Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21033

1016 - حدثنا أبو زرعة الدمشقي ثنا آدم بن أبي إياس ثنا أبو معشر عن سعيد المقبري عن أبي مرة مولى عقيل عن أم هانيء Y أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها يوم الفتح فاغتسل فصلى الضحى ثمان ركعات في ثوب واحد قد خالف بين طرفيه فقلت : يا رسول الله إني قد أجرت حموي ابني هبيرة وإن ابن أمي زعم أنه قاتلهما فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أجرنا من أجارت أم هانيء

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے پاس آئے ، آپ نے غسل کیا اور ایک کپڑے میں لپٹ کر چاشت کی آٹھ رکعت اداکیں ، دونوں کندھوں پر مخالف سمت کپڑا رکھا ۔ میں نے عرض کی : یار سول اللہ ! میں ہبیرہ کے دونوں بچوں اپنے دیوروں کو پناہ دی ہے اور میرا بھائی ان کو قتل کرنا چاہتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کو اُم ہانی نے پناہ دی ہے اُسے ہم نے پناہ دی ہے ۔

أم هانيء ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أبو معشر ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21033

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21034

1017 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك ( ح ) وحدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن يوسف أخبرنا مالك ( ح ) وحدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني مالك عن أبي النضر مولى عمر بن عبيد الله أن أبا مرة مولى أم هانيء بنت أبي طالب أخبره أنه سمع أم هانيء بنت أبي طالب تقول : Y ذهبت إلى النبي صلى الله عليه و سلم عام الفتح فوجدته يغتسل وفاطمة تستره بثوب فسلمت عليه فقال : من هذا ؟ فقلت : أم هانيء بنت أبي طالب فقال : مرحبا بأم هانيء فلما فرغ من غسله قام فصلى ثمان ركعات ملتحفا في ثوب واحد فلما انصرف قلت : يا رسول الله زعم ابن امي أنه قاتلا رجلا قد أجرته فلان ابن هبيرة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أجرنا من أجرت يا أم هانيء قالت أم هانيء : وذلك ضحى

حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : فتح کے سال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے کی خاطر آئی ، آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور حضرت فاطمہ کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھیں ۔ میں نے آپ پر سلام کیا تو فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کی میں اُ م ھانی بنت ابو طالب ہوں ۔فرمایا: اُ م ھانی کو خوش آمدید ! پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کر لیا تو کھڑے ہو کر ایک ہی کپڑے میں آٹھ رکعت نفل ادا کیے ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرا ماں جایا ایک ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتا ہے ، جسے میں نے پناہ دی ہے اور وہ ابن ھبیرہ کا فلاں آدمی ( میرا دیور) ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُم ھانی ! جسے تو نے پناہ دی ، اُسے ہم نے پناہ دی۔ حضر ت اُم ھانی فرماتی ہیں : یہ چاشت کا وقت تھا ۔

أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21034

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21035

1018 - حدثنا اسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن مالك عن ميمون بن ميسرة عن أبي مرة مولى أم هانيء قال : سمعتها تقول : ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك ( ح ) وحدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن يوسف أنا مالك ( ح ) وحدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا مالك عن موسى بن ميسرة عن أبي مرة مولى عقيل عن أم هانيء قالت : Y ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الفتح فوجدته يغتسل وفاطمة ابنته تستره بثوب فسلمت وذلك في الضحى فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من هذا ؟ قلت : أم هانيء بنت أبي طالب فقال : مرحبا بأم هانيء فلما فرغ من غسله صلى ثمان ركعات ملتحفا في ثوب واحد ثم انصرف فقلت : يا رسول الله زعم ابن امي أنه قاتل فلان بن هبيرة رجلا قد أجرته فقال النبي صلى الله عليه و سلم : قد أجرنا من أجرت أم هانيء هكذا قال الدبري عن عبد الرزاق عن مالك عن ميمون بن ميسرة وهم فيه والصواب مارواه القعنبي وغيره عن مالك عن موسى بن ميسرة

حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : فتح کے سال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے کی خاطر آئی ، آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور حضرت فاطمہ کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھیں ۔ میں نے آپ پر سلام کیا تو فرمایا فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کی میں اُ م ھانی بنت ابو طالب ہوں ۔فرمایا: اُ م ھانی کو خوش آمدید ! پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کر لیا تو کھڑے ہو کر ایک ہی کپڑے میں آٹھ رکعت نفل ادا کیے ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرا ماں جایا ایک ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتا ہے ، جسے میں نے پناہ دی ہے اور وہ ابن ھبیرہ کا فلاں آدمی ( میرا دیور) ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جسے اُم ہانی نے پناہ دی ، اُسے ہم نے پناہ دی۔اسی طرح حضرت دبری نےکہا۔ انہوں نے حضرت عبدالرزاق سے ، انہوں نے مالک سے ، انہوں میمون بن میسرہ سے روایت کیا ۔ انہیں اس میں وھم ہوا اور درست روایت وہ ہ ، جو حضرت امام قعبنی اور ان کے علاوہ نے کی ہے ۔ انہوں نے حضرت مالک سے اور انہوں نے حضرت موسیٰ بن میسر ہ سے روایت کی ۔

أبي مرة مولى أم هانيء ← مَيْمُونِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21035

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21036

1019 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح ثنا الليث حدثني يزيد بن أبي حبيب عن سعيد بن أبي هند أن أبا مرة مولى عقيل حدثه أن أم هانيء بنت أبي طالب حدثته Y أنه لما كان يوم الفتح فر إليها رجلان من بني مخزوم فأجارتهما دخل علي علي فقال : لأقتلنهما فلما سمعته يقول ذلك أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بأعلى مكة فلما رآني رحب بي فقال : ما جاء بك يا أم هانيء ؟ قلت : يا نبي الله كنت قد أمنت رجلين من أختاني وأراد علي قتلهما فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أجرنا من أجرت ثم قام رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى غسله فسترت إليه فاطمة ثم أخذ ثوبه فالتحف به وصلى ثمان ركعات سبحة الضحى

حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حدیث بیان فرماتی ہیں : فتح کے سال میں بنو مخزوم کے دو آدمی دو ڑ کر میری طرف آئے تو میں نے اُن کو پناہ دی ۔ حضرت علی بن ابو طالب میرے پاس تشریف لائے ۔ انہوں نے کہا: میں انہیں قتل کروں گا ۔ جب میں نے ان کی یہ بات سنی تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئی جبکہ آپ مکہ کے بالائی حصے میں موجود تھے ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھے خوش آمدید کہا۔ فرمایا: اے اُم ھانی ! تجھے کون سی چیز لائی ہے ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے اپنے سسرال میں سے دو آدمیوں کو پناہ دی ، لیکن حضرت علی کا ارادہ ان کو قتل کرنے کا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے تونے پناہ دی ، اُسے ہم نے پناہ دی ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کی طرف اُٹھے اور حضرت فاطمہ نے پردہ کیا پھر کپڑا اٹھاکر اوڑ ھا پھر چاشت کے وقت کی آٹھ رکعت پڑھیں ۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21036

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21037

1020 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري حدثنا يحيى الحماني ثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن أبي هند عن أبي مرة مولى عقيل عن أم هانيء قالت : Y لما أفتتح النبي صلى الله عليه و سلم مكة فر إلي رجلان من أحمائي من بني مخزوم فخبأتهما في بيتي فدخل علي أخي فقال : لأقتلنهما فأغلقت عليهما الباب ثم أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال : قد أجرنا من أجرت وأمنا من أمنت

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میرے پاس بنی مخزوم کے دو آدمی آئے ، میں نے ان کو اپنے گھر میں چھپا دیا ، یعنی پناہ دی، میرے بھائی حضرت علی میرے پاس آئے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں ان دونوں کو ضرور قتل کروں گا۔ میں نے ان پر دروازہ بند کر دیا ، پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے آپ کو بتایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو تُونے پناہ دی اُسے ہم پناہ دیتے ہیں ، جس کو تُو امان دیتی ہے اُسے ہم امان دیتے ہیں ۔

أم هانيء ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21037

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21038

1021 - حدثنا محمد بن علي بن الأحمر الناقد ثنا محمد بن يحيى الطعي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي عن محمد بن إسحاق حدثني سعيد عن أبي مرة مولى عقيل عن أم هانيء قالت : Y لما نزل رسول الله صلى الله عليه و سلم أعلى مكة جاء إلي رجلان من أحمائي من بني مخزوم وكانت تحت هبيرة بن أبي وهب قالت : فدخل علي علي بن أبي طالب فقال : لأقتلنهما فأغلقت عليهما بابي ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في أعلى مكة فوجدته يغتسل في جفنة فيها أثر العجين وفاطمة ابنته تستره بثوب فلما اغتسل أخذ ثوبه فتوشح به ثم صلى ثمان ركعات في الضحى ثم انصرف إلي قال : مرحبا وأهلا يا أم هانيء ما جاء بك ؟ فأخبرته خبر الرجلين وخبر علي فقال : قد أجرنا من أجرت

حضرت اُم ھانی بنت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں اترے ۔ میرے سسرال بنو مخزوم کے دو آدمی میری طرف آئے جبکہ وہ ھبیر ہ بن ابو وھب کی بیوی تھیں۔ (تو میں نے اُن کو پناہ دی۔) حضرت علی بن ابو طالب میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے کہا: میں انہیں قتل کردوں گا۔ میں نے ان کے سامنے سے دروازہ بند کر دیا پھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئی جبکہ آپ مکہ کے بالائی حصے میں موجود تھے ۔ میں نے دیکھا آپ ایک ٹب میں غسل فرمارہے تھے ،جس میں گوندھے ہوئے آٹے کے اثرات تھے اور آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ ایک کپڑے سے پردہ کے ہوئے تھیں۔ پس جب آپ نے غسل کر لیا تو کپڑا پکڑا کر اُس کو لپیٹا پھر چاشت کے وقت آٹھ رکعات پڑھیں پھر میری طرف متوجہ ہوئے فرمایا: اے اُم ھانی ! آپ کو خوش آمدید! تجھے کونسا کام لایا ہے ؟ میں نے آپ کو اُن دو آدمیوں اور حضرت علی کی بات بتائی ۔ فرمایا: جسے تو نے پناہ دی ، اُسے ہم نے پناہ دی۔

أم هانيء ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← محمد بن يحيى الطعي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21038

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21039

1022 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ومسعدة بن سعد العطار قالا : ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن عبد الله عن سعيد بن أبي هند أن أبا مرة مولى عقيل بن أبي طالب أخبره Y أن أم هانيء أخبرته أنها جاءت برجلين من بني مخزوم يوم فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة فدخل عليها علي فقال : ما هذا يا أم هانيء ؟ لأقتلنهما قالت : فأغلقت عليهما ثم ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدته يغتسل وفاطمة تستره بثوب فاغتسل ثم أخذ الثوب فالتحفه ثم صلى الضحى ثمان ركعات ثم قال : ما لك يا أم هانيء ؟ قلت : إني أجرت رجلين من أحمائي فجاء علي يريد أن يقتلهما فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أمنا من أمنت وأجرنا من أجرت

حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا بتاتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بنو مخزوم کے دو آدمیوں کو لائیں ۔ حضرت علی بن ابو طالب ان کے پاس تشریف لائے ۔ انہوں نے کہا: اے اُم ھانی ! یہ کیا ہے؟ میں انہیں قتل کروں گا۔ میں نے ان کے سامنے سے دروازہ بند کر دیا پھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئی ۔ میں نے دیکھا آپ غسل فرمارہے تھے اور آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ ایک کپڑے سے پردہ کے ہوئے تھیں ۔ پس جب آپ نے غسل کر لیاتو کپڑا پکڑکر اُس کو لپیٹا پھر چاشت کے وقت آٹھ رکعات پڑھیں پھر فرمایا: اے اُم ھانی! آپ کو خوش آمدید!تجھے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی: میں نے اپنے سسرال سے دوآدمیوں کو پناہ دی ہے ۔ حضرت علی ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو تو نے امان دی ، اُسے ہم نے امان دی ۔ جسے تو نے پناہ دی ، اُسے ہم نے پناہ دی ۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21039

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21040

1023 - حدثنا عبد الرحمن بن سالم الرازي ثنا سهل بن عثمان ثنا جنادة بن سلم عن عبيد الله بن عمر عن أبي مرة مولى أم هانيء قال : Y سمعت أم هانيء بنت أبي طالب وهي أخت علي لأبيه وأمه تقول : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الفتح فاغتسل ثم صلى ثمان ركعات

حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا (جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سگی بہن ہیں ) فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن میرے پاس آئے ، آپ نے غسل کیا، پھر آٹھ رکعت نوافل ادا کیے ۔

أبي مرة مولى أم هانيء ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← عبد الرحمن بن سالم الرازي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21040

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ أبو مرة مولى عقيل عن أم هانيء · حديث 21041

1024 - حدثنا محمد بن الحسن بن كيسان ثنا معلى بن أسد العمي ثنا وهيب بن خالد عن جعفر بن محمد عن أبيه عن أبي مرة مولى عقيل عن أم هانيء Y أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها يوم الفتح فصلى الضحى ثمان ركعات في ثوب واحد

حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن میرے پاس آئے ، پھر آٹھ رکعت نوافل ادا کیے۔

أم هانيء ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21041

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عبد الله بن الحارث بن نوفل عن أم هانيء · حديث 21042

1025 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن ابن جريج عن ابن شهاب عن عبد الله بن الحارث Y عن أم هانيء وكان نازلا عليها أن النبي صلى الله عليه و سلم يوم الفتح [ ستر عليه ] فاغتسل في الضحى وصلى ثمان ركعات لا يدري قيامها أطول [ أم ركوعها ] أم سجودها

حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی ، آپ پردہ کر کے غسل کر رہے تھے ، آپ نے غسل کیا اور پھر نماز اشراق آٹھ رکعت اداکیں، یہ معلوم نہیں کہ آپ نے ان میں قیام ، رکوع زیادہ لمباکیا یا سجدہ ۔

أم هانيء وكان نازلا عليها ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21042

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عبد الله بن الحارث بن نوفل عن أم هانيء · حديث 21043

1026 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا شعيب بن يحيى ثنا الليث بن سعد ( ح ) وحدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث بن سعد ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أحمد بن يونس ثنا الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عبد الله بن الحارث بن نوفل قال : Y سألت لأجد أحدا يخبرني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سبح في سفر فلم أجد أحدا يخبرني حتى أخبرتني أم هانيء بنت أبي طالب أنه قام يوم الفتح فأمر بستر فستر عليه فاغتسل ثم سبح ثمان ركعات

حضرت عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا : مجھے کوئی ایسی خبر بتائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں نوافل ادا کرتے تھے ۔ مجھے کوئی نہیں ملا، مجھے حضرت اُم ھانی نے بتایا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےفرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن کھڑے ہوئے ، آپ نے پردہ کرنے کا حکم دیا تو آپ کےلیے پردہ کیا گیا ، آپ نے غسل کیا پھر آٹھ رکعت نوافل ادا کیے ۔

سَأَلْتُ لَأَجِدَ أَحَدًا يُخْبِرُنِِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21043

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ عبد الله بن الحارث بن نوفل عن أم هانيء · حديث 21044

1027 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا يوسف بن عدي ثنا رشدين بن سعد عن قرة بن عبد الرحمن و عقيل بن خالد عن ابن شهاب حدثني عبيد الله بن عبد الله بن الحارث أن أباه عبد الله بن الحارث بن نوفل قال : Y سألت وحرصت أن أجد أحدا من الناس يخبرني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى صلاة الضحى حتى سمعت أم هانيء تقول : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى بعدما ارتفع النهار يوم الفتح فأمر بثوب فستر عليه فاغتسل ثم قام فركع ثمان ركعات لا أدري قيامه فيها أطول أو ركوعه أو سجوده كل ذلك متقارب فلم أره سبحها قبل ولا بعد

حضرت عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں : میں نے دریافت کیا اور مجھے خواہش ہوئی کہ میں لوگوں میں سےکسی کو پاؤں ، جو مجھے خبر دے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی یہاں تک کہ میں نے حضرت اُم ھانی کو فرماتے ہوئے سنا: فتح مکہ کے دن جب دن بلند ہو ا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ۔ آپ کےحکم سےکپڑے سے پردہ کیا گیا تو آپ نےغسل فرمایاپھر کھڑا ہو کر آٹھ رکعت ادا فرمائیں ۔ مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان میں آپ کے قیام ، رکوع اور سجود میں سے کون سی چیز لمبی تھی ۔ سب قریب قریب تھے۔ پس اس سے پہلے یا بعد میں دیکھنا نصیب نہ ہوا ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← قرة بن عبد الرحمن و عقيل بن خالد ← رشدين بن سعد ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21044

chevron_left Previous
1…121314…19
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter