المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ هارون بن بنت أم هانيء عن أم هانيء · حديث 21009
992 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني ثنا قيس بن الربيع عن سماك بن حرب عن ابن أم هانيء عن أم هانيء قالت : Y كنت قاعدة عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتي بشراب فشرب منه ثم ناولني فشربت منه فقلت : يا رسول الله ما أراني إلا قد أتيت حدثا قال : وما ذاك ؟ قالت : كنت صائمة فكرهت أن أرد يدك فشربت قال : من صوم كنت تقضيه ؟ قالت : لا قال : فلا يضرك
حضرت اُم ھانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لا یا گیا ۔ آپ نے اُس سے پیا۔ پھر مجھے پکڑا یا تو میں نے اُس سے پیا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرا خیال ہے ، میں نے نیا کام کر لیا ہے ۔ فرمایا : وہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں روزے سے تھی ، لیکن مجھے آپ کا جوٹھا واپس کرنا پسند نہیں ۔ میں نے پی لیا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تو رمضان کی قضا کر رہی تھی ؟ کہاں : نہیں ۔ فرمایا: حرج نہیں ۔
أم هانيء ← ابن أم هانيء ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21009
