المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20973
956 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا محمد بن أيوب أبو عاصم الثقفي ثنا عامر الشعبي قال : Y انطلقت أنا ورجل حتى دخلنا على فاطمة بنت قيس أخت الضحاك بن قيس فقلنا : يا فاطمة حدثينا حديثا سمعتيه من رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : نعم فأطعمتنا رطبا وسقتنا شرابا وقالت : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فجلس على المنبر فعاذ الناس به ولاذوا به فقال : أيها الناس إنما أجلسني خبر قالت : وفي غير الساعة التي كان يجلس فيها أن تميم الدار دخل علي اليوم في الهاجرة أو الظهيرة فأخبرني أن بني عم له ألقتهم سفينة لهم في البحر على جزيرة ولا يعرفونها فخرجوا فيها يمشون فلقوا شيئا لا يدرون رجلا هو أو امرأة ؟ مما عليه من الشعر فقالوا : من أنت ؟ قالت : أنا الجساسة قالوا : أخبرينا قالت : لا أخبركم ولا أستخبركم إن كنتم تريدون الخبر فعليكم بهذا الدير وأشار [ ت ] إلى دير في الجزيرة غير بعيد فانطلقنا نمشي حتى دخلنا فإذا رجل موثق بحديد كبير ثقيل وإذا هو مستند ظهره إلى سفح جبل قال : من أنتم قلنا : أناس من العرب قال : ما فعل النبي الأمي [ صلى الله عليه و سلم ] الذي ينتظر ؟ قلنا : قد خرج قال : فما فعل نخل بين عمان وبيسان ؟ قلنا : كهيأته يطعم ويثمر قال : فما فعلت عين زغر ؟ قلنا : كما هي قال : فما فعلت بحيرة الطبرية ؟ قلنا ملأى فضرب بيده بطن قدمه وقال : إني لو قد خرجت من مجلسي هذا لم أدع في الأرض بقعة إلا وطئتها إلا مكة وطيبة قال : ثم زفر فسار في الجبل ثم وقع ثم سار أخرى أبعد من ذلك ثم وقع ثم سار الثالثة فذهب في الجبل ثم وقع قال : قلنا : ماله لا بارك الله فيه وكأنه سر رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك قوله مكة وطيبة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طيبة مرتين لا يدخلها الدجال ليس منها نقب إلا عليه ملك شاهر السيف ومن نحو اليمن ما هو ؟ ثم قال بيده : وكم قميصه قريب من ثلاثين مرة من نحو العراق وما هو قريب من ثلاثين مرة
حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں : میں اور ایک آدمی چلے یہاں تک کہ ہم حضرت ضحاک بن قیس کی ہمشیرہ ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر داخل ہوئے ۔ ہم نے عرض کی: اے فاطمہ ! ہم سے ایسی حدیث بیان کریں ، جو آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو۔ کہا: ہاں، ٹھیک ہے۔ پس ہمیں تر کھجوریں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا ۔ کہا: ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر نکلے اور منبر پر جا بیٹھے ۔ پس لوگوں نے آپ کی پناہ لی اور آپ کے پاس بیٹھ گئے ۔ فرمایا: اے لوگو! میں ایک خبر سنانے کی خاطر بیٹھا ہوں۔( فرماتی ہیں : عام طور پر جس وقت آپ (منبر پر ) بیٹھا کر تے تھے ، اُس کے علاوہ گھڑی میں تشریف فرماہوئے ۔) بیشک حضرت تمیم داری آج دوپہر کے وقت آئے ۔ (ھاجرہ یاظھیرہ کا لفظ استعمال فرمایا) پس انہوں نے مجھے خبر دی کہ اُن کے چچا کے بیٹوں کو کشتی نے سمندر میں ایک جزیرہ میں جا اُتارا، جسے وہ (پہلے) نہ جانتے تھے ۔ پس وہ اُس میں چلتے ہوئے نکلے تو ایک چیز سے ملے ، اُ س کے اوپر بالوں کی وجہ سے وہ انداز ہ نہ کر سکے ، وہ عورت ہے یا مرد ۔ پو چھا ،تو کون ہے ؟ اُ س نے جواب دیا میں "جساسہ" ہوں ۔ انہوں نے کہا، ہمیں بتائے۔ اُ س نے کہا: میں نہ تمہیں کوئی خبر دوں گی نہ لوں گی ۔ اگر تم خبر حاصل کرناچاہتے ہو تو اس گرجے میں چلےجاؤ!ساتھ ہی جزیرہ میں موجود ایک گرجے کی طرف اشارہ کیا، جو زیادہ دور نہیں تھا ۔ ہم چلتے ہوئے گئے حتیٰ کہ اُس میں داخل ہوئے ، اچانک ایک آدمی کو دیکھا ، جو بڑی اور بوجھل لوہے کی زنجیر سے بندھا ہو اتھا ۔ اُس نے پہاڑ کے نچلے سخت حصے ( دامن کو ہ) سے اپنی پیٹھ لگا رکھی تھی ۔ کہا: تم کون ہو؟ ہم نے جواب دیا : ہم عرب لوگ ہیں ۔ کہا: نبی اُمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا ، جن کی انتظار کی جارہی تھی ؟ ہم نے کہا: وہ تشریف لائے ہیں ۔ کہا: عمان اور بیسان کے درمیان والے کھجوروں کے باغ کا کیا بنا؟ ہم نے کہا: اُسی طرح پھل کھلاتا اور لاتا ہے ۔ کہا: "زُغر" کے چشمے کا کیا بنا؟ ہم نے کہا: اُسی طرح ہے ۔ کہا: بحرطبریہ کا بنا ؟ ہم نے کہا: بھراہوا ہے ۔ پس اُس نے اپنے پاؤں کے تلوؤں پر ہاتھ مارا اور کہا: اگر میں اپنی اس بیٹھک سے نکلا تو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علاوہ زمین کا کوئی ٹکڑانہیں چھوروں گا مگر اُس میں چکر لگالوں گا۔ فرماتے ہیں : پھر اُس نے سانس لمباکر کے باہر نکالا اور پہاڑ میں چلاپھر گرا پھر دوسری بار پہلے سے کچھ زیادہ چلا پھر گر پڑا پھر تیسری بار چلا پہاڑ کے اندر چلا گیا ۔ پھر گر پڑا ۔ راوی کا بیان ہے ، ہم نے (آپس میں ) کہا: اسے کیا ہے ، اللہ اسے برکت نہ دے ۔ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے خوش ہوئے ، جس وقت مکہ اور طیبہ کا ذکر ہوا ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بار "طیبہ " کہا۔ (پھر فرمایا)اس میں دجال داخل نہ ہوگا۔ اس کے ہر دروازے پر ایک فرشتہ تلوار سونتے کھڑا ہوگا اور یمن کی طرف سے کیا ہے پھر ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا : اس حال میں کہ اُس کی قمیص کی آستین ، عراق کی طرف سے تیس کے قریب ہو گی اور تیس بارے کے قریب کیا ہے ۔
عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← محمد بن أيوب أبو عاصم الثقفي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20973
