Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رقية بنت أبي صيفي بن هاشم بن عبد مناف · حديث 20680

661 - حدثنا محمد بن موسى بن حماد البربري ثنا زكريا بن يحيى أبو السكن الطائي ثنا عم أبي زجر بن حصن عن جده حميد بن منهب قال حدثني عروة بن مضرس قال حدث مخرمة بن نوفل عن أمه رقية بنت أبي صيفي بن هاشم وكانت لدة عبد المطلب قالت : Y تتابعت على قريش سنون أمحلت الضرع وأدقت العظم فبينا أنا راقدة الهم أو مهمومة إذا هاتف يصرخ بصوت صحل يقول : معشر قريش إن هذا النبي المبعوث قد أظلتكم أيامه وهذا أبان نجومه فحيهلا بالحياء والخصب ألا فأنظروا رجلا منكم وسيطا عظاما جساما أبيض بضياء أوطب الأهداب سهل الخدين أشم العرنين له فحز يكظم عليه وسنة يهدي إليه فيخلص هو وولده وليهبط إليه من كل بطن رجل فليشنوا من الماء وليمسوا من الطيب [ وليستلموا الركن ] ثم ليرقوا أبا قبيس ثم ليدع الرجل وليؤمن القوم فغثتم ما شئتم فأصبحت علم الله مذعورة واقشعر جلدي ووله عقلي واقتصصت رؤياي ونمت في شعاب مكة فو الحرمة والحرم ما بقي بها أبطحي إلا قال : هذا شيبة الحمد وتناهت إليه رجالات قريش وهبط إليه من كل بطن رجل فشنوا ومسوا واستلموا [ الركن ] ثم ارتقوا أبا قبيس واصطفوا حوله ما يبلغ سعيهم مهلة حتى إذا استووا بذروة الجبل قام عبد المطلب ومعه رسول الله صلى الله عليه و سلم غلام قد أيفع أو كرب فرفع يده فقال : اللهم ساد الخلة وكاشف الكربة أنت معلم غير معلم ومسؤول غير مبخل وهذه عبداؤك واماؤك بعذرات حرمك يشكون إليك سنتهم أذهبت الخف والظلف اللهم فأمطرن علينا غيثا معذقا مريعا فورب الكعبة ما رامواحتى تفجرت السماء بمائها واكتظ الوادي بثجيجه فسمعت شيخان قريش وجلتها عبد الله بن جدعان وحرب بن أمية وهشام بن المغيرة يقولون لعبد المطلب لك أبا البطحاء أي عاش بك أهل البطحاء وفي ذلك ما تقول رقيقة بنت أبي صيفي : ( بشيبة الحمدأسقى الله بلدتنا ... وقد فقدنا الحياة وأجلوذ المطر ) ( فجاء بالماء جوني له سبل ... سحا فعاشت به الأنعام والشجر ) ( منا من الله بالميمون طائره ... وخير من بشرت يوما به مضر ) ( مبارك الأمر يستسقى الغمام به ما في الأنام له عدل ولا خطر ... )

حضرت رقیقہ بنت ابو صیفی بن ہاشم فرماتی ہیں : ( جبکہ وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس تھیں ) پے در پے قریش پر چند سال ایسے آئے جنہوں نے تھنوں کو خشک کر دیا، اور ہڈیوں کو باریک کر دیا اسی دوران کہ میں غم کی حالت میں سوئی ہوئی تھی ، جب غیب سے آواز آئی ، ایک چیخ مارنے والا بلند آواز سے کہہ رہا تھا : اے گروہ قریش بے شک یہ بھیجے گئے نبی ہیں ، ان کا زمانہ شروع ہو گیا ہے ، اور ان کا ستارہ طلوع ہو گیا ہے پس حیاء ارزانی زندگی مانگو، خبردار ! اپنے میں سے ایک آدمی کا انتظار کرو، درمیانی ہڈیوں اور جسم والے روشنی کے ساتھ سفید بلند اہداف والے ، خوبصورت رخساروں والے اور عزت والے ہیں ، غصے کو پی جانے والے ( سختی برداشت کرنے والے ) اور ایک خوبصورت طریقے کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں ، چاہیے کہ ہر خاندان سے ایک آدمی نکلے ، وہ پانی سے غسل کریں ، خوشبو لگائیں اور چاہیے کہ وہ رکن ( حجر اسود ) کا بوسہ لیں ، پھر جبل ابو قیس پر چڑھیں ، پھر ایک آدمی دعا کرے اور قوم آمین کہے تو جو تم چاہتے ہو تمہاری امداد ہو ۔ پس میں نے صبح کی ( اللہ جانتا ہے کہ ) میں ڈری ہوئی تھی اور میرا بدن کانپ رہا تھا اور عقل ماؤف ہو چکی تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا اور میں مکہ کی گھاٹیوں میں حرکت کی وجہ سے سو گئی ، حرم کی قسم ! اس وادی کے ہر ادمی نے کہا : یہ ( حضرت عبدالمطلب ) شیبۃ الحمد ہیں ۔ قریش کے آدمی ان کے پاس آئے اور خاندان سے ایک آدمی اترا، انہوں نے غسل کیا، خوشبو لگا کر حجر اسود کو بوسہ لیا پھر جبل ابو قبیس پر چڑھے ، ان کے گرد انہوں نے صفیں بنائیں، جہاں تک ان کی کوشش پہنچ سکتی تھی ، یہاں تک کہ جب پہاڑ کی چوٹی پر سیدھے ہو گئے تو حضرت عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور آپ کی معیت میں چھوٹے بچنے اللہ کے رسول بھی تھے ، وہ تکلیف میں تھے ۔ پس ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے کہا : اے اللہ ! کشادگی عطا کرنے والے " مصیبتوں کو دور کرنے والے ، توسکھانے والا ہے تجھے کسی نے سکھایا نہیں ، تو ذمہ لینے والا ہے ، بخل کرنے والا نہیں ، یہ تیرے بندے اور کنیزیں ، کنواری عورتیں بھی ہیں ، یہ تیرے سامنے قحط سالی کی شکایت کر رہے ہیں ،جس نے پاؤں اور گھر والوں کو ختم کر دیا ہے ، اے اللہ ہم پر رحمت کی بارش موسلا دھار نازل فرما۔ ( راوی کا بیان ہے : ) ر ب کعبہ کی قسم ! انہوں نے گھروں کو جانے کا ارادہ نہ کیا تھا کہ بارش آ گئی ، وادیاں بھر گئیں، میں نے بڑے بڑے قریش سے سنا اور ان میں بڑے عبداللہ بن جدعان ، حرب بن امیہ اور ہشام بن مغیرہ تھے ، وہ حضرت عبدالمطلب دے عرض کر رہے تھے ، اے ابو البطحاء ! مبارک ہو ، یعنی بطحاء والوں کو آپ کے وسیلے سے زندگی ملی اور حضرت رقیقہ بنت ابو صیفی کے اشعار اسی بارے میں ہیں : ( شیبۃ الحمد یعنی حضرت عبدالمطلب کو اللہ تعالیٰ نے ہمارا علاقہ عطا فرمایا جبکہ ہم زندگی گم کر چکے تھے اور زیادہ بارش ہوئے لمبا عرصہ گزر چکا گھا ، پس موسلا دھار بارش آئی، سیلاب کی شکل میں تھی جم کر برسی ، پس اس کی وجہ سے جانوروں اور درختوں کو زندگی مل گئی ایسی برکت اللہ کا محض احسان ہے جن کو ایک دن بشارت دی گئی ان میں سے بہر مضر ہیں ، معاملہ برکت والا ہے بادل سے ان کے وسییل سے بارش مانگی جاتی ہے ، کائنات میں ان کے برابر اور بزرگی والا کوئی نہیں ہے " ۔

عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ، ← عم أبي زجر بن حصن ← زكريا بن يحيى أبو السكن الطائي ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20680

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رقيقة الثقفية · حديث 20681

662 - حدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا أبو حفص عمرو بن علي ثنا أبو عاصم ثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلى بن كعب الطائفي حدثني عبد ربه بن الحكم قال : حدثتني بنت رقيقة عن أمها رقيقة قالت : Y لما جاء النبي صلى الله عليه و سلم يبتغي النصر بالطائف دخل علي فأخرجت له شرابا من سويق فقال : يا رقيقة لا تعبدي طاغيتهم ولا تصلي لها قالت : إذا يقتلوني قال : فإذا قالوا لك فقولي : ربي رب هذه الطاغية فإذا رأيتها فولها ظهرك ثم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم من عندي

حضرت رقیقہ الثقفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طائف میں مدد کی تلاش میں آئے تو میرے پاس آپ کی تشریف آوری ہوئی، پاس میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیلئے ستو کا شربت نکالا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے رقیقہ : ان لگوں کے بت کی عبادت نہ کرنا اور نہ ہی اس کی خاطر نماز پڑھنا ( یا دعا کرنا ) ۔ عرض کی : پھر تو یہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے ۔ فرمایا : جب یہ لوگ تجھ سے پوچھیں ( کہ تیرا رب کون ہے ) تو کہنا : میرا رب وہ ہے جو اس بات کا بھی رب ہے ، پس جب تو بت کو دیکھے تو اس کی طرف پیٹھ کر لینا، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لے گئے ۔

عبد ربه بن الحكم ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ كَعْبٍ الطَّائِفِيُّ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20681

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رائطة بنت سفيان الخزاعية · حديث 20682

663 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي و محمود بن محمد الواسطي قالا : ثنا زكريا بن يحيى بن زحمويه ثنا عبد الرحمن بن عثمان الحاطبي حدثني أبي عن عائشة بنت قدامة بن مظعون قالت : Y كنت مع أمي رائطة بنت سفيان امرأة من خزاعة والنبي صلى الله عليه و سلم يبايعهن وهو يقول : أبايعكن على أن لا تشركن بالله شيئا ولا تسرقن و لا تزنين ولا تقتلن أولادكن ولا تأتين ببهتان تفترينه بين أيديكن وأرجلكن ولا تعصينني في معروف فأطرقن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قلن نعم فيما استطعتنه فقلنا : نعم فيما استطعنا فكنت أقول كما يقلن وأمي تقول : قولي نعم قولي نعم

حضرت عائشہ بنت قدامہ بن مظعون فرماتی ہیں کہ میں اپنی والدہ حضرت رائطہ بنت سفیان کیمعیب میں تھی جن کا تعلق بنو خزاعہ سے تھا، اس حال میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورتوں سے بیعت لے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے : میں تم عورتوں کو اس بات پر بیعت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ سمجھو گی ، چوری اور زنا نہ کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گی، کوئی بہتان نہیں باندھو گی جسے تم نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑا ہو اور نہ ہی نیکی کے کام میں میری نافرمانی کرو گی ۔ پس عورتوں نے سر جھکایا، رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کہو ! ہاں ، جو ہماری طاقت میں ہوا۔ پس ہم نے کہا : ہاں ، جو ہماری طاقت میں ہو گا۔ پس میں عورتوں کے کہنے کی طرح کہہ رہی تھی اور میری والدہ کہنے لگی :کہو ہاں ، کہوں ہاں ۔

كنت مع أمي رائطة بنت سفيان امرأة من خزاعة ← عائشة بنت قدامة بن مَظعُون. ← أَبِي ← عبد الرحمن بن عثمان الحاطبي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ زَحْمَوَيْهِ ← محمد بن عبد الله الحضرمي و محمود بن محمد الواسطي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20682

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ ريطة بنت منبه بن الحجاج السهمي أم عبد الله بن عمرو بن العاص ربيع بنت النضر · حديث 20683

664 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري ثنا حميد الطويل عن أنس بن مالك Y أن الربيع بنت النضر لطمت جارية من الأنصار فكسرت رباعيتها فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فطلبوا القصاص فقال : أنس بن النضر : يا رسول الله أتكسر سن الربيع ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أنس كتاب الله القصاص فعفا القوم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره منهم أنس بن النضر

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ربیع بنت نصر نے انصار میں سے ایک لونڈی کو طمانچہ مار کر اس کے دانت توڑ دیئے ، پس انصار نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قصاص کا مطالبہ کیا۔ حضرت انس بن نضر نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے انس ! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے ، پس قوم نے معاف کر دیا، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ کے بندوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اگر اللہ کے سامنے قسم اٹھا کر کوئی بات کہہ دیں تو وہ پوری کر دیتا ہے ، ان میں سے حضرت انب بن نضر ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20683

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ ريطة بنت منبه بن الحجاج السهمي أم عبد الله بن عمرو بن العاص ربيع بنت النضر · حديث 20684

665 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا العباس بن الوليد النرسي ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس بن مالك Y أن الربيع بنت النضر أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إن ابني حارثة أصيب يوم بدر فإن كان في الجنة صبرت واحتسبت وإن كان غير ذلك اجتهدت في البكاء فقال : يا أم حارثة إنها جنان في جنة وأنه أصاب الفردوس الأعلى

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے یہں کہ حضرت ربیع بنت نضر، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں ، عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا بیٹا حارثہ بدر کے دن شہید ہو گیا، اگر وہ جنت میں ہو تو میں صبر کرتی ہوں ،اور ثواب چاہتی ہوں اور اگر جنت کے علاوہ میں ہے تو میں رونے میں اپنا سارا زور لگا دوں گی ۔ فرمایا : اے حارثہ کی ماں !جنت کے اندر کئی جنتیں ہیں اور حضرت حارثہ فردوس اعلیٰ میں پہنچ چکے ہیں ۔

قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20684

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رائطة بنت عبد الله الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود · حديث 20685

666 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا سليمان بن داود الهاشمي ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه عن عروة بن الزبير عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن رائطة امرأة عبد الله بن مسعود Y وكانت صناعا وكانت تبيع من صنعتها و تتصدق فقالت لعبد الله يوما : لقد شغلتني أنت وولدك فما أستطيع أن أتصدق معكم شيئا فقال : ما تحبين أن يكون لك أجران ؟ فسألا النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقال : إن لك أجر ما أنفقت عليهم

حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت رائطہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ خود کام کرتی تھی ،کام کر کے اس بنائی ہوئی شی کو فروخت کرتیں اورصدقہ کرتیں ، ایک دن عبداللہ سے انہوں نے کہا : آپ نے اور آپ کی اولاد نے مجھے مشغول رکھا ہے ، میں تمہاری وجہ سے صدقہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہوں ۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا : تو پسند نہیں کرتی ہے کہ تیرے لیے دگنا ثواب ہو۔ دونوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تیرے لیے ثواب ہوگا جوتو ان پر خرچ کرے گی۔

رائطة امرأة عبد الله بن مسعود وكانت صناعا وكانت تبيع من صنعتها و تتصدق ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20685

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رائطة بنت عبد الله الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود · حديث 20686

667 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا أبي عن هشام بن عروة عن أبيه أن عبيد الله بن عبد الله Y أخبره عن رائطة بنت عبد الله امرأة عبد الله بن مسعود أم ولده وكانت امرأة صناعا وليس لابن مسعود مال وكانت تنفق عليه وعلى ولده من ثمن صنعتها فقالت : والله لقد شغلتني أنت وولدك عن الصدقة فما أستطيع أن أتصدق معكم بشيء فقال : ما أحب إن لم يكن في ذلك أجر أن تفعلي فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم هي وهو فقالت : يارسول الله إني امرأة ذات صنعة ابتغي بها وليس لي ولا لزوجي شيء ولا لولدي فشغلوني لا أتصدق فقال : لك في ذلك أجر ما أنفقت عليهم

حضرت عبید اللہ بن عبداللہ ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ام ولد بیوی حضرت رائطہ بنت عبداللہ کے بارے خبر دیتے ہیں جبکہ وہ کاروبار کرنے والی عورت تھیں ، جبکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہ تھا ، اور وہی عورت آپ پر اور آپ کی اولاد پر اپنی کاریگری کی قیمت سے خرچ کیا کرتی تھیں۔ ( ایک دن ) کہا : قسم بخدا ! آپ نے اور آپ کی اولاد نے مجھے صدقہ کرنے سے غافل کر دیا ہے ۔ پس تمہارے ہوتے ہوئے میں کوئی چیز صدقہ نہیں کر سکتی ہوں ، اگر اس میں تیرے لیے اجر و ثواب نہیں ہے تو میں کبھی پسند نہیں کروں گا کہ تو ایسا کرے ۔ پس اس عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا جبکہ وہ عورت اور آپ دونوں تھے ۔ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں ہنر مند عورت ہوں تاکہ میں اس کے بدلے رزق تلاش کروں ، میرے لیے اور میرے خاوند کیلئے کوئی چیز نہیں اور نہ میری اولاد کیلئے ، پس انہوں نے مجھے مشغول کر رکھا ہے ۔ میں ( دل کھول کر ) صدقہ نہیں کر سکتی ۔ فرمایا : جو تو ان پر خرچ کرتی ہے اس میں تیرے لیے اجر ہے ۔

أبيه أن عبيد الله بن عبد الله ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20686

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رائطة بنت عبد الله الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود · حديث 20687

668 - حدثنا محمد بن معاذ الخيلي ثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي حدثني أبي عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة Y عن رائطة امرأة عبد الله بن مسعود وكانت امرأة صناعا وليس لابن مسعود مال وكانت تنفق عليه وعلى ولده من ثمن صنعتها فقالت : والله لقد شغلتني أنت وولدك ندعن الصدقة فما أستطيع أن أتصدق معكم بشيء فقال : ما أحب أن لم يكن لك في ذلك أجر أن تفعلي فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم هي وهو فقال : لك في ذلك أجر

حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت رائطہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ خود کام کرتی تھی، کام کر کے اس بنائی ہوئی شی کو فروخت کرتیں اور صدقہ کرتیں ،ایک دن عبداللہ سے اس نے کہا : آپ نے اور آپ کی اولاد نے مجھے صدقہ سے غافل کر رکھا ہے ، میں تمہاری وجہ سے صدقہ کرنے کا طاقت نہیں رکھتی ہوں ،اگر تیرے لیے اس میں اجر نہیں ہے تو میں پسند نہیں کرتی کہ تو ایسا کرے ۔ دونوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تیرے لیے ثواب ہوگا۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← محمد بن معاذ الخيلي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20687

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رائطة بنت عبد الله الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود · حديث 20688

669 - حدثنا أحمد بن رشدين ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن رائطة امرأة عبد الله بن مسعود قالت : Y سألت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : إني امرأة ذات صنعة أبتغي بها وليس لي و لا لزوجي شيء ولا لولدي يشغلوني فلا أتصدق فقال : لك في ذلك أجر ما أنفقت عليهم

حضرت رائطہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ فرماتی ہیں : میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں پاک صنعت کار عورت ہوں ، جس کے ذریعے میں رزق تلاش کرتی ہوں میرے لیے اور میرے شوہر کیلئے کوئی چیز نہیں ہے اور نہ میری اولاد کیلئے ، انہوں نے مجھے مصروف کر رکھا ہے ، پس صدقہ نہیں کر سکتی ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے لیے ثواب ہوگا ، جو تو ان پر خرچ کرے گی۔

رائطة امرأة عبد الله بن مسعود ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20688

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ رائطة بنت عبد الله الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود · حديث 20689

670 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله الثقفي Y أن رائطة أخت عبد الله الثقفية كانت تحت ابن مسعود وكانت امرأة صناع تصنع فنبيع من صنعتها فقالت لابن مسعود : إنك قد شغلتني أنت وولدك عن النفقة في سبيل الله فما أستطيع أن أنفق في سبيل الله فقال : ما أحب أن تفعلي إن لم يكن لك في ذلك أجر فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أنفقي عليهم فإن لك أجرا ما أنفقت عليهم

حضرت عبید اللہ بن عبداللہ ثقفی روایت فرماتے ہیں کہ حضرت رائطہ حضرت عبداللہ کی بہن ثقفیہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ خود کام کرتی تھی ، کام کر کے اس بنائی ہوئی شی کو فروخت کرتیں ، ایک دن عبداللہ سے کہا : آپ نے اور اپ کی اولاد نے مجھے مشغول کر رکھا ہے ، میں تمہاری وجہ سے صدقہ کرنے کا طاقت نہیں رکھتی ہوں ، میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے لیے ثواب ہوگا جو تو ان پر خرچ کرے گی۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20689

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ ربيع بنت معوذ بن عفراء الأنصارية أبو سلمة و محمد بن عبد الله بن ثوبان عن ربيع · حديث 20690

671 - حدثنا حبوش بن رزق الله المصري ثنا عبد الله بن يوسف ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود يحيى بن النضر عن أبي سلمة و محمد بن عبد الله بن ثوبان عن الربيع بنت معوذ Y أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدث عن امرأة ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري أنه كان بينه وبين زوجها بعض الشيء وكان رجل فيه شدة فأتت رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلمته فأرسلت إلى ثابت بن قيس فتكلما عنده ما شاء الله ثم إنه قبل منها فدية فافتدت منه فأمرها رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تعتد حيضة

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی کے متعلق بیان کرتے ہوئے سنا کہ ان کے اور ان کے خاوند کے درمیان کوئی چیز تھی جبکہ وہ ایسے آدمی تھے جن میں شدت تھی ، پس اس عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آ کر کلام کی اور حضرت ثابت بن قیس کو بھی آدمی بھیج کر بلوایا ، پس دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گفتگو کی جو اللہ نے چاہا، پھر انہوں نے اپنی بیوی سے فدیہ قبول کیا اور ان کی بیوی نے فدیہ پیش کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کو ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الربيع بنت معوذ أنها ← أبي سلمة و محمد بن عبد الله بن ثوبان ← أبي الأسود يحيى بن النضر ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← حَبُّوشُ بْنُ رِزْقِ اللَّهِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20690

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت عن الربيع · حديث 20691

672 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي و يحيى بن معين قالا : ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن محمد بن إسحاق ثنا عبادة بن الوليد عن الربيع بنت معوذ بن عفراء قال : Y قلت : حديثني حديثك قالت : إختلعت من زوجي ثم جئت عمر فسألته ماذا علي من العدة فقال : لاعدة عليك إلا أن يكون حديث عهد بك فتمكثين حتى تحيضين حيضة قالت : وإنما يتبع في ذلك قضاء رسول الله صلى الله عليه و سلم في مريم المغالية وكانت عند ثابت بن قيس بن شماس فاختلعت منه بها

حضرت عبادہ بن ولید بن عبادہ ، حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : مجھے اپنی حدیث بیان کریں ۔ انہوں نے کہا : میں نے اپنے خاوند سے خلع کی ، پھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے سوال کیا کہ میرے اوپر عدت کتنی ہے ؟ فرمایا : تیرے اوپر عدت نہیں ہے مگر اس صورت میں کہ تیرا عہد نیا ہو۔ پس انہوں نے ایک حیض گزارا ۔ فرماتی ہیں : اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیصلے کی اتباع کی جاتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مریم مغالیہ کے بارے فرمایا جو حضرت ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی تھی ، پس اس نے ان سے خلع کیا۔

لاعدة عليك إلا أن يكون حديث عهد بك فتمكثين حتى تحيضين حيضة ← إختلعت من زوجي ثم جئت عمر فسألته ماذا علي من العدة ← قلت حديثني حديثك ← الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، ← عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أبي و يحيى بن معين ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20691

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter