Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20973

956 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا محمد بن أيوب أبو عاصم الثقفي ثنا عامر الشعبي قال : Y انطلقت أنا ورجل حتى دخلنا على فاطمة بنت قيس أخت الضحاك بن قيس فقلنا : يا فاطمة حدثينا حديثا سمعتيه من رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : نعم فأطعمتنا رطبا وسقتنا شرابا وقالت : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فجلس على المنبر فعاذ الناس به ولاذوا به فقال : أيها الناس إنما أجلسني خبر قالت : وفي غير الساعة التي كان يجلس فيها أن تميم الدار دخل علي اليوم في الهاجرة أو الظهيرة فأخبرني أن بني عم له ألقتهم سفينة لهم في البحر على جزيرة ولا يعرفونها فخرجوا فيها يمشون فلقوا شيئا لا يدرون رجلا هو أو امرأة ؟ مما عليه من الشعر فقالوا : من أنت ؟ قالت : أنا الجساسة قالوا : أخبرينا قالت : لا أخبركم ولا أستخبركم إن كنتم تريدون الخبر فعليكم بهذا الدير وأشار [ ت ] إلى دير في الجزيرة غير بعيد فانطلقنا نمشي حتى دخلنا فإذا رجل موثق بحديد كبير ثقيل وإذا هو مستند ظهره إلى سفح جبل قال : من أنتم قلنا : أناس من العرب قال : ما فعل النبي الأمي [ صلى الله عليه و سلم ] الذي ينتظر ؟ قلنا : قد خرج قال : فما فعل نخل بين عمان وبيسان ؟ قلنا : كهيأته يطعم ويثمر قال : فما فعلت عين زغر ؟ قلنا : كما هي قال : فما فعلت بحيرة الطبرية ؟ قلنا ملأى فضرب بيده بطن قدمه وقال : إني لو قد خرجت من مجلسي هذا لم أدع في الأرض بقعة إلا وطئتها إلا مكة وطيبة قال : ثم زفر فسار في الجبل ثم وقع ثم سار أخرى أبعد من ذلك ثم وقع ثم سار الثالثة فذهب في الجبل ثم وقع قال : قلنا : ماله لا بارك الله فيه وكأنه سر رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك قوله مكة وطيبة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طيبة مرتين لا يدخلها الدجال ليس منها نقب إلا عليه ملك شاهر السيف ومن نحو اليمن ما هو ؟ ثم قال بيده : وكم قميصه قريب من ثلاثين مرة من نحو العراق وما هو قريب من ثلاثين مرة

حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں : میں اور ایک آدمی چلے یہاں تک کہ ہم حضرت ضحاک بن قیس کی ہمشیرہ ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر داخل ہوئے ۔ ہم نے عرض کی: اے فاطمہ ! ہم سے ایسی حدیث بیان کریں ، جو آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو۔ کہا: ہاں، ٹھیک ہے۔ پس ہمیں تر کھجوریں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا ۔ کہا: ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر نکلے اور منبر پر جا بیٹھے ۔ پس لوگوں نے آپ کی پناہ لی اور آپ کے پاس بیٹھ گئے ۔ فرمایا: اے لوگو! میں ایک خبر سنانے کی خاطر بیٹھا ہوں۔( فرماتی ہیں : عام طور پر جس وقت آپ (منبر پر ) بیٹھا کر تے تھے ، اُس کے علاوہ گھڑی میں تشریف فرماہوئے ۔) بیشک حضرت تمیم داری آج دوپہر کے وقت آئے ۔ (ھاجرہ یاظھیرہ کا لفظ استعمال فرمایا) پس انہوں نے مجھے خبر دی کہ اُن کے چچا کے بیٹوں کو کشتی نے سمندر میں ایک جزیرہ میں جا اُتارا، جسے وہ (پہلے) نہ جانتے تھے ۔ پس وہ اُس میں چلتے ہوئے نکلے تو ایک چیز سے ملے ، اُ س کے اوپر بالوں کی وجہ سے وہ انداز ہ نہ کر سکے ، وہ عورت ہے یا مرد ۔ پو چھا ،تو کون ہے ؟ اُ س نے جواب دیا میں "جساسہ" ہوں ۔ انہوں نے کہا، ہمیں بتائے۔ اُ س نے کہا: میں نہ تمہیں کوئی خبر دوں گی نہ لوں گی ۔ اگر تم خبر حاصل کرناچاہتے ہو تو اس گرجے میں چلےجاؤ!ساتھ ہی جزیرہ میں موجود ایک گرجے کی طرف اشارہ کیا، جو زیادہ دور نہیں تھا ۔ ہم چلتے ہوئے گئے حتیٰ کہ اُس میں داخل ہوئے ، اچانک ایک آدمی کو دیکھا ، جو بڑی اور بوجھل لوہے کی زنجیر سے بندھا ہو اتھا ۔ اُس نے پہاڑ کے نچلے سخت حصے ( دامن کو ہ) سے اپنی پیٹھ لگا رکھی تھی ۔ کہا: تم کون ہو؟ ہم نے جواب دیا : ہم عرب لوگ ہیں ۔ کہا: نبی اُمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا ، جن کی انتظار کی جارہی تھی ؟ ہم نے کہا: وہ تشریف لائے ہیں ۔ کہا: عمان اور بیسان کے درمیان والے کھجوروں کے باغ کا کیا بنا؟ ہم نے کہا: اُسی طرح پھل کھلاتا اور لاتا ہے ۔ کہا: "زُغر" کے چشمے کا کیا بنا؟ ہم نے کہا: اُسی طرح ہے ۔ کہا: بحرطبریہ کا بنا ؟ ہم نے کہا: بھراہوا ہے ۔ پس اُس نے اپنے پاؤں کے تلوؤں پر ہاتھ مارا اور کہا: اگر میں اپنی اس بیٹھک سے نکلا تو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علاوہ زمین کا کوئی ٹکڑانہیں چھوروں گا مگر اُس میں چکر لگالوں گا۔ فرماتے ہیں : پھر اُس نے سانس لمباکر کے باہر نکالا اور پہاڑ میں چلاپھر گرا پھر دوسری بار پہلے سے کچھ زیادہ چلا پھر گر پڑا پھر تیسری بار چلا پہاڑ کے اندر چلا گیا ۔ پھر گر پڑا ۔ راوی کا بیان ہے ، ہم نے (آپس میں ) کہا: اسے کیا ہے ، اللہ اسے برکت نہ دے ۔ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے خوش ہوئے ، جس وقت مکہ اور طیبہ کا ذکر ہوا ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بار "طیبہ " کہا۔ (پھر فرمایا)اس میں دجال داخل نہ ہوگا۔ اس کے ہر دروازے پر ایک فرشتہ تلوار سونتے کھڑا ہوگا اور یمن کی طرف سے کیا ہے پھر ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا : اس حال میں کہ اُس کی قمیص کی آستین ، عراق کی طرف سے تیس کے قریب ہو گی اور تیس بارے کے قریب کیا ہے ۔

عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← محمد بن أيوب أبو عاصم الثقفي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20973

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20974

957 - حدثنا أبو عبيدة عبد الوارث بن إبراهيم العسكري ثنا سيف بن مسكين الأسواري ثنا أبو الأشهب جعفر بن حيان العطاردي عن عامر الشعبي Y عن فاطمة بنت قيس قالت : سمعت منادي رسول الله صلى الله عليه و سلم ينادي الصلاة جامعة فخرجت في نسوة من الأنصار حتى أتينا المسجد فصلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الظهر ثم صعد المنبر فاستقبلنا بوجهه ضاحكا ثم قال : إني والله ما جمعتكم لرغبة ولا لرهبة إلا لحديث حدثني به تميم الداري أتاني فأسلم وبايع وأخبرني أنه ركب في ثلاثين رجلا من لخم وجذام وهما حيان من أحياء العرب من أهل اليمن فصادفوا البحر حين اغتلم فلعب بهم الموج شهرا ثم قذفهم قريبا من غروب الشمس إلى جزيرة من جزائر البحر فإذا نحن بدابة أهلب لايعرف قبلها من دبرها قلنا : من أنت أيها الدابة فاذن الله فكلمتنا بلسان ذلق طلق فقالت : أنا الجساسة قلنا : وما الجساسة ؟ قالت : إليكم عني عليكم بذاك الدير في أقصى الجزيرة فإن فيه رجلا هو إلى خبركم بالأشواق قال : فأتينا الدير فإذا نحن برجل أعظم رجل رأيته قط وأحسنه جسما فإذا هو ممسوح العين اليمنى كأن عينه نخامة في جدار مجصص وإذ يداه مغلولتان إلى عنقه وإذ رجلاه مشدودتان بالكبول من ركبتيه إلى قدميه فقلنا له : ما أنت أيها الرجل ؟ فقال : أما خبري فقد قدرتم عليه ولكن أخبروني عن خبركم ما أوقعكم هذه الجزيرة ؟ وهذه الجزيرة لم يصل إليها آدمي مذ خرجت إليها فاخبرناه فقال : أخبروني عن بحيرة الطبرية ما فعلت ؟ قلنا : عن أي أمرها تسأل ؟ قال : هل نضب ماؤها ؟ وهل بدأ فيها من العجائب ؟ قلنا : لا قال : أما أنه سيكون ثم سكت مليا ثم قال : أخبروني عن عين زغر ما فعلت ؟ قلنا : عن أي أمرها تسأل ؟ قال : هل يحترث عليها أهلها ؟ قلنا : نعم قال : أما أنه سيغور عنها ماؤها ثم سكت مليا فقال : : أخبروني عن نخيل بيسان ما فعل ؟ قلنا له : عن أي أمرها تسأل ؟ قال : هل يثمر ؟ قلنا : نعم قال : أما إنه لايثمر ثم سكت مليا فقال : أخبروني عن النبي الأمي ما فعل ؟ قلنا : عن أي أمره تسأل ؟ قال : هل ظهر بعد ؟ قلنا : نعم قال : فما صنعت معه العرب ؟ فقلنا له : منهم من قاتله ومنهم من صدقه قال : أما إنه من صدقه فهو خير له فقلنا : أخبرنا خبرك أيها الرجل فقال : أما تعرفونني ؟ قلنا : لو عرفناك ما سألناك قال : أنا الدجال يوشك أن يؤذن لي في الخروج فإذا خرجت وطأت جزائر العرب كلها غير مكة وطيبة كلما أردتهما استقبلني ملك بيده سيف مصلتا فردني عنهما قال أبو الأشهب قال عامر قالت فاطمة بنت قيس : فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم رافعا يديه حتى رأينا بياض ابطيه ثم قال : ألا أخبركم أن هذه طيبة ؟ ثلاثا ثم قال : ألا أخبركم أنه في بحر الشام ثلاثا ثم أغمي عليه ساعة ثم استريح ثم سري عنه فقال : بل هو في بحر العراق إن يخرج حين يخرج من بلدة يقال لها أصبهان من قرية من قراها يقال لها رستقاباد ويخرج من يخرج على مقدمته سبعون ألفا عليهم السيجان معه نهران نهر من ماء ونهر من نار فمن أدرك ذلك منكم فقيل له : ادخل الماء فلا يدخله فإنه نار وإذا قيل له ادخل النار فليدخلها فإنه ماء

حضرت عامر شعبی سے مروی ہے ، انہوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ۔ فرماتی ہیں : میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے منادی کرنے والے کی آواز سنی :"الصلٰوۃ جامعۃ" (نماز تیار ہے ۔)تو میں بھی انصاری عورتوں کے ساتھ گھر سے نکلی حتیٰ کہ ہم مسجد میں آئیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہنستے ہوئے ہماری طرف منہ کیا پھر فرمایا: بے شک میں نے تمہیں ترغیب و تر ہیب کی بات سنانے کے لیے اکٹھا نہیں کیا۔ (بلکہ) صرف وہ بات سنانے کے لیے اکٹھا کیا ہے ، جو تمیم داری نے مجھے سنائی ہے ۔ انہوں نے میرے پاس آکر اسلام قبول کر کے بیعت کی اور مجھے خبر دی کہ وہ تیس آدمیوں کے قافلے میں سوار ہوئے ، جن کا تعلق بنو لخم اور جذام سے تھا ۔ (یہ دونوں قبیلے اہل یمن کے عرب قبیلوں سے ہیں ۔) پس وہ سمندر سے باہم ٹکرائے جب وہ موج میں تھا۔ پس سمندر کی موجیں ایک ماہ تک اُن کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر اُن کو غروب آفتاب کے قریب سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ میں پھینک دیا ۔ (وہ کہتے ہیں ) اچانک ہم نے زیادہ بالوں والا جانودیکھا ، جس کے آگے پیچھے کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ پوچھا : اے جانور! تو کون ہے ؟ اُس نے جواب دیا : میں "جساسہ" ہوں ۔ ہم نے کہا : "جساسہ " کیا چیز ہے ؟ اُس نے کہا: مجھ سے دور ہو جاؤ ! تم پر اُس گرجے میں جانا لازم ہے ، جو تمہاری بات سننے کا بڑا شوق رکھتا ہے ۔ فرماتے ہیں : ہم وہاں گئے تو ہماری نگاہ ایک ایسے آدمی پر پڑی ، جس سے بڑا آدمی ہم نے کبھی نہ دیکھا ۔ جسم بڑا خوبصورت تھا ، لیکن اس کی دائیں آنکھ مسخ شدہ تھی ۔ گو یا اُس کی آنکھ چونا گچ دیوار میں رینٹھ کی مانند تھی جبکہ اُس کے ہاتھ اُس کی گردن سے بندھے ہوئے تھے اور اُس کی ٹانگیں گھٹنوں سے پاؤں تک بیڑیوں سے جکڑی ہوئی تھیں ۔ ہم نے کہا: اے آدمی !تو کون ہے ؟ جہاں تک تعلق ہے ، میری خبر کا تو اُس ( کو جاننے) پر تم قادر ہو (یعنی تہمارے نبی نے تمہیں بتایا ہے ۔) لیکن تم مجھے خبر دو کہ تم اس جزیرے میں کیسے آگئے ؟ جب سے میں از جزیرے میں آیا ہوں تو کوئی آدمی (آج تک ) اس تک نہیں پہنچ پایا ۔ ہم نے اُسے بتایا ۔ اُس نےکہا: تم مجھے"بحیرہ طبریہ " کے بارے بتاؤ ! اُس کا کیا ہو ا۔ ہم نے کہا: کس حوالے سے اُس کے بارے سوال کر رہے ہو؟ کہا: کیا اُس کا پانی نیچے زمین میں چلا گیا ہے ؟ اور کیا اس میں عجائبات طاہر ہونا شرو ع ہو گئے ہیں ؟ ہم نے کہا : نہیں ۔ کہا: بہر حال عنقریب ایسا ہوا۔ پھر وہ کافی دیر خاموش رہا ۔ پھر کہا: "زُغر" کے چشمے کا کیا بنا؟ ہم نے کہا: کس حوالے سے اُس کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ کیا اُس پر رہنے والے کھیتی باڑی کر تے ہیں ؟ ہم نے کہا: ہاں ۔ کہا: عنقریب اُس کا پانی زمین میں چلا جائے گا پھر وہ کافی دیر تک خاموش رہا ۔ کہا: مجھے بیسان کے باغ کی خبر دیں کہ اُس کا کیا بنا؟ ہم نے کہا : کس حوالے اس اُس کے بارےمیں سوال کر رہے ہو؟ کیا وہ پھل دیتا ہے ؟ ہم نے کہا: ہاں ۔ کہا: بہر حال (ایک دن آئے گا کہ ) وہ پھل نہیں دے گا۔ پھر وہ کافی دیر تک خاموش رہا ۔ پھر کہا : مجھے نبی اُمی کے بارے میں خبر دیں کہ اُن کا کیا بنا ؟ ہم نے کہا: کس حوالے سے اُس کے بارے میں سوال کر رہے ہو ؟ کہا: ابھی ظاہر ہوئے ؟ ہم نے کہا: ہاں ۔ کہا: عربوں نے اُ ن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہم نے کہا: اُن میں سے بعض نے اُن سے لڑائی کی ۔ بعض نے اُن کی تصدیق کی ۔ اُس نے کہا: جس نے اُن کی تصدیق کی ، اُس کے لیے بہتر ہے ۔ ہم نے کہا: اے آدمی ! آپ ہمیں اپنی خبر دیں ؟ اُس نے کہا: کیا آپ مجھے نہیں جانتے ہیں ؟ ہم نے کہا: اگر ہم آپ کو جانتے ہوئے تو سوال نہ کرتے ۔ کہا: میں دجال ہوں ۔ قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت ملے ۔ پس جب میں نکلا تو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علاوہ عرب کے تمام جزیروں کا چکر لگاؤں گا۔ جب بھی میں ان دونوں کا ارادہ کروں گا تو ایک فرشتہ تلوار سونتے ہوئے میرے سامنے آئے گا اور اُن سے میرا منہ موڑ دے گا۔ (راوی حدیث ) حضرت ابو اشہب فرماتے ہیں : حضرت عامر کا قول ہے : حضرت فاطمہ بنت قیس نے فرمایا: میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہاتھ اُٹھائے ہو ئے دیکھا یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ یہ "طیبہ " ہے ۔ تین بار ۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ وہ شام کے سمندر میں ہے ۔ تین بار ۔ پھر ایک گھڑی کے لیے آپ پر غشی طاری ہو گئی پھر راحت حاصل ہوئی اور وہ کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا : بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے ۔ اگر وہ نکلے گا، جب وہ نکلے گا اُس شہر سے جس کو " اصبہان" کہا جائے گا ، یہ اُس کے دیہاتوں میں سے ایک دیہات ہوگا ، جس نا م "رستقاباؤ" ہوگا ۔ اُس کے آگے ستر ہزار لوگ نکلیں گے ۔ اُن پر تاج ہوں گے ۔ اُ س کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ، ایک پانی کی اور آگ کی ۔ پس تم میں سے جو اسے پائے اور اسے کہا جائے کہ پانی میں داخل ہو تو وہ اُس میں داخل نہ ہو ، کیونکہ وہ حقیقت میں آگ ہو گی اور جب اُسے کہا جائے کہ آگ میں داخل ہو تو وہ داخل ہو جائے ، کیونکہ وہ پانی ہوگا۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← أَبُو الْأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ ← سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ الْأُسْوَارِيُّ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20974

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20975

958 - حدثنا حفص بن عمرو بن الصباح الرقي ثنا أبو معمر عبد الله بن أبي الحجاج المنقري ثنا عبد الوارث بن سعيد حدثني حسين بن ذكوان المعلم حدثني ابن بريدة حدثني عامر بن شراحيل الشعبي شعب همدان Y أنه سأل فاطمة بنت قيس أخت الضحاك بن قيس وكانت من المهاجرات الأول قال : حدثيني حديثا سمعتيه من رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تسنديه إلى أحد غيرك قالت : لئن شئت لأفعلن قال لها : أجل حدثيني قالت : سمعت نداء منادي رسول الله صلى الله عليه و سلم ينادي الصلاة جامعة فخرجت إلى المسجد فصليت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وكنت في صف النساء الذي يلي ظهور القوم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاته جلس على المنبر وهو يضحك فقال : ليلزم كل إنسان مصلاه ثم قال : هل تدرون لم جمعتكم ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم قال : إني والله ما جمعتكم لرغبة ولا لرهبة ولكن جمعتكم لأن تميم الداري كان رجلا نصرانيا فجاء فبايع وأسلم وحدثني حديثا وافق الذي أحدثكم عن مسيح الدجال حدثني : أنه ركب في سفينة بحرية مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام فلعب بهم الموج شهرا في البحر ثم أرفضوا إلى جزيرة في البحر حين مغرب الشمس فجلسوا في قارب السفينة فدخلوا الجزيرة فلقيتهم دابة أهلب كثيرة الشعر لايدرون ما قبله من دبره من كثرة الشعر فقالوا : ويلك ما أنت ؟ قالت : أنا الجساسة قالوا : وما الجساسة ؟ قالت : أيها القوم انطلقوا إلى هذا الرجل في الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق قال : فلما سمت لنا رجلا فرقنا [ منها ] أن تكون شيطانة فانطلقنا سراعا حتى دخلنا الدير فغذا فيه أعظم إنسان رأيناه قط خلقا وأشده وثاقا مجموعة يداه إلى عنقه مابين ركبتيه إلى كعبيه بالحديد قلنا : ويلك ما أنت ؟ قال : قد قدرتم على خبري فأخبروني ما أنتم ؟ قالوا : أناس من العرب ركبنا في سفينة بحرية فصادفنا البحر حين اغتلم فلعب بنا الموج شهرا ثم القتنا إلى جزيرتك هذه فجلسنا في قاربها فدخلنا الجزيرة فلقينا دابة أهلب كثيرة الشعر لا ندري قبله من دبره من كثرة الشعر فقلنا : ويلك ما أنت ؟ قالت : أنا الجساسة قلنا : وما الجساسة ؟ قالت : اعمدوا إلى هذا الرجل فإنه إلى خبركم بالأشواق فاقبلنا إليك سراعا ففزعنا منها وما أمنا أن تكون شيطانة فقال : أخبروني عن نخيل بيسان قلنا : عن أي شأنها تستخبر ؟ قال : أسألكم عن نخلها هل يثمر ؟ قلنا له : نعم قال : أما إنها يوشك أن لا تثمر قال : أخبروني عن بحيرة الطبرية قلنا : عن أي شأنها تستخبر ؟ قال : هل فيها ماء ؟ قلنا : هي كثيرة الماء قال : أخبروني عن عين زغر قالوا : عن أي شأنها تستخبر ؟ قال : قال : هل في العين ماء ؟ وهل يزرع أهلها بماء العين ؟ قلنا نعم وهي كثيرة الماء وأهلها يزرعون بمائها قال : أخبروني عن النبي الأمي ما فعل ؟ قالوا : خرج من مكة ونزل يثرب قال : أفقاتله العرب ؟ قلنا : نعم قال : كيف صنع بهم ؟ فأخبرناه أنه ظهر على من يليه من العرب فأطاعوه قال لهم : لقد كان ذلك ؟ قلنا نعم قال : أما إن ذلك خير لهم أن يصنعوه [ أن يطيعوه ] إني مخبركم عني إني أنا المسيح وإنه يوشك أن يؤذن لي في الخروج فاخرج فأسير في الأرض فلا أدع قرية إلا هبطتها في أربعين ليلة غير مكة وطيبة وهما محرمتان علي كلما أردت أن أدخل واحدة منهما استقبلني ملك بيده السيف صلتا يصدني عنها وإن على كل نقب منها ملائكة يحرسونها قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وضرب بمخصرته المنبر : هذه طيبة هذه طيبة هذه طيبة يعني المدينة ألا هل كنت حدثتكم ذلك ؟ فقال الناس : نعم قال : فإنما أعجبني حديث تميم الداري لأنه وافق الذي كنت [ أحدثكم ] عنه وعن المدينة ومكة ألا إنه في بحر الشام أو بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق وأومأ بيده [ إلى المشرق ] قالت : حفظت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عامر بن شراحیل شعبی حدیث بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ضحاک بن قیس کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا ۔ (اُن کا تعلق پہلے ہجر ت کر کے آنے والی عورتوں سے تھا ) کہا: مجھے وہ حدیث سنائیں جو آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، جس کی نسبت تیرے علاوہ کسی کی طرف نہ ہو ۔ فرمایا : اگر آپ چاہیں تو میں ایسا کرتی ہوں ۔ انہوں نے کہا: ہاں مجھے حدیث سنائیں : فرمایا: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے منادی دینے والے کی آواز سنی ، جونداء دے رہا تھا : "الصلٰوۃ جامعۃ" (نماز تیار ہے ) تو میں بھی مسجد کی طرف نکلی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میں نے نماز پڑھی ۔ میں اُن عورتوں کی صف میں تھی ، جو مردوں کی پیٹھوں سے ملی ہوئی تھی ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کرلی تو ہنستے ہوئے منبر پر چڑھے اور فرمایا : ہر آدمی اپنی نماز والی جگہ پر بیٹھا رہے پھر فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے ، میں نے تمہیں کیوں اکٹھاکیا ؟ عرض کی: اللہ اور اس کا رسول جانے ۔ فرمایا: بے شک میں نےتمہیں ترغیب و ترہیب کی بات سنانے کے لیے اکٹھا نہیں کیا ۔ کیونکہ تمیم داری عسائی مذہب رکھتا تھا ۔ انہوں نے آکر بیعت کر کے اسلام قبول کی ہے اور مجھے خبر دی ہے ، جو اُس خبر کے عین مطابق ہے ، جو میں تمہیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا ہوں ۔ انہوں نےبیان کیا کہ وہ تیس آدمیوں کے قافلے کے ساتھ سمندر میں سوار ہوئے ، جن کا تعلق بنو لخم اور جذام سے تھا ۔ (یہ دونوں قبیلے اہل یمن کے عرب قبیلوں سے ہیں ۔) پس سمندر کی موجیں ایک ماہ تک اُن کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر اُن کو غروب آفتاب کے قریب ایک جزیرہ میں پھینک دیا ۔ (وہ کہتے ہیں ) اچانک ہم نے زیادہ بالوں والا جانوردیکھا ، بالوں کی کثرت کی وجہ سے لوگ اس کے آگے پیچھے کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ پو چھا ، تجھے افسوس ! تو کون ہے ؟ اُس نے جواب دیا : میں "جساسہ" ہوں ۔ ہم نے کہا: "جساسہ" کیا چیزہے ؟ اُس نے کہا: مجھ سے درود ہوجاؤ!تم پر اُس گرجے میں جانا لازم ہے ، جو جزیرہ کے آخر میں ہے ، کیونکہ اُس میں ایک آدمی ہے ، جو تمہاری بات سننے کا بڑا شوقین ہے ۔ فرماتے ہیں : ہم وہاں گئے تو ہماری نگاہ ایک ایسے آدمی پر پڑی ، جس سے بڑا آدمی اور سختی سے بندھا ہوا ہم نےکبھی نہ دیکھا تھا جبکہ اُس کے ہاتھ اُس کی گردن سے بندھے ہوئے تھے اور اُس کی ٹانگیں گھٹنوں سے پاؤں تک بیڑیوں سے جکڑی ہوئی تھیں ۔ ہم نے کہا: تجھے افسوس !تو کون ہے ؟ اُس نے کہا: جہاں تک تعلق ہے ، میری خبر کا تو اُس (کو جاننے ) پر تم قادرہو(یعنی تمہارے نبی نے تمہیں بتایا ہے ۔) لیکن تم مجھے اپنی خبر دو کہ تم کون ہو ؟ پس ہم نے اُسے بتایا ۔ ہم عرب کے لوگ ہیں ۔ ہم سمندر کشتی پر سوار ہوئے ۔ سمندر سے ٹکرائے جب وہ موج میں تھا ۔ پس سمندر کی موجیں ایک ماہ تک ہمارے ساتھ کھیلتی رہیں پھر انہوں نےہمیں تیرے اس جزیرہ میں پھینک دیا ۔ پس ہم اس کے قریب بیٹھ گئے اور اس جزیرہ میں داخل ہوئے ۔ اچانک ہم نے زیادہ بالوں والا جانور دیکھا ، بالوں کی کثرت کی وجہ سے لوگ اس کے آگے پیچھے کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ پو چھا : تجھے افسوس ! تو کون ہے ؟ اُس نے جواب : میں "جساسہ" ہوں ۔ ہم نے کہا: "جساسہ "کیا چیز ہے ؟ اُس نے کہا:مجھ سے درو ہو جاؤ ! تم پر اُس گرجے میں جانا لازم ہے ، جزیرہ کے آخر میں ہے ، کیونکہ اُس میں ایک آدمی ہے ، جو تمہاری بات سننے کابڑا شوقین ہے ۔ پس ہم جلدی کر کے تیری طرف آگئے ۔ پس ہم اُسے دیکھ کر گھبرا گئے ۔ ہمیں اس بات سےامن نہ تھا کہ وہ کوئی شیطان عورت ہے ۔ مجھے بیسان کے باغ کی خبر دیں کہ اُس کا کیا بنا؟ ہم نے کہا : کس حوالے سے اُس کے بارے سوال کر رہے ہو؟ کہا: کیا وہ پھل دیتا ہے ؟ ہم نے کہا: ہاں ۔ کہا: بہر حال ( ایک دن آئے گا کہ ) وہ پھل نہیں دے گا ۔ اُس نے کہا : تم مجھے "بحیرہ طبریہ" کے بارے بتاؤ! ہم نے کہا: کس حوالے سے اُس کے بارے سوال کر رہے ہو؟ کہا: کیا اُس کاپانی نیچے زمین چلا گیا ہے ؟ ہم نے کہا: اس میں کثیر پانی ہے ۔ پھر کہا: "زُغر" کے چشمے کا کیا بنا ؟ ہم نے کہا : کس حوالے سے اُ س کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ کہا: کیا اس کے چشمے میں پانی ہے ۔ اُس پر رہنے والے چشمے کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں ؟ ہم نے کہا: ہاں اس میں کثیر پانی ہے ۔ اُس پر رہنے والے اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں ۔ پھر کہا: مجھے نبی امی کے بارےمیں خبر دیں کہ اُن کا کیا بنا؟ ہم نے کہا: وہ مکہ سے ہجرت کر کےمدینے آگئے ہیں ۔ کہا: عربوں نے اُن کے ساتھ جنگ کی ؟ ہم نےکہا: ہاں ۔ اُس نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ پس ہم نے اُسے خبر دی کہ وہ اُن لوگوں کے پاس آئے ہیں ، جوعرب سے ملے ہوئے ہیں ۔ پس انہوں نے ان کی اطاعت کی ہے ۔ اُس نے اُن سے کہا : یہی ہوا ہے ؟ ہم نے کہا: ہاں ۔ اُس نے کہا: یہی کرنا ان کے لیے بہتر کہ وہ ان کی اطاعت کریں ۔ میں تمہیں اپنی خبر دیتا ہو: میں مسیح (دجال) ہوں ۔ قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت ملے ۔ پس جب میں نکلا تو میں روئے زمین کی سیر کروں گا ۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علاوہ ہر دیہات میں اتروں گا ۔ ان میں جانا مجھ پر حرام کر دیا گیا ہے ۔ جب بھی میں ان دونوں میں کسی ایک کا ارادہ کروں گا تو ایک فرشتہ تلوار سونتے ہوئے میرے سامنے آجائے گا اور مجھے روک دے گا ۔ اس کی ہر گلی کے دروازے پر فرشتے حفاظت کرتےہوں گے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس حال میں کہ منبر پر اپنا عصا مبارک مارا : یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ ۔ تین بار ۔ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : ہاں ۔ فرمایا : حضرت تمیم داری کی بات نےمجھے خوش کیا کیونکہ یہ اُسی بات کے موافق ہے ، جو میں تمہیں اُس کے بارے اور مکہ و مدینہ کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ خبر دار ! وہ شام یایمن کے سمندر میں ہے ۔ نہیں بلکہ مشرق کی طرف سےآئے گا اور ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا ۔ حضرت فاطمہ بنت قیس نے کہا: یہ حدیث میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے۔

عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ شَعْبُ هَمْدَانَ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ الْمُعَلِّمُ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو معمر عبد الله بن أبي الحجاج المنقري ← حفص بن عمرو بن الصباح الرقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20975

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20976

959 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا عبد الله بن جعفر الرقي ثنا عيسى بن يونس عن عمران بن سليمان القيسي عن الشعبي قال : Y حدثتني فاطمة بنت قيس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نادى الصلاة جامعة في ساعة لم يكن ينادي فيها فخرج الناس على المسجد فجاء النبي صلى الله عليه و سلم فصعد المنبر ثم قال : أنذركم الدجال ثلاثا إنه لم يكن فيما مضى وإنه كائن فيكم أيتها الأمة وإن تميما الداري اخبرني أنه ركب بحر الشام في نفر من لخم وجذام فألقتهم الريح إلى جزيرة من جزائره فإذا هم بالدهماء تجر شعرها فقالوا من أنت ؟ قالت : أنا الجساسة قالوا أخبرينا قالت : ما أنا بمخبركم ولا استخبرتكم ولكن ائتوا رجلا في هذا الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق فأتوه فإذا رجل ممسوح العين موثوق إلى سارية في الحديد فقال : ما أنتم ؟ قالوا : نحن العرب قال : ما فعلت العرب ؟ قلنا : بعث إليهم نبي أمي يدعوهم إلى الله قال : فما فعل الناس ؟ قالوا : اتبعه قوم وتركه قوم قال : أما أنهم إن يتبعونه ويصدقونه خير لهم لو كانوا يعلمون ثم قال : ما فعلت العرب ؟ أي شيء لباسهم ؟ قلنا : صوف وقطن تغزله نساؤهم فضرب بيده على فخذه ثم قال : هيهات ثم قال : ما فعلت نخل بيسان ؟ قلنا : قوي ونجدها في كل عام فضرب بيده على فخذه ثم قال : هيهات ثم قال : ما فعلت عين زغر ؟ قلنا : كثير ماؤها يتدفق يروي من أتاها فضرب بيده على فخذه ثم قال : هيهات ثم قال : لو قد أطلقني الله من وثاقي لم يبق منهل إلا دخلته إلا مكة وطيبة فإنه ليس لي دخولهما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تلك مكة وهذه طيبة حرمها الله كما حرم إبراهيم مكة أما إنه ليس نقب ولاسكة إلا وعليها ملك شاهر للسيف يمنعها من الدجال إلى يوم القيامة

حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےمجھ سے حدیث بیان کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نداء دی : "الصلٰوۃ جامعۃ" (نماز تیار ہے ۔) ایسی گھڑی میں جس میں عموماً ندا نہیں دی جاتی تھی ۔ تو لوگ مسجد کی طرف نکلے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر منبر پر چڑھے اور فرمایا : میں تمہیں دجال سے ڈرایا کرتا ہوں ۔ تین با ر کہا۔ وہ اس سے پہلے نہیں ہوا ۔ وہ تم میں ہو گا ۔ بیشک تمیم داری نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ بنو لخم اور بنو جذم کے چند (تین سے دس کے درمیان) آدمیوں کے قافلے کے ساتھ شام کے سمندر میں سوارہوئے ، آندھی نے انہیں اس کے جزیروں میں ایک جزیرہ میں پھینک دیا ۔ (وہ کہتے ہیں ) اچانک وہ ایک سیاہ جانور کے پاس تھے ، جو اپنے بالوں کو کھینچ رہا تھا والا جانور دیکھا ۔ پو چھا ، توکون عورت ہے ؟ اُس نے جواب دیا : میں "جساسہ " ہوں ۔ انہوں نے کہا : ہمیں خبر دے ۔ اُس نے "جساسہ" ہوں ۔ انہوں نے کہا: ہمیں خبر دے ۔ اُس نے کہا، نہ میں تمہیں کوئی خبر دوں گی اور نہ تم سے کوئی خبرلوں گی ۔ لیکن تم اُس گرجے میں ایک آدمی کے پاس جاؤکیونکہ وہ تمہاری بات سننے کا بڑا شوقین ہے ۔ (فرماتے ہیں ) ہم اس کے پاس آئے تو ہماری نگاہ ایک ایسے آدمی پر پڑی ، جس کی آنکھ مسخ شدہ تھی اور وہ ایک ستون سے بندھا ہوا تھا۔ اُس نے کہا: تم کون ہو؟ ہم نے کہا : ہم عرب ہیں ۔ اُس نے کہا: عربوں نےکیا کیا ؟ پس ہم نے اُسے بتایا کہ اُن میں ایک امی نبی مبعوث ہوا ہے ، جو انہیں اللہ کی طرف بلاتا ہے ۔ کہا: عربوں نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہم نے کہا: اُن میں سے بعض نے اُنہیں چھوڑدیا ۔ اُس نے کہا: اگر وہ اُن کی پیروی اور تصدیق کریں تو ان کے لیے بہتر اگر وہ جانتے ہوں ۔ پھر کہا: عربوں نے کیا؟ اُن کا لباس کس چیز کا ہے ؟ ہم نے کہا: صوف اور روئی کا ، جوان کی عورتیں بنتی ہیں ۔ پس اُس نے اپنی ران پر ہاتھ مارا ۔ پھر کہا : دُور ہے ۔ پھر کہا: بیسان کے باغ کا کیا بنا ؟ ہم نے کہا: مظبوط ہے اور ہم ہر سال اس کا پھل پاتے ہیں ۔ پس اُس نے اپنی ران پر ہاتھ مارا ۔ پھر کہا : دور ہے ۔ پھر کہا: اگر اللہ نےمیری بیڑیاں کھول دیں تو مکہ و طیبہ (مدینہ ) کے علاوہ کوئی منزل نہیں رہے گی مگر میں اس میں داخل ہوں گا ، ان میں داخل ہونے کی مجھے اجازت نہیں ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: وہ مکہ اور یہ طیبہ ہے ۔ اللہ نے انہیں حرمت والا بنا دیا ہے جیسے حضرت ابراہیم نے مکے کو حرمت والا بنایا تھا ۔ اس کے ہر دروازے اور گلی پر فرشتہ تلوا ر سونتے کھڑا ہوگا ، جو قیامت تک دجال کوان میں داخل ہونے سے روکے گا۔

حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عمران بن سليمان القيسي ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20976

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20977

960 - حدثنا الحسين بن إسحاق ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا محمد بن فضيل عن الشيباني عن الشعبي Y عن فاطمة بنت قيس قالت : بينما الناس ليس لهم فزع بالمدينة إذ خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى الظهر ثم أقبل يمشي حتى صعد المنبر ففزع لذلك الناس فلما رأى ذلك في وجوههم قال : أيها الناس لم أخرج لأمر أفزعكم ولكنه اتاني أمر فرحت له فأحببت أن أخبركم بفرح نبيكم إن تميما الداري أخبرني أن بني عم له ركبوا البحر فانتهت بهم سفينتهم إلى جزيرة لا يعرفونها فخرجوا يمشون فإذا هم بإنسان لا يدرون أذكر هو أم أنثى من كثرة الشعر قالوا : من أنت ؟ قالت : أنا الجساسة قالوا فحدثينا قالت : ائتوا الدير فإن فيه رجلا بالأشواق إلى أن تحدثوه فدخلوا الدير فإذا هم برجل موثق يتأوه شديد التأوه فقال : من أنتم ؟ قالوا من أهل فلسطين من جزيرة العرب قال : فخرج نبيهم بعد ؟ قالوا : نعم قال : فما صنع ؟ قالوا : بايعه قوم وفارقه قوم فقاتل من رفاقه بمن بايعه حتى أعطاه أهل الحجر والمدر قال : فما فعلت بحيرة الطبرية ؟ قالوا : ممتلئة تدفق جنباتها قال : فما فعلت عين زغر ؟ قالوا : تدفق جنباتها قال : فما فعل نخل بين عمان و بيسان ؟ قالوا : يطعم قال : لو قد أفلت من وثاقي هذا لقد وطئت الأرض إلا طيبة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هي طيبة مرتين المدينة مافيها طريق ولا موضع ضيق ولا واسع ولا سهل ولا صعب إلا عليه ملك شاهر سيفه لو أراد أن يدخلها لضرب وجهه بالسيف قال عامر : فلقيت محرز بن أبي هريرة فحدثته فقال : هل زادت فيه شيئا ؟ فقلت : لا فقال : صدقت أشهد على أبي هريرة أنه حدثني وزادني فيه قال : ثم قال : بحر الشام ما هو بحر العراق ما هو ثم أهوى بيده نحو المشرق عشرين مرة فلقيت عبد الله بن أبي بكر فحدثته فقال : هل زادتك فيه شيئا ؟ قلت : لا قال : صدقت أشهد على عائشة أنهاحدثتني ولكنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وبالمدينة ما فيها

حضرت فاطمہ بنت قیس فرماتی ہیں : اسی دوران کہ لوگوں کو مدینہ میں کوئی گھبراہٹ نہ تھی ، اچانک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ۔ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی ۔ پھر چلنا شروع کیا یہاں تک کہ منبر پرچڑھے ، اس وجہ سے لوگ گھبراگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے چہروں کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: بے شک میں تمہیں گھبرادینے والی کوئی بات سنانےکے لیے نہیں نکلا بلکہ ایسی بات ہے ، جس کو سن کرمیں خوش ہوا ہوں۔ میں نے پسند کیا کہ تمہیں تمہارے نبی کی خوشی کی خبر سے آگاہ کردوں کہ تمیم ذاری نے مجھے بتایا کہ اس کےچچا کے بیٹے سمندر پر سوار ہوئے ۔ ان کی کشتی نے انہیں ایک غیر معروف جزیرہ میں پہنچا دیا ۔ وہ چلتے ہوئے نکلے اچانک انہوں نے ایک انسان دیکھا ، جس کے بالوں کے زیادہ ہونے کہ وجہ سے مذکرو مؤنث ہونے کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ پو چھا : تو کون ہے ؟ اُس نے جواب دیا : میں "جساسہ" ہوں ۔ انہوں نے کہا: ہمیں کوئی نئی بات بتا! اُس نے کہا: تم پر اُس گرجے میں جاؤ، کیونکہ اُس میں ایک آدمی ہے، جو تمہاری بات سننےکا بڑا شوق رکھتا ہے۔ وہ گرجہ میں داخل ہوئے ۔ تو ان کی نگاہ ایک بندھے ہوئے آدمی پر پڑی ، جو شدت سے کراہ رہا تھا ۔ اُس نے کہا: تم کون ہو؟ ہم نے کہا: عرب کے جزیرہ فلسطین والوں سے ہیں ۔ اُس نے کہا: اس کے بعد ان کانبی پیداہواہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا: اس کا کیا بنا؟ کہا: ایک گروہ نے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اور ایک گروہ ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس سے بیعت کرنے والوں کو دے دیا ہے ۔ اُس نے کہا: بحیرہ طبریہ کا کیا بنا؟ جواب دیا : بھرا ہوا ہے ، چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔پھر کہا: "زُغر" کے چشمے کا کیا بنا ؟ جواب دیا: چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ کہا : عمان اور بیسان کے درمیان باغ کا کیا بنا؟ کہا: پھل کھلاتا ہے ۔ کہا: اگر بیڑیوں سے مجھے نکلنے کی اجازت ملے ۔ طیبہ کے علاوہ تمام زمین کا چکر لگاؤں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :یہ طیبہ ہے ۔ دو بار ۔ مدینہ میں جو بھی راستہ ہے ، تنگ یا وسیع جگہ ہے ، نرم یا سخت جگہ ہے، اُس پر ایک فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوگا ۔ اگر وہ اس میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو وہ اس کے چہرے پر مارےگا۔ حضرت عامر فرماتے ہیں : میں حضرت محرر بن ابو ھریرہ سے ملا تو میں نے یہ حدیث بیان کی ۔ انہوں نےکہا: کیا اس میں کچھ اضافہ ہو ا ہے؟ میں نے کہا :نہیں ۔ کہا: سچ ہے ۔ میں حضرت ابو ھیریرہ کی سچائی کا گواہ ہوں کہ انہوں نے مجھے حدیث سنائی اور اس پر اضافہ بھی کیا ۔ فرماتے ہیں : پھر کہا: شام کا سمندر کونسا ہے؟ عراق کا سمندر کونسا ہے؟ پھر مشرق کی طرف بیس بار اشارہ کیا۔ پس میں حضرت عبداللہ بن ابو بکر سے ملا۔ میں نے ان کو حدیث سنائی ۔ کہا: کیا حضرت فاطمہ بنت قیس نے اس میں کوئی اضافہ کیا؟ میں نے کہا: نہیں ۔ فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔ میں حضرت عائشہ کے پاس حاضر تھا ، انہوں نے مجھے حدیث سنائی ۔ لیکن انہوں نے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور مدینہ کے ساتھ اس میں کیا ہے ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20977

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20978

961 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا إبراهيم بن بشار الرمادي ثنا سفيان بن عيينة ثنا مجالد ( ح ) وحدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا يحيى بن سعيد عن مجالد ( ح ) وحدثنا عبدان بن أحمد ثنا عاصم بن النضر ثنا معتمر بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن مجالد ( ح ) [ و ] حدثنا عبد الله بن سعيد الرقي ثنا أبو فروة يزيد بن محمد بن سنان الرهاوي حدثني أبي عن أبيه حدثني زيد بن أبي أنيسة عن مجالد بن سعيد حدثني عامر الشعبي Y حدثتني فاطمة بنت قيس قالت : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما من الأيام فصلى صلاة الهاجرة ثم قعد ففزع الناس فقال : يا أيها الناس إني لم أقم مقامي هذا للفزع ولكن تميم الداري أتاني فأخبرني خبرا منع مني القيلولة مع الفرح وقرة العين فأحببت أن أبشركم بفرح نبيكم أخبرني أن رهطا من بني عمه ركبوا البحر فأصابهم عاصف فألجأتهم إلى جزيرة فقعدوا في قرب سفينة حتى خرجوا إلى الجزيرة فإذا هم بشيء أهلب كثير الشعر لا يدرون رجل هو أو امرأة فسلموا عليه فرد عليهم قالوا : ألا تخبرنا ؟ قال : ما أنا بمخبركم ولا مستخبركم ولكن هذا الدير قد رأيتموه ففيه من هو إلى خبركم بالأشواق أن يخبركم وأن يستخبركم قلنا : فما أنت ؟ قالت : أنا الجساسة فانطلقوا حتى أتوا الدير فإذا هم برجل موثق في الحديد شديد الوثاق مظهر الحزن كثير التشكي فسلموا عليه فرد عليهم وقال : من أنتم ؟ قلنا : من العرب قال : ما فعلت العرب ؟ أخرج نبيهم بعد ؟ قالوا : نعم قال : فما فعلوا ؟ قلنا : خيرا آمنوا به واتبعوه وصدقوه قال : ذلك خير لهم قالوا : وكان له أعداء فأظهره الله عليهم قال : فالعرب إلههم واحد وكلمتهم واحدة ودينهم واحد ؟ قالوا : نعم قال : فما فعلت عين زغر ؟ قالوا : هي طافحة يشرب أهلها سقيهم ويسقون منها زرعهم قال : فما فعل نخل بين عمان وبيسان ؟ قالوا : يطعم جناه كل عام قال : فما فعلت بحيرة الطبرية ؟ قالوا : هي ملأى قال : فزفر ثم زفر ثم حلف لو قد خرجت من مكاني هذا ما تركت أرضا من أرض الله إلا وطأتها غير طيبة ليس لي عليها سلطان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذا مما أفرحني قالها ثلاثا : إن طيبة هي المدينة ثم إن الله حرم حرمي على الدجال ثم حلف رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله الذي لا إله إلا هو مالها طريق ضيق ولا واسع سهل ولا جبل إلا عليه ملك شاهر بالسيف إلى يوم القيامة ما يستطيع الدجال أن يدخلها على أهلها قال : قال الشعبي فلقيت المحرز بن أبي هريرة فحدثته حديث فاطمة فقال : أشهد على أبي أنه حدثني كما حدثتك فاطمة غير أنه قال : هو في المشرق ثم لقيت القاسم بن محمد فقال : أشهد على عائشة أنهاحدثتني كما حدثتك فاطمة غير أنها قالت : الحرمان عليه حرام مكة والمدينة واللفظ لحديث يحيى بن سعيد والآخرون نحوه

حضرت امام شعبی حدیث بیان فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت قیس نے مجھ سےحدیث بیان کی کہ دنوں میں سے ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ۔ ظہر کی نماز پڑھائی پھر بیٹھ گئے تو لوگ گھبرااٹھے ۔ فرمایا : اے لوگو! میں اس مقام پر کسی پریشانی کی وجہ سے کھڑا نہیں ہوا بلکہ حضرت تمیم داری نے میرے پاس آکر مجھے بتایا ہے کہ ان کے چچا کے بیٹوں کا ایک گروہ سمندر پر سوار ہوا۔ اُنہیں آندھی نے آلیا تو ایک جزیرہ نے انہیں جا پناہ دی ، وہ کشتی کے قریب ہی بیٹھ گئے ۔ اچانک وہ ایک چیز کے پاس تھے ، جو زیادہ بالوں والی تھی ، جس کے مرد یا عورت ہونے کا اندازہ نہیں ہو سکتا تھا ۔ انہوں نے سلام کیا تو اُس نے ان کے سلام کا جواب دیا ۔ انہوں نے کہا: کیا آپ ہمیں کوئی خبر دیں گے؟ کہا: نہ میں تمہیں کوئی خبر دو ں گی اور نہ تم سے کوئی خبر لوں گی۔ لیکن تم اُس گرجے کے پاس جاؤ ، جوتم نے دیکھ لیا ہے ۔ اُس میں ایک آدمی ہے ، جو تمہاری بات سننے کا بڑا شوق رکھتا ہے کہ وہ تمہیں اپنی خبردے اور تم سے تمہاری خبر پوچھے ۔ ہم نے کہا: توکون ہے؟ اُس نےکہا: میں جساسہ ہوں ۔ پس وہ چل کر اس گرجے تک گئے ۔ تو ان کی نگاہ ایک بندھے آدمی پر پڑی ، جو بہت غم کا اظہارکرنے والا ہے اور بہت تکلیف میں ہے ۔ انہوں نے سلام کیا تو اُس نے ان کے سلام کا جواب دیا ۔ اُس نےکہا: تم کون ہو؟ ہم نےکہا: ہم عرب ہیں ۔ اُس نےکہا: عربوں نے کیا کیا؟ اس کے بعد ان کا نبی آیاہے ؟ ہم نے کہا: ہاں ۔ کہا: عربوں نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہم نے کہا : اچھا ۔ اُن میں سے بعض نے ایمان قبول کیا ۔ اُن کی پیروی اور تصدیق کی ۔ اُس نے کہا: انہوں نے اچھا کیا ۔ انہوں نے کہا: ان کے کچھ دشمن تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ظاہر فرمادیا ۔ اُس نے کہا: عربوں کا معبود ایک ہے ، ان کا کلمہ ایک ہے ، ان کا دین ایک ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ پھرکہا: "زُغر" کے چشمے کاکیا بنا ؟ ہم نے کہا : وہ بہنے والا ہے ۔ وہاں کے لوگ اس کا پانی پیتے ہیں اور کھیتوں کو بھی اس کا پانی لگاتے ہیں ۔ کہا: عمان اور بیسان کے درمیان والے باغ کا کیا بنا؟ ہم نے کہا: لوگ ہر سال اس کا پھل پاتے ہیں ۔ اُس نے کہا: تم مجھے "بحیرہ طبریہ" کے بارےبتاؤ! اُس کا کیا ہوا ۔ ہم نے کہا: بھرا ہوا ہے ۔ راوی کا بیان ہے : اس نے لمباسانس لیا پھر ایک بار لمبا سانس لیا پھر حلفاً کہا: اگر میں اس جگہ سےنکلا تو طیبہ (مدینہ) کے علاوہ اللہ کی زمین کا کوئی ٹکڑہ نہیں چھوڑوں مگر میں اس میں داخل ہوں گا، اس میں داخل ہونے کی مجھے اجازت نہیں ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اس کا تعلق من جملہ ان باتوں سےہے، جن سے مجھے فرحت و انبساط حاصل ہوا۔ آپ نے تین بار یہ بات کی ۔ بیشک طیبہ سے مراد مدینہ ہے ۔ پھر اللہ نے میرے دونوں حرم وجال پر حرام کر دیئے ہیں ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلف اٹھایا : قسم اللہ کی جس کےسوا کوئی سچا معبود نہیں ۔ کوئی تنگ یا وسیع راستہ نہیں ہے ، ہموار زمین یا پہاڑ ہے مگر اُس پر ایک فرشتہ قیامت تک تلوار سونتے کھڑا ہو گا۔ دجال مدینہ والوں پر داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ راوی کا بیان ہے : حضرت امام شعبی فرماتے ہیں : میں حضرت محرر بن ابو ھریرہ سے ملاتو میں نےحضرت والی حدیث بیان کی ۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابو ھریرہ کی سچائی کا گواہ ہوں کہ انہوں نے مجھے حدیث سنائی جیسے آپ کو حضرت فاطمہ نے سنائی ۔ سوائے اس کے انہوں نے کہا: وہ مشرق میں ہے ۔ پھر میں حضرت قاسم بن محمد سےملا۔ کہا: میں حضرت عائشہ کے پاس حاضر تھا ، انہوں نےمجھے حدیث سنائی جیسے آپ کو حضرت فاطمہ نےسنائی ۔ سوائے اس کے انہوں نے کہا: دونوں حرم اُس پر حرام ہیں یعنی مکہ و مدینہ اور الفاظ حضرت یحییٰ بن سعید کی حدیث کے ہیں اور دوسروں نے اس جیسی حدیث بیان کی ہے ۔

عامر الشعبي حدثتني فاطمة بنت قيس ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الرَّقِّيُّ، ← مجالد ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ ← مجالد ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← مجالد ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20978

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20979

962 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج وعمرو بن أبي الطاهر وإسحاق بن إبراهيم القطان المصريون قالوا : ثنا يحيى بن بكير ثنا المغيرة بن عبد الرحمن الحزامي عن أبي الزناد عن الشعبي Y عن فاطمة بنت قيس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صعد على المنبر فقال : أيها الناس حدثني تميم الداري أن أناسا من قومه كانوا في البحر في سفينة لهم فانكسرت فركب بعضهم على لوح من السفينة فخرجوا إلى جزيرة في البحر فإذا هم بامرأة شعثة سوداء لها شعر منكر فقالوا : من أنت ؟ فقالت : أنا الجساسة أتعجبون مني ؟ قالوا : نعم قالت : فادخلوا القصر فدخلوا فإذا بشيخ مربوط بسلاسل فسألهم من هم ؟ فأخبروه فقال : ما فعلت عين زغر ؟ وما فعلت البحيرة ونخلات بيسان ؟ فأخبروه فقال : والذي يحلف به لا يبقى أرض إلا وطأتها بقدمي إلا طيبة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وهذه طيبة

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے تو فرمایا : اے لوگو! حضرت تمیم داری نےمجھے ایک نئی بات بتائی کہ ان کی قوم کے چند آدمی سمندر میں (کشی پر ) تھے تو وہ ٹوٹ گئی ۔ پس ان میں سےکچھ اس کے ایک تختے پر سوار ہو کر ایک سمندر ی جزیرہ کی طرف نکلے ۔ اچانک بکھرے بالوں والی سیاہ رنگ والی ایک عورت تھی ۔ اس کے عجیب و غریب طرخ کے بال تھے ۔ انہوں نے کہا: تو کون ہے؟ میں "جساسہ "ہوں ۔ تم مجھ سے تعجب کر رہے ہو؟ کہا: ہاں ۔ کہا: اُس محل میں داخل ہو جاؤ۔ وہ داخل ہوئے تو آگے ایک بوڑھا آدمی رسیوں سے بندھا ہو اموجود تھا ۔ پس اس نے اُن سے پوچھا : کون ہو؟ تم خبر دو ! اُس نے کہا: زُعر کے چشمے کا کیا بنا ؟ بحیرہ کا کیا بنا؟ بیسان کی کھجوروں کا کیا بنا؟ پس انہوں نے اُسے خبر دی ۔ اُس نے کہا : قسم ہے اُس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے ! نہیں باقی بچے گی کوئی زمین سوائے طیبہ کے مگر میں اُسے پاؤں سے روندوں گا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (مدینہ ) طیبہ ہے ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← إسحاق بن إبراهيم القطان المصريون ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ، ← أبو الزنباع روح بن الفرج

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20979

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20980

963 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا وضاح بن يحيى النهشلي ثنا حاتم بن إسماعيل ( ح ) وحدثنا يحيى بن أيوب العلاف المصري ثنا سعيد بن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب قالا : ثنا عيسى بن أبي عيسى الحناط قال : سمعت عامر الشعبي يقول : Y دخلت على فاطمة بنت قيس فقربت إلي رطبا من رطب ابن طاب فأكلت فقالت : بينا أنا جالسة في المسجد خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم قعد على المنبر فاجتمع عليه الناس قالت : ودعوت لأسمع فسمعته يقول : أيها الناس لم أجمعكم عن خبر جاءني من قبل عدو لكم ولكن حدثني تميم الداري أن بني عم له ركبوا البحر فأصابتهم ريح لا يدرون أشرقوا أم غربوا ؟ فأرسلوا إلى جزيرة فخرجوا يمشون فيها فإذا هم بدابة تجر شعرها قالوا : ما هذه ؟ قالت : أنا الجساسة قالوا : فما الخبر ؟ قالت : الخبر عند صاحب الدير فذهبوا إلى الدير فإذا هم بالدجال يعرفونه موثق في الحديد فقال : من أنتم ؟ قالوا : من أمة محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : وقد بعث ؟ قالوا : نعم قال : ما فعلت البحيرة الطبرية ؟ فأخبروه عنها قال : ما فعل نخل بيسان ؟ فأخبروه عنه قال : ما فعلت عين زغر ؟ فأخبروه عنها فأشار إلى رجليه فقال : ترون رجلي هاتين لا تبقى أرض من أرض الله إلا وطأتهما بهما إلا ما كان من مكة وطيبة وهو في البحر بين المشرق والمغرب وهو إلى المشرق أقرب ولفظهما واحد

حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گیا ۔ انہوں نے ابن طالب کی کھجوروں میں سےکھجوریں میرے قریب کیں۔ میں نے کھائیں ۔ فرمایا کہ اسی دوران کہ میں مسجد میں بیٹھی ہوئی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکل کر منبر پرآئے تو لوگ اکٹھے ہو گئے۔ فرماتی ہیں : میں نےسننے کے لیے توجہ دی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! میں نےتمہیں کسی ایسی خبر کے لیے اکٹھا نہیں کیا، جو تمہارے دشمن کی طرف سے اآئی ہو بلکہ حضرت تمیم داری نے مجھے ایک نئی خبر سنائی ہے کہ ان کے چچا کے بیٹے سمندر پر سوار ہوئے ۔ پس انہیں آندھی پہنچی جس کی وجہ سے انہیں مشرق و مغرب کی پہچان نہ رہی ۔ پس وہ ایک جزیرہ پر لنگر انداز ہوئے ۔ پس وہ نکلے تاکہ اس میں چلیں ، اچانک ایک جانور اپنےبال کھینچ رہا تھا ۔ انہوں نے کہا: یہ کیاہے ؟ اُس نے کہا: میں جساسہ ہوں ۔ انہوں نےکہا: کیا خبر ہے ؟ اُس نے کہا: خبر گرجےوالے کے پاس ہے ۔ پس وہ گرجے کی طرف گئے تو اچانک وہ دجال کے پاس تھے ، جسے وہ پہچانتے تھے، وہ لوہے کی زنجیروں سے بندھا ہوا تھا ۔ اُس نے کہا: تم کون ہو؟ ان لوگوں نےکہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے ہیں ۔ آپ نے کہا: کیا وہ معبوث ہو چکے ہیں ؟ کہا: ہاں ۔ اُس نے کہا: بحیرہ کا کیا بنا ؟ انہوں نےبتایا ۔ اُس نے کہا: بیسان کی کھجوروں کا کیا بنا؟ پس انہوں نےاُسے خبر دی ۔ اُس نےکہا: زُعر کے چشمے کا کیا بنا ؟ تو انہوں نے اُسے اس بارے خبر دی ۔ پس اُس نے اپنی ٹانگوں کی طرف اشاہ کیا اور کہا: تم میری یہ ٹانگیں دیکھ رہے ہو ، نہیں باقی بچے گی اللہ کی کوئی زمین سوائے مکہ و طیبہ کے مگر میں اُسے پاؤں سے روندوں گا ۔ وہ مشرق و مغرب کے درمیان سمندر میں ہے ۔ وہ مشرق کے زیادہ قریب ہے ۔ دونوں کے الفاظ ایک ہیں ۔

عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطِ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← وَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى النَّهْشَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20980

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20981

964 - حدثنا علي بن عبد العزيز وأبو مسلم الكشي قالا : ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا أبو عمر الضرير وأبو عمر الحوضي قالوا : ثنا حماد بن سلمة أنا داود بن أبي هند عن عامر الشعبي Y عن فاطمة بنت قيس الفهرية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء ذات يوم مسرعا حتى صعد المنبر ونودي في الناس : الصلاة جامعة فخطبهم فقال : إني لم أدعكم لرغبة ولا لرهبة نزلت ولكن تميما الداري أخبرني أن قوما من أهل فلسطين ركبوا البحر فألقتهم الريح إلى جزيرة من جزائر البحر فإذا هم بدابة أشعر لاندري أذكر هو أم أنثى لكثرة شعرها فقالوا : ما أنت ؟ قالت : أنا الجساسة قالوا : فأخبرينا قالت : ما أنا بمخبركم ولا مستخبرتكم ولكن في هذا الدير رجل هو إلى أن يخبركم وتستخبرونه بالأشواق فدخلوا الدير فإذا هم بالرجل مصفد بالحديد فقالوا : من أنت ؟ قال : من أنتم ؟ قالوا : نحن من العرب قال : ظهر منكم النبي ؟ قالوا : نعم قال : فاتبعته العرب ؟ قالوا : نعم قال : أما أن ذلك خير لهم قال : هل ظهر على فارس ؟ قالوا : لا قال : أما أنه سيظهر عليهم ثم قال : ما فعلت عين زغر ؟ قالوا : هي تتدفق ملأ قال : فما فعلت بحيرة الطبرية ؟ قالوا : هي تتدفق ملأ قال : فما فعل نخل بيسان ؟ قالوا : قد أطعم أوائله فوثب حتى ظنوا أنه سيفلت من قيوده وقال لهم : أنا الدجال أما أني سأطا الأرض كلها إلا مكة وطيبة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ابشروا فبشر المسلمين هذه طيبة لا يدخلها

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن جلدی کرتے ہوئے آئے یہاں تک کہ منبر پر چڑھے اور لوگوں میں ندا دی کہ : نماز تیار ہے ۔ پس آپ نے اُن سے خطاب فرمایا: میں نے تمہیں کسی ترغیب و ترہیب کے لیے نہیں بلایا جو نازل ہوئی ہو بلکہ حضرت تمیم داری نے مجھے بتایا کہ فلسطین کی ایک قوم سمندر پر سوار ہوئی تو تیز ہوا نے انہیں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں جا پھینکا ۔ پس اچانک وہ کثیر بالوں والے ایک جانور کے پاس تھے۔ (انہوں نے کہا: ) اُس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے ہمیں معلوم نہ ہو سکا ، وہ مذکر ہے مؤنث ۔ پوچھا ، تو کون ہے؟ اُس نے جواب دیا : میں "جساسہ" ہوں ۔انہوں نے کہا: ہمیں خبر دے ۔ اُس نے کہا: میں نہ تمہیں خبر دوں گی اور نہ تم سے پو چھوں گی ۔ اُس گرجے میں ایک آدمی ہے ، جو تمہیں خبر دے اور تم اُس سے بڑے شوق سے بات پوچھو! پس وہ گرجے میں گئے تو اُن کی گاہ ایک ایسے آدمی پر پڑی ، جو لوہے کی زنجیروں سے بندھا ہو اہے ۔ کہا: تو کون ہے ؟ اُس نے کہا: تم کون ہو؟ پس ہم نے اُسے بتایا ۔ ہم عرب کے لوگ ہیں ۔ کہا: تم میں سے اُس نبی کا ظہور ہو اہے ؟ کہا: ہاں ۔ کہا: عربوں نے اُس کی پیروی کی؟ کہا: ہاں ۔ کہا: اُن کے لیے بہتر ہے ۔ کہا: کیا فارس پر غالب آیا ؟ کہا: نہیں ۔ ابھی عربوں پر غلبہ حاصل کیا ۔ کہا: لیکن عنقریب اُن پر بھی غالب آئے گا۔ پھر کہا: "زُغر" کے چشمے کا کیا بنا؟ کہا: اس کا پانی چلتا ہے اور وہ پانی سے بھرا ہو اہے ۔ اُس نے کہا: تم مجھے "بحیرہ طبریہ" کے بارے بتاؤ! کہا: اس کا پانی چلتا ہے اور وہ پانی سے بھرا ہوا ہے ۔ کہا: بیسان کے باغ کا کیا بنا؟ کہا: وہ پھل دیتا ہے ۔ پس ایک دم اُس نے چھلانگ لگائی یہاں تک کہ اُن لوگوں نے گمان کیا کہ بیڑیوں سے نکل آئے گا اور اُن سے کہا: میں دجال ہوں ۔ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ طیب کے علاوہ روئے زمین کی سیر کروں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بشارت ہو۔ ایمان والوں کو بشارت ہو۔ یہ طیبہ ہے ، وہ اس میں داخل نہ ہو سکے گا۔

فاطمة بنت قيس الفهرية ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو عمر الضرير وأبو عمر الحوضي ← وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20981

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20982

965 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد بن عبد الله عن داود بن أبي هند عن الشعبي Y عن فاطمة بنت قيس عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

حضرت فاطمہ بنت قیس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جیسی حدیث روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20982

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20983

966 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا عمير بن محمد بن الحسن الأسدي ثنا أبي ثنا محمد بن أبان عن عبد الملك بن عمير عن عامر الشعبي Y عن فاطمة بنت قيس الفهرية قالت : نودي في زمان رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصلاة جامعة فخرجنا فجلسنا خلف أكتاف الرجال قالت فصعد رسول الله صلى الله عليه و سلم المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ألا إن أخاكم تميم الداري حدثني عن بني عم له ركبوا البحر فذهبت بهم الريح حتى ألجأتهم إلى جزيرة من جزائر البحر فخرجوا يسألون عن الطريق فلقوا خلقا من خلق الله لم يروا قبله شيئا أعظم منه ليس عليه شيء مما نسج بنو آدم وقد كساه الشعر قال : فسألناه عن الطريق فقال : إن كنتم تريدون أن تسألوا عن الطريق من يخبركم ويشتهي حديثكم فعليكم بهذا الدير فقلنا : أخبرينا ما أنت ؟ قالت : أنا الدساسة فعرفنا أنها امرأة فمضينا إلى الدير فدخلناه فإذا خلق لم نرقط أعظم منه مملوءا مابين تراقيه إلى كعبيه حديدا ممسوح العين فسألناه عن الطريق فقال : ما أنا بمحدثكم حتى تحدثوني عما أسألكم عنه قلنا : سل عما بدا لك قال : أخبروني عن نبي العرب هل خرج بعد ؟ فقلنا : نعم قال : إلى ما يدعو ؟ فأخبرناه قال : كيف سرعة الناس إلى ما دعاهم إليه ؟ قلنا : سراع قال : ذاك خير لهم قال : أخبروني عن بحيرة الطبرية ما فعلت ؟ قلنا : تطفح قال : اخبروني عن عين زغر قلنا : تطفح قال : سلوا عما بدا لكم قال : قلنا : ما أنت ؟ قال : أنا الدجال والذي نفسي بيده لا تبقى أرض من أرض الله إلا وطأتها بقدمي هاتين إلا طيبة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذه طيبة يعني المدينة

حضرت امام شعبی روایت فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ندادی گئی : "نماز تیار ہے "۔ ہم نکلیں یہاں تک کہ مردوں کے کناروں والی صف میں بیٹھ گئیں ۔ فرماتی ہیں : آپ نے منبر پر آکر اللہ کی حمد و ثناکی پھر فرمایا: خبر دار ! تمہارے بھائی تمیم داری نے اپنے چچا کے بیٹوں کے حوالے سے ایک نئی بات بتائی ۔ وہ سمندر پر سوار ہوئے تو تیز ہوا انہیں لے گئی یہاں تک کہ انہوں نے ایک سمندر ی جزیرہ میں پناہ لی ۔ وہ نکلے تاکہ راستے کے بارے میں پوچھیں ۔ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق سے ملے ، اس سے پہلو انہوں نے اتنی بڑی مخلوق نہ دیکھی تھی ، اُس پر کوئی ایسی چیزنہ تھی ، جس سے آدم کے بیٹوں نے بُنا ہو۔ اُس نے بالوں کا لباس پہن رکھا تھا ۔ راوی کا بیان ہے۔ ہم نے اُس سے راستہ پوچھا ۔ اُس نےکہا: اگر تم راستے کے بارے پوچھنا چاہتے ہو تو اُس آدمی سے پوچھو ، جو تمہیں بتائے اور تہماری بات سننے کا خواہشمند ہو ۔ تمہارے اوپر اس گرجے میں جانا لازم ہے ۔ ہم نے ہمیں بتا تو کون ہے ؟اُس نے کہا: میں دساسہ ہوں ۔ ہم نے سمجھ لیا : یہ عورت ہے ۔ پس ہم گرجے کی طرف چلے اور اُس میں داخل ہوئے ۔ ایک ایسی مخلوق موجود تھی ، جس سے بڑی ہم نے کبھی نہ دیکھی تھی ، گلے سے لے کر ٹخنوں تک کے درمیان لوہے میں غرق تھی۔ ایک آنکھ مسخ شدہ تھی ۔ ہم نے اُس سے راستے کے بارے میں سوال کیا۔ اُس نے کہا : میں تمہیں اُس وقت تک راستہ نہیں بتاؤں گا جب تک تم مجھے وہ چیز نہ بتاؤ ، جو میں تم سے دریافت کروں ۔ ہم نے کہا: پوچھ جو تیرے لیے ظاہر ہو۔ اُس نےکہا: تم مجھے عرب کے نبی کے بارے میں بتاؤ، کیا اس کے بعد وہ پیدا ہوئے ؟ ہم نے کہا: ہاں ۔ کہا: کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ ہم نے اُسے بتایا ۔ اُس نے کہا: جس چیز کی طرف وہ بلاتے ہیں ، اُس کی طرف لوگوں کی کیا تیزی ہے ؟ ہم نے کہا: خوب تیزی ہے ۔ کہا: یہ اُن کے لیے بہتر ہے ۔ اُس نے کہا: تم مجھے "بحیرہ طبریہ " کے بارے بتاؤ ! کہا: اس کا پانی چلتا ہے ۔ پھر کہا:"زُغر" کے چشمے کاکیا بنا ؟ کہا: اس کا پانی چلتا ہے ۔ کہا: اب جو تم پوچھنا چاہو پوچھو ! ہم نے کہا : تو کون ہے ؟ کہا: میں دجال ہوں ۔قسم ہے ، اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔ میں طیبہ کے علاوہ روئے زمین کی سیر کروں گا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ طیبہ یعنی مدینہ ہے ۔

فاطمة بنت قيس الفهرية ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبِي ← عمير بن محمد بن الحسن الأسدي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20983

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عامر الشعبي عن فاطمة بنت قيس · حديث 20984

967 - حدثنا الحسن بن علي المعمري ثنا أيوب بن محمد الوراق الرقي ثنا الوليد بن الوليد ثنا سعيد بن بشير عن قتادة عن الشعبي و إبراهيم بن عامر عن الشعبي قال : Y دخلت المدينة فجلست على المنبر فجاء رجل فجلس إلي فقال : هل تدلني على رجل يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فانطلق بي إلى فاطمة بنت قيس فقالت : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فسمع الناس أنه قام على المنبر فأقبل الناس يشتدون وكنت ممن أتاه فسمعته يقول : حدثني تميم الداري أن بني عم له ركبوا في سفينة لهم في البحر تجارا فضربت بهم الريح إلى جزيرة فخرجوا أو من خرج منهم هل يرون أحد ؟ حتى لقيهم من غطاه الشعر ما يستبين منه ذاك أذكر أم أنثى قالوا : الخبر قال : الخبر عند صاحب هذا الدير فأنا الجساس فأتوا الدير فإذا رجل موقر بالحديد فسألهم ممن هم ؟ فأخبروه فقال : ما فعل نبي العرب أخرج بعد ؟ قالوا : نعم قال : من يتبعه السفلة أم أشراف الناس ؟ قالوا : يتبعه السفهاء قال : يكثرون أم يقلون ؟ قالوا : يكثرون قال : يرجع أحد ممن أتاه ؟ قالوا : لا قال : ذلك خير لهم ما فعلت بحيرة الطبرية هل فيها ماء ؟ قالوا نعم قال : ما فعل نخل بيسان هل تحمل قالوا : نعم قال : ما فعلت عين زغر هل فيها ماء ؟ قالوا : نعم قال : أما أنه لو قد آذن لي لقد وطأت برجلي هذه الأرض كلها غير طيبة [ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ] : وهذه طيبة على كل نقب منها ملك شاهر سيفه نحو العراق ما هو نحو العراق ما هو

حضرت امام شعبی فرماتے ہیں : میں مدینہ میں داخل ہوا اور منبر کے پاس بیٹھ گیا ۔ پس ایک آدمی آکر میرے پاس بیٹھ گیا ۔ کہا: کیا آپ کسی ایسے آدمی پر میری رہنمائی کریں گے، جومجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کر کے حدیث سنائے ۔ پس وہ مجھے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے گیا ۔ انہوں نے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پرکھڑے ہوئے تو لوگوں نے سنا کہ آپ منبر پرکھڑے ہیں ۔ پس وہ اپنے آپ پر جبر کرتے ہوئےمتوجہ ہوئے ۔ میں بھی آنے والوں میں سے تھی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حضرت تمیم داری نےمجھے ایک نئی بات بتائی کہ ان کے چچا کے بیٹے اپنی کشتی پر سمندر میں بحیثیت تاجر سوار ہوئے تو تیز ہوا انہیں ایک جزیرے میں لے گئی ۔ پس وہ یا اُن میں سے ایک نکلا تاکہ دیکھے کہ کوئی آدمی ہے ؟ یہاں تک کہ اُس کی ملاقات ایک سے ہوئی ، جسے اُس کے بالوں نے ڈھانپا ہوا تھا ، اُس کی کوئی چیز بھی ظاہر نہ تھی کہ پتا چلے یہ مذکر ہے یا مؤنث ۔ کہا: کوئی اتا پتا؟ اُس نے کہا: اُس گرجے والے کے پاس ہے۔ میں جساس ہوں ۔ پس وہ گرجے میں داخل ہوئے ۔ ایک آدمی موجود تھا ، لوہے میں جکڑ ا ہوا تھا ۔ اُ س نے کہا: وہ کون ہیں توانہوں نے بتایا مجھے نبی عربی کے بارے میں خبر ،کیا اس کے بعد وہ پیدا ہوئے ؟ ہم نے کہا: ہاں۔ کہا: کس نے اُن کی پیروی کی؟ سفلہ نے یا لوگوں میں سے بزرگ ہستیوں نے ؟ انہوں نے اُسے بتایا کہ بیوقوفوں نے ان کی پیروی کی ہے۔ اُس نے کہا: وہ زیادہ ہیں یا تھوڑے ۔ کہا: زیادہ ہیں ۔ کہا: جس نے اُ ن کی طرف رجو ع کیا ، اُن میں سے کوئی پھر ابھی ہے ؟ کہا: نہیں ۔کہا: یہ اُن کے لیے بہتر ہے ۔ اُس نےکہا: تم مجھے "بحیرہ طبریہ" کا کیا بنا؟ کیا اُس میں ابھی پانی ہے؟ کہا: ہاں۔ پھر کہا: بیسان کے باغ پھل اُٹھاتے ہیں ؟ کہا:ہاں۔ کہا:"زُغر" کے چشمے کا کیا بنا؟ کہا: اس میں پانی ہے ؟ کہا: ہاں۔ کہا: اگر مجھے اجازت ملی تو میں طیبہ کے علاوہ روئے زمین کی سیر کروں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ طیبہ یعنی مدینہ ہے۔ اس کی ہر گلی کے دروازے پر فرشتے حفاظت کرتے ہوں گے ۔ عراق کی طرف کیا ہے ۔ عراق کی طرف کیا ہے ۔

الشَّعْبِيِّ، ← الشعبي و إبراهيم بن عامر ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أيوب بن محمد الوراق الرقي ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20984

chevron_left Previous
1…789…19
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter