Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صقية بنت عبد المطلب من أخبارها · حديث 20823

804 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه Y أن النبي صلى الله عليه و سلم أدخل النساء يوم الأحزاب أطما من آطام المدينة وكان حسان بن ثابت رجلا جوادا فأدخله مع النساء وأغلق الباب فجاء يهودي فقعد على باب الأطم فقالت صفية بنت عبد المطلب : انزل حسان إلى هذا العلج فأقتله فقال : ما كنت لأجعل نفسي خطرا لهذا العلج فائتزرت بكساء وأخذت فهرا فنزلت إليه فقطعت رأسه

حضرت عروہ سے مروی ہے کہ جنگ احزاب کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مدینے کے اونچے مکانوں میں سے ایک مکان ( قلعہ ) میں عورتوں کو اکٹھا کیا جبکہ حضرت حسان ایک گھڑ سوار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عورتوں کے ساتھ ان کو قلعہ بند کیا اور دروازہ بند کر دیا۔ پس ایک یہودی آ کر قلعہ کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب نے کہا : اے حسان ! اتر کر اس سر پھرے کے پاس جا کر اسے قتل کر دو۔ کہا : اس آدمی کی وجہ سے میں اپنی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا ۔ انہوں نے خود تہبند کو سنبھالا اور ایک پتھر اٹھا کر نیچے اتریں اور اس کا سر توڑ دیا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20823

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صقية بنت عبد المطلب من أخبارها · حديث 20824

805 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الزبير بن بكار قال : Y كانت صفية بنت عبد المطلب لاتغطي رأسها من رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا من عشرة من المهاجرين الأولين حمزة بن عبد المطلب أخوها وجعفر وعلي ابن أبي طالب ابنا أخيها والزبير بن العوام ابنها وعثمان بن عفان ابن ابنة اختها أمه أروى بنت كريز وأمها البيضاء أم حكيم بنت عبد المطلب وأبوسلمة بن عبد الأسد وأبو سبرة بن أبي رهم ابنا أختها برة بنت عبد المطلب وأم طليب بن نمير بن وهب بن عبد قصي أروى بنت عبد المطلب وأم عبد الله وأبي أحمد الأعمى الشاعر واسمه عبد بن جحش بن رئاب بن يعمر بن حبيرة بن مرة بن غنم بن دودان بن أسد بن خزيمة أميمة بنت عبد المطلب وتوفيت صفية في خلافة عمر بن الخطاب

حضرت زبیر بن بکار فرماتے ہیں : حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب نہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور نہ ہی مہاجرین اولین میں سے دس آدمیوں کو دیکھ کر سر پر کپڑا کیا کرتی تھیں ۔ ( کیونکہ ) حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ، ان کے بھائی تھے ، حضرت ابو طالب کے بیٹے حضرت جعفر و علی ان کے بھتیجے تھے ۔ حضرت زبیر بن عوام ان کے بیٹے تھے ، حضرت عثمان بن عفان ، ان کی بھانجی کے بیٹھے تھے ، ان کی ماں کا نام " اروی بنت کریز اور ان کی ماں بیضا ام حکیم بنت عبدالمطلب تھیں، حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد اور حضرت ابو سبرہ بن ابورھم دونوں ، ان کی بہن حضرت برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے ۔ حضرت طلیب بن نمیر بن وھب بن عبد قصی کی ماں اروی بنت عبدالمطلب تھیں ، حضرت عبداللہ اور ابو احمد ( نابینا شاعر ) جن کا نام حضرت عبد بن حجش بن رئاب بن یعمر بن حبیرہ بن مرہ بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ تھا ) کی ماں امیمہ بن عبدالمطلب تھیں۔ حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب کا وصال حضرت عمر بن خطاب کے دور خلافت میں ہوا۔

الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20824

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صقية بنت عبد المطلب من أخبارها · حديث 20825

806 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة قال : قالت صفية بنت عبد المطلب ترثي رسول الله صلى الله عليه و سلم : Y ( لهف نفسي وبت كالمسلوب ... أرقت الليل فعلة المحروب ) ( من هموم وحسرة أردفتني ... ليت أني سقيتها بشعوب ) ( حين قالوا أن الرسول قد أمسى ... وافقته منيتة المكتوب ) ( حين جئنا لبيت آل محمد ... فأشاب القذال مني مشيبي ) ( حين رأينا بيوته موحشات ... ليس فيهن بعد عيش غريب ) ( فعلاني لذاك حزن طويل ... خلط القلب فهو كالمرغوب ) وقالت أيضا : ( ألا يا رسول الله كنت رجاءنا ... وكنت بنا برا ولم تك جافيا ) ( وكان بنا برا رحيما نبينا ... لبيك عليك اليوم من كان باكيا ) ( [ لعمري ما أبكي النبي لموته ... ولكن لهرج كان بعدك آتيا ] ) ( كأن على قلبي لفقد محمد ... ومن حبه من بعد ذاك المكاويا ) ( أفاطم صلى الله رب محمد ... على جدث أمس بيثرب ثاويا ) ( أرى حسنا أيتمته وتركته ... يبكي ويدعو جده اليوم نائيا ) ( فدى لرسول الله أمي وخالتي ... وعمي ونفسي قصره وعياليا ) ( صبرت وبلغت الرسالة صادقا ... ومت صليب الدين أبلج صافيا ) ( فلو أن رب العرش أبقاك بيننا ... سعدنا ولكن أمره كان ماضيا ) ( عليك من الله السلام تحية ... وأدخلت جنات من العدن راضيا )

حضرت عروہ فرماتے ہیں : حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے وصال پر کچھ اشعار کہے : " میری جان کو افسوس ! اور میں نے مسلوب ( جس کا مال متاع لوٹ لیا گیا ہو ) کی طرح رات گزاری ، جسے ساری رات نیند نہ آئے اور اس آدمی کی طرح جس سے جنگ کی گئی ہو، غموں اور حسرت کی وجہ سے ، جنہوں نے مجھے اپنے پیچھے سوار کیا ۔ کاش مجھے گھاٹیوں کا پانی پلایا جاتا، جب لوگوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے شام کی ہے تو مکتوب کی موت ٹھہر گئی ، جب ہم آل محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے گھر آئے تو میرا بڑھاپا جوانی میں بدل گیا ، جب ہم نے آپ کے گھروں کو دیکھا ، جو ڈرانے والے تھے ، آپ کے بعد ان میں غریب کی زندگی بھی ممکن نہیں ہے ، پس اس وجہ سے مجھ پر لمبا غم غالب آ گیا، جو دل سے باہم مل گیا پس وہ ایک پسندیدہ چیز کی طرح ہے " ۔ اور انہوں نے کہا : " اے اللہ کے رسول ! آپ ہماری امید ہیں اور ہم سے نیک سلوک کرنے والے ہیں اور آپ جفا کرنے والے نہیں ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہم سے نیکی کرنے والے ، مہربانی کرنے والے اور ہمارے نبی ہیں تاکہ روئے آپ پر آج کے دن جو بھی رونے والا ہے ، مجھے میری عمر کی قسم ! میں ان کے وصال کی وجہ سے نہیں روؤں گی بلکہ اس ھرج ( انتشار ، افراتفری) کی وجہ سے ( روؤں گی ) جو آپ کے بعد آنے والا ہے ، گویا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہونے کے سبب اور اس کے بعد آپ سے محبت کی وجہ سے گویا میرے دل پر داغ ہیں ، فاطمائیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا رب رحمتیں فرمائے اس قبر پر جو یثرب ( مدینہ ) میں بنی ہے ، میں حسن کو دیکھتی ہوں ، جس کو آپ نے یتیم کر دیا اور اسے چھوڑا اس حال میں کہ وہ رو رہا ہے اور آج کے دن اپنے نانا سے دور ان کو پکار رہا ہے ، میری ماں ، میری خالہ ، میرا چچا اور میری جان ، اللہ کے رسول کے لیے اور آپ کے گھر اور اہل و عیال پر فدا ہوں ، آپ نے تکلیفیں برداشت کر کے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ کا پیغام خوب طریقے سے سچ بولتے ہوئے پہنچایا اور آپ نے دین کی سولی پر چڑھ کر وصال فرمایا جو واضح و روشن اور صاف شفاف ہے ، پس اگر عرش کا رب آپ کو ہمارے درمیان باقی رکھتا تو ہماری خوش بختی تھی ، لیکن جو فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے ، اسے پورا ہونا ہوتا ہے ، آپ پر اللہ کی طرف سے سلام تحیہ ہو اور آپ خوشی خوشی عدن کے باغات میں داخل کر دیئے گئے ۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20825

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صقية بنت عبد المطلب من أخبارها · حديث 20826

807 - حدثنا محمد بن عبد الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا حفص بن غياث عن جعفر بن محمد عن أبيه قال : Y لما قبض النبي صلى الله عليه و سلم خرجت صفية تلتمع بردائها وهي تقول : ( قد كان بعدك أنباء وهيتة ... لو كنت شاهدها لم يكثر الخطب )

حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو حضرت صفیہ اپنی چادر لے کر نکلیں اس حال میں کہ ان کا رنگ بدلا ہوا تھا اور یہ کہہ رہی تھیں : آپ کے بعد خبریں اور تعجب کی حالت ہے ، اگر آپ موجود ہوتے ، مصیبتیں زیادہ نہ ہوتیں ، آپ خطاب زیادہ نہ فرماتے ۔ "

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← محمد بن عبد الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20826

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ ما أسندت صفية · حديث 20827

808 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن عبد الله الرقاشي ثنا جعفر بن سليمان ثنا داود بن أبي هند ثنا إسحاق الهاشمي عن صفية قالت : Y دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقدمت إليه كتفا كنت اسحاله فأكلها ثم قام إلى الصلاة

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے ، آپ کو بکری کے کندھے کا گوشت دیتی جو میں پکا رہی ہوتی ، آپ اس کو تناول کرتے اور نماز پڑھتے تھے ۔

صَفِيَّةَ ← إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20827

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ ما أسندت صفية · حديث 20828

809 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا إسحاق بن محمد الفروي حدثتنا أم عروة بنت جعفر بن الزبير عن أبيها عن جدتها صفية بنت عبد المطلب Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما خرج إلى أحد جعل نساءه في أطم يقال له فارع وجعل معهن حسان بن ثابت فكان حسان يطلع على النبي صلى الله عليه و سلم فإذا شد على المشركين أشد معه في الحصن وإذا رجع رجع وراءه قالت : فجاء أناس من اليهود فترقى أحدهم في الحصن حتى أطل الحصن علينا فقلت لحسان : قم إليه فاقتله فقال : ما ذاك في ولو كان ذلك في لكنت مع النبي صلى الله عليه و سلم فضربت صفية رأسه حتى قطعته فلما قطعته قالت : يا حسان قم إلى رأسه فارم به إليهم وهم أسفل الحصن فقال : والله ما ذاك في قالت : فأخذت برأسه فرميته عليهم فقالوا : قد والله علمنا أن محمد ا لم يترك أهله خلوفا ليس معهم أحد وتفرقوا وذهبوا قالت : ومر قبل سعد بن معاذ وبه أثر صفرة كأنه كان معرسا قبل ذلك وهو يقول : ( مهلا قليل تلحق الهيجا جمل ... لابأس بالموت إذا حان الأجل )

حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جب احد کی طرف نکلے تو عورتوں کو قلعہ بند کیا، جس کا نام " فارع " تھا ۔ ان کے ساتھ حضرت حسان کی ڈیوٹی لگائی ۔ حضرت حسان نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دیکھتے رہے ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مشرکین پر سختی کی تو ساتھ قلعے میں سختی ہوئی اور جب واپس آئے تو پیچھے سے ہو کر آئے فرماتی ہیں : پس چند ایک یہودی آئے ، جن میں سے ایک قلعہ کی طرف چڑھا یہاں تک کہ قلعہ کے اوپر سے ہماری طرف جھانکا ۔ میں نے حسان سے کہا : اٹھ کر اسے قتل کر دو ۔ کہا : اس آدمی کو مجھ سے کوئی غرض نہیں ۔ اگر اسے مجھ سے کوئی غرض ہوئی تو میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی معیت میں ہوں ۔ پس حضرت صفیہ نے اس کے سر پر مارا یہاں تک کہ اسے توڑ دیا۔ جب اس کا سر اتار دیا تو فرمایا : اے حسان ! اب اس کا سر اٹھا کر ان کی طرف پھینک دو جبکہ وہ قلعے کے نیچے تھے ۔ کہا : بخدا !مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ۔ فرماتی ہیں : میں نے اس کا سر پکر کر ان کے اوپر پھینک دیا۔ انہوں نے کہا: بخدا ! ہم نے تو سمجھا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے اہل میں نائب نہیں چھوڑے ، ان کے ساتھ کوئی نہیں ( یہاں تو لوگ ہیں ) وہ تتر بتر ہو گئے اور چلے گئے ۔ فرماتی ہیں : حضرت سعد بن معاذ کی طرف گزرے ، ان پر زردی کے نشان تھے گویا انہوں نے اس سے پہلے شادی کی ہے ۔ وہ شعر کہہ رہے تھے : ( تھوڑی دیر ٹھہر جا تاکہ تو لڑائی سے ملے جب موت قریب آ گئی تو موت آنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔)

جَدَّتِهَا صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: ← أَبِيهَا ← إسحاق بن محمد الفروي حدثتنا أم عروة بنت جعفر بن الزبير ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20828

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفية بنت شيبة بن عثمان الحجبية · حديث 20829

810 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا عبد الرحمن بن بشير ( ح ) وحدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يونس بن بكير كلاهما عن محمد بن إسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عبيد الله بن أبي ثور عن صفية بنت شيبة قالت : Y لما اطمأن الناس يوم فتح مكة طاف رسول الله صلى الله عليه و سلم على بعير يستلم الحجر بمحجن بيده ثم دخل الكعبة وأنا أنظر فرأى جماعة عيدان فقام فكسرها ثم رماها وأنا أنظر

حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب لوگ فتح مکہ کے دن مطمئن ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور حجر اسود کو استلام اپنی اس ڈھال یا زرہ کے ساتھ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے دست مبارک میں تھی ، پھر آپ کے کعبہ کے اندر داخل ہونے کو میں دیکھ رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے لکڑی کا گٹھا دیکھا، آپ کھڑے ہوئے اس کو توڑا پھر اس کو پھینک دیا، میں دیکھ رہی تھی۔

صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← عبيد الله بن أبي ثور ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يونس بن بكير كلاهما ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20829

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفية بنت شيبة بن عثمان الحجبية · حديث 20830

811 - حدثنا جعفر بن الفضل المخرمي ثنا داود بن عبد الله بن أبي الكرام الجعفري ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن منصور بن صفية بنت شيبة عن أمه قالت : Y رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بل ثوبا وهو في الكعبة ثم جعل يضرب التصاوير التي فيها

حضرت منصور بن صفیہ بنت شیبہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں ، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دیکھا کہ اپ نے کعبہ میں کپڑے کو گیلا کیا پھر ان تصاویر کو مٹانے لگے جو کعبہ کے اندر تھیں۔

أُمِّهِ2، ← مَنْصُورَ بْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← داود بن عبد الله بن أبي الكرام الجعفري ← جعفر بن الفضل المخرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20830

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفية بنت شيبة بن عثمان الحجبية · حديث 20831

812 - حدثنا محمد بن هشام المستملي ثنا علي بن المديني ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد عن محمد بن إسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عبيد الله بن عبد الله بن أبي ثور عن صفية بنت شيبة قالت : Y طاف رسول الله صلى الله عليه و سلم عام الفتح حين دخل مكة على راحلته حول البيت يستلم الركن بمحجنه

حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فتح مکہ کے سال اپنی سواری پر سوار ہو کر طواف کیا جس وقت آپ حرم کعبہ میں گئے ، آپ حجر اسود کو اپنی زرہ کے ساتھ استلام کر رہے تھے ۔

صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20831

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفية بنت شيبة بن عثمان الحجبية · حديث 20832

813 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا علي بن حكم الأودي ثنا حميد بن عبد الرحمن عن المثنى بن الصباح عن المغيرة بن حكيم عن صفية بنت شيبة قالت : Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اسعوا فإن السعي كتب عليكم

حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : سعی کرو ، تم پر سعی کرنا فرض ہے ( یعنی صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا ) ۔

صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← علي بن حكم الأودي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20832

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفية بنت شيبة بن عثمان الحجبية · حديث 20833

814 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا عبد الله بن جعفر الرقي ثنا عبد الله بن عمرو عن عبد الكريم عن ميمون بن مهران قال : Y أتيت صفية بنت شيبة امرأة كبيرة فقلت لها : أتزوج رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو محرم ؟ قالت : لا ولقد تزوجها وهما حلالان

حضرت میمون بن مہران فرماتے میں کہ میں حضرت صفیہ بنت شیبہ کے پاس آئی ، بہت بزرگ عورت تھیں، میں نے اپ سے عرض کی : کیا حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حالت احرام میں شادی فرمائی ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس حالت میں شادی فرمائی کہ دونوں نے احرام کھول دیا ہوا تھا۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20833

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ صفية بنت عمر بن الخطاب · حديث 20834

815 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا الحسين بن سهل الحناط ثنا محمد بن الحسن الأسدي ثنا شريك عن عبد الكريم عن عكرمة عن ابن العباس أن صفية بنت عمر بن الخطاب Y كانت مع النبي صلى الله عليه و سلم يوم خيبر

حضرت ابن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفیہ بنت عمر رضی اللہ عنہا خیبر کے دن حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ تھیں۔

عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← شَرِيکٍ ← محمد بن الحسن الأسدي ← الحسين بن سهل الحناط ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20834

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter