المعجم الکبیر للطبرانی · باب الفاء ‹ فاطمة بنت أسد بن هاشم أم علي بن أبي طالب · حديث 20889
871 - حدثنا أحمد بن حماد بن زغبة ثنا روح بن صلاح ثنا سفيان الثوري عن عاصم الأحول عن أنس بن مالك قال : Y لما ماتت فاطمة بنت أسد بن هاشم أم علي بن أبي طالب دخل عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم فجلس عند رأسها فقال : رحمك الله يا أمي كنت أمي بعد أمي وتشبعيني وتعرين وتكسيني وتمنعين نفسك طيباوتطعميني تريدين بذلك وجه الله والدار الآخرة ثم أمر أن تغسل ثلاثا فلما بلغ الماء الذي فيه الكافور سكبه رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده ثم خلع رسول الله صلى الله عليه و سلم قميصه فألبسها إياه وكفنها ببرد فوقه ثم دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم أسامة بن زيد وأبا أيوب الأنصاري وعمر بن الخطاب وغلاما أسود يحفرون فحفروا قبرها فلما بلغوا اللحد حفره رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده وأخرج ترابه بيده فلما فرغ دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فاضطجع فيه ثم قال : الله الذي يحيي ويميت وهو حي لايموت أغفر لأمي فاطمة بنت أسد ولقنها حجتها ووسع عليها مدخلها بحق نبيك والأنبياء الذين من قبلي فإنك أرحم الراحمين وكبر عليها أربعا وادخلوها اللحد هو والعباس وأبو بكر الصديق رضي الله عنهم
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم کا وصال ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان کے پاس آئے ان کے سر کے پاس بیٹھ گئے ، فرمایا : اے میری ماں ! اللہ تیرے اوپر رحم کرے ! میری ماں ( کی وفات ) کے بعد تو میری ماں تھی، تو مجھے کھلایا کرتی تھی اور مجھے کپڑے پہناتی تھی ، خود کو اچھے کھانے سے روکتی اور مجھے کھلاتی تھی ، اس میں نیت یقیناً یہ تھی کہ اس وجہ سے اللہ راضی ہو جائے ، اور آخرت اچھی ہو جائے ۔ پھر ان کو تین بار غسل دینے کا حکم دیا۔ پس جب کافور ملا، پانی پہنچا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ڈالا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنی ( اوپر والی ) قمیض اتاری اور انہیں پہنائی ، اس کے اوپر ایک چادر ڈال کر ان کو کفن دیا، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید ابوایوب انصاری ، حضرت عمر بن خطاب اور سیاہ رنگ کے ایک غلام کو بلایا تاکہ وہ قبر کھودیں ، پس انہوں نے ان کی قبر کھودی۔ پس جب ان لوگوں نے لحد بنا لی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کھودا ، اور مٹی کو اپنے ہاتھوں سے باہر نکالا، پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ( قبر کھودنے سے ) فارغ ہوئے تو آپ اس میں داخل ہو کر اس میں لیٹ گئے ، پھر دعا کی : اللہ تعالیٰ زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہے اور وہ ایسا زندہ ہے جس کیلئے موت نہیں ہے ، میری ماں حضرت فاطمہ بنت اسد کو بخش دے ، ان کو ان کی حجت تلقین فرما، ان پر ان کے داخل ہونے کا مقام وسیع کر دے ، واسطہ تجھے اپنے خاص نبی اور اس سے پہلے آنے والے نبیوں کا ، کیونکہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ چار بار اللہ اکبر کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، حضرت عباس اور حضرت ابو بکر نے ان کو قبر میں اتارا۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20889
