Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة · حديث 20644

625 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن منصور عن ربعي بن حراش عن امرأته عن أخت حذيفة قالت Y خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : يا معشر النساء أما لكن في الفضة ما تحلين به ؟ إنه ليس من امرأة تحلى ذهبا إلا عذبت به

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہا کی بہن حضرت خولہ فرماتی ہیں کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیا : اے لوگوں کے گروہ ! تمہارے لیے چاندی کا زیور کافی نہیں ہے کیونکہ تم میں سے جو کوئی عورت سونے کا زیور پہنتی ہے ( وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتی ) تو جو اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو اسے عذاب دیا جائے گا۔

أخت حذيفة ← امْرَأَتِهِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20644

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة · حديث 20645

626 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الحسن بن الربيع الكوفي ثنا عبد الله بن إدريس عن حصين بن عبد الرحمن عن أبي عبيدة بن حذيفة عن عمته قالت : Y دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وقد حم فاشتدت به الحمى فقلت : أنت يا رسول الله قد اشتدت بك الحمى فلو دعوت الله فكشفها عنك فقال : أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم قالت : وقد علق له سقاء على شجرة واضطجع تحته والماء تقطر على فؤاده

حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتی ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بخار تھا اور بخار شدت اختیار کر چکا تھا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ کا بخار وہ اس قدر شدید ہے ، پس اگر اپ اللہ سے دعا کریں تو وہ اپ سے دور فرما دے گا۔ فرمایا : تمام لگوں سے زیادہ آزمائشیں ، انبیاء پر آتی ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوئے ( صحابہ ) ہیں ۔ فرماتی ہیں : ( میں نے دیکھا ) ایک مشک درخت پر لٹکی ہوئی تھی اور آپ اس کے نیچے لیٹے ہوئے تھے جبکہ مشک میں سے ایک ایک قطرہ پانی آپ کے دل پر ٹپک رہا تھا۔

عَمَّتِهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْكُوفِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20645

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة · حديث 20646

627 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا حفص بن عمر الحوضي ثنا خالد بن عبد الله ثنا حصين عن أبي عبيدة بن حذيفة عن عمته قالت : Y دخلنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم في نساء المهاجرات نعوده وهو محموم فأمر بسقاء فيه ماء فعلق على شجرة فجعل الماء يقطر على فؤاده من شدة ما يجد فقلنا : يا رسول الله لو دعوت الله كشف ما بك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم

حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتی ہیں کہ ہم مہاجر عورتوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں ، ہم آپ کی عیادت کرنے کیلئے آئی تھیں، آپ کو بخار تھا ایک مشکیزہ کے متعلق حکم دیا تو اس کو درخت پر لٹکایا گیا ، اس مشکیزے کے پانی کے قطرے آپ کے دل پر گرتے ، اس سخت بیماری کے وجہ سے جو آپ محسوس کرتے تھے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ اگر آپ اللہ سے دعا کریں تو اللہ عزوجل آپ سے یہ بخار لے جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء علیہم السلام پر ہے ، پھر ان سے ملنے والوں کیلئے ، پھر ان سے ملنے والوں کیلئے ( صحابہ و تابعین ) ۔

عَمَّتِهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← حُصَيْنٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20646

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة · حديث 20647

628 - حدثنا يوسف القاضي ثنا محمد بن كثير ثنا سليمان بن كثير عن حصين عن أبي عبيدة بن حذيفة [ عن عمته ] Y أنها دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمر بسقاء فعلق على شجرة ثم اضطجع تحته فجعل يقطر على فؤاده فقلت : ادع الله فيكشف عنك قال : إن أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم

حضرت حذیفہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتی ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی ، ایک مشکیزہ کے متعلق حکم دیا تو اس کو درخت پر لٹکایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے نیچے لیٹے ، اس مشکیزے کے پانی کے قطرے آپ کے دل پر گرتے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ اللہ سے دعا کریں تو اللہ عزوجل آپ سے یہ بخار لے جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء علیہم السلام پر ہے ، پھر ان سے ملنے والوں کیلئے ۔

حُصَيْنٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20647

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة · حديث 20648

629 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا سعيد بن الربيع ثنا شعبة عن حصين بن عبد الرحمن قال : سمعت أبا عبيدة بن حذيفة يحدث عن عمته فاطمة قالت : Y عدت رسول الله صلى الله عليه و سلم في نساء وقد علق السقاء يقطر عليه من شدة الحمى فقلت : يا رسول الله لو دعوت فذهب عنك شدتها فقال : أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الصالحون ثم الأمثل فالأمثل

حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ کی پھوپھی فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں عورتوں میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آپ کی عیادت کرنے کیلئے آئی ،ایک مشکیزہ کو درخت پر لٹکایا گیا، اس مشکیزے کے پانی کے قطرے آپ پر گرتے ، اس سخت بیماری کی وجہ سے جو آپ محسوس کرتے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اللہ سے دعا کریں تو اس کی شدت ختم ہو جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء علیہم السلام پر ہے ، پھر صالحین پھر درجہ بدرجہ ۔

عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ، ← أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ حُذَيْفَةَ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20648

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة · حديث 20649

630 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي وعبيد بن غنام قالا ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا حسين بن علي عن زائدة عن حصين عن أبي عبيدة بن حذيفة عن عمته قالت : Y دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وقد حم فأمر بسقاء فعلق على شجرة ثم اضطجع تحته فجعل الماء يقطر على فؤاده فقلت له : يا رسول الله لودعوت الله فكشف عنك فقال : إن من أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم

حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے وہ فرماتی ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی ، آپ کو بخار تھا، ایک مشکیزہ کے متعلق حکم دیا تو اس کو درخت پر لٹکایا گیا، پھر آپ اس کے نیچے لیٹ گئے ، اس مشکیزے کے پانی کے قطرے آپ کے دل پر گرتے ،میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اللہ سے دعا کریں تو اللہ عزوجل آپ سے یہ بخار لے جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء علیہم السلام پر ہے ، پھر ان سے ملنے والوں کے لیے ۔

عَمَّتِهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← حُصَيْنٍ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ وَعُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20649

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة · حديث 20650

631 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا إسماعيل بن إبراهيم أبو معمر القطيعي حدثنا جرير عن حصين عن خيثمة عن أبي عبيدة بن حذيفة عن عمته قالت : Y دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وهو يوعك وقد علق سقاء يقطر على فؤاده فقلت : يا رسول الله ما هذا ؟ فقال : انا معشر الأنبياء يضاعف علينا البلاء

حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتی ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بخار تھا ، مشکیزہ کو درخت کے اوپر باندھا ہوا تھا اور اس مشکیزہ سے پانی کے قطرے آپ کے دل پر گر رہے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کہا ہے ؟ فرمایا : ہم انبیاء علیہم السلام کے گروہ پر دگنی آزمائش ہوتی ہے ۔

عَمَّتِهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← خيثمة ← حُصَيْنٍ ← جَرِيرٌ ← اسماعيل بن ابراهيم أبو معمر القطيعي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20650

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة · حديث 20651

632 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جمهور بن منصور ( ح ) وحدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا الصلت بن مسعود الجحدري قالا ثنا علي بن ثابت الجزري عن الوازع بن نافع عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن خولة بنت اليمان قالت : Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لاخير في جماعة النساء إلا عند ميت فإنهن إذا اجتمعن قلن وقلن

حضرت خولہ بنت یمان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : عورتوں کی جماعت ( اکٹھا ہونے ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، مگر میت کے پاس جمع ہوں کیونکہ جب اکٹھی ہوتی ہیں تو طرح طرح کی باتیں کرتی ہیں ۔

لاخير في جماعة النساء إلا عند ميت فإنهن إذا اجتمعن قلن وقلن ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← خولة بنت اليمان ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ، ← عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← وحدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ← جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20651

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت مالك بن ثعلبة امرأة أوس بن الصلت وهي المظاهر منها · حديث 20652

633 - حدثنا عبيد الله بن محمد بن عبد الرحيم البرقي ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن معمر بن عبد الله بن حنظلة عن يوسف بن عبد الله بن سلام قال حدثتني خولة بنت ثعلبة وكانت عند أوس بن الصامت أخي عبادة بن الصامت قالت : Y دخل علي ذات يوم فكلمني بشيء وهو فيه كالضجر فراددته فقال : أنت علي كظهر أمي ثم خرج فجلس ثم نادى قومه ثم رجع إلي فأرادني على نفسي فامتنعت منه فشاددني فشاددته فغلبته بما تغلب به المرأة الرجل الضعيف فقلت : كلا والذي نفس خويلة بيده لاتصل إليها حتى يحكم الله في وفيك فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أشكو إليه ما لقيت منه فقال : زوجك وابن عمك فاتقي الله فأنزل الله { قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله } حتى بلغ الكفارة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مريه فليعتق رقبة فقلت : يا رسول الله والله ما عنده رقبة يعتقها قال : فليصم شهرين متتابعين قلت يا رسول الله شيخ كبير والله مابه صيام قال : فليطعم ستين مسكينا قلت : والله يا رسول الله ما عنده ما يطعم قال : بل سنعينه بعرق من تمر والعرق مكتل يتسع ثلاثين صاعا قلت : وأنا أعينه بعرق آخر قال : أحسنت فمريه فليتصدق به

حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا حدیث بیان فرماتی ہیں : ( وہ حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی حضرت اوس بن صامت کی بیوی تھیں) فرماتی ہیں : ( میرے خاوند ) ایک دن میرے پاس آئے ، پس انہوں نے مجھ سے کوئی کلام کیا اس حال میں کہ وہ تنگ تھے ، میں نے ان کو جواب دیا، انہوں نے کہا: تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو، پھر گھر سے نکل کر کہیں بیٹھ گئے ، پھر قوم و ک نداء دی، پھر میری طرف لوٹ کر آئے ،پس انہوں نے میرے نفس پر ارادہ کیا تو میں نے انہیں روک دیا، پس انہوں نے مجھ پر سختی کی تو میں بھی ان سے سختی کے ساتھ پیش آئی، پس میں ان پر غالب آ گئی ، اسی چیز کے ساتھ جس کے ساتھ ایک عورت کمزور مرد پر غالب آتی ہے ۔ میں نے کہا : ہر گز نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں خویلہ کی جان ہے ، آپ اس تک نہیں پہنچ سکیں گے حتیٰ کہ میرے اور تیرے بارے میں اللہ کا حکم آئے ، پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئی تاکہ اس کی شکایت کروں جو مجھے ملی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تیرا خاوند ہے اور تیرے چچا کا بیٹا ہے ، اللہ سے ڈر۔ ( اتنے میں ) اللہ یہ آیت نازل فرمائی : " تحقیق اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے خاوند کے بارے میں آپ سے مجادلہ کر رہی ہے اور اللہ سے شکایت کر رہی ہے " ( المجادلہ :۱) یہاں تک کہ کفارہ تک پہنچی ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اپنے خاوند کو کہہ کہ ایک غلام آزاد کرے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس کے پاس غلام نہیں ہے ، جسے وہ آزاد کرے ۔ فرمایا : اسے چاہیے کہ لگاتار دو ماہ روزے رکھے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول وہ بوڑھا آدمی ہے ، قسم سے روزے نہیں رکھ سکتا ۔ فرمایا : پس اسے چاہیے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔ میں نے عرض کی : قسم بخدا! اے اللہ کے رسول ! اس کے پاس وہ کچھ نہیں جو وہ کھلائے ۔ فرمایا : عنقریب ہم ایک عرق کھجور کے ساتھ اس کی مدد کریں گے اور ایک عرق، ایک ٹوکرہ ہوتا ہے جس میں تیس صاع کی گنجائش ہوتی ہے اور میں ایک اور عرق سے بھی اس کی مدد کروں گا ۔ فرمایا : تو نے اچھا کیا ، اب اسے کہہ کہ وہ اسے صدقہ کرے ۔

كانت عند أوس بن الصامت أخي عبادة بن الصامت ← حدثتني خولة بنت ثعلبة ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20652

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت مالك بن ثعلبة امرأة أوس بن الصلت وهي المظاهر منها · حديث 20653

634 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا يحيى الحماني ثنا معاوية بن صالح عن أبي إسحاق عن يزيد بن يزيد عن خولة بنت الصامت Y وكان زوجها مريضا فدعاها فأبطت عليه فقال لها : إن قربتك أو وطأتك فأنت علي كظهر أمي فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فشكت ذلك إليه فلم يرد عليها شيئا ولم يكن بلغه فيه شيء ثم أتته مرة أخرى فجاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اعتق رقبة فقال : ليس عندي فقال : صم شهرين متتابعين قال : لاأقدر قال : فأطعم ستين مسكينا ثلاثين صاعا قال : لاأملك ذلك إلا أن تعينني فأعانه النبي صلى الله عليه و سلم بخمسة عشر صاعا وأعانه الناس حتى بلغ فقال : والله ما أحد أفقر إليه مني ومن أهل بيتي فقال : خذها أنت وأهل بيتك قال أبو القاسم : هكذا قالت خولة بنت الصامت وهي خولة بنت ثعلبة امرأة أوس بن الصامت

حضرت خولہ بنت صامت رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جبکہ ان کے خاوند بیمار تھے ، پس انہوں نے بلایا تو حضرت خولہ دیر سے حاضر ہوئیں، انہوں نے کہا : اگر میں تیرے قریب آؤں یا تجھ سے وطی کروں تو تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے ۔ پس حضرت خولہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئیں، پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان کی شکایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی حکم نازل ہوا تھا، وہ ایک بار پھر حاضر ہوئیں ، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آ کر فرمایا : ایک گردن آزاد کر۔ عرض کی : میرے پاس نہیں ۔ فرمایا : دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ۔ عرض کی : میں قدرت نہیں رکھتا۔ فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو تین صاع کھانا کھلا ۔ عرض کی : اس کا مالک نہیں ہوں مگر آپ میری مدد کریں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پندرہ صاع سے اس کی مدد کی اور لوگوں نے بھی ، حتیٰ کہ پورے ہو گئے تیس صاع ( یعنی ایک سو تیس سیر ) ۔ عرض کی : قسم بخدا ! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ ضرورت مند کوئی نہیں ہے ۔ فرمایا : تم اور تمہارے گھر والے ہی لے لیں ۔ حضرت ابو القاسم فرماتے ہیں : حضرت خولہ بنت صامت نے اسی طرح کہا اور یہ حضرت اوس بن صامت کی بیوی حضرت خولہ بنت ثعلبہ ہیں ۔

لها ← خولة بنت الصامت وكان زوجها مريضا فدعاها فأبطت عليه ← يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← يحيى الحماني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20653

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة غير منسوبة · حديث 20654

635 - حدثنا الحسين بن السميدع الأنطاكي ثنا موسى بن أيوب النصيبي ثنا بقية بن الوليد عن عبد الرحمن بن أبي الجون عن أبي سعد عن معاوية بن إسحاق عن خولة قالت Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يقدس الله أمة لا يأخذ ضعيفها من قويها حقه غير متعتع وقال : من انصرف عنه غريمه وهو راض عنه صلت عليه دواب الأرض ونون البحار ومن انصرف عنه غريمه وهوساخط كتب عليه في كل يوم وليلة وجمعة وشهر ظلم

حضرت خولہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک و صاف نہیں کرتا اور نہ ہی اسے برکت عطا کرتا ہے ، جس کا کمزور آدمی اس کے طاقتور آدمی سے اپنا حق بغیر تکلیف کے نہ لے سکے ۔ اور فرمایا : جو آدمی سے اپنا حق بغیر تکلیف کے نہ لے سکے اور فرمایا : جو آدمی اپنے قرض خواہ سے اس حال میں لوٹا کہ وہ اس سے خوش تھا تو اس پر زمین کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں درود پڑھتی ہیں اور جو اپنے قرض خواہ کے پاس سے واپس اس حال میں آیا کہ وہ اس سے ناراض ہے تو ہر دن ، رات ، جمعہ اور مہینہ اس پر لکھا جاتا ہے کہ اس نے ظلم کیا ۔

خولة: ← مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي سَعْدٍ ← عبد الرحمن بن أبي الجون ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20654

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ خولة بنت عاصم وهي الملاعنة التي فرق النبي صلى الله عيه وسلم بينها وبين زوجها · حديث 20655

636 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا حفص بن سعيد القرشي حدثتني أمي عن أمها وكانت خادم رسول الله صلى الله عليه و سلم Y أن جروا دخل البيت ودخل تحت السرير ومات فمكث نبي الله صلى الله عليه و سلم أياما لاينزل عليه الوحي فقال : يا خولة ما حدث في بيت رسول الله ؟ جبريل لايأتيني فهل حدث في بيت رسول الله حدث ؟ فقلت : والله ما أتى علينا يوم خير من يومنا فأخذ برده فلبسه وخرج فقلت : لو هيأت البيت وكنسته فأهويت بالمكنسة تحت السرير فإذا شيء ثقيل فلم أزل حتى أخرجته فإذا بجرو ميت فأخذته بيدي فألقيته خلف الدار فجاء نبي الله ترعد لحيته وكان إذا أتاه الوحي أخذته الرعدة فقال : يا خولة دثريني فأنزل الله { والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى }

حضرت حفص بن سعید حدیث بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری ماں نے اپنی ماں سے روایت کر کے حدیث سنائی جبکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خادمہ تھیں کہ ایک پلہ ( کتیاکا بچہ ) گھر میں داخل ہو کر چارپائی کے نیچے چلا گیا، اور مر گیا ، چند دن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی آنا بند ہو گئی ۔ فرمایا : اے خولہ ! کیا بات ہوئی کہ اللہ کے رسول کے گھر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نہیں آتے ، کیا للہ کے رسول کے گھر میں کوئی نئی بات ہو گئی ہے ؟ میں نے عرض کی : قسم بخدا ! ہم پر کوئی دن ہمارے دن سے بہتر نہیں آتا ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر لے کر پہنی اور گھر سے باہر تشریف لے گئے ۔ میں نے دل میں کہا اگر ہو سکتے تو میں گھر میں جھاڑو دے کر اسے تیار کر دوں ، پس میں نے چارپائی کے نیچے سے جھاڑو اٹھانے کا ارادہ کیا تو اچانک دیکھا، ایک بوجھل ( بھاری ، ثقیل ) چیز موجود ہے ، پس میں نے لگاتار کوشش کر کے اسے نکال دیا، وہ مرا ہوا پلہ تھا۔ پس میں نے اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر گھر سے کے پیچھے پھینک دیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی والی دونوں طرفیں کانپ رہی تھیں۔ ویسے یہ تب ہوتا تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی آتی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کپکپی طاری ہو جاتی ، فرمایا : اے خولہ مجھے کمبل اوڑھا دو، پس یہ آیت نازل ہوئی : ( والضحیٰ و اللیل اذا سجیٰ الی آخرہ " ۔

حَفْصُ بْنُ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَتْنِي أُمِّي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20655

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter