المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قيلة بن مخرمة العنبرية · حديث 21113
1 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا حفص بن عمر أبو عمر الضرير الحوضي وحدثنا معاذ بن المثنى والمفضل بن الحباب أبو خليفة قالا ثنا عبد الله بن سوار بن قدامة بن عنزة العنبري وحدثنا يعقوب بن إسحاق المخرمي ثنا عفان بن مسلم وحدثنا محمد بن زكريا الغلابي ثنا عبد الله بن رجاء العداني وحدثنا محمد بن هشام بن أبي الدميك المستملي ثنا عبيد الله بن محمد بن عائشة التيمي قالوا ثنا عبد الله بن حسان العنبري أبو الجنيد أخو بني كعب العنبري حدثتني جدتاي صفية و دحيبة ابنتا عليبة وكانتا ربيبتي قيلة Y أن قيلة بنت مخرمة حدثتهما أنها كانت تحت حبيب بن الزهر أخي بني جناب فولدت له النساء ثم توفي فانتزع بناتها منها أثوب [ ثوب ] بن زهر عمهن فخرجت تبتغي الصحابة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في أول الإسلام فبكت جويرية منهن حديباء قد كنت أخذتها الغرصة وهي أصغرهن عليها سبيج لها من صوف فرحمتها فاحتملتها معها فبينما هما ترتكان الجمل إذ انتفجت الأرنب فقالت الحديباء القصية لا والله لايزال كعبك أعلى من كعبك أثوب في هذا الحديث أبدا ثم [ لما ] سنح الثعلب فسمته أسما غير الثعلب نسميه عبد الله بن حسان ثم قالت [ فيه ] ما قالت في الأرنب فبينما هما ترتكان إذ برك الجمل وأخذته رعدة فقالت الحديباء : القصية أدركتك والله أحدة أثوب فقلت واضطررت إليها ويحك ما أصنع ؟ قالت : قلبي ثيابك ظهورها لبطونها وتدحرجي ظهرك لبطنك وقلبي أحلاس جملك : ثم خلعت سبيجها فقلبته وتدحرجت ظهرها لبطنها فلما فعلت ما أمرتني انتفض الجمل ثم قام بتفاج وبال فقالت الحديباء : أعيدي عليك أذاتك ففعلت ما أمرتني به فأعدتها ثم خرجتا ترتك فإذا أثوب على أثرنا بالسيف مصلتا فوألنا إلى حواء ضخم فداراه حتى ألقى الجمل إلى رواق البيت الأوسط جمل ذلول فاقتحمت داخله بالجارية فأدركني بالسيف فأصاب ظبته طائفة من قرون رأسي وقال : ألقي إلي بنت أخي يا دفار فرميت بها إليه فجعلها على منكبه فذهب بها وكنت أعلم به من أهل البيت ومضيت إلى أخت لي ناكح في بني شيبان ابتغى الصحابة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أول الإسلام فبينما أنا عندها ذات ليلة من الليالي تحسب عيني نائمة جاء زوجها من السامر فقال : وأبيك لقد وجدت ل قيلة صاحبا صاحب صدق فقالت أختي من هو ؟ قالت : حريث بن حسان الشيباني عاد وافد بكر بن وائل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ذا صباح فقالت أختي الويل لي لا تسمع بهذا أختي فتخرج مع أخي بكر بن وائل بين سمع الأرض وبصرها ليس معها من قومها رجل فقال : لا تذكريه لها فإني غير ذاكرة لها فسمعت ما قالا : فغدوت فشددت على جملي فوجدته غير بعيد فسألته الصحبة فقال : نعم وكرامة وركابه مناخة عندي فخرجت معه صاحب صدق حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلي الناس صلاة الغداة وقد أقيمت حين شق الفجر والنجوم شابكة في السماء والرجال لا تكاد تعارف من ظلمة الليل فصفتت مع الرجال امرأة حديثة عهد بجاهلية فقال لي الرجل الذي يليني من الصف : امرأة أنت أم رجل ؟ فقلت : لا بل امرأة فقال : إنك قد كدت تفتنيني فصلي في النساء وإذا صف من النساء قد حدث عند الحجرات لم أكن رأيته حين دخلت فكنت فيهن حتى إذا طلعت الشمس دنوت فجعلت إذا رأيت رجلا ذا رداء وذا قشر طمح إليه بصري لأرى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوق الناس حتى جاء رجل بعدما ارتفعت الشمس فقال : السلام عليك يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( وعليك السلام ورحمة الله ) وعليه أسمال مليتين قد كانتا بزعفران وقد نقضتا وبيده عسيب نخلة مقصر [ مقشو ] [ قفر ] غير خوصتين من أعلاه قاعد القرفصاء فلما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم المتخشع في الجلسة أعدت من الفرق فقال له جليسه : يا رسول الله أرعدت المسكينة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ينظر إلي وأنا عند ظهره : ( يا مسكينة عليك السكينة ) فلما قالها رسول الله صلى الله عليه و سلم أذهب الله عني ما كان دخل في قلبي من الرعب وتقدم صاحبي أول رجل حريث بن حسان فبايعه على الإسلام وعلى قومه ثم قال : يا رسول الله اكتب بيننا وبين بني تميم بالدهناء لا يجاوزها إلينا منهم إلا مسافر أو مجاورز فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اكتب بالدهناء يا غلام ) فلما أمر له بها شخس بي وهي وطني وداري فقالت : يا رسول الله لم يسألك السوية من الأمر إذ سألك إنما هذه الدهناء عندك مقيد الجمل ومرعى الغنم ونساء بني تميم وراء ذلك فقال : ( أمسك يا غلام صدقت المسكينة المسلم أخو المسلم يسعهما الماء والشجر ويتعارفان على القيان ) فلما رأى ذلك حريث قد حيل دون كتابه ضرب بإحدى يديه على الأخرى ثم قال : كنت أنا وأنت كما قال : وحتفها تحمل ضأن بأظلافها فقثالت : والله ما أعلم إن كنت لدليلا في الظلماء تدولا لدى الرجل عفيفا عن الرفيقة حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن لا تلمني على أن أسأل حظي إذ سألت حظك قال : وما حظك في الدهناء لا أبا لك ؟ قلت : مقيد جملي تسأله لجمل امرأتك قال : لا جرم إني أشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم إني لك أخ وصاحب ما حييت إذ ثنيت على هذا عنده فقتلك إذ بدأتها فلن أضيعها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أيلام ابن هذه أن يفصل الخطة وينصر من وراء الحجرة ؟ ) فبكيت ثم قلت : قد والله ولدته يا رسول الله حراما فقاتل معك يوم الربذة ثم ذهب يميرني من خيبر فأصابته حماها فمات فترك على النساء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فوالذي نفسي بيده لو لم تكوني مسكينة لجررناك على وجهك أو لجررت على وجهك - شك عبد الله بن حسان أي الحرفين حدثته المرأتان - أتغلب أحداكن أن تصاحب في الدنيا معروفا فإذا حال بينه وبين من هو أولى به استرجع ثم قال : رب آسني ما أمضيت فأعطني على ما أبقيت فوالذي نفس محمد بيده إحداكن لتبكي فتستعين له صويحبة فيا عباد الله لا تعذبوا موتاكم ) ثم كتب لها في قطيعة أديم أحمر : ( لقبلة والنسوة من بنات قبلة ألا يظلمن حقا ولا يكرهن على منكح وكل مؤمن ومسلم لهن نصير أحسن ولا تسئن ) قال محمد بن هشام : فسره لنا ابن عائشة قال : الفرصة ذات الحدب والفرصة القطعة من المسك والفرصة الدولة يقال انتهز فرصتك أي دولتك السبيج سمل كساء الرتكان ضرب من السير الانتفاج [ السعي ] السفر شنح أي ولاك ميامنه وبعض العرب بجعل مياسره وهم يتطيرون بأحدهما ويتفاءلون بالآخر تفاخ تفتح فوألنا لحبأنا إلى حواء دفار يا منتنة من ذلك قول العرب في الدنيا أم دفر لنتنها ثم نشدت عنه استخبرت عنه المقشو المقشور الفتان الشياطين واحدتها قاين ( حتفها تحمل ضأن بأظلافها ) مثل من أمثال العرب في شاة بحثت بأظلافها في الأرض فأظهرت مدية فذبحت بها فصارت مثلا القضية انقضاء الأمور وشخص أي ارتفع بصري فكبرا من أكبار ما سمعت آسني أي اجعل لي أسوة بما تعطي به قال ابن متمم بن نويرة : ( فقلت لها طول الأسى إذ سألتني ... ولوعة حزن تترك الوجه اسفعا ) أسفع أي أسود
حضرت قیلہ بنت مخرمہ حدیث بیان فرماتی ہیں کہ وہ بنو جناب قبیلے کے ایک فرد حبیب بن ازہر کی بیوی تھیں تو ان کے ہاں بیٹیاں پیداہوئیں پھر وہ آدمی فوت ہو گیا ۔ بچیوں کے چچا اثواب بن زہر نے ان سے ان کی بیٹیاں لے لیں ۔ پس وہ ابتدائے اسلام میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نکلیں تاکہ صحابہ کو تلاش کریں تو جویرہ رونے لگی۔ ان (بیٹیوں) میں اے ایک حدیباء تھی ، یہ کبڑی ہوگئی ، یہ اُں سب میں سے چھوٹی تھی، اس کے اوپر اون کی چادر کاپلوتھا ۔ پس ان کو اس پر رحم آیا اور اس کو اپنے ساتھ اٹھا لیا۔ اسی دوران کہ یہ اونٹ کوآہستہ آہستہ چلا رہی تھیں جب اَرنب نے تیزی دکھائی ۔ پس حدیباء قصبہ نے کہا: بخدا!اس بات میں تیرا مرتبہ اثواب سے ہمیشہ بلند رہے گا۔ پھر جب ثعلب سلامتی کے ساتھ واپس آئی تو اس کا نام ثعلب کو چھوڑ کر دوسرا رکھا، جو عبداللہ بن حسان (راوی حدیث ) کو بھول گیا ۔ اسی دوران کہ وہ آہستہ آہستہ چل رہی تھیں جب اونٹ بیٹھ گیا اور کانپنے لگا۔ حدیباء قصبہ نے کہا: بخدا! (اے سواری) تجھے اثواب کی پکڑنے آلیا ہے ۔ میں نے اُسے کہا جبکہ میں بے چین تھی ، تجھے افسوس! اب میں کیا کروں؟ کہا: تواپنے کپڑے بدل لے ، اوپر والے نیچے کر لے ، اپنے باطن کے لیے اپنی پیٹھ کو لڑھکا اور اپنے اونٹ کی جھل بھی بدل لے پھر اس سے چادرکا پلواُتارلیا۔ پس اُس نے کپڑے بدلے اور اپنے باطن کے لیے اپنی پیٹھ کو لڑھکا یا ۔ پس جب وہ کر لیا ، جو میں نے اُسے کہا تھا تو اونٹ تھر تھر ا(جھٹک) کر کھڑا ہو گیا ، اپنی ٹانگیں چوڑی کر کے اس نے پیشاب کیا تو میں نے اسے تیار کیا ۔ حدیباء نے کہا: مجھے میری چیزیں واپس کردیں تو میں وہی کروں گی، جو آپ مجھے حکم دیں گی ۔ میں نے اسے واپس کر دیں ۔ وہ دونوں آہستہ آہستہ چلنے لگیں ۔ پس اثواب بھی تلوار سونت کر ہمارےکے نشانات پر تھا ۔ ہم نے ایک موٹی گھیرے والی دیوار کے ساتھ پناہ لی۔ پس وہ اس کے ارد گرد گھومایہاں تک کہ درمیانے گھر کے صحن میں اونٹ کو بیٹھا دیاگیا ۔ وہ نرم خواونٹ تھا ۔ میں بچی کو لے کر اس کے اندر گھس گئی ۔ پس اُس نے مجھے تلوار کے ساتھ پالیا، میرے سر کے درمیان میں چند وار لگے ۔ اُس نے کہا: اے ذلیل ! میری بھتیجی کو میرے حوالے کر دے ۔ پس میں نےاُس کے حوالے کر دیا ۔ اُس نے اپنے کندھے پر سوار کر لیا اور اُسے لے کر چلا گیا ۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس بچی کا تعلق اس کے گھر انے سے ہے ۔ میں اپنی اُس بہن کی طرف چلی جس کا نکاح بنو شیبان قبیلے میں ہوا تھا تاکہ ابتدائے اسلام میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو تلاش کروں ۔ اسی دوران کہ میں راتوں میں سے ایک رات اپنی بہن کے پاس سوئی ہوئی تھی جب اس کا خاوند سامر سے واپس آیا ۔ اُس نے کہا: تیرے باپ کی قسم! میں نے قیلہ کے لیے ساتھی تلاش کیا ہے ، جو صاحب صدق و صفا ہے ۔ میری بہن نے کہا: وہ کون ہے ؟ اُس نے کہا: حریث بن حسان شیبانی نے ، جو صبح بکر بن وائل کے وفد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس آیا ہے ۔ میری بہن نے کہا: میرے لیے بربادی ہو اس کو میری بہن نہ سنے ۔ پس وہ زمین کے سمع و بصر کے درمیان بکر بن وائل کے ایک فرد کے ساتھ نکلی، جبکہ اس کی قوم کا کوئی آدمی اس کے ساتھ نہ تھا ۔ مرد نے کہا: تو اُس کو ذکر نہ کرنا ، کیونکہ میں نے اس کے سامنے اس کا ذکر نہیں کیا ۔ پس میں نے ان دونوں کی بات سن لی تھی ۔ پس میں نے صبح کی ۔ میں نے اپے اونٹ پر جھل ڈالی ۔ پس میں نے اسے زیادہ دو ر نہ پایا ۔ میں نے اس سے سنگت کا سوال کیا تو اس نے کہا: ہاں ٹھیک ہے ، لیکن عزت کے ساتھ ۔ اس کی سواری میرے پاس بیٹھی تھی ۔ میں اس کے ساتھ نکلی جبکہ وہ صاحب صدق تھا یہاں تک کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ آپ لوگوں کو صبح کی نماز پڑھارہے تھے ۔ نماز کھڑے ہوچکی تھی ، جب پھوہ پھوتی جبکہ ستارے آسمانے میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے ۔لوگ رات کی تاریکی کی وجہ سے ایک دوسرے کوپہچان نہیں رہے تھے ۔ میں مردوں کی صف کے ساتھ مل گئی ، میں ایک ایسی عورت تھی ، جس کا جاہلیت کا زمانہ قریب تھا۔ مجھ سے ایک مرد نے کہا وصف میں میرا ساتھ ملاہو اتھا۔ تو عورت ہے یا مرد ہے ؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ عورت عورت ہوں ۔ اس نے کہا: تو کسی فتنہ کا شکار نہ ہو جائے تو عورتوں کی صف میں جا کر نماز پڑھ ۔ عورتوں کو صفیں ازواج مطہرات کے حجروں کے قریب تھیں ،جب میں داخل ہوئی تو میں نے اُس آدمی کو نہ دیکھا تھا ۔ پس میں عورتوں میں ہوگئی یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا۔ میں قریب ہوئی ۔ جب میں نے اُس چادر والے اور باریک کپڑوں والے آدمی کو دیکھا تو میری نگاہ اس کی طرف اٹھنا شروع ہوئی تاکہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کے اوپر سے دیکھو(مجھے معلوم نہ تھا ، اللہ کے رسول کون ہیں ) سورج بلند ہونے کے بعد ایک آدمی نے آکر کہا : "اسلام علیک یار سول اللہ !" تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "وعلیک السلام و رحمۃ اللہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پرانی چادریں پہن رکھیں تھیں، جن میں زعفران لگائی گئی تھی اور و ہ زعفران کو جھاڑ چکی تھیں ۔ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی چھیلی ہوئی ، اوپر سے پتوں سے خالی چھوٹی سے چھڑی تھی۔ گھٹنے کھڑے کر کے دونوں بازؤں سے حلقہ بنا کر بیٹھے تھے ۔ پس جب میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح خشوع و خضوع کی حالت میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ڈر سے مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ہم مجلس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ مسکینہ کانپ رہی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبکہ آپ مجھے دیکھ نہیں رہے تھے ، کیونکہ میں آپ کے پیٹھ پیچھے تھی۔ اے مسکینہ! سکون کر ۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل کا ڈر ختم کردیا ۔ میرا ساتھی حریث بن حسان سب سے پہلے آگے ہوا۔ اُس نے اسلام اور آپ کی قوم پر بیعت کی ۔ پھر عرض کی: اے اللہ کے رسول ! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دھناء (صحراء) ولی جگہ لکھ دیں ، اُن میں سے کوئی بھی اس سے ہماری طرف نہ بڑھے سوائے مسافر یا پھر تجاوز کر نےوالا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے غلام ! صحراء ان کو لکھ دے ۔ پس جب آپ نے اسے حکم دیا تو وہ میرے طرف دیکھ رہا تھا کیو نکہ وہ میر ا وطن اور میرا گھر تھا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! جب اس نے آپ سے سوال کیا تو اس نے برابری نہیں کی۔ دھناء تو آپ کے ہاں اونٹ باندھنے کی جگہ اور بھیڑ بکریوں کی چراگاہ ہے جبکہ بنو تمیم کی عورتیں اور بیٹے تو اس کے پیچھے رہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے غلام ! رک جا ۔ مسکینہ نے سچ کہا۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، ان میں پانی اور درخت کی وسعت ہوتی ہے اور وہ لونڈیوں کی خدمت کے سلسلے میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں ۔ پس جب حریث نے یہ چیز دیکھی کہ کتابت میں رکاوٹ آگئی ہے تو اُس نے اپنا ہاتھ دوسرے پر مار کر کہا: میں ہوں اور تو ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اُسے خودہی اپنی سوئے تدبیر سے مصیبت ملی ۔ عورت نے کہا: بخدا! میں نہیں جانتی اگر آپ نے تاریکی میں راہنماکا کر دار ادا کیا ہے ، ایک ایسے آدمی کے پاس جو رفیقہ سے پاک ہے یہاں تک کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئے ، لیکن تو مجھے اس بات پر ملامت تو نہ کر کہ میں نے اپنا حصہ مانگا ہے جب تونے اپنا حصہ مانگا ۔ اُس نے کہا: دھناء میں تیرا کیا حصہ ہے ؟ تیرا باپ مرے ۔ میں نے کہا: وہ میرے اونٹوں کے باندھنے کی جگہ ہے اور تو اپنی بیوی کے اونٹوں کے لیے مانگ رہا ہے ۔ اُس نے کہا: کوئی حرج نہیں بیشک میں اللہ کے رسول کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تیرا بھائی اور ساتھی جب تک میں زندہ ہوں ، جب تو نے مجھ پر اعتماد کیا ہے ۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہے ۔ میں نے کہا: جب میں نے شروع کیا تو میں ہرگز اسے ضائع نہ کروں گی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے بیٹے کو ملامت کی جائے گی کہ اس نے ایک ٹکڑہ الگ کر لیا اور حجرہ کے پیچھے والوں کی مدد کرتا ہے ۔میں رو پڑی پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! بخدا! میں نے اسے حرامی جنا۔ اُس نے رنذہ کے دن آپ کی معیت میں قتال کیا پھر وہ مجھے خیبر سے گزارکر لایا ۔ اُسے بخار ہو گیا اور وہ مر گیا ۔ اُس نے مجھ پر بیٹیوں کا بوجھ چھوڑا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے ، اُس ذات کی ، جس کے قبضے میری جان ہے ، اگر تو مسکینہ نہ ہوتی تو ہم تجھے منہ کے بل گھسیٹتے یا فرمایا: تجھے منہ کے بل گھسیٹا جاتا ۔ حضرت عبداللہ بن حسان کو شک ہے کہ ان دو الفاظ میں سے کون سا لفظ دونوں عورتوں نے روایت کیا ۔ کیا تم میں سے کوئی ایک مغلوب ہوتی ہے ، اس سے کہ دنیا میں نیکی کے ساتھ سنگت کی جائے ۔ پس جب اس کے اور اس سے اولیٰ کے درمیان رکاوٹ آئی تو کلمہ استرجاع کہا۔ پھر کہا: اے میرے رب ! جو میں نے گزارااس پر مجھے تسلی عطا فرما اور جو باقی ہے اس پر میری مدد کر ۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے ، تم عورتوں میں سے کوئی ایک روتی ہے تو مدد کی طلبگار ہوتی ہے ۔ اے اللہ کے بندو ! اپنے مُردوں کو عذاب میں مبتلا نہ کرو پھر سرخ چمڑے کے ٹکڑے میں اس کے حق میں لکھا : قیلہ اور قیلہ کی بیٹیوں میں عورتوں کے لیے حق ہے کہ ان کے حق میں کمی نہ کی جائے اور ان سے نکاح کرنے کو ناپسند نہ کیا جائے اور ہر مسلمان اور مؤمن ان کا مدد گار ہے ۔ ان سے نیکی کرنا اور برائی نہ کرنا۔ حضرت محمد بن ھشام فرماتے ہیں : ابن عائشہ نے ہمارے سامنے اس کی تفسیر بیان کی: فرصہ کا یک معنی : کبڑے پن والا ، فرصہ کا دوسرا معنی : کستوری خوشبوکا ٹکڑا ۔ فرصہ کا تیسرا معنی اپنی دولت کو جلدی سے قبول کر لے ۔ سبیج کا معنی : چا در کا کنارہ ۔ رتکان : ایک قسم کی چال ۔ انتفاخ : دوڑنا ، سفر۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21113
