المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ عبد الله بن محمد بن عقيل عن الربيع · حديث 20692
673 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن عبد الله بن محمد بن عقيل قال : Y دخلت على الربيع بنت معوذ بن عفراء فقالت : من أنت فقلت أنا عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب قالت : فمن أمك قلت : ريطة بنت علي أو فلانة بنت علي بن أبي طالب قالت مرحبا بك يابن أخي قلت : جئت أسألك عن وضوء رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : نعم كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلنا ويزورنا وكان يتوضأ في هذا الإناء وفي مثل هذا الإناء وهو نحو من مد قالت : فكان يغسل يديه ثم يمضمض ويستنشق ثم يغسل وجهه ثلاثا ثم يغسل يديه ثلاثا ثم يمسح برأسه مرتين ويمسح بأذنيه ظاهرهما و باطنهما ويغسل قدميه ثلاثا ثلاثا
حضرت عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ میں حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء کے پاس داخل ہوا، اس نے کہا : تو کون ہے ؟ میں نے کہا : میں عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابو طالب ہوں ۔ حضرت ربیع نے کہا : آپ کی والدہ کا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا : ریطہ بنت علی ، یا فلانہ بنت علی بن ابو طالب ۔ حضرت ربیع نے کہا : اے میرے بھائی کے بیٹے ! آپ کو خوش آمدید میں نے کہا : میں آپ کے پاس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کے متعلق پوچھنے کیلئے آیا ہوں۔ حضرت ربیع نے کہا : جی ہاں ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے ، ہمیں زیارت کا شرف بخشتے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس برتن یا س برتن کی مثل برتن کے پانی سے وضو کرتے ، جو ایک مد ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ دھوتے ، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے اور پھر اپنے چہرہ مبارک کو تین مرتبہ دھوتے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوتے پھر سرکا مسح کرتے ( آگے اور پیچھے کی طرف ) دونوں کانوں کے اوپر والے حصے کا مسح کرتے اور اندرونی حصے کا دونوں پاؤں کو تین مرتبہ دھوتے تھے ۔
عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب ← مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ ← دخلت على الربيع بنت معوذ بن عفراء ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20692
