المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء خولة ‹ بنت قيس بن قهيد بن قيس بن ثعلبة الأنصاري امرأة حمزة بن عبد المطلب تكنى أم محمد · حديث 20596
577 - حدثنا حفص بن عمر السدوسي ثنا عاصم بن علي ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن بكار قالا ثنا أبو معشر عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن عبيد سنوطا قال : Y دخلنا على خولة بنت قيس وهي امرأة النعمان بن العجلان يومئذ وهي التي كانت عند حمزة بن عبد المطلب فقلنا لها حدثينا يا أم محمد فقال لها زوجها : انظري يا أم محمد ما تحدثين فإن الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بغير ثبت شديد فقالت : بئس ما لي أن أحدثهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ينفعهم وأكذب على رسول الله صلى الله عليه و سلم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الدنيا حلوة خضرة فمن يأخذ مالا بحله يبارك له فيه ورب متخوض في مال الله ورسوله فيما شاءت نفسه وله يوم القيامة النار
حضرت عبید سنوطا فرماتے ہیں : ہم حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے ، ان دنوں وہ حضرت نعمان بن عجلان کی بیوی تھیں، یہ وہی ہیں جو پہلے حضرت امیر حمزہ کے پاس تھیں، پس ہم نے ان سے کہا : اے ام محمد ! ہمیں حدیثیں سنائیں، ان کے خاوند نے ان سے کہا : اے محمد ! خیال کرنا، تم کیا حدیث سناتی ہو کیونکہ حدیث وہ ہوتی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے ، بغیر ثبوت کے یہ معاملہ بڑا سخت ہے ۔ انہوں نے فرمایا : میرے لیے کتنی بری بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی حدیث میں ان سے بیان کروں جو انہیں نفع دے جبکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ بول رہی ہوں ( یہ نہیں ہو سکتا ) ۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : دنیا سر سبز و شاداب اور میٹھی ہے ، پس جو آدمی حلال طریقے سے مال کمائے گا، اس میں برکت دی جائے گی ، کتنے لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مال میں منہ ڈالتے ہیں ، اس میں جو ان کا نفس چاہے حالانکہ ( وہ مال ) قیامت کے دن ، ان کے لیے آگ ہو گا۔
عُبَيْدِ سَنُوطَا، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← أبو معشر ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ السَّدُوسِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20596
