اس سے کہ دنیا میں نیکی کے ساتھ سنگت کی جائے ۔ پس جب اس کے اور اس سے اولیٰ کے درمیان رکاوٹ آئی تو کلمہ استرجاع کہا۔ پھر کہا: اے میرے رب ! جو میں نے گزارااس پر مجھے تسلی عطا فرما اور جو باقی ہے اس پر میری مدد کر ۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے ، تم عورتوں میں سے کوئی ایک روتی ہے تو مدد کی طلبگار ہوتی ہے ۔ اے اللہ کے بندو ! اپنے مُردوں کو عذاب میں مبتلا نہ کرو پھر سرخ چمڑے کے ٹکڑے میں اس کے حق میں لکھا : قیلہ اور قیلہ کی بیٹیوں میں عورتوں کے لیے حق ہے کہ ان کے حق میں کمی نہ کی جائے اور ان سے نکاح کرنے کو ناپسند نہ کیا جائے اور ہر مسلمان اور مؤمن ان کا مدد گار ہے ۔ ان سے نیکی کرنا اور برائی نہ کرنا۔ حضرت محمد بن ھشام فرماتے ہیں : ابن عائشہ نے ہمارے سامنے اس کی تفسیر بیان کی: فرصہ کا یک معنی : کبڑے پن والا ، فرصہ کا دوسرا معنی : کستوری خوشبوکا ٹکڑا ۔ فرصہ کا تیسرا معنی اپنی دولت کو جلدی سے قبول کر لے ۔ سبیج کا معنی : چا در کا کنارہ ۔ رتکان : ایک قسم کی چال ۔ انتفاخ : دوڑنا ، سفر۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21113

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيلة بن مخرمة العنبرية · حديث 21114

2 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا علي بن سعيد الكندي ثنا حفص بن غياث عن أشعث عن رجل من بني العنبر Y عن قيلة قالت : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فصليت معه بعض الصلاة فلما قضى الصلاة قمت فنظر إلي - وكانت امرأة طويلة - فقال : ( إن كان ابن هذه ليقاتل من وراء الحاجز ) قالت : والله إن كان لكذلك يا رسول الله ولكنه مات قالت : اكتب لي كتابا قالت : ومعي ثلاث بنات فكتب : ( من محمد رسول الله لقبلة والنسوة الثلاث لا يظلمن حقا ولا يستكرهن على نكاح وكل مؤمن أو مسلم لهن ولي وناصر أحسن فلا يسأل )

حضرت قیلہ سے مروی ہے : میں رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی ۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں کوئی نماز پڑھی۔ جب آپ نے نماز ادا فرمالی تو میں کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا (جبکہ قیلہ ایک لمبے قد کی عورت تھیں ) فرمایا: کیا اسی عورت کا بیٹا رکاوٹوں کے باوجود مقابلہ نہیں کیا کرتا تھا ۔ عرض کی: بخدا! بات ایسے ہی ہے، لیکن اے اللہ کے رسول ! وہ فوت ہو گیا ہے ۔ عرض کی: مجھے ایک خط لکھ کر دیں ۔ عرض کی: اور میرے ساتھ تین بیٹیاں بھی ہیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خط لکھا : "اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قیلہ اور اُس کی تین بیٹیوں کے حق میں ، ان کے حق میں کمی نہ کی جائے۔ ان سے نکاح کرنےکو ناپسند نہ کیا جائے۔ ہر مؤمن یا مسلمان ، ان کا واولی و ناصر ہو۔ ان سے احسان ہی کرے ، ان کو تکلیف نہ دے ۔

قيلة ← رجل من بني العنبر ← أَشْعَثَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21114

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيلة بن مخرمة العنبرية · حديث 21115

3 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا عبد الله بن سوار العنبري وحدثنا عبد الله بن محمد بن عمران الأصبهاني حدثنا أبو حفص عمرو بن علي حدثني عبد الله بن سوار العنبري ثنا عبد الله بن حسان العنبري Y أن جدتيه صفية و دحيبة ابنتا عليبة أخبرتان أن قيلة بنت مخرمة كانت إذا أخذت حظها من المضجع بعد العتمة قالت : بسم الله وأتوكل على الله وضعت جنبي لربي وأستغفره لذنبي حتى تقولها مرارا ثم تقول : أعوذ بالله وبكلماته التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها وشر ما ينزل في الأرض وشر ما يخرج منها وشر فتن النهار وشر طوارق الليل إلا طارقا يطرق بخير آمنت بالله واعتصمت به الحمد لله الذي استسلم لقدرته كل شيء والحمد لله الذي ذل لعزته كل شيء والحمد لله الذي تواضع لعظمته كل شيء والحمد لله الذي خشع لملكه كل شيء اللهم إني أسألك بمعاقد العز من عرشك ومنتهى الرحمة من كتابك وحدك الأعلى واسمك الأكبر وكلماتك التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر أن تنظر إلينا نظرة مرحومة لا تدع لنا ذنبا إلا غفرته ولا فقرا إلا جبرته ولا عدوا إلا أهلكته ولا عريانا إلا كسوته ولا دينا إلا قضيته ولا أمرا لنا فيه صلاح في الدنيا والآخرة إلا أنطيتناه يا أرحم الراحمين آمنت بالله واعتصمت به ثم تقول : سبحان الله ثلاثا وثلاثين والله أكبر ثلاثا وثلاثين والحمد لله أربعا وثلاثين ثم تقول : يا بنتي تستخدمه فقال : ( ألا أدلك على خير من خادم ؟ قالت : بلى فأمرها بهذه المائة عند المضجع بعد العتمة

علیبہ کی دوبیٹیوں صفیہ اور دحیبہ نے خبر دی ہے کہ قیلہ بنت مخرمہ عشاء کی نماز پڑھ لینے کے بعد جب بستر پر تشریف لے جاتیں اور کچھ سولیتیں تو کہتیں : اللہ کےنام سے شروع کرتی ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرتی ہوں۔ میں نے اپنے پہلو کو اپنے رب کےلیے (بستر پر ) رکھا اور میں اس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتی ہوں یہاں تک کہ کئی بار یہ کہتیں پھر یہ دعا مانگتیں:۔ "اعوذ بکلماتہ التامات الیٰ آخرہ" میں اللہ پر ایمان لائی اور اسی کی رسی کو لازم پکڑا پھر تینتیس بار سبحان اللہ کہتیں، تینتیس بار اللہ اکبر کہتیں، چونتیس بار الحمد اللہ کہتیں پھر کہتیں: اے بیٹی ! یہی خاتمہ کی اصل (یا انجام) ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاجزادی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خادم مانگنے کے لیے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے خادم سے بہتر چیز پر رہنمائی نہ کروں؟ عرض کی: کیو ں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عشاء کی نماز کے بعد بستر پر جا کر یہ کلمات سوبار پڑھنے کا حکم فرمایا۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21115

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيلة أم بني أنمار · حديث 21116

4 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أحمد بن محمد بن أبي خلف ثنا يعلى بن شبيب ثنا عبد الله بن أعين بن خثيم Y عن قيلة أم بني أنمار قالت : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم عند المروة بحل من عمرة فجلست إليه فقلت : يا رسول الله إني امرأة أشتري وأبيع فربما أردت أن أبيع السلعة فأسنام بها أكثر مما أريد أن أبيعها به ثم أنقص حتى أبيعها بالذي أريد وإذا أردت أن أشتري السلعة أعطيت بها أقل مما أريد أن آخذها به ثم أزيد حتى آخذها بالذي أريد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( لا تفعلي يا قيلة إذا أردت أن تبيعي السلعة فاستامي بها الذي تريدين أن تبيعي به أعطيت أو منعت وإذا أردت أن تشتري السلعة فأعطي بها الذي تريدين أن تأخذيها به أعطيت أو منعت )

حضرت قیلہ بن اُم نمار فرماتی ہیں : میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مروہ کے پاس دیکھا ۔ آپ عمراہ کا احرام کھولنے والے تھے ۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کی: اےاللہ کے رسول ! میں ایسی عورت ہوں ، جو خرید و فروخت کرتی ہوں۔ کبھی کبھار میں سامان بیچنا چاہتی ہوں تو اُس کا بھاؤ، زیادہ بتاتی ہوں، جس پر میں اسے بیچنا چاہتی ہوں پھر کم کرتی ہوں تو میں اسی قیمت پر بیچ دیتی ہوں ، جس پر میرا ارادہ ہوتا ہے اور جب میں سامان خریدنا چاہتی ہوں تو میں اُس سے کم قیمت دیتی ہوں، جس پر میں اُسے خریدنا چاہتی ہوں پھر آہستہ آہستہ قیمت بڑھاتی ہوں یہاں کت کہ اُسی قیمت پر خرید لیتی ہوں ، جس پر میرا ارادہ ہوتا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے قیلہ ! ایسا مت کیا کر ! جب تو سامان بیچنا چاہے تو وہی قیمت بتا یا کر جس پر تو اسے بیچنا چاہتی ہے خواہ گاہک تجھے وہ قیمت دے یا نہ دے جو تو سامان خریدنا چاہے تو دکاندار کو وہی قیمت دیا کر جس پر تو اسے خریدنا چاہتی ہے خواہ وہ تجھے سامان دے یا نہ دے ۔

قَيْلَةَ أُمِّ بَنِي أَنْمَارٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَعْيَنَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَعْلَی بْنُ شَبِيبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي خَلْفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21116

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتيلة بنت صيفي الجهنية · حديث 21117

5 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي و عمر بن حفص السدوسي قالا ثنا عاصم بن علي ثنا المسعودي عن معبد بن خالد عن عبد الله بن يسار Y عن قتيلة بنت صيفي قالت : جاء حبر من الأحبار إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا محمد نعم القوم أنتم لولا أنكم تشركون فقال النبي صلى الله عليه و سلم : وما ذاك ؟ قال : تقولون إذا حلفتم والكعبة قال : فأمهل رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا ثم قال : ( من حلف فليحلف برب الكعبة ) ثم قال : يا محمد نعم القوم أنتم لولا أنكم تجعلون لله ندا قال : ( سبحان الله وما ذاك ) ؟ قال : تقولون للرجل ما شاء الله وشئت فأمهل رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ( إنه قد قال فمن قال ما شاء الله فليجعل بينهما ثم شئت )

حضرت قتیلہ بنت صیفی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : یہودیوں کے علماء میں سے ایک بڑا عالم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ کہا: اے (حضرت) محمد ! تم کتنی بہترین قوم ہوتے کاش اگر تم شرک کرنے والےنہ ہوتے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شرک کیا ہے ؟ اُس نے کہا: جب تم حلف اٹھاتے ہو تو کہتے ہو: کعبہ کی قسم ! راوی کا بیان ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے پھر فرمایا: جو قسم اٹھائے تو یوں کہے : رب کعبہ کی قسم ! پھر اُس نے کہا: اے (حضرت) محمد! تم کس قدر بہترین قوم ہوتے کاش اگر تم اللہ کے لیے ند(مد مقابل) نہ بناتے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک ہے ، وہ ند بنانا کیا ہے ؟ اُس نے کہا: جب تم آدمی سے کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور تو چاہے ۔ راوی کا بیان ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے پھر فرمایا: جو "ماشاء اللہ " کہے تو ان دونوں (شاء اللہ اور شتَک) کے درمیان فاصلہ کرنے کے لیے "ثم" (پھر) کا لفظ استعمال کرے ۔

قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ،- ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← معبد بن خالد، ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← محمد بن النضر الأزدي و عمر بن حفص السدوسي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21117

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتيلة بنت صيفي الجهنية · حديث 21118

6 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن عبيد عن المسعودي عن معبد بن خالج عن عبد الله بن يسار Y عن قتيلة بنت صيفي الجهنية عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت قتیلہ بنت صیفی جہنیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مثل حدیث روایت کرتی ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← قتيلة بنت صيفي الجهنية ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← معبد بن خالج ← الْمَسْعُودِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21118

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتيلة بنت صيفي الجهنية · حديث 21119

7 - حدثنا المقدام بن داود المصري ثنا عبد الله بن محمد بن المغيرة ثنا مسعر بن كدام وحدثنا الحسين بن جعفر الفتات الكوفي قال ثنا منجاب بن الحارث أن علي بن مسهر عن مسعر عن معبد بن خالد عن عبد الله بن يسار الجهني Y عن قتيلة امرأة منهم قالت : جاء يهودي وحبر إلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إنكم تشركون وأنكم تنددون تقولون : لا والكعبة وتقولون ما شاء الله وشئت فأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقولوا : لا ورب الكعبة وأن يقولوا ما شاء الله ثم شئت

حضرت قتیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : ایک یہودی اور ایک بڑا عالم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس آیا۔ کہا: اے (حضرت ) محمد ! تم شرک کرنے والے اور اللہ کا مد مقابل بنانے والے ہو۔(جب تم حلف اٹھاتے ہوتو کہتے ہو) نہیں ،کعبہ کی قسم! (جب تم آدمی سے کہتے ہو:) جو اللہ چاہے اور تو چاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایاکہ وہ کہا کریں : نہیں ، رب کعبہ کی قسم ! اور کہا کریں : جو "ماشاء اللہ " کہے تو ان دونوں( شاء اللہ اور شتَ ( کے درمیان فاصلہ کرنےکے لیے "ثم"(پھر) کا لفظ استعمال کرے ۔

جاء يهودي وحبر إلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قتيلة امرأة منهم ← عبد الله بن يسار الجهني ← معبد بن خالد، ← مِسْعَرٍ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ مُسْهِرٍ، ← الحسين بن جعفر الفتات الكوفي ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21119

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter