المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سبيعة بنت الحارث الأسلمية ما أسندت سبيعة بنت الحارث · حديث 20768
749 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب قال : Y أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن أباه كتب إلى عبد الله بن الأرقم الزهري يأمره أن يدخل على سبيعة بنت الحارث الأسلمية فيسألها عن حديثها وعما قال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أسقطت فكتب عمر بن عبد الله إلى عبد الله بن عتبة يخبره أن سبيعة أخبرته أنها كانت تحت سعد بن خولة وهو من بني عامر وكان ممن شهد بدرا توفي عنها في حجة الوداع وهي حامل فوضعت حملها بعد وفاته فلما تعلت من نفاسها تجملت للخطاب فدخل عليها أبو السنابل بن بعكك رجل من بني عبد الدار فقال لها : ما لي أراك متجملة ؟ لعلك تريدين النكاح إنك والله ما أنت بناكح حتى يمر عليك أربعة أشهر وعشر قالت سبيعة : فلما قال لي ذلك جمعت علي ثيابي حتى أمسيت فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألته عن ذلك فأفتاني أني قد حللت يوم وضعت حملي وأمرني بالتزويج إن بدا لي
حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد گرامی نے حضرت عبداللہ بن ارقم زہری رضی اللہ عنہ کو لکھا ، اس بات کا حکم دیتے ہوئے کہ وہ حضرت سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان کی حدیث کے بارے دریافت کریں اور یہ بھی پوچھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان کو کیا حکم دیا جب ان کا حمل ساقط ہوا۔ پس حضرت عمر بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عتبہ کی طرف یہ خبر دیتے ہوئے لکھا کہ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، ان کا تعلق بنو عامر سے تھا ، وہ بدر میں حاضر ہوئے ، حجتہ الوداع کے موقع پر ان کا وصال ہو گیا جبکہ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہ حاملہ تھیں ، ان کی وفات کے بعد ان کا حمل پیدا ہوا، پس جب یہ نفاس سے پاک ہوئیں تو منگیتروں کیلئے سج سنور گئیں، پس بنو عبدالدار کے ایک شخص ابو سنابل بن بعکک ان کے پاس آئے تو ان سے کہا : کیا بات ہے کہ میں آپ کو سجا سنورا ہوا دیکھتا ہوں ؟ شاید تیرا نکاح کا ارادہ ہے ؟ قسم بخدا تو نکاح نہیں کر سکتی ہے یہاں تک کہ چار ماہ دس دن گزر جائیں ۔ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے : جب انہوں نے مجھے یہ بات کی تو میں نے اپنے کپڑوں کو اپنے اوپر سمیٹا حتیٰ کہ شام ہو گئی تھی ، پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بارگاہ میں آئی میں نے اس بارے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں وضع حمل کے دن سے پاک ہو چکی ہوں اور مجھے حکم دیا کہ اگر میرا جی چاہے تو میں نکاح کر لوں ۔
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20768
