Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عائشة بنت قدامة بن مظعون الجمحية · حديث 20876

857 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا زكريا بن يحيى زحمويه ثنا عبد الرحمن بن عثمان الحاطبي حدثني أبي عن عائشة بنت قدامة بن مظعون قالت : Y كنت مع أمي رائطة بنت سفيان امرأة من خزاعة و النبي صلى الله عليه و سلم يبايعهن ويقول : أبايعكن على أن لاتشركن بالله شيئا ولا تسرقن ولا تزنين ولا تقتلن أولادكن ولا تأتين ببهتان تفترينه بين أيديكن وأرجلكن ولا تعصينني في معروف قالت : فأطرقن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قلن نعم فيما استطعتنه فقلن نعم فيما استطعناه فكنت أقول كما يقلن وأمي تقول : قولي نعم فأقول نعم

حضرت عائشہ بنت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنی والدہ حضرت رائطہ بنت سفیان ( خزاعہ کی بیوی ) کی معیت میں تھی جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عورتوں کو بیعت کر رہے تھے اور فرما رہے تھے : میں تم سب عورتوں کو اس بات پر بیعت کر رہا ہوں کہ تم شرک نہیں کرو گی ، چوری و زنا نہیں کرو گی ، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ( بچیوں کو زندہ درگور ) نیکی کے کاموں میں میری نافرمانی نہیں کروں گی ۔ فرماتی ہیں : عورتوں نے سر جھکا لیا ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : کہو : ہاں ، ! جو تمہاری طاقت میں ہوا۔ پس کہو : اس میں جو استطاعت کے مطابق ہوا۔ پس میں اسی طرح کہہ رہی تھ ی جس طرح دوسری عورتیں کہہ رہی تھیں اور میری والدہ کہہ رہی تھیں : ( بیٹی ) کہو : ہاں ! پس میں کہنے لگی : ہاں ۔

عائشة بنت قدامة بن مَظعُون. ← أَبِي ← عبد الرحمن بن عثمان الحاطبي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Hadith 20876

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عائشة بنت قدامة بن مظعون الجمحية · حديث 20877

858 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا أحمد بن النعمان البراء المصيصي ثنا عبد الرحمن بن عثمان الحاطبي عن أبيه عن أمه عائشة بنت قدامة بن مظعون قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من شر الأعميين قيل يا رسول الله وما الأعميان ؟ قال : السيل والبعير الصؤول

حضرت عائشہ بنت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میں تجھ سے اعمیین کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اعمیین سے مراد کیا ہے ؟ فرمایا : پانی کی طغیانی ( سیلاب ) اور اونٹوں کا سخت مشتعل ہونا۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْأَعْمَيَيْنِ قِيلَ: ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أمه عائشة بنت قدامة بن مظعون ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن عثمان الحاطبي ← أحمد بن النعمان البراء المصيصي ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Hadith 20877

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عاتكة بنت عبد المطلب عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 20878

859 - حدثنا مسعد ة بن سعد العطار ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي قال ثنا عبد العزيز بن عمران ثنا محمد بن عبد العزيز عن ابن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن عن أمه أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط عن عاتكة بنت عبد المطلب قالت : Y رأيت راكبا [ مثل على أبي قبيس فصاح يا آل غدر ويا آل فجر انفروا لثلاث ثم ] أخذ صخرة من أبي قبيس فرمى بها المركن فتفلقت الصخرة فما بقيت دار من دار قريش إلا دحلتها منها كسرة غير دور بني زهرة فقال العباس : إن هذه لرؤيا اكتميها ولا تذكريها فذهب العباس فلقي الوليد بن عتبة بن ربيعة فذكرها له فذكرها الوليد لأبيه ففشا الحديث قال العباس : فغدوت أطوف بالكعبة وأبو جهل في رهط من قريش يتحدثون برؤيا عاتكة فلما رآني أبو جهل قال : يا أبا الفضل إذا فرغت من طوافك فأقبل إلينا فلما فرغت أقبلت حتى جلست إليهم فقال أبو جهل : يا بني عبد المطلب أما رضيتم أن تتنبأ رجالكم حتى تتنبأ نساؤكم قد زعمت عاتكة في رؤياها هذه أنه قال : انفروا [ لثلاث ] فسنتربص هذه الثلاث فإن كان ما تقول حقا فسيكون وإن تمض الثلاث ولم يكن من ذلك شيء كتبنا عليكم كتابا أنكم أكذب أهل بيت في العرب قال العباس : فوالله ما كان مني إليه شيء إلا أني جحدت [ ذلك ] وأنكرت أن تكون رأت شيئا قال العباس فلما أمسيت أتتني امرأة من بنات عبد المطلب فقالت : رضيتم من هذا الفاسق يتناول رجالكم ثم يتناول نساؤكم وأنت تسمع ولم يكن عندك نكير والله لو كان حمزة ما قال ماقال فقلت : قد والله فعل وما كان مني إليه نكير شيء وأيم الله لأتعرضن له فإن عاد لأكفينكم قال العباس فغدوت في اليوم الثالث من رؤيا عاتكة وأنا مغضب على أن فاتني أمر أحب أن أدرك شيئا منه قال : فوالله إني لأمشي نحوه وكان رجلا خفيفا حديد الوجه حديد اللسان حديد البصر إذ خرج نحو باب المسجد يشتد فقلت في نفسي : ما له لعنه الله أكل هذا فرق مني أن أشاتمه ؟ فإذا [ هو ] قد سمع ما لم أسمع سمع صوت ضمضم بن زرعة بن عمرو الغفاري يصرخ ببطن الوادي قد جدع بعيره وحول رحله وشق قميصه وهو يقول : يا معشر قريش قد خرج محمد في أصحابه ما أراكم تدركونها الغوث الغوث قال العباس : فشغلني عنه وشغله عني ما جاء من الأمر

حضرت عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ( خواب میں ) میں نے ایک سوار کو دیکھا کہ جبل ابو قبیس پر مجسمہ کی مانند تھا ،پس اس نے چیخ ماری : اے آل غدر اور آل فجر ! فجر تین کاموں کیلئے بھاگو ، پھر اس نے جب ابو قبیس سے پتھر اٹھا کر چھوٹے حوض کو مارا جس سے چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی ، بنو زہرہ کے گھروں کے علاوہ قریش کے ہر گھر میں اس کا ایک ٹکڑا جا گرا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ ایسا خواب ہے جسے چھپا کر رکھنا اور کسی سے ذکر نہ کرنا، پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ جا کر ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ملے اور اس سے ذکر کیا۔ ولید نے اپنے باپ سے ذکر کیا ، بات عام ہو گئی ۔ حضرت عباس فرماتے ہیں : صبح میں کعبہ کا طواف کر رہا تھا جبکہ ابو جہل قریش کے ایک گروہ میں بیٹھ کر حضرت عاتکہ کے خواب کے بارے میں باتیں کر رہا تھا ، پس جب ابو جہل نے مجھے دیکھا تو کہا : اے ابو فضل ! جب تو طواف سے فارغ ہو جائے تو ہمارے پاس آنا۔ پس جب میں فارغ ہوا تو جا کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ابو جہل نے کہا : اے بنو عبدالمطلب ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہاری عورتوں کے خبر دینے کی بجائے تمہارے مرد خبر دیں ۔ تحقیق عاتکہ نے اپنے اس خواب میں گمان کیا ہے کہ اس آدمی نے کہا : تین کی خاطر نکلو پس ہم ان تین کا انتظار کریں گے ، پس اگر تو جو اس نے کہا ہے وہ ہو گیا اور اگر تین گزر گئے اور کوئی چیز نہ ہوئی تو ہم تمہارے خلاف لکھ دیں گے کہ تم سارے عرب میں سب سے جھوٹا گھر ہو۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : بخدا ! میری طرف سے اس کو جو بات پہنچی ہے میں انہیں کا انکار کرتا ہوں اور یقین نہیں کرتا کہ اس نے کوئی چیز دیکھی ہو۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میں نے شام کی تو حضرت عبدالمطلب کے قبیلے کی عورتوں سے ایک عورت میرے پاس آئی ۔ اس نے کہا : کیا تم اس فاسق کی بات سے راضی ہو ! جو تمہارے مردوں کی پھر تمہاری عورتوں کی بات کرتا ہے حالانکہ آپ اسے سنتے ہیں اور تمہارے پاس انکار کی کوئی صورت نہیں ہے بخدا ! اگر حضرت حمزہ ہوتے تو جو اس نے کہا وہ کبھی نہ کہتا ۔ میں نے اللہ کی قسم ! میں اس سے تعرض کروں گا۔ اگر اس نے دوبارہ بات کی تو میں اسے کافی ہو جاؤں گا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عاتکہ کے خواب کو تیسرا دن تھا، میں نے صبح کی جبکہ مجھے سخت غصہ تھا اس بات پر کہ ایک کام مجھ سے رہ گیا ہے جو میں کرنا، پسند کرتا تھا ، بخدا ! میں اس کی طرف چل پڑا وہ ہلکا سا آدمی تھا اس کا چہرہ تیز اور زبان بھی تیز تھی ، نگاہ بھی تیز تھی ، جب وہ مسجد کے دروازے کی طرف نکلا تو وہ سختی کر رہا تھا ، میں اپنے دل میں کہا : اس کے پاس کچھ نہیں ہے اللہ اسے لعنت فرمائے ، کیا میں اسے گالی دینے سے ڈرتا ہوں ۔ پس اس نے اچانک وہ بات سن لی جو میں نہیں سن سکا۔ اس نے ضمصم بن زرعہ بن عمرو غفاری کی آواز سنی جو بطن وادی میں چیخ رہا تھا ، جس نے اپنے اونٹ کے کان چیر دیئے تھے ، کجاوہ اٹھا کر دیا اور اپنا گریبان پھاڑ لیا تھا اور کہہ رہا تھا : اے گروہ قریش ! محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور ان کے صحابہ آ گئے ، میرا خیال نہیں ہے کہ تم پا سکو مدد کرو ، مدد کرو۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو معاملہ پیش آیا اس نے مجھے اس سے اور اسے مجھ سے بے خبر بنا دیا۔

عَاتِكَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← مسعد ة بن سعد العطار

Hadith 20878

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عاتكة بنت عبد المطلب عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 20879

860 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة قال : Y كانت عاتكة بنت عبد المطلب عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم ساكنة مع أخيها العباس بن عبد المطلب فرأت رؤيا قبيل بدر ففزعت فأرسلت إلى أخيها عباس من ليلتها حين فزعت واستيقظت من نومها وقالت : رأيت رؤيا وقد خشيت منها على قومك الهلكة قال : وما رأيت ؟ قالت : لن أحدثك حتى تعاهدني أن لاتذكرها فإنهم إن سمعوها آذونا فأسمعونا ما لانحب ن فعاهدها عباس فقالت : رأيت راكبا أقبل على راحلته من أعلى مكة يصيح بأعلى صوته : يا آل غدر و يا آل فجر اخرجوا في ليلتين أو ثلاث ثم دخل المسجد على راحلته فصرخ في المسجد ثلاث صرخات ومال إليه من الرجال والنساء والصبيان وفزع الناس له أشد الفزع ثم أراه مثل على ظهر الكعبة على راحلته فصاح ثلاث صرخات : يا آل غدر ويا آل فجر اخرجوا في ليلتين أو ثلاث حتى أسمع من بين الأخشبين من أهل مكة ثم عمد لصخرة عظيمة فنزعها من أصلها ثم أرسلها على أهل مكة فأقبلت الصخرة لها دوي حتى إذا كانت عند أصل الجبل ارفضت فلا أعلم بمكة بيتا ولادارا إلا قد دخلها فلقة من تلك الصخرة فلقد خشيت على قومك أن ينزل بهم شر ففزع منها العباس وخرج من عندها فلقي من آخر ليلته الوليد بن عتبة بن ربيعة وكان خليلا للعباس فقص عليه رؤيا عاتكة وأمره أن لايذكرها لأحد فذكرها الوليد لأبيه فذكرها عتبة لأخيه شيبة وارتفع حديثها حتى بلغ أبا جهل بن هشام واستفاضت فلما أصبحوا غدا عباس يطوف بالبيت حين أصبح فوجد أبا جهل وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة وأمية بن خلف وزمعة بن الأسود وأبا البختري في نفر يتحدثون فلما نظروا إلى عباس يطوف بالبيت ناداه أبو جهل : يا أبا الفضل إذا قضيت طوافك فائتنا فلما قضى طوافه أتى فجلس فقال أبو جهل : يا أبا الفضل ما رؤيا رأتها عاتكة ؟ قال : ما رأت من شيء قال : بلى أما رضيتم يا بني هاشم بكذب الرجال حتى جئتمونا بكذب النساء إنا كنا وأنتم كفرسي رهان فاستبقنا المجد منذ حين فلما تحاذت الركب قلتم منا نبي فما بقي إلا تقولوا منا نبية لاأعلم في قريش أهل بيت أكذب رجلا ولا أكذب امرأة منكم فآذوه يومئذ أشد الأذى وقال أبو جهل : زعمت عاتكة أن الركب قال : اخرجوا في ليلتين أو ثلاث فلو قد مضت هذه الثلاث تبينت لقريش كذبكم وكتبنا سجلا ثم علقناه بالكعبة أنكم أكذب بيت في العرب رجلا وامرأة أما رضيتم يا بني قصي أنكم ذهبتم بالحجابة والندوة والسقاية والرواء والرفادة حتى جئتمونا زعمتم بنبي منكم فآذوه يومئذ أشد الأذى وقال له العباس : مهلا يا مصفر أسته هل أنت منته فإن الكذب فيك وفي أهل بيتك وقال له من حضره : يا أبا الفضل ما كنت بجاهل ولاخرف ولقي عباس من عاتكة أذى شديدا فيما أفشى من حديثها فلما كان مساء ليلة الثالثة من الليالي التي رأت فيها عاتكة الرؤيا جاءهم الراكب الذي بعث أبو سفيان ضمضم بن عمرو الغفاري فقال : يا آل غالب انفروا فقد خرج محمد وأصحابه ليعترضوا لأبي سفيان فاحرزوا عيركم ففزعت قريش أشد الفزع واشفقوا من رؤيا عاتكة ونفروا على كل صعب وذلول

حضرت عروہ فرماتے ہیں : حضرت عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، رسول کرویم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی تھیں، وہ اپنے بھائی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس رہتی تھیں۔ پس انہوں نے غزوہ بدر سے تھوڑا پہلے ایک خواب دیکھا تو گھبرا گئیں ، انہوں نے اپنے بھائی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اسی رات پیغام بھیجا جب وہ پریشان ہوئیں، اور ان کی نیند اڑ گئی اور کہا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے ، اس کی وجہ سے مجھے آپ کی قوم کی ہلاکت کا ڈر ہے ۔ انہوں نے کہا : تو نے کیا دیکھا ہے ؟ کہا : میں ہر گز آپ کو نہیں بتاؤں گی یہاں تک کہ آپ مجھے وعدہ دیں کہ آپ کسی سے اس کا ذکر نہیں کریں گے ، کیونکہ اگر کفار مکہ نے سن لیا تو وہ ہمیں تکلیف دیں گے اور ہمیں وہ کچھ سنائیں گے جو ہمیں پسند نہیں ہے ۔ پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے معاہدہ کر لیا انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک سوار دیکھا ہے جو مکہ کی بلند جگہ سے اپنی سواری پر بلند آواز سے چیختا چلاتا ہوا آ رہا ہے ، اے آل غدر اے آل فجر دو یا تین راتوں میں اپنے گھروں سے نکلو ! پھر وہ اپنی سواری پر سوار مسجد حرام میں داخل ہوا اور تین بار بلند آواز سے چلایا مرد ، عورتیں اور بچے اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کی وجہ سے تمام لوگ بہت پریشان ہو گئے ہیں ، پھر کعبہ کی چھت پر بھی وہ ادمی مجھے دیکھا گیا ( یا میرا خیال ہے ) وہ تین بار بلند آواز سے چلایا : اے آل غدر اور اے آل فجر ! دو تین راتوں میں نکلو حتیٰ کہ اس نے اس آدمی کو بھی سنوایا جو مکہ والوں میں سے دو شہتیروں کے درمیان ( چھت کے نیچے ) تھا۔ پھر اس نے ایک بہت بڑی چٹان کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو اس کے پاس جا کر اس کو جڑ سے اکھیڑ دیا ، پھر اسے اہل مکہ پر یوں پھینکا کہ چٹان گونجتی ہوئی گئی حتیٰ کہ جب وہ پہاڑ کے پاس پہنچی تو ریزہ ریزہ ہو گئی ، پس مجھے تو ایسے ہی معلوم ہوا کہ مکہ کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں اس چٹان کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا ضرور پہنچا ۔ پس مجھے خوف ہے کہ آپ کی قوم پر کوئی تکلیف آئے گی ۔ پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی اس سے پریشان ہو گئے اور اسی وقت ان کے پاس سے نکل گئے ۔ پس وہ اسی رات کے آخری حصے میں ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ملے ۔ وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ، پس حضرت عباس نے حضرت عاتکہ کا خواب اس کو بتا دیا، لیکن اسے تاکید کی کہ وہ کسی کے سامنے ذکر نہ کرے ۔ پس ولید نے اپنے والد کے سامنے ذکر کیا ( اس کے والد ) عتبہ نے شیبہ کے سامنے ذکر کیا۔ یہ بات عام ہو گئی حتیٰ کہ ابو جہل بن ہشام تک جا پہنچی ۔ پس جب صبح ہوئی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے ، جب انہوں نے صبح کی تو انہوں نے ابو جہل عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، امیہ بن خلف ، زمعہ بن اسود اور ابو البختری ایک گروہ میں بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے ۔ پس جب ان کی نظر حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر پڑی کہ وہ طواف کر رہے ہیں ، ابو جہل نے ان کو نداء دی : اے ابو الفضل ! جب طواف پورا کر تو ہمارے پاس ضرور آئیں ۔ پس جب انہو ں نے طواف مکمل کیا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گئے ۔ ابو جہل بولا : اے بو ہاشم ! کیا تم اس پر خوش ہو کہ لوگ تمہیں جھوٹا کہیں حتیٰ کہ تم ہمارے پاس اپنی عورتوں کے جھوٹ لے کر آؤ، بے شک ہم اور تم کمال میں برابر ہیں ، اس وقت سے ہم بزرگی میں آگے نکل گئے ، جب قافلے برابر ہوئے ۔ تم نے کہا : ہم میں سے ایک نبی ہے ، پس اب یہی رہ گیا ہے کہ تم کہو : ہم میں سے ایک نبیہ ہے ( کم از کم ) میں قریش میں کوئی ایسا گھر نہیں جانتا ، جس نے تم میں سے کسی مرد یا عورت کو جھٹلایا ہو اور م نے اسے سخت تکلیف نہ دی ہو۔ اور ابو جہل نے کہا : عاتکہ کا گمان ہے کہ ایک سوار ہے ، جس نے کہا : دو راتوں میں یا تین راتوں میں نکلو ۔ پس اگر یہ تین راتیں گزر گئیں تو قریش کیلئے تمہارا جھوٹ ظاہر ہو جائے گا اور ہم ایک کتبہ رکھ کر کعبہ سے لٹکا دیں گے کہ پورے عرب میں اس گھر سے زیادہ جھوٹا کوئی گھر نہیں ہے ۔ خواہ مرد ہوں یا عورتیں ، اے بنو قصی ! کیا تم اس بات پر خوش ہو کہ تم کعبہ کی دربانی مجلس مشاورت ، پانی پلانے کی عزت ، سیرابی اور حاجیوں کی مہمان نوازی کا نظام سب ختم کر دو۔ یہاں تک کہ تم ہمارے پاس آؤ اور تمہارا گمان ہو کہ تم میں سے ایک نبی ہے ، لوگ اسے سخت تکلیف دیں ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : ٹھہر ! ارے کیا تو رکنے والا نہیں ہے ، کیونکہ جھوٹ تیرے اندر اور تیرے گھر والوں کے اندر ہے ۔ حاضرین نے ان سے کہا : اے ابو فضل ! نہ آ پ جاہل ہیں اور نہ ہی سٹھیائے ہوئے ہیں ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حضرت عاتکہ رضی اللہ عنہ کی بات عام کرنے کی وجہ سے خاصی تکلیف اٹھانا پڑی۔ پس جب راتوں میں سے تیسری رات کی شام جس میں حضرت عاتکہ نے خواب دیکھا تھا تو ان کے پاس سوار آ گیا جسے ابو سفیان نے بھیجا تھا اور اس کا نام ضمضم بن عمرو غفاری تھا ۔ اس نے کہا : اے اآل غالب چلو بھاگو ! تحقیق ( حضرت ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اپ کے صحابہ نے چڑھائی کی ہے تاکہ ابو سفیان ( اور اس کے قافلے ) کو روک لیا، پس اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کرو، قریش حد درجہ پریشان ہوئے اور ( اب ) انہیں حضرت عاتکہ کے خواب کی وجہ سے ڈر مھسوس ہوا اور ہر طاقتور اور کمزور اونٹ پر سوار ہو کر نکل کھڑے ہوئے ۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Hadith 20879

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عاتكة بنت عبد المطلب عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 20880

861 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الزبير بن بكار حدثني مصعب بن عبد الله وغيره من قريش أن عاتكة بنت عبد المطلب قالت Y في صدق رؤياها وتكذيب قريش لها حين أوقع بهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ببدر : ( ألم تكن الرؤيا بحق ويأتكم ... بتأويلها فل من القوم هارب رأى فأتاكم باليقين الذي رأى بعينيه ما تفري السيوف القواضب فقلتم ولم أكذب كذبت وإنما يكذبني بالصدق من هو كاذب وما فر إلا رهبة الموت منهم حكيم وقد ضاقت عليه المذاهب أقر صباح القوم عزم قلوبهم فهن هواء والحلوم عوازب مروا بالسيوف المرهقات دماءكم كفاحا كما يمري ا لسحاب الجنائب فكيف رأى يوم اللقاء محمدا بنو عمه والحرب فيها التجارب ألم يغثهم ضربا يحار لوقعه السحيان وتبدو بالنهار الكواكب ألا بأبي يوم اللقاء محمدا إذا عض من عون الحروب الغوارب كما بردت أسيافه من مليكتي زعازع وردا بعد إذ هي صالب حلفت لئن عدتم ليصلمنكم مجافا تردى حافتيها المقانب كأن ضياء الشمس لمع بروقها لها جانبا نور شعاع وثاقب )

حضرت معصب بن عبداللہ اور ان کے علاوہ کسی قریشی نے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عاتکہ بنت عبدالمطلب نے اپنے خواب کے سچا ہونے اور قریش مکہ کے جھوٹا ہونے کے حوالے سے کہا ، جب بدر کے مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ جنگ کی : " کیا خواب حق اور سچ نہیں تھا اور تمہارے پاس اس کی تعبیر بھی آ گئی قوم میں سے بھاگنے والے کے سر پر تلوار مارو، اس نے دیکھا : پس وہ اس یقین سے آیا جس کو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا، جب تک تیز تلواریں کند نہیں ہو گئیں۔ پس تم نے کہا اور میں نے جھوٹ نہیں بولا کہ میں نے جھوٹ بولا ، میرے صدق کو صرف وہی جھٹلاتا ہے جو خود جھوٹا ہے ۔ نہیں بھاگا مگر موت کے ڈر سے ان میں سے دانا جبکہ اس پر جانے کے راستے تنگ ہو گئے ۔ صبح کے وقت قوم کے دلوں کے عزم مضبوط ہو گئے ، پس وہ کھوکھلی ہیں اور عقل سے دور ہیں ۔ تلواروں سے کہو جو عنقریب تمہارے خون بہانے والی ہیں ، جس طرح بادل پہلو بہ پہلو بارش کا پانی بہاتے ہیں ۔ پس مڈ بھیڑ کے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا کے بیٹے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھیں گے ، جس میں جنگ اپنے زوروں پر ہوگی، کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی ایک قسم عدو نہیں کی سحیان کے واقعہ کی وجہ سے حیران کن ہے اور دن کے وقت ستارے نظر آ گئے ۔ خبردار ! میرا باپ قربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے دن پر جب جنگوں کی مدد ست غوارب ( ہر چیز کا بلند حصہ ) نے داڑھوں سے پکڑا۔ جس طرح ان کی تلواروں نے ٹھنڈا کر دیا بعد اس کے کہ وہ سخت تھیں ، میری قسمت میں آندھیاں ہیں ۔ میں نے قسم اٹھائی کہ اگر تم واپس آؤ تاکہ وہ تمہیں کاٹ دیں ، اس کی دونوں جماعتوں کو گھڑ سوار دستوں نے ہلاک کر دیا، گویا سورج کی روشنی اور اس کی روشنی کی چمک الگ ہے اور شعاع اور ٹوٹنے والا نور الگ ہے ۔

مصعب بن عبد الله وغيره من قريش أن عاتكة بنت عبد المطلب ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 20880

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عاتكة بنت زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 20881

862 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عمران بن أبي ليلى حدثني سعيد بن عبيد الله بن الوليد الرصافي عن أبيه عمن حدثه قال : قالت عائشة : Y كانت عاتكة بنت زيد تحت عبد الله بن أبي بكر الصديق

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت عاتکہ بنت زید رضی اللہ عنہا ، حضرت عبداللہ بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔

عائشة كانت عاتكة بنت زيد تحت عبد الله بن أبي بكر الصديق ← أَبِيهِ عَمَّنْ ← سعيد بن عبيد الله بن الوليد الرصافي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 20881

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ أم معبد الخزاعية واسمها عاتكة بنت خليف ويقال عاتكة بنت خالد بن منقذ بن خنيس الكعبية الخزاعية · حديث 20882

863 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن إدريس عن حرام بن هشام عن أبيه عن أم معبد أنها قالت : Y بعثت إلى النبي صلى الله عليه و سلم بشاة داجن فردها وقال : ابعثي شاة لاتحلب

حضرت ام معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دودھ دینے والی بکری بھیجی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری طرف ایسی بکری بھیجو جو دودھ دینے والی نہ ہو۔

ابعثي شاة لاتحلب ← بعثت إلى النبي صلى الله عليه و سلم بشاة داجن فردها ← أُمِّ مَعْبَدٍ ،أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← حَرَامِ بْنِ هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 20882

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ أم معبد الخزاعية واسمها عاتكة بنت خليف ويقال عاتكة بنت خالد بن منقذ بن خنيس الكعبية الخزاعية · حديث 20883

864 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن إدريس عن حرام بن هشام عن أبيه عن أم معبد Y كان تجرى عليها كسوة وشيء من غلة اليمن وقطران لإبلها فمر بها عثمان فقالت : أين كسوتي وأين غلة اليمن التي كانت تأتيني ؟ فقال : هي لك يا أم معبد عندها واتبعها حتى أعطاها إياها

حضرت حزام بن ہشام اپنے والد سے وہ حضرت ام معبد رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ان کو درج ذیل چیزیں ( بیت المال سے ) مدد کرتی تھیں : لباس اور یمن کے غلو میں سے کچھ اونٹ کو ملنے کیلئے تارکول ، آپ کے پاس سے حضرت عثمان گزرے ، حضرت ام معبد نے کہا : میرا لباس کہا ہے اور یمن کا غلہ کہاں ہے جو میرے پاس آیا کرتا تھا ؟ فرمایا : اے ام معبد یہ تیرے لیے ہے آپ نے اس کی تفتیش کر کے اسے عطا کیا۔

أَبِيهِ ← حَرَامِ بْنِ هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 20883

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عزة الأشجعية لها صحبة · حديث 20884

865 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن الثوري عن منصور وحصين أو أحدهما عن أبي حازم عن مولاة له يقال لها عزة قالت : Y خطبنا أبو بكر فنهانا أو نهى عن الصلاة على البرادع

حضرت عزہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا ، ہمیں سواریوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔

الصَّلاَةِ عَلَى الْبَرَادِعِ. ← خطبنا أبو بكر فنهانا أو نهى ← مَوْلَاةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا عَزَّةُ ← أَبِي حَازِمٍ ← مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ أَوْ أَحَدِهِمْا ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 20884

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عزة الأشجعية لها صحبة · حديث 20885

866 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي حدثنا قبيصة ثنا سفيان عن حصين بن عبد الرحمن عن أبي حازم عن مولاة له يقال لها عزة Y وكانت من النساء الأول قالت : خطبنا أبو بكر فقال : لاتصلوا على البرادع

حضرت عزہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا ، ہمیں زینوں پر ( یعنی سواریوں پر ) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔

خطبنا أبو بكر فقال لاتصلوا على البرادع ← مولاة له يقال لها عزة وكانت من النساء الأول ← أَبِي حَازِمٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Hadith 20885

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ العجماءالأنصارية · حديث 20886

867 - حدثنا عبد الرحمن بن معاوية العتبي ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث بن سعد عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن مروان بن عثمان عن أبي عثمان عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن خالته العجماء قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الشيخ والشيخة إذا زنيا فأرجموهما البتة بما قضيا من اللذة

حضرت عجماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : بوڑھا مرد اور عورت جب دونوں زنا کریں تو ان کو ضرور رجم کیا جائے اس کا بدلہ جو انہوں نے لذت پائی ہے ۔

الشيخ والشيخة إذا زنيا فأرجموهما البتة بما قضيا من اللذة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← خالته العجماء ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← مَرْوَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ

Hadith 20886

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter