المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ بنت قيس بن قهيد بن قيس بن ثعلبة الأنصاري امرأة حمزة بن عبد المطلب تكنى أم محمد · حديث 20608
589 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حيان عن خولة بنت قيس بن قهد Y وكانت امرأة حمزة بن عبد المطلب فقتل عنها فجاءت نبي صلى الله عليه و سلم تزوره قالت : يا نبي الله قد كنت أحب أن ألقاك فأسألك عن شيء ذكر لي أنك تذكر أن لك حوضا ما بين كذا إلى كذا فقال لها : أجل وأحب الناس إلي أو أحب الناس إلي أن يرده قومك فقالت : فقربت له عصيدة في تور فلما وضع يده فيها احترقت فقال : حس ثم قال : إن ابن آدم إن أصابه حر قال حس وإن أصابه برد قال حس
حضرت خولہ بنت قیس بن قہد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ( وہ حضرات امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں ) پس اپ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ملاقات کرنے کیلئے آئیں، عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں آپ سے ملاقات اس لیے پسند کرتی ہوں کہ آپ سے کسی چیز کے بارے دریافت کروں جو میرے سامنے ذکر کی گئی ہے کہ آپ کا ایک حوض ہے جو فلاں فلاں جگہ کے درمیان کے برابر ہے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :ہاں ! میرے نزدیک پسندیدہ آدمی جو تیری قوم سے اس پر آئے ۔ فرماتی ہیں : میں نے ایک برتن میں حلوہ پیش کیا ، پس جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ جلنے لگا، فرمایا : اوہو ( یہ کیا ہوا ) ! پھر فرمایا :بے شک ابن آدم کو اگر گرمی لگے تو افسوس کرتا ہے اور اگر سردی لگے تو بھی پریشان ہوتا ہے ۔
خولة بنت قيس بن قهد ← محمد بن يحيى بن حيان ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20608
