Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ مجاهد بن جبر عن أم هانيء · حديث 21069

1052 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا حجاج بن إبراهيم الأزرق ثنا عتاب بن بشير عن خصيف عن مجاهد عن أم هانيء قالت : Y لما كان يوم فتح مكة دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بماء وسترت أم هانيء وأم سليم وأم أنس بن مالك بملحفة ثم دخل بيت أم هانيء فصلى الضحى أربع ركعات

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا ، میں اُم ہانی اور اُم سلیم ، اُم انس بن مالک نے ایک کپڑے کے ساتھ پردہ کیا، پھر آپ میرے گھر داخل ہوئے اور نماز اشراق کی چار رکعت اداکیں۔

أم هانيء ← مُجَاهِدٍ ← خُصَيْفٍ ← عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21069

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ مجاهد بن جبر عن أم هانيء · حديث 21070

1053 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا علي بن بحر ثنا محمد بن سلمة الحراني عن خصيف عن مجاهد Y عن أم هانيء قالت : لما كان يوم فتح مكة دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بماء وسترته أم هانيء وأم سلمة فاغتسل وصلى الضحى ثمان ركعات

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا ، میں اور اُم سلمہ نے پر دہ کیا ، آپ نے غسل کیا اور نماز اشراق کی چار رکعت اداکیں۔

أم هانيء ← مُجَاهِدٍ ← خُصَيْفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21070

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ مجاهد بن جبر عن أم هانيء · حديث 21071

1054 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن عثمان بن كرامة ثنا عبد الله بن موسى ثنا إسرائيل عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد Y عن أم هانيء قالت : صلى النبي صلى الله عليه و سلم بمكة ركعتين وأربعا لم يعد لها

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں دور کعت پڑھیں اور چار ، پھر آپ نے نہیں پڑھی۔

أم هانيء ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ کَرَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21071

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ سعيد المقبري عن أم هانيء · حديث 21072

1055 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن أبي معشر عن سعيد المقبري Y أن أم هانيء جاءت برجلين فأراد علي قتلهما فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال : قد أجرنا من أجارت أم هانيء

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ دو آدمی آئے ( ان کو میں نے پناہ دی) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اُم ہانی ! جس کو تُونے پناہ دی اُسے ہم نے پناہ دی ۔

سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21072

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ سعيد بن أبي هند عن أم هانيء · حديث 21073

1056 - حدثنا الحسين بن إ سحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير عن سعيد بن أبي هند Y أن أم هانيء بنت أبي طالب حدثته أن علي بن أبي طالب دخل عليها في غزوة الفتح بمكة فوجد عندي رجلين من أهل زوجي قد فرا إلي فأراد أن يقتلهما فلما رأيت ذلك أغلقت عليهما بابي ثم ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بأعلى مكة فلما رآني رحب بي وقال : ما جاء بك يا أم هانيء ؟ قلت : يا رسول الله رجلين من أهل زوجي احتما بي فوجدهما علي عندي فزعم أنه قاتلهما فجئتك في ذلك فقال : قد أجرنا من أجرت وأمنا من أمنت ثم سكبت له ماء فاغتسل فسترته فاطمة بنته بثوب فلما اغتسل أ خذه فألقى به ثم قام فصلى ثمان سجدات وذلك الضحى

حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حدیث بیان فرماتی ہیں : فتح کے سال مکہ میں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس تشریف لائے ۔ انہوں نے میرے خاوند سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں کو دیکھا جو دوڑ کر میری طرف آئے تھے ۔ انہوں نے انہیں قتل کرنا چاہا۔ جب میں نے ان کی یہ بات دیکھی تو میں نے اُن کے سامنے سے دروازہ بند کر کے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئی جکہ آپ مکہ کے بالائی حصے میں موجود تھے ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھے خوش آمدید کہا۔ فرمایا: اے اُم ھانی ! تجھے کون سی چیز لائی ہے ؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! میں اپنے سسرال میں سے دو آدمیوں کو پناہ دی ، لیکن حضرت علی نے انہیں میرے پاس دیکھا تو اُن کا ارادہ ان کو قتل کرنےکا ہے ۔ میں اس حوالے سےآپ کے پاس آئی ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے تونے پناہ دی ، اُسے ہم نے پناہ دی ۔ جس آدمی کو تو نے امان دی ، اُسے ہم نے امان دی ۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا اور حضرت فاطمہ نے پردہ کیا پھر کپڑاپکڑ کر ڈالا پھر چاشت کے وقت کی آٹھ رکعت پڑھیں ۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الحسين بن ا سحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21073

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ محمد بن المنكدر عن أم هانيء · حديث 21074

1057 - حدثنا أحمد بن علي الأبار ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع ثنا روح بن القاسم عن محمد بن المنكدر عن أم هانيء Y حدثت أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها يوم الفتح فصلى الضحى أربع ركعات

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس فتح مکہ کے دن آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز اشراق کی چار کعت اداکیں۔

أم هانيء ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21074

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ محمد بن المنكدر عن أم هانيء · حديث 21075

1058 - حدثنا أحمد بن علي الأبار ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع ثنا روح بن القاسم عن محمد بن المنكدر عن أم هانيء Y أنه اكل كتفا ثم صلى ولم يتوضأ تعني النبي صلى الله عليه و سلم

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے کندھے کی ہڈی تناول کی اور نماز پڑھی اور آپ نے وضو نہیں کیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21075

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عكرمة عن أم هانيء · حديث 21076

1059 - حدثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا وهب بن بقية ثنا محمد بن الحسن المزكى ( ح ) وحدثنا القاسم بن عباد الخطابي ثنا إسحاق بن بهلول الأنباري ثنا أبي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا رزق الله بن موسى ثنا شبابة بن سوار قالوا : ثنا عبد الأعلى بن أبي المساور عن عكرمة Y عن أم هانيء بنت أبي طالب قالت : بات رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة أسري به في بيتي ففقدته من الليل فامتنع مني النوم مخافة أن يكون عرض له بعض قريش فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن جبريل أتاني فأخذ بيدي فأخرجني فإذا على البيت دابة دون البغل وفوق الحمار فحملني عليها ثم انطلق حتى انتهى بي إلى بيت المقدس فأراني إبراهيم يشبه خلقه خلقي ويشبه خلقي خلقه وأراني موسى آدم طويلا سبط الشعر شبهته برجال أزد شنوءة وأراني عيسى بن مريم ربعة أبيض يضرب إلى الحمرة شبهته بعروة بن مسعود الثقفي وأراني الدجال ممسوح العين اليمنى شبهته بقطن بن عبد العزى وأنا أريد أن أخرج إلى قريش فأخبرهم بما رأيت فأخذت بثوبه فقلت : إني أذكرك الله إنك تأتي قوما يذبونك وينكرون مقالتك فأخاف أن يسطوا بك قالت : فضرب ثوبه من يدي ثم خرج إليهم فأتاهم وهم جلوس فأخبرهم ما أخبرني فقام جبير بن مطعم فقال : يا محمد لو كنت شابا كما كنت ما تكلمت به وأنت بين ظهرانينا فقال رجل من القوم : يا محمد هل مررت بابل لنا في مكان كذا وكذا ؟ قال : نعم والله وجدتهم قد أضلوا بعيرا لهم فهم في طلبه فقال : هل مررت بابل لبني فلان ؟ قا ل : نعم في مكان كذا وكذا قد انكسرت لهم ناقة حمراء فوجدتهم وعندهم قصعة من ماء فشربت ما فيها قالوا : فأخبرنا عدتها وما فيها من الرعاة قال : قد كنت عن عدتها مشغولا فقام فأتي بالإبل فعدها وعلم ما فيها من الرعاة ثم أتى قريشا فقال : سألتموني عن إبل بني فلان فهي كذا وكذا وفيها من الرعاة ابن أبو قحافة وفلان وفلان وهي مصبحتكم بالغداة على الثنية قال : فغدوا إلى الثنية ينظرون أصدقهم ماقال فاستقبلوا الإبل فسألوا : هل ضل لكم بعير ؟ قالوا نعم فسألوا الآخر : هل انكسرت لكم ناقة حمراء ؟ قالوا : نعم قالوا : فهل كانت عندكم قصعة ؟ قال أبو بكر : أنا والله وضعتها فما شربها أحد ولا هراقوه في الأرض وصدقه أبو بكر وآمن به فسمي يومئذ الصديق

حضرت اُم ھانی بنت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : معراج کی رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر میں قیام کیا ۔ رات (کے کسی وقت ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ پایا ۔ (اس کے بعد ) مجھے نیند نہ آئی کہ کہیں کسی قریشی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچایا ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے ۔ میرا ہاتھ پکڑ کرمجھےگھر سے لے چلے ۔ اچانک بیت اللہ شریف کے پاس خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور تھا ۔ انہوں نے مجھے اس پر سوار کیا پھر چلے یہاں تک ہم بیت المقدس پہنچے ۔ پس انہوں نے مجھےحضرت ابراہیم سےملوایا ۔اُں کی شکل میری شکل اور میری شکل ، اُن کی شکل کے مشابہ ہے ۔ مجھے حضرت موسیٰ سے ملاقات کروائی ۔ وہ لمبے قد کے سیدھے بالوں والے تھے ۔ میں نے انہیں بنواز د قبیلے والوں سے تشبیہ دی ۔ انہوں نے میری ملاقات حضرت عیسیٰ بن مریم سے کروائی ۔ درمیانہ قد سرخی مائل سفید رنگ تھے ۔ میں نے انہیں عبداللہ بن مسعود ثقفی سے تشبیہ دی ۔ انہوں نےمجھے دجال بھی دکھایا ۔اُس کی دائیں آنکھ نہ تھی ۔ میں نے اُسے قطن بن عبد العزٰی سے تشبیہ دی اور میں چاہتاہوں کہ قریش کے پاس جا کر وہ بتاؤں ، جو میں نے دیکھا ۔ پس میں نے آپ کے کپڑے کا پلو پکڑ کر عرض کی : میں آپ کو اللہ کی یاد دلاکر کہتی ہوں کہ آپ ایک ایسے گروہ کے پاس جار ہے ہیں ، جو آپ کو پیچھے دھکیل دیں گے اور آپ کی بات کا انکار کریں گے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ پر حملہ کردیں گے ۔ فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے کپڑا چھڑوا کر اُن کی طرف نکل گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے پاس آئے تو وہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے اُن کو وہی بات بتائی ، جو مجھے بتائی تھی ۔ پس جبیر بن مطعم نے کھڑے ہو کر کہا: اےمحمد ! اگر آپ جوان ہوتے جیسےمیں ہوں تو آپ یہ بات نہ کرتے جبکہ آپ ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ قوم میں اسے ایک آدمی نے کہا: اے محمد ! کیا آپ فلاں فلاں جگہ ہمارے اونٹ کے پاس سے گزرے ؟ فرمایا: ہاں ۔ بخدا! میں نے ان کو پایا، وہ قافلے سے بچھڑ چکے تھے اور اس کی تلاش میں تھے ۔ کیا آپ بنو فلاں کے اونٹ کے پاس سے بھی گزرے ؟ فرمایا:ہاں۔ فلاں فلاں جگہ موجود تھے ۔ ان کی سرخی اونٹنی کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔ میں نے انہیں اس حال میں پایا کہ ان کے پا س ایک پانی کا پیالہ تھا ، جس میں سے میں نے پانی پیا۔ انہوں نےکہا: آپ ہمیں بتائیں کہ اُن کی تعداد کتنی تھی اور اُس میں کتنے چرواہے تھے؟ فرماتے ہیں : (اُن کی گنتی میرے حاشیہ خیال سے محو ہوگئی تھے تو آپ کھڑے ہوئے ، وہ اونٹ آپ کے سامنے لائے گئے ۔ آپ نے ان کو گنا اور اُس میں چرواہوں کی تعداد کو جان لیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے پاس آکر فرمای: تم نے مجھ سے بنوفلاں کے اونٹوں کے بارے پوچھا ۔ پس وہ اتنے اتنے تھے ۔ ان میں چرواہے فلاں (نام لیا) اور فلاں تھے اور بنو فلاں کے اونٹوں کے بارے بھی پو چھا تو اس میں چرواہے ابن ابو قحافہ، فلاں(نام لیا) اور فلاں تھے اور وہ ثنیہ کے مقام پرکل صبح تمہارے پاس کرنے والے ہیں ۔ راوی کابیان ہے کہ وہ ثنیہ کے مقام پر یہ دیکھنےکے لیے گئے کہ کیا جو آپ نے فرمایا ہے ، وہ سچ ہے ؟ انہوں نے قافلے والوں سے آگے ہوکر باقاعدہ یہ دریافت کیا کہ کیا تمہارا کوئی اونٹ گم تو نہیں ہو گیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں ۔پس انہوں نے دوسرے قافلے والوں سے سوال کیا کہ کیا تمہاری سرخ اونٹنی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی ؟ جواب ملا : ہاں ۔ کہا: کیا تمہارے پاس کوئی پیالہ تھا ؟ ابوبکر نےکہا: بخدا ! میں نے ہی اُسے رکھا ، جسے کسی نے نہیں پیا اور اُ سے لوگوں نےزمین پر گرایا اور حضرت ابو بکر نے آپ کی تصدیق کی اور ایمان لائے ۔ پس اُسی دن سے ان کا لقب صدیق پڑگیا ۔

أم هانيء بنت أبي طالب ← عِكْرِمَةَ، ← عبد الأعلى بن أبي المساور ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبِي ← إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ الْأَنْبَارِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ عُبَادٍ الْخَطَّابِيُّ ← محمد بن الحسن المزكى ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21076

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عبد الرحمن بن أبي رافع عن أم هانيء · حديث 21077

1060 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا هدبة بن خالد ثنا حماد بن سلمة عن عبد الرحمن بن أبي رافع Y أن أم هانيء بنت أبي طالب خرجت متبرجة قد بدا قرطاها فقال لها عمر بن الخطاب : اعلمي فإن محمدا لا يغني عنك شيئا فجاءت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بال أقوام يزعمون أن شفاعتي لا تنال أهل بيتي وإن شفاعتي تنال حا وحكم [ حا وحكم قبيلتان ]

حضرت عبدالرحمٰن بن رافع سے مروی ہے کہ حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سج دھج سے نکلیں ، آپ کے دونوں کانوں میں سونے یا چاندی کے کانٹے لٹک رہے تھے ۔ حضرت عمر نے ان سے کہا : جان لیں !(اعمال ہی تیرے کا آئیں گے ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو کوئی فائدہ نہ دیں گے ۔ پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آکر بتایا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میری شفاعت میرے اہل بیت کو نہیں پہنچے گی اور میری شفاعت باقی کو حاصل ہو گی ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21077

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ صالح مولى وجزة عن أم هانيء · حديث 21078

1061 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا أبو معشر عن مسلم بن أبي مريم عن صالح مولى وجزة Y عن أم هانيء بنت أبي طالب قالت : جئت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله إني امرأة قد ثقلت فعلمني شيئا أقوله وأنا جالسة قال : قولي الله أكبر مائة مرة فهو خير لك من مائة بدنة مجللة متقبلة وقولي سبحان الله مائة مرة فهو خير لك من مائة فرس مسرجة ملجمة تحملين عليها في سبيل الله وقولي الحمد لله مائة مرة فهو خير لك من مائة رقبة تعتقينها من بني إسماعيل وقولي لا إله إلا الله مائة مرة لا يذرون دينا ولا يسبقهن عمل

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر عرض کی : میں ایسی عورت ہوں ، ( عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ) میرا جسم بوجھل ہو گیا ہے ، مجھے کوئی ایسا عمل سکھائیں کہ میں اسے بیٹھ کر پڑھوں ۔ فرمایا: سو بار اللہ اکبر کہا کرو ، پس یہ مقبول قربانی دینے کے برابر ثواب ہے ۔ سومرتبہ سبحان اللہ کہا کرو، پس یہ لگاموں اور زینوں سمیت سو گھوڑے اللہ کی راہ میں پیش کرنے کے برابر ثواب ہے ۔ سور بار "الحمد اللہ !" کہا کرو۔ پس یہ حضرت اسماعیل کی اولاد سے سو غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے ۔ سو بار لا الٰہ الا اللہ کہا کرو ، یہ کوئی دین نہیں چھوڑ یں گے یعنی ہر دین اور اچھے طریقے کو شامل ہوں گے ۔ کوئی عمل ان کلمات سے سبقت نہیں لے جائے گا۔

جئت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ← أم هانيء بنت أبي طالب ← صَالِحٍ مَوْلَى وَجْزَةَ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← أبو معشر ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21078

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ ذكوان أبو صالح السمان عن أم هانيء · حديث 21079

1062 - حدثنا محمد بن محمد الجذوعي القاضي ثنا عقبة بن مكرم العمي ثنا أبو بكر الحنفي ثنا فائد العطار عن ذكوان أبي صالح السمان Y عن أم هانيء قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السباق أربعة أنا سابق العرب وسلمان سابق فارس وصهيب سابق الروم وبلال سابق الحبش

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبقت لے جانے والے چار ہیں : عربوں سے سبقت لےجانے والا میں ہوں، سلمان فارس والوں میں سبقت لے جانے والے ، صہیب روم والوں میں سبقت لے جانے والے اور بلال حبشہ والوں میں سبقت لے جانے والے ۔

أم هانيء ← ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← فائد العطار ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ1 ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21079

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ محمد بن قيس المدني عن أم هانيء · حديث 21080

1063 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا أمية بن بسطام ثنا معتمر بن سليمان قال : سمعت حميد الطويل يحدث عن محمد بن قيس Y عن أم هانيء أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها يوم الفتح فصلى الضحى ست ركعات

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس فتح مکہ کے دن آئے ، آپ نے چاشت کی چھ رکعت پڑھیں ۔

أم هانيء ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21080

chevron_left Previous
1…1516171819
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter