Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سعدى امرأة أخرى لم تنسب · حديث 20792

773 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي قال : ثنا معلى بن أسعد العمي ثنا عبد الواحد بن زياد عن عثمان بن حكيم عن أبي بكر بن عبد الله عن جدته سعدى أو أسماء Y أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل على ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب فقال لها : يا عمة حجي فقالت : إني امرأة ثقيلة وإني أخاف الحبس فقال : حجي واشترطي أن محلي حيث حبست

حضرت سعدی یا حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس آئے ، آپ نے فرمایا : اے پھوپھی ! تو حج کر ۔ آپ نے عرض کی : میں بھاری بھرکم عورت ہوں ، مجھے ڈر ہے کہ میں روکی جاؤں گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : تو حج کر اور شرط لگا کہ جہاں رکے گی وہاں احرام کھول لے گی ۔

جدته سعدى أو أسماء ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← معلى بن أسعد العمي ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20792

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سديسة مولاة حفصة بنت عمر · حديث 20793

774 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الرحمن بن الفضل بن موفق ثنا أبي عن إسرائيل عن الأوزعي عن سديسة مولاة حفصة قالت : Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الشيطان لم يلق عمر منذ أسلم إلا خر لوجهه

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ سدیسہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : حضرت عمر کے اسلام لانے کے وقت سے جب بھی شیطان ان سے ملتا ہے تو ان کے رعب سے گرتا ہے ۔

سديسة مولاة حفصة، ← الْاَوْزَعِیِّ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20793

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سيرين أخت مارية سرته رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي أم عبد الرحمن بن حسان بن ثابت كان المقوقس ملك القبط أهدى أختها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوهبها لحسان بن ثابت فولدت له عبد الرحمن بن حسان · حديث 20794

775 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جبارة بن مغلس ثنا محمد بن عمر الواقدي حدثني أسامة بن زيد عن المنذر بن عبيد عن عبد الرحمن بن حسلن بن ثابت عن أمه سيرين قالت : Y حضرت موت إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه و سلم وكنت كلما صحت وأختي وصاح النساء لا ينهانا فلما مات نهانا عن الصياح وحمله إلى شفير القبر والعباس إلى جنبه ونزل في قبره الفضل بن عباس وأسامة بن زيد وأنا أبكي عند قبره وكسفت الشمس فقال الناس : هذا لموته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنها لاتكسف لموت أحد ولا لحياته ورأى رسول الله صلى الله عليه و سلم فرجة في القبر فأمر بها أن تسد فقيل يارسول الله هل تنفعه ؟ فقال : أما إنها تنفعه ولاتضره ولكن تعد [ تضره ] بعين الحي ومات يوم الثلاثاء لعشر خلون من ربيع الأول سنة عشر

حضرت سیرین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے وصال کے وقت میں موجو د تھی ، میں جب بھی آواز بلند کرتی اور میری بہن اور عورتوں روتیں تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہمیں منع نہ کرتے ۔ پس جب ان کا وصال ہو گیا تو آپ نے ہمیں بلند آواز کے ساتھ رونے سے منع کیا، ان کو قبر کے کنارے اٹھا کر لے گئے جبکہ حضرت عباس آپ کے پہلو میں تھے ، ان کی قبر میں حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید اترے ۔ میں ان کی قبر کے پاس رو رہی تھی ، سورج گرہن لگا تو لوگوں نے کہا : یہ حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : سورج کو کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن لگتا ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے قبر میں ایک سوراخ دیکھا تو اسے بند کرنے کا حکم دیا۔ عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ اسے نفع دے گا ؟ فرمایا : بہر حال یہ اسے نفع دے گا، لیکن نقصان نہ دے گا بلکہ اسے قبیلے کی آنکھ نقصان دے گی ، منگل کے دن ان کا وصال ہوا، دسویں سال ربیع الاول کے دس دن گزر گئے تھے ۔

أمه سيرين ← عبد الرحمن بن حسلن بن ثابت ← الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ← جبارة بن مغلس ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20794

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سيرين أخت مارية سرته رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي أم عبد الرحمن بن حسان بن ثابت كان المقوقس ملك القبط أهدى أختها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوهبها لحسان بن ثابت فولدت له عبد الرحمن بن حسان · حديث 20795

776 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الزبير بن بكار ثنا محمد بن الحسن بن زبالة المخزومي عن محمد بن طلحة التيمي عن إسحاق بن إبراهيم بن عبد الله بن حارثة بن النعمان عن عبد الرحمن بن حسان بن ثابت عن أمه سيرين قالت : Y حضر ابن رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وكلما صحت أنا وأختي نهانا عن الصياح وغسله الفضل بن عباس و رسول الله صلى الله عليه و سلم والعباس وجعل على سرير ثم حمل فرأيته جالسا على شفير القبر إلى جنبه العباس بن عبد المطلب فنزل في قبره الفضل بن عباس وأسامة بن زيد وأنا أصيح عند القبر وما نهاني أحد وخسفت الشمس يومئذ فقال الناس : لموت إبراهيم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لايخسف لموت أحد ولا لحياته ورأى رسول الله صلى الله عليه و سلم فرجة في اللبن فأمر أن تسد فقال : إن العبد إذا عمل عملا أحب الله أن يتقنه ومات يوم الثلاثاء لأربع خلون من ربيع الأول سنة عشر

حضرت سیرین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ؛ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے صاحبزادے کی موت کا وقت قریب آ گیا تو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دیکھا، جب بھی میں اور میری بہن اونچی آواز سے روتیں تو آپ آواز بلند کرنے سے منع فرما دیتے ۔ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور حضرت عباس نے انہیں غسل دیا، چارپائی پر رکھا گیا پھر اٹھایا گیا، پس میں نے اپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو قبر کے کنارے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے دیکھا ، پس ان کی قبر میں حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم اترے ، میں قب کے پاس رو رہی تھی ۔ اس دن سورج گرہن ہوا۔ لوگوں نے کہا: یہ حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے سورج گرہن نہیں ہوتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مٹی ( قبر ) میں سوراخ دیکھا تو فرمایا کہ اسے بند کر دو۔ فرمایا : بے شک بندہ جب کوئی عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ وہ اسے مضبوط کرے ، ان کا وصال منگل کے دن ہوا، دسویں سال کے ربیع الاول کے چار دن گزر گئے تھے ۔

أمه سيرين ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ الْمَخْزُومِيُّ، ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20795

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سراء بنت نبهان الغنوية · حديث 20796

777 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو عاصم الضحاك بن مخلد ثنا ربيعة بن عبد الرحمن بن حصن الغنوي قال : حدثتني سراء بنت نبهان وكانت ربة بيت في الجاهلية قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في حجة الوداع هل تدرون أي يوم هذا قالت : وهو اليوم الذي تدعون يوم الروس قالوا : الله ورسوله أعلم قال : إن هذا أوسط أيام التشريق قال : هل تدرون أي بلد هذا ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم قال : إن هذا المشعر الحرام ثم قال : إني لا أدري لعلي لا ألقاكم بعد هذا ألا وإن دماءكم وأمولاكم وأعرضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا حتى تلقوا ربكم فيسألكم عن اعمالكم ألا فليبلغ أدناكم أقصاكم ألا هل بلغت ؟ فلما قدم المدينة لم يلبث إلا قليلا حتى مات

حضرت سراء بنت نبھان غنویہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : حجتہ الوداع کا موقع تھا، کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے ؟ وہ عورت کہتی ہے : یہ وہی دن ہے جسے تم یوم الرؤس کے نام سے پکارتے ہو۔ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا : یہ ایام تشریق کا درمیانی دن ہے ۔ فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا : یہ مشعر حرام ہے ۔ پھر فرمایا : مجھے اندازہ نہیں ، ممکن ہے کہ اس کے بعد میری تم سے ملاقات نہ ہو، خبردار ! بے شک تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت اس شہر میں ہے حتیٰ کہ تم اپنے رب سے ملو، وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے سوال کرے گا، خبردار ! تم میں سے جو قریب ہے وہ دور والے کو پہنچا دے ، خبردار ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مدینہ پہنچے تو زیادہ دیر نہ ٹھہرے حتیٰ کہ آپ کا وصال ہو گیا۔

إِنَّ هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ ثُمَّ ← اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ ← إِنَّ هَذَا أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ← اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تَدْعُونَ يَوْمَ الرَّوْسِ ← فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ ← حدثتني سراء بنت نبهان وكانت ربة بيت في الجاهلية ← ربيعة بن عبد الرحمن بن حصن الغنوي ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20796

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سراء بنت نبهان الغنوية · حديث 20797

778 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يزيد بن عمرو بن البراء الغنوي ثنا أحمد بن الحارث الغساني قال : حدثتنا شاكية بنت الجعد عن سراء بنت نبهان الغنوية قالت : Y احتفر الحي في دار كلاب كنزا عاديا فقال كلاب : دارنا وقال الحي : احتفرنا فنافروهم ذلك إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقضى به للحي وأخذ منهم الخمس فاشترينا بنصيبنا من ذلك مائة من النعم فأتينا بها الحي فأراد المصدق أن يصدقنا فأبينا عليه وأتينا النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك فقال : إن كنتم جعلتموها مع غيرها وإلا فلا شيء عليكم في هذا العام وقال : إن المصدق إذا انصرف عن القوم وهو عنهم راض رضي الله عنهم وإذا انصرف وهو عليهم ساخط سخط الله عليهم

حضرت سراء بنت نبھان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : قبیلے والوں نے دارکلاب میں کھدائی کی ، پس انہیں خزانہ ملا تو کلاب نے کہا : ہمارا گھر ہے اور قبیلے نے کہا : ہم نے کھدائی کی ، پس وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں لائے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے قبیلے کے حق میں فیصلہ کیا اور ان سے خمس لیا، پس ہم نے اس سے اپنے حصے کے بدلے سو جانور خریدے۔ پس ہم ان کو قبیلہ کے پاس لائے ، صدقہ لینے والے نے ہم سے صدقہ لینے کا ارادہ کیا، پس ہم نے انکار کر دیا، اس مسئلہ میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آئے ۔ فرمایا : اگر تم نے اس میں کسی اور کو شریک کیا ہے تو زکوٰۃ ہو گی ورنہ اس سال تم پر کوئی شی نہیں ۔ اور فرمایا : بے شک صدقہ لینے والا جب کسی قوم سے راضی ہو کر واپس آئے تو اللہ ان سے راضی ہو گا اور جب ان سے ناراض ہو کر آئے گا تو اللہ بھی ان سے راضی ہوگا۔

أحمد بن الحارث الغساني، ← يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20797

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سراء بنت نبهان الغنوية · حديث 20798

779 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يزيد بن عمرو بن البراء الغنوي ثنا أحمد بن الحارث قال : حدثتنا شاكية بنت الجعد قالت : سمعت سراء بنت نبهان الغنوية تقول : Y سأل نصيب غلامنا النبي صلى الله عليه و سلم عن الحيات ما يقتل منها قالت : فسمعته يقول اقتلوا ما ظهر منها كبيرها وصغيرها أسودها وأبيضها فإن من قتلها من أمتي كانت فداء له من النار ومن قتلته كان شهيدا

حضرت سراء بنت نبھان غنویہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے غلام نصیب نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سانپ کے متعلق پوچھا کہ اس کو قتل کرنے کا ثواب کتنا ہے ؟ فرمایا : میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : بڑے اور چھوٹے کو مارو، سفید اور کالے کو مارو کیونکہ میری امت سے جس نے اس کو مارا وہ جہنم سے اس کیلئے فدیہ ہوگا، جو اس سانپ کو مارتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے ۔

أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ، ← يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20798

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سلامة بنت معقل الخزاعية · حديث 20799

780 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسين الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عقبة بن مكرم ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق عن الخطاب بن صالح عن أمه سلامة بنت معقل قالت : Y قدم بي عمي في الجاهلية فباعني من الحباب بن عمرو فاستسرني فولدت له عبد الرحمن بن الحباب وكان إذا كان الربيع عطلوا النخل من السقي فيبعثون بنواضحهم فكان يبعثني بناضحه فربما مكثت شهرين أرعاه وربما تماديت عليه حتى أعتم عليه فخرجت عاما من تلك الأعوام كما كنت أخرج فتوفي خلفي وترك دينا فلما قدمت قالت : لي امرأته : الآن والله تباعين يا سلامة في الدين فقلت إن كان الله قضى ذلك علي احتسبت فجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته خبري فقال : من صاحب تركة الحباب ؟ قالوا : أخوه أبو اليسر بن عمرو فدعي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعتقوها فإذا سمعتم برقيق قدم علينا فأئتوني أعوضكم منها فأعتقوها فقدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم رقيق فدعا أبا اليسر فقال : خذ من هذا الرقيق غلاما لابن أخيك فانطلق فأخذ غلاما ضعيفا سقيما وترك أشداء أقوياء فقلت : ما منعك أن تأخذ من الأقوياء فقال : خفتهم والله على ابن أخي فما لبث أن مات قال ابن إسحاق : فحدثت ربيعة بن عبد الرحمن بهذا الحديث فقال : والله ما أعتقهم عمر إلا بهذا الحديث

حضرت سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : زمانہ جاہلیت میں میرے چچا نے مجھے لا کر حباب ن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا تو اس نے مجھے اپنی لونڈی بنا لیا، جس ے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے ۔ جب بہار کا موسم آتا تو لوگ کھجورں کو پانی لگاتے ۔ پس وہ اپنے اونٹ بھیجتے تو وہ ( میرا آقا ) مجھے اپنا اونٹ دے کر بھیجتا۔ کبھی میں دو ماہ بھی ٹھہر جاتی اور اسے چراتی رہتی اور کبھی اس پر مجھے بہت دی لگ جاتی یہاں تک کہ میں اسی پر لگی رہتی۔ پس میں انہیں سالوں میں سے ایک سال نکلی جس طرح پہلے نکلا کرتی تھی تو میرے پیچھے وہ فوت ہو گیا اور اس نے کچھ قرض چھوڑا۔ جب میں واپس آئی تو اس کی بیوی نے مجھ سے کہا : اے سلامہ ! بخدا اب میں تجھے قرض میں بیچ دوں گی ۔ میں نے کہا : اگر میرے حق میں اللہ کا یہ فیصلہ ہے تو میں اس پہ صبر کروں گی ۔ پس میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بات بتائی تو آ پ نے فرمایا : حباب کے ترکہ کا مالک کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کا بھائی ابو الیسر بن عمرو۔ پس اسے بلایا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس سے فرمایا : اسے آزاد کر دو۔ پس جب تمہیں معلوم ہو کہ غلام آئے ہیں و میرے پاس آنا، میں تجھے اس کا بدلہ دے دوں گا۔ پس انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس غلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ابو الیسر کو بلا کر فرمایا : ان غلاموں میں سے اپنے بھائی کے بیٹے کے لیے غلام لے لے ۔ اس نے جا کر ایک کمزور اور بیمار قسم کا غلام لیا اور سخت جان اور طاقتور غلاموں کو چھوڑ دیا۔ میں نے اسے کہا کہ تو نے طاقتور غلاموں میں سے کیوں نہیں لیا؟ اس نے جواب دیا : بخدا ! مجھے ان سے خوف ہو ا کہ کہیں میرے بھتیجے پر غالب نہ آ جائیں ۔ پس وہ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہا یہاں تک کہ مر گیا۔ حضرت ابن اسحاق فرماتے ہیں : میں نے یہ حدیث حضرت ربیعہ بن عبدالرحمن کے سامنے بیان کی تو کہا : بخدا ! انہیں حضرت عمر نے یہی حدیث سنانے پر رہا کیا تھا۔

أمه سلامة بنت معقل ← الخطاب بن صالح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20799

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سلامة بنت الحر الجعفية · حديث 20800

781 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا عبد الله بن داود عن أم داود الواشبية عن سلامة بنت الحر قالت : Y مر بي رسول الله صلى الله عليه و سلم في بدو الإسلام وأنا أرعى فقال : يا سلامة بم تشهدين ؟ قلت : أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فتبسم ضاحكا

حضرت سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میرے پاس سے گزرے اسلام کے شروع دن میں ایک بار بکریاں چرا رہی تھی ، آپ نے فرمایا : اے سلامہ ، تو کس کی گواہی دیتی ہے ؟ میں نے عرض کی : میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے تبسم فرمایا ۔

أَرْعَى، ← مر بي رسول الله صلى الله عليه و سلم في بدو الإسلام ← سَلامَة بنت الحر ← أم داود الواشبية ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20800

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سلامة بنت الحر الجعفية · حديث 20801

782 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الله بن حماد الحضرمي وأبو هشام الرفاعي قالا : ثنا وكيع قال : حدثتني أم غراب عن عقيلة مولاة أم البنين عن سلامة بنت الحر قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في ثقيف كذاب ومبير

حضرت سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : قبیلہ ثقیف میں ایک جھوٹا ہوگا اور ایک خون ریزی کرنے والا ہوگا۔

في ثقيف كذاب ومبير ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَلامَة بنت الحر ← عقيلة مولاة أم البنين ← حَدَّثَتْنِي أُمُّ غُرَابٍ ← وَكِيعٌ، ← عبد الله بن حماد الحضرمي وأبو هشام الرفاعي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20801

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سلامة بنت الحر الجعفية · حديث 20802

783 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي و عبيد بن غنام قالا : ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق قال : ثنا عثمان بن أبي شيبة قال : ثنا وكيع بن الجراح حدثتنا أم غراب عن امرأة يقال لها عقيلة عن سلامة بنت الحر أخت خرشة بنت الحر قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يأتي على الناس زمان يقومون ساعة لا يجدون إماما يصلي لهم

حضرت خرشہ بنت حر یعنی سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ کچھ دیر کھڑے ہوں گے ، وہ امام نہیں پائیں گے جو ان کو نماز پڑھائے ۔

يأتي على الناس زمان يقومون ساعة لا يجدون إماما يصلي لهم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سلامة بنت الحر أخت خرشة بنت الحر ← امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَقِيلَةُ ← وكيع بن الجراح حدثتنا أم غراب ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← محمد بن عبد الله الحضرمي و عبيد بن غنام

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20802

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سلامة بنت الحر الجعفية · حديث 20803

784 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ( ح ) وحدثنا معاذ بن المثنى ثنا يحيى بن معين قالا : ثنا مروان بن معاوية الفزاري عن طلحة عن أم غراب قالت : أخبرتني مولاة لبني فزارة يقال لها عقيلة أو عقيلة عن سلامة بنت الحر قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن من أشراط الساعة أن يتدافع أهل المسجد لايجدون أحدا يصلي لهم

حضرت سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ مسجد والے لوگ ایک دوسرے کو آگے کرنے کی کوشش کریں گے ، ان کو نماز پڑھانے والا نہیں ملے گا۔

إن من أشراط الساعة أن يتدافع أهل المسجد لايجدون أحدا يصلي لهم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَلامَة بنت الحر ← أخبرتني مولاة لبني فزارة يقال لها عقيلة أو عقيلة ← أُمِّ غُرَابٍ ← طَلْحَةَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20803

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter