المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رقية بنت أبي صيفي بن هاشم بن عبد مناف · حديث 20680
661 - حدثنا محمد بن موسى بن حماد البربري ثنا زكريا بن يحيى أبو السكن الطائي ثنا عم أبي زجر بن حصن عن جده حميد بن منهب قال حدثني عروة بن مضرس قال حدث مخرمة بن نوفل عن أمه رقية بنت أبي صيفي بن هاشم وكانت لدة عبد المطلب قالت : Y تتابعت على قريش سنون أمحلت الضرع وأدقت العظم فبينا أنا راقدة الهم أو مهمومة إذا هاتف يصرخ بصوت صحل يقول : معشر قريش إن هذا النبي المبعوث قد أظلتكم أيامه وهذا أبان نجومه فحيهلا بالحياء والخصب ألا فأنظروا رجلا منكم وسيطا عظاما جساما أبيض بضياء أوطب الأهداب سهل الخدين أشم العرنين له فحز يكظم عليه وسنة يهدي إليه فيخلص هو وولده وليهبط إليه من كل بطن رجل فليشنوا من الماء وليمسوا من الطيب [ وليستلموا الركن ] ثم ليرقوا أبا قبيس ثم ليدع الرجل وليؤمن القوم فغثتم ما شئتم فأصبحت علم الله مذعورة واقشعر جلدي ووله عقلي واقتصصت رؤياي ونمت في شعاب مكة فو الحرمة والحرم ما بقي بها أبطحي إلا قال : هذا شيبة الحمد وتناهت إليه رجالات قريش وهبط إليه من كل بطن رجل فشنوا ومسوا واستلموا [ الركن ] ثم ارتقوا أبا قبيس واصطفوا حوله ما يبلغ سعيهم مهلة حتى إذا استووا بذروة الجبل قام عبد المطلب ومعه رسول الله صلى الله عليه و سلم غلام قد أيفع أو كرب فرفع يده فقال : اللهم ساد الخلة وكاشف الكربة أنت معلم غير معلم ومسؤول غير مبخل وهذه عبداؤك واماؤك بعذرات حرمك يشكون إليك سنتهم أذهبت الخف والظلف اللهم فأمطرن علينا غيثا معذقا مريعا فورب الكعبة ما رامواحتى تفجرت السماء بمائها واكتظ الوادي بثجيجه فسمعت شيخان قريش وجلتها عبد الله بن جدعان وحرب بن أمية وهشام بن المغيرة يقولون لعبد المطلب لك أبا البطحاء أي عاش بك أهل البطحاء وفي ذلك ما تقول رقيقة بنت أبي صيفي : ( بشيبة الحمدأسقى الله بلدتنا ... وقد فقدنا الحياة وأجلوذ المطر ) ( فجاء بالماء جوني له سبل ... سحا فعاشت به الأنعام والشجر ) ( منا من الله بالميمون طائره ... وخير من بشرت يوما به مضر ) ( مبارك الأمر يستسقى الغمام به ما في الأنام له عدل ولا خطر ... )
حضرت رقیقہ بنت ابو صیفی بن ہاشم فرماتی ہیں : ( جبکہ وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس تھیں ) پے در پے قریش پر چند سال ایسے آئے جنہوں نے تھنوں کو خشک کر دیا، اور ہڈیوں کو باریک کر دیا اسی دوران کہ میں غم کی حالت میں سوئی ہوئی تھی ، جب غیب سے آواز آئی ، ایک چیخ مارنے والا بلند آواز سے کہہ رہا تھا : اے گروہ قریش بے شک یہ بھیجے گئے نبی ہیں ، ان کا زمانہ شروع ہو گیا ہے ، اور ان کا ستارہ طلوع ہو گیا ہے پس حیاء ارزانی زندگی مانگو، خبردار ! اپنے میں سے ایک آدمی کا انتظار کرو، درمیانی ہڈیوں اور جسم والے روشنی کے ساتھ سفید بلند اہداف والے ، خوبصورت رخساروں والے اور عزت والے ہیں ، غصے کو پی جانے والے ( سختی برداشت کرنے والے ) اور ایک خوبصورت طریقے کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں ، چاہیے کہ ہر خاندان سے ایک آدمی نکلے ، وہ پانی سے غسل کریں ، خوشبو لگائیں اور چاہیے کہ وہ رکن ( حجر اسود ) کا بوسہ لیں ، پھر جبل ابو قیس پر چڑھیں ، پھر ایک آدمی دعا کرے اور قوم آمین کہے تو جو تم چاہتے ہو تمہاری امداد ہو ۔ پس میں نے صبح کی ( اللہ جانتا ہے کہ ) میں ڈری ہوئی تھی اور میرا بدن کانپ رہا تھا اور عقل ماؤف ہو چکی تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا اور میں مکہ کی گھاٹیوں میں حرکت کی وجہ سے سو گئی ، حرم کی قسم ! اس وادی کے ہر ادمی نے کہا : یہ ( حضرت عبدالمطلب ) شیبۃ الحمد ہیں ۔ قریش کے آدمی ان کے پاس آئے اور خاندان سے ایک آدمی اترا، انہوں نے غسل کیا، خوشبو لگا کر حجر اسود کو بوسہ لیا پھر جبل ابو قبیس پر چڑھے ، ان کے گرد انہوں نے صفیں بنائیں، جہاں تک ان کی کوشش پہنچ سکتی تھی ، یہاں تک کہ جب پہاڑ کی چوٹی پر سیدھے ہو گئے تو حضرت عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور آپ کی معیت میں چھوٹے بچنے اللہ کے رسول بھی تھے ، وہ تکلیف میں تھے ۔ پس ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے کہا : اے اللہ ! کشادگی عطا کرنے والے " مصیبتوں کو دور کرنے والے ، توسکھانے والا ہے تجھے کسی نے سکھایا نہیں ، تو ذمہ لینے والا ہے ، بخل کرنے والا نہیں ، یہ تیرے بندے اور کنیزیں ، کنواری عورتیں بھی ہیں ، یہ تیرے سامنے قحط سالی کی شکایت کر رہے ہیں ،جس نے پاؤں اور گھر والوں کو ختم کر دیا ہے ، اے اللہ ہم پر رحمت کی بارش موسلا دھار نازل فرما۔ ( راوی کا بیان ہے : ) ر ب کعبہ کی قسم ! انہوں نے گھروں کو جانے کا ارادہ نہ کیا تھا کہ بارش آ گئی ، وادیاں بھر گئیں، میں نے بڑے بڑے قریش سے سنا اور ان میں بڑے عبداللہ بن جدعان ، حرب بن امیہ اور ہشام بن مغیرہ تھے ، وہ حضرت عبدالمطلب دے عرض کر رہے تھے ، اے ابو البطحاء ! مبارک ہو ، یعنی بطحاء والوں کو آپ کے وسیلے سے زندگی ملی اور حضرت رقیقہ بنت ابو صیفی کے اشعار اسی بارے میں ہیں : ( شیبۃ الحمد یعنی حضرت عبدالمطلب کو اللہ تعالیٰ نے ہمارا علاقہ عطا فرمایا جبکہ ہم زندگی گم کر چکے تھے اور زیادہ بارش ہوئے لمبا عرصہ گزر چکا گھا ، پس موسلا دھار بارش آئی، سیلاب کی شکل میں تھی جم کر برسی ، پس اس کی وجہ سے جانوروں اور درختوں کو زندگی مل گئی ایسی برکت اللہ کا محض احسان ہے جن کو ایک دن بشارت دی گئی ان میں سے بہر مضر ہیں ، معاملہ برکت والا ہے بادل سے ان کے وسییل سے بارش مانگی جاتی ہے ، کائنات میں ان کے برابر اور بزرگی والا کوئی نہیں ہے " ۔
عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ، ← عم أبي زجر بن حصن ← زكريا بن يحيى أبو السكن الطائي ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20680
