المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20985
968 - حدثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا حبيب بن بشر أخو أبي الوليد الطيالسي لأمه حدثنا حماد بن مسعدة ثنا قرة بن خالد عن سيار أبي الحكم عن الشعبي قال : Y دخلنا على فاطمة بنت قيس فأتحفتنا برطب وشبعتنا سويق سلت وقالت : نودي في الناس : أن الصلاة جامعة فانطلقت فيمن انطلق من النساء فكنت في الصف الأول من النساء مما يلي الصف المؤخر من الرجال فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن بني عم لتميم الداري ركبوا في البحر وإن سفينتهم قذفتهم على جزيرة من جزائر البحر فرأوا هناك دابة يواريها شعرها فلما نظر إليها القوم قالت : أنا الجساسة وإن في ذلك الدير من هو بالأشواق إلى رؤيتكم فانطلق القوم فوجدوا إنسانا مكبلا بالحديد يصادرونه فكأنه أعجبه دخولهم فسألهم : أخرج صاحبكم بعد ؟ قالوا : نعم قال : بحيرة الطبرية ما فعل ؟ قلنا : كثيرة الماء قال : فما فعل نخل بيسان ؟ قلنا : قد أطعم قال : فعين زغر ؟ قلنا كثيرة الماء قال : أما أني لو خرجت لوطأت البلاد كلها غير مكة وطيبة قالت : فكأني أنظر إل رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أشخص يده : وهذه طيبة يوميء إلى المدينة
حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں : ہم حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر داخل ہوئے ۔ انہوں نے ہمیں ترکھجوریں کھلائیں ۔ ہمیں ستو پلایا ، جس سےہم سیر ہو گئے اور کہا : لوگوں میں ندادی گئی : "نماز تیار ہے "عورتوں میں سے جو چلیں ، میں اُن میں چلی ۔ میں عورتوں کی پہلی صف میں تھی ، جو مردوں کے پیچھے تھی ۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمیم داری کےچچاکے بیٹے سمندر میں سوارہوئے ۔ ان کی کشتی نے انہیں ایک سمندری جزیرے میں ڈال دیا ۔ پس انہوں نے وہاں ایک جانور دیکھا ، جس کو اس کے بالوں نے چھپا یا ہوا تھا ۔ پس جب قوم نے اُسے دیکھا تو اُس نے کہا: میں "جساسہ" ہوں ۔ اس گرجے میں ایک آدمی تمہیں دیکھنے کا مشتاق ہے ۔ قوم جلدی سے گئی ۔ ایک آدمی کو لوہے سے بندھا ہوا پایا ۔ وہ اُس سے ملے گویا وہ اُن کے داخل ہونے سے بہت خوش ہوا۔ اُس نے اُن سےسوال کیا ۔ کیا تمہارا صاحب پیدا ہوا ہے ؟ انہوں نےکہا: ہاں ۔ اُس نے کہا: "بحیرہ طبریہ " کا کیا بنا ؟ کہا: اُس میں کثیر پانی ہے ۔ پھر کہا: بیسان کے باغ کا کیا بنا ؟ کہا: پھل کھلاتا ہے ۔ کہا: "زُغر" کے چشمے کاکیا بنا ؟ کہا: اس مین کثیر پانی ہے ۔ کہا: اگر نکلاتو میں مکہ و طیبہ کے علاوہ روئے زمین کی سیر کروں گا۔ فرماتی ہیں : گویا میں اب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھ رہی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا: یہ طیبہ ہے، مدینہ شہر کی طرف اشارہ کیا ۔
نودي في الناس ← دخلنا على فاطمة بنت قيس فأتحفتنا برطب وشبعتنا سويق سلت ← الشَّعْبِيِّ، ← سيار أبي الحكم ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← حَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ، أَخُو أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ، لِأُمِّهِ ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20985
