Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف عن فاطمة · حديث 20937

920 - حدثنا أحمد بن زهير التستري حدثنا محمد بن عثمان بن كرامة ثنا عبيد الله بن موسى عن شيبان عن يحيى بن أبي كثير حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن أن فاطمة بنت قيس أخت الضحاك بن قيس أخبرته Y أن زوجها حفص بن المغيرة المخزومي طلقها ثلاثا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم انطلق إلى اليمن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليست لها نفقة وعليها عدة وأرسل إليها رسولا لاتسبقيني بنفسك وأمرها أن تنتقل إلى أم شريك ثم أرسل إليها : إن أم شريك يأتيها المهاجرون الأولون انتقلي إلى ابن مكتوم فلما انقضت عدتها أنكحها رسول الله صلى الله عليه و سلم أسامة بن زيد بن حارثة

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن قیس کی بہن حضرت فاطمہ بنت قیس نے ان کو خبر دی کہ ان کے خاوند حضرت حفص بن مغیرہ مخزومی نے ان کو زمانہ نبوی میں تین طلاقیں دے دیں ، پھر وہ یمن کی طرف چلا گیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرے لیے نفقہ نہیں ہے، تیرے اوپر عدت لازم ہے ۔ ان کی طرف قاصد بھیجا کہ ہم سے دورنہ جانا ، حکم دیا کہ وہ حضرت اُم شریک کے گھر منتقل ہو جائیں پھر پیغام بھیجا کہ حضرت اُم شریک کے پاس پہلے مہاجر بھائی آتے رہتے ہیں ، (لہذا) تم حضرت ابن اُم مکتوم کےگھرمنتقل ہو جاؤ۔ پس جب ان کی عدت ختم ہوگئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کردیا ۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ کَرَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20937

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف عن فاطمة · حديث 20938

921 - حدثنا عبد الرحمن بن الحسين الصابوني التستري ثنا بن مسعود الجحدري ثنا فضيل بن سليمان النميري ثنا أبو حازم حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن عن فاطمة بنت قيس Y أن زوجها طلقها في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان يرسل إليها بنفقة فلما رأى ذلك قالت : والله لأكلمن رسول الله صلى الله عليه و سلم فإن كانت لي نفقة آخذ مما يصلحني وإن لم تكن لي نفقة لم آخذ شيئا فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لاسكنى لك ولا نفقة

حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ ان کے خاوند نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ان کو طلاق دے دی، وہ ان کی طرف نفقہ بھیجا کرتے تھے، پس جب اُنہوں نے یہ دیکھا تو حضرت فاطمہ سے کہا: بخدا! میں ضرور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کروں گی ، اگر نفقہ میرا حق ہے تو میں صرف اتنا لوں گی جو میری اصلاح کرے ، اگر میرے لیے نفقہ ضروری نہ ہو ا تو کوئی چیز نہ لوں گی۔ پس میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: نہ تیرے لیے رہائش اور نہ نفقہ ہے ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو حَازِمٍ ← فضيل بن سليمان النميري ← بن مسعود الجحدري ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّابُونِيُّ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20938

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف عن فاطمة · حديث 20939

922 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن أبي فديك حدثني ابن أبي ذئب عن ابن شهاب عن أبي سلمة عن فاطمة بنت قيس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخر ليلة صلاة العشاء الآخرة ثم خرج فقال : إنما حبسني حديث كان يحدثنيه تميم الداري عن رجل كان في جريرة من جرائر البحر فإذا هو بامرأة تجر شعرها فقال : ما أنت ؟ قالت : أنا الجساسة أتعجب مني قال : نعم فاذهب إلى ذلك القصر فذهبت إليه فإذا فيه رجل يجر شعره مسلسل في الأغلال ينزو بين السماء والأرض فقال له : ما أنت ؟ قال : أنا الدجال أخرج نبي الأميين ؟ قال : نعم قال : فأطاعوه أم عصوه ؟ قال : لا بل أطاعوه قال : ذلك خير لهم وهل غارت المياه ؟

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء ادا کرنے میں دیر کی، پھر آپ گھر سے تشریف لائے، فرمایا: مجھے ایک حدیث نے روک دیا جو حضرت تمیم داری بیان کرتے ہیں اس آدمی کے بارے میں جو سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ میں تھا ، اچانک اُنہوں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی تھی ۔ کہا : تُو کون ہے ؟ اس عورت نےجواب دیا: میں جساسہ ہوں، کیا تم مجھ سے تعجب کر رہے ہو؟ کہا: ہاں!( اس نےکہا) اس محل کی طرف جاؤ ۔ پس میں گیا ، اس میں ایک آدمی تھا جو اپنے بال کھینچ رہا تھا ، بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا جو آسمان و زمین کے درمیان تھی۔ اس سے کہا: تُو کون ہے؟ اس نےجواب دیا : میں دجال ہوں، کیا اُمیوں کے نبی تشریف لے آئے ہیں ؟ جواب دیا: ہاں! کہا: لوگوں نے اس کی اطاعت کی یا نافرمانی؟ کہا: نہیں ! بلکہ اطاعت کی ہے ، کہا: یہ ا ن کے لیے بہتر ہے ، او ر کیا پانی نیچے چلا گیا ہے ؟

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20939

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف عن فاطمة · حديث 20940

923 - حدثنا محمد بن نصر الصائغ البغدادي ثنا محمد بن إسحاق المسيبي ثنا فضالة بن يعقوب عن إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن فاطمة بنت قيس قالت : Y جلس النبي صلى الله عليه و سلم صلاة العشاء الآخرة حتى رقد الناس ثم خرج فقال : حبسني حديث حدثني تميم الداري عن رجل كان في جزيرة فإذا هو بإمرأة تجر شعرها فقال : ما أنت ؟ قالت : أنا الجساسة أتعجب مني ؟ اذهب إلى ذلك القصر فذهب فإذا هو برجل يجر شعره مسلسل في الأغلال قلت : من أنت ؟ قال : أنا الدجال قال : خرج في الأميين رسولهم ؟ قلت : نعم قال : فأطاعوه أم عصوه قلت : بل أطاعوه قال : ذلك خير لهم

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز پڑھانے نہ آئے حتیٰ کہ لوگ سو گئے ، پھر تشریف لائے ، فرمایا: مجھے اس حدیث نے روک لیا جو حضرت تمیم داری نےمجھے سنائی ایک ایسے آدمی کے بارےمیں جو جزیرہ میں ہے ، اچانک ایک عورت ہے جو اپنے بال کھینچ رہی ہے ، پو چھا : تُو کون ہے ؟ کہا: میں جساسہ ہوں ، کیا تُو مجھ سے تعجب کر رہا ہے ؟ جاؤ! اس محل کی طرف ۔ پس حضرت تمیم داری گئے ، اچانک دیکھا کہ اس میں ایک مرد ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے ، بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ میں نے کہا: تُو کون ہے ؟ جواب دیا : میں دجال ہوں۔ اس نےکہا: کیا اُمی لوگوں کا نبی آگیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں! لوگوں نے اس کی اطاعت کی یا نافرمانی؟ میں نےکہا: بلکہ اطاعت ہی کی ہے۔ اس نےکہا: یہی ان کے لیے بہتر ہے ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إبْرَاهِيمُ بْنُ إسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ← فَضَالَةُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20940

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عبيدالله بن عبد الله بن عتبة عن فاطمة · حديث 20941

924 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن أبا عمرو بن حفص بن المغيرة Y خرج مع علي إلى اليمن فأرسل إلى امرأته ابنة قيس بتطليقة كانت بقيت من طلاقها فأمرها الحارث بن هشام وعياش بن أبي ربيعة بنفقة فاستقلتها فقالا : لاوالله ما لك من نفقة إلا أن تكوني حاملا فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت له أمرها فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم : لا نفقة لك فاستأذنته في الإنتقال فأذن لها فقالت : أين يا رسول الله ؟ قال : إلى ابن أم مكتوم وكان أعمى تضع ثيابها عنده ولا يراها فلما مضت عدتها عنده أنكحها رسول الله صلى الله عليه و سلم أسامة بن زيد فأرسل إليها مروان قبيصة بن ذؤيب يسألها عن ذلك فحدثته فأتى مروان فأخبره فقال مروان : لم أسمع بهذا الحديث

حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ خبر دیتے ہیں کہ حضرت عمر و بن حفص بن مغیرہ ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ یمن چلے گئے ، اُنہوں نے ( وہاں سے) قیس کی بیٹی اپنی بیوی کو طلاق نامہ بھیج دیا جو ان کی طلاق میں سے (ایک) باقی تھی ( تو تین پوری ہو گئیں ) ۔ پس حارث بن ہشام اور عیاش بن ابوربیعہ نے ان کی بیوی کو نفقہ کاکہا، جس کو بنت قیس نے تھوڑا سمجھا ، پس نا دونوں نے کہا : نہیں ! بخدا! تیرے لیے نفقہ نہیں ہے مگر اس صورت میں تھا کہ تُو حاملہ ہوتی ۔ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں ، آپ کے سامنے اپنا معاملہ پیش کیا ، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے نفقہ نہیں ہے۔ پس اس نے اس گھر سے منتقل ہونےکی اجازت مانگی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں عدت کہاں گزاروں ؟ فرمایا: ابن اُم مکتوم کے گھر ، وہ نابینا ہیں ، ان کے پاس کبھی کپڑے اُتار سکے گی ، وہ نہیں دیکھ پائیں گے ۔ پس جب ان کے پاس ختم ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت اسمامہ بن زید سے کر دیا ، پس مروان نے ان کی طرف قبیصہ بن ذؤیب کو بھیجا تا کہ ان سے اس کے بارےمیں سوال کر سکیں ، پس اُنہوں نے اپنی حدیث ان کو بیان کر دی ۔ پس اس نے مروان کے پاس آکرخبر دے دی، مروان نےکہا: میں نے یہ حدیث نہیں سنی۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20941

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عبيدالله بن عبد الله بن عتبة عن فاطمة · حديث 20942

925 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن عبد الله بن عمرو بن عثمان Y طلق وغلام شاب في إمارة مروان ابنة سعيد بن زيد وأمها بنت قيس فطلقها البتة [ فأرسلت إليها خالتها فاطمة بنت قيس فأمرتها بالإنتقال من بيت زوجها عبد الله بن عمرو فسمع ذلك مروان ] فأرسل إليها يأمرها أن ترجع إلى مسكنها وسألها ما حملها على الإنتقال قبل أن تنقضى عدتها ؟ فأرسلت تخبره أن خالتها فاطمة بنت قيس أفتتها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أفتاها بالخروج أو الإنتقال حين طلقها أبو عمرو بن حفص المخزومي فأرسل مروان قبيصة بن ذؤيب إلى فاطمة بنت قيس يسألها عن ذلك فأخبرته أنها كانت تحت أبي عمرو بن حفص المخزومي قالت : وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر عليا على بعض اليمن [ فخرج معه زوجها ] وبعث إليها بتطليقة بقيت لها وأمرها عياش بن أبي ربيعة والحارث بن هشام أن ينفقا عليه فقالا : والله ما لها نفقة إلا أن تكون حاملا واستأذنته في الإنتقال فأذن لها فقالت : أين انتقل يا رسول الله ؟ قال : عند ابن أم مكتوم وكان أعمى تضع ثيابها عنده ولا يبصرها فلم تزل هناك حتى مضت عدتها فأنكحها النبي صلى الله عليه و سلم أسامة بن زيد فرجع قبيصة إلى مروان فأخبره بذلك فقال مروان : لم أسمع هذا الحديث [ لا ] من امرأة فنأخذ بالعصمة التي وجدنا الناس عليها قال فاطمة حين بلغها ذلك : بيني وبينك كتاب الله قال الله { فطلقوهن لعدتهن } إلى قوله { لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا } قالت : وأي أمر يحدث بعد الثلاث ؟ وإنما هي مراجعة الرجل امرأته فكيف تقولون : لانفقة لها إن لم تكن حاملا ؟ فكيف تحبس امرأة بغير نفقة ؟

حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ خبر دیتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے ہجرت سعید بن زید کی بیٹی کو طلاق دے دی جبکہ وہ جوان آدمی تھے اور مروان کا دور حکومت تھا۔ اس عورت کی ماں قیس کی بیٹی تھیں ۔ انہوں نے بائنہ(پکی) طلاق دی ۔ ان کی خالہ حضرت فاطمہ بنت قیس نے پیغام بھیج کر کہا کہ وہ اپنے خاوند عبداللہ بن عمرو کے گھر سے (دوسری جگہ) منتقل ہو جائیں ۔ مروان نے یہ بات سن لی ۔ ان کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ اپنے گھر لوٹ آئے اور اس سے دریافت کیا کہ اُسے کس نے کہا ہے کہ تو عدت گزرنے سے پہلے اپنا گھر چھوڑدے ؟ اُس نے اُسے خبر دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خا لہ فاطمہ بنت قیس نے فتویٰ دیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر سے نکلنے یا منتقل ہونےکا فتویٰ دیا تھا ، جب حضرت ابو عمرو بن حفص مخزومی نے ان کو طلاق دی تھی ۔ مروان نے قبیصہ بن ذؤیب کو حضرت فاطمہ بنت قیس کو بھیجا تاکہ وہ ان سے اس بارے میں دریافت کر سکیں ۔ انہوں نے خبر دی کہ وہ حضرت ابو عمر و بن حفص مخزومی کی بیوی تھی۔ فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو یمن کا امیر مقرر فرمایا۔ پس ان کے شوہر بھی حضرت علی کے ساتھ نکلے اور ان کی طرف ایک طلاق بھیج دی جوان کے لیے باقی رہ گئی اور حضرت عیاش بن ابو ربیعہ اور حارث بن ھشام کو حکم دیا کہ وہ انہیں نفقہ مہیا کرے ۔ ان دونوں نے کہا: بخدا! وہ نفقہ کی حقدار نہیں ہیں ۔ ہاں اگر وہ حاملہ ہوتیں (تو حقدار تھیں)اور انہوں نے اُس گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں کہاں منتقل ہوجاؤں؟ فرمایا : ابن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ ۔ وہ نابینا ہیں ۔ آپ ان کے پاس کپڑے وغیرہ اتار سکیں گی اور وہ نہ دیکھ سکیں گے ۔ وہ عدت گزر نے تک وہیں رہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت اسامہ بن زید سے کر دیا ۔ پس حضرت قبیصہ نے آکر مروان کو خبر دی تو مروان نے کہا: میں نے یہ حدیث صرف ایک عورت سے سنی ہے ۔ پس میں تو احتیاطاً اسی پر عمل کروں گا، جس پر لوگوں کو عمل کرتا ہوا پاتا ہوں ۔ حضرت فاطمہ کو جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: (آئے) اُس کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب ہے ۔ اللہ نے فرمایا: "فطلقون ہن لعدتھن"اللہ کے اس قول تک " لاتدری ۔۔۔۔۔۔ امرا" ۔ تین طلاقوں کے بعد کونسا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ؟ وہ یہی ہوتا ہے کہ مرد بار بار عورت کی طرف آتا جاتا ہے تو تم کیسے کہتے ہو کہ اگر وہ حاملہ نہ ہو تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے؟ پس بغیر نفقہ کے عورت کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20942

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عبيدالله بن عبد الله بن عتبة عن فاطمة · حديث 20943

926 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا منجاب بن الحارث ثنا حصين بن عمر الأحمسي عن مخارق عن طارق بن شهاب عن فاطمة بنت قيس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم بحديث الجساسة

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے ، اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جساسہ والی حدیث کی مانند حدیث روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم بحديث الجساسة ← فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← مُخَارِقٍ ← حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ الْأَحْمَسِيُّ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20943

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ قبيصة بن ذؤيب عن فاطمة · حديث 20944

927 - حدثنا محمد بن هشام المستملي ثنا علي بن المديني ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ثنا أبي عن محمد بن إسحاق قال : ذكر محمد بن مسلم الزهري أن قبيصة بن ذؤيب أن Y ابنة سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل وكانت محرمة بنت قيس فاطمة بنت قيس خالتها وكانت عند عبد الله بن عمرو بن عثمان فطلقها ثلاثا فبعثت إليها خالتها فانتقلتها إلى بيتها ومروان بن الحكم على المدينة قال قبيصة : بعثني مروان بن الحكم إليها فسألها ما حملها على أن تخرج امرأة من بيتها قبل أن تنقضي عدتها ؟ فقالت : لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرني بذلك ثم قصت حديثها فقالت : وأنا أخاصمكم بكتاب الله يقول الله في كتابه : { يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن وأحصوا العدة واتقوا الله ربكم لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وتلك حدود الله ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا } ولم يكن الحبس للرجعة ثم قال { فإذا بلغن أجلهن } الثالث { فأمسكوهن بمعروف أو فارقوهن بمعروف } والله ما ذكر الله بعد الثالثة حبسا بعدما أمرني به رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فرجعت إلى مروان فأخبرته فقال : حديث امرأة حديث امرأة ثم أمر بالمرأة فردت إلى بيتها حتى انقضت عدتها

حضر ت محمد بن مسلم زہری فرماتے ہیں کہ قبیصہ بن ذؤیب نے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت سعید بن زید بن عمر و بن نفیل کی بیٹی جو بنت قیس کے ساتھ محرم رشتہ رکھتی تھی، حضرت فاطمہ بنت قیس ان کی خالہ تھیں ، وہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی بیوی تھیں، پس ان کے خاوند نے ان کو تین طلاقیں دے دیں ، ان کی خالہ نے پیغام بھیجا کہ وہ اس کے گھر منتقل ہو جائیں ، جبکہ مروان اس وقت مدینہ کا حکم تھا۔ حضرت قبیصہ فرماتے ہیں : مروان بن حکم نے مجھے ان کی طرف بھیجا ، پس ان سے پوچھا : تجھے ایک عورت کو اپنے گھر سے نکالنے پر کس چیز نے مجبور کیا ، اس سے پہلے کہ اس کی عدت گزرے، کہا: کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم دیا تھا ، پھر اپنی حدیث بیان کی ، کہا: میں تم سے اللہ کی کتاب کے حوالے سے مناظرہ کر سکتی ہوں۔ اللہ فرماتا ہے :"اذا طلقتم النساء الیٰ آخرہ"۔ "لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرًا" اور روکنا ، رجعت کے لیے ہی تو ہوتا ہے ۔ پھر اس آدمی نے کہا:" فاذابلغن اجلھن"تیسری:" فامسکوہن بمعروف او سرحوھن بمعروف"بخدا! اللہ نے تیسری کے بعد رُکنے کا ذکرنہیں کیا ، اس کے باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا ۔ حضرت قبیصہ کہتے ہیں : میں نے مروناکی طرف واپس آکر اسے بتایا ، اس نے کہا: عورت کی بات، پھر عورت کی بات ہوتی ہے ۔ پھر عورت کو واپس اپنے گھر آنے کا حکم جاری کیا حتیٰ کہ اس کی عدت پوری ہو جائے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20944

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عبد الرحمن بن عاصم بن ثابت عن فاطمة · حديث 20945

928 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن ابن جريج أخبرني عطاء أخبرني عبد الرحمن بن عاصم بن ثابت أن Y فاطمة بنت قيس أخت الضحاك بن قيس وكانت عند رجل من بني مخزوم فأخبرته أنه طلقها ثلاثا وخرج إلى بعض المغازي وأمر وكيلا له أن يعطيها بعض النفقة فاستقلتها فانطلقت إلى إحدى نساء النبي صلى الله عليه و سلم فدخل النبي صلى الله عليه و سلم وهي عندها فقالت : يا رسول الله هذه فاطمة بنت قيس طلقها فلان فأرسل إليها ببعض النفقة فردتها وزعم أنه شيء تطول به فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صدق ثم قال لها : انتقلي إلى أم مكتوم فاعتدي عندها ثم قال : لا إن أم مكتوم امرأة يكثر عوادها ولكن انتقلي إلى عبد الله بن أم مكتوم فإنه أعمى فانتقلت إليه فاعتدت عنده حتى انقضت عدتها ثم خطبها أبو جهم ومعاوية بن أبي سفيان فجاءت رسول الله صلى الله عليه و سلم تستأمره فيهما فقال : أما أبو جهم فأخاف عليك فسقشته للعصا وأما معاوية فرجل أخلق من المال فتزوجت أسامة بن زيد بعد ذلك

حضرت عبدالرحمٰن بن عاصم بن ثابت خبر دیتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت قیس ، حضرت ضحاک بن قیس کی بہن اور بنو مخزوم کے ایک آدمی کی بیوی تھیں ، پس اُنہوں نے خود خبردی کہ ان کے شوہر نامدار نے ان کو تین طلاقیں دے دیں اور کسی غزوہ پر تشریف لے گئے ، اپنے وکیل کو کہا کہ اس کو کچھ نفقہ دے دینا اور اسےیہاں رہنے دینا۔ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں سے ایک کی طرف گئیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے تو یہ وہیں بیٹھی تھیں۔عرض کی: اے اللہ کے رسول ! یہ فاطمہ بنت قیس ہیں ، ان کو فلاں آدمی نے طلاق دے دی ہے اور کچھ نفقہ کا پیغام بھیجا ہے ، لیکن اس نے رد کر دیا اور اس آدمی کا گمان ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ پھرفرمایا :اُم مکتوم کی طرف منتقل ہو جاؤ، ان کے پاس عدت گزارو۔ پھر فرمایا: نہیں ! وہ ایسی عورت ہے کہ وہ اس کے پاس لوگ آتے جاتے رہتے ہیں بلکہ تم حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ کیونکہ وہ نابینا شخص ہے ۔ پس وہ وہاں منتقل ہو گئیں، ان کے پاس عد ت گزاری حتیٰ کہ ان کی عدت پوری ہوئی پھر حضرت ابو جہم اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان نے اسے نکاح کا پیغام دیا، پس وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں تاکہ ان دونوں کے بارے مشورہ کرسکیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :بہر حال ابو جہم تیرے اوپر مجھے ڈر ہے ( وہ سخت آدمی ہے) تو حضرت معاویہ مال سے فارغ آدمی ہے۔ اس کے بعد اُنہوں نے حضرت اسامہ بن زید سےنکاح کر لیا۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20945

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو بكر بن صخير بن أبي الجهم عن فاطمة · حديث 20946

929 - حدثنا أبو مسلم الكشي ويوسف القاضي قالا : ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن أبي بكر بن أبي الجهم قال Y جئت أنا و أبو سلمة بن عبد الرحمن إلى فاطمة بنت قيس أخت الضحاك بن قيس وقد أخرجت بنت أخيها ظهرا فقلت : ما حملك على هذا ؟ قالت : كان زوجي أبو حفص بن المغيرة بعث إلي مع عياش بن أبي ربيعة بطلاقي ثلاثا وبعث إلي بخمسة آصع من شعير وخمسة آصع من تمر فقلت : وما لي نفقة إلا هذا ؟ فجمعت ثيابي فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقال : كم طلقك ؟ قلت : ثلاثا قال : فإنه صدق لا نفقة لك واعتدي في بيت ابن أم مكتوم تضعي عنك ثيابك

حضرت ابوبکر بن جہم فرماتے ہیں : میں اور حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ، حضرت فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے جو حضرت ضحاک بن قیس کی بہن تھیں جبکہ حضرت فاطمہ اپنی بھانجی کو (عدت کے دوران) ظہر کے وقت گھر سے نکالا، پس میں کہا: اس بات پر تجھے کس چیز نے اُبھارا؟ فرمایا: میر اخاوند، ابو حفص بن مغیرہ تھا ۔ اس نے حضرت عیاض بن ابو ربیعہ کو میری طرف تین طلاقیں دے کر بھیجا ، پانچ صاع جو بھی بھیجے ، پانچ صاع کھجور بھی میری طرف بھیجی۔ میں نے کہا: میرے لیے یہی کچھ نفقہ ہے، میں نے کپڑے سنبھالے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تجھے کتنی طلاقیں دی ہیں ؟ میں نے عرض کی : تین ۔ فرمایا: اس نے سچ کہا، تُونفقہ کی حقدار نہیں ہے، تُو حضرت ابن اُم مکتوم کے گھر عدت گزار لے، تاکہ تُو اپنے کپڑے بھی (آسانی سے ) اُتار سکے ۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ وَيُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20946

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو بكر بن صخير بن أبي الجهم عن فاطمة · حديث 20947

930 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني ثنا شريك ( ح ) وحدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا زكريا بن يحيى زحمويه ثنا شريك عن أبي بكر بن صخير قال : Y دخلت أنا و أبو سلمة بن عبد الرحمن على فاطمة بنت قيس وكان زوجها طلقها ثلاثا فقالت أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فلم يجعل لي سكنى ولا نفقة

حضرت ابو بکر بن صخیر فرماتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ، حضرت فاطمہ بنت قیس کے پاس آئے جبکہ انہیں اُن کے شوہر نےتین طلاقیں دی تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نےمیرے لیے نفقہ اور گھر نہیں بنایا۔

دَخَلْتُ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ صُخَيْرٍ ← شَرِيکٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،: ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20947

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو بكر بن صخير بن أبي الجهم عن فاطمة · حديث 20948

931 - حدثنا عبد الله بن علي الجارودي النيسابوري ثنا أحمد بن حفص حدثني أبي ثنا إبراهيم بن طهمان عن عتبة بن عبد الله عن أبي بكر بن الجهم قال : Y دخلت على فاطمة بنت قيس وكان زوجها طلقها ثلاثا فقالت : متعني بثلاثة آصع شعير وثلاثة آصع تمر قالت : وأمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أكون عند ابن أم مكتوم فإنه مكفوف البصر لا يراني حين أخلع خماري قال : فإذا حللت فلا تسبقيني فلما حللت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أذكرك أحد ؟ قلت : معاوية وأبو جهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما أبو جهم فشديد الخلق على نسائه وأما معاوية فلا مال له ولكن أنكحي أسامة فقلت : أسامة تهاونا بأمر أسامة ثم قلت : سمعا وطاعة لله ورسوله فزوجني أسامة فكرمني الله بابن زيد وشرفني الله بابن زيد ونفعني الله بابن زيد

حضرت ابو بکر بن جہم فرماتے ہیں : میں حضرت فاطمہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس داخل ہوا اس حال میں کہ ان کے خاوند ان کوطلاق دےچکے تھے تو انہوں نے کہا کہ وہ انہیں تین صاع جو اور تین صاع کھجور دے دیں ۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ابن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤں۔ وہ نابینا ہیں۔ میں ان کے پاس اوڑھنی اتار سکوں گی اور وہ نہ دیکھ سکیں گے ۔ فرمایا : جب میں عدت گزار تو آپ سے سبقت نہ لوں۔ پس جب میں حلال ہوئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کسی نے تجھے نکاح کا پیغام دیا ہے ؟ عرض کی: ہاں ۔ حضرت معاویہ اور ابو جہم نے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو جہم تو اپنی بیویوں پر بڑاسخت ہے اور حضرت معاویہ کے پاس (اس وقت) مال نہیں ہے۔ بلکہ تو نکاح حضرت اسامہ بن زید سے کر لے ۔ میں نے عرض کی: اسامہ حضرت اسامہ کے حوالے سے سستی کا اظہار کرتے ہوئے ۔ پھر میں نے کہا: میں نے (آپ کاحکم ) سنا اور اطاعت کی۔ اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرتے ہوئے ۔ پس آپ نے میرا نکاح حضرت اسامہ سے کردیا۔ تو اللہ نےمجھے حضرت ابن زید عطا فرمائے ۔ ان زید عطا کر کی بزرگی عطا کی اور اللہ نے مجھے ابن زید کے وسیلے سے نفع دیا۔

دخلت على فاطمة بنت قيس وكان زوجها طلقها ثلاثا ← أبي بكر بن الجهم ← عتبة بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20948

chevron_left Previous
1…456…19
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter