Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حليمة بنت أبي ذؤيب السعدية واسم أبي ذؤيب عبد الله بن الحارث بن حبان بن سعد بن بكر من بني سعد بن بكر بن هوازن وهي أم رسول الله صلى الله عليه و سلم التي أرضعته وفصلته · حديث 20564

545 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا ابن الأصبهاني ثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي ( ح ) وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو عمر الضرير ثنا زياد بن عبد الله البكائي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا مسروق بن المزربان الكندي ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة كلهم عن محمد بن إسحاق عن جهم بن أبي الجهم مولى الحارث بن حاطب عن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب قال حدثتني حليمة بنت أبي ذؤيب السعدية من سعد بن بكر بن هوازن وهي أم النبي صلى الله عليه و سلم التي أرضعته وفصلته أنها حدثت قالت : Y أصابتنا سنة شهباء فلم تبق لنا شيئا فخرجنا في نسوة من بني سعد بن بكر إلى مكة نلتمس الرضعاء فلما قدمنا مكة لم تبق منا امرأة إلا عرض عليها نبي الله صلى الله عليه و سلم فتأباه وتكرهه وذلك أنه كان لاأب له وكانت الظورات إنما يرجون الخير من الآباء وكانت المرأة تقول : ما أصنع بهذا ؟ ما عسى أن تصنع بي أمه فيكرهنه قالت : فعرض علي فأبيته فلم تبق امرأة من قومي إلا وجدت رضيعا وحضر انصرافهن إلى بلادهن فخشيت أن أرجع بغير رضيع فقلت لزوجي : لو أخذت ذاك الغلام اليتيم كان أمثل من أن أرجع بغير رضيع فجئت إلى أمه فأخذته وجئت به إلى منزلي وكان لي ابن أرضعه وكان يسهر كثيرا من الليل جوعا ما ينام فلما ألقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم على ثديي أقبلا عليه بما شاء من اللبن حتى روى وروى أخوه ونام وقام زوجي في جوف الليل إلى شاف معنا والله أن يبض بقطرة قالت : فوقعت يده على ضرعها فإذا هو حافل محلب فجاءني فقال : يا ابنة وهب والله إني لاأحسب هذه النسمة مباركة ثم أخبرني خبر الشارف فأخبرته خبر ما رأيت من ثديي تلك الليلة فخرجنا على أتان لنا كانت قبل ذلك ما يلحق الحمر ضعفا فلما صرنا عليها متوجهين إلى بلادنا كانت تقدم القوم حتى يصحن بي : ويحك يا ابنة أبي ذؤيب قطعت منا إن أتانك هذه لشانا قالت : فقدمنا به بلاد بني سعد بن بكر لانتعرف إلا البركة حتى إن كان راعينا ليذهب بغنمنا فيرعاها ويبعث قومنا بأغنامهم فإذا كان عند الليل راحوا فتجيء اغنامنا بحفلان ما من أغنامهم شاة تبض بقطرة فيقولون لرعيانهم : ويلكم ارعوا حيث يرعى راعي بنت أبي ذؤيب قالت : فلم يزل كذلك معنا فكان ذات يوم خلف بيوتنا في بهم لنا هو وأخوه يلعبان إذ جاء أخوه يسعى فقال : ذاك أخي القرشي قد قتل فجئنا نبادره أنا وأبوه فتلقانا منتقع اللون فجعلنا نضمه إلينا أنا مرة و أبوه مرة نقول له : ما لك يا بني ؟ فيقول : لا أدري أتاني رجلان فصرعاني فشقا بطني فجعلا يسوطاته فأقبل علي أبوه فقال : ما أرى هذا الغلام إلا قد أصيب فبادري به إلى أهله قبل أن يتفاقم به الأمر عندنا قالت : فلم يكن لي همة حتى أقدمته مكة على أمه وقلت لها : يا ظئر إني قد فصلت ابني وارتفع عن العاهة فأخبليه فقالت : ما لك زاهدة فيه ؟ قد كنت تسأليني أن أتركه عندك كأنك خفت عليه الشيطان أولا أحدثك عني و عنه إني رأيت حين ولدته أنه خرج مني نور أضاءت منه قصور بصرى من أرض الشام

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رضاعی ماں حضرت حلیمہ بنت ابو ذؤیب سعدیہ ( بنو سعد بن بکر بن ہوازن قبیلہ ) فرماتی ہیں : ہمیں سخت قحط سالی کا سامنا ہوا، پس ہمارے پاس کوئی چیز باقی نہ رہ گئی پس میں عورتوں کے ساتھ مکہ کی طرف نکلی جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا ، ہمیں شیر خوار بچوں کی تلاش تھی ۔ پس جب ہم مکہ میں پہنچیں تو ہم میں سے تقریباً ہر عورت پر اللہ کے نبی کو پیش کیا گیا تو اس نے انکار کیااور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اٹھانا پسند نہ کیا۔ اس کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد گرامی کا اس دنیا پہ نہ ہونا تھا ، کیونکہ دائیاں ، باپوں سے خیر کی امید رکھتی تھیں ( جس کے سامنے پیش کیے جاتے ) وہ عورت کہتی : میں اسے کیا کروں گی ؟ امید نہیں ہے کہ اس کی ماں میرے ساتھ کوئی اچھا سلوک کرے ، پس وہ عورتیں اسے نا پسند کرتی تھیں۔ فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بار مجھ پر بھی پیش کیے گئے تو میں نے لینے سے انکار کر دیا۔ لیکن میری قوم کی ہر عورت کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا اور ان کا اپنے علاقہ کو لوٹنے کو وقت قریب آ گیا، مجھے خوف لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بغیر بچے کے لوٹ جاؤں ۔ پس میں نے اپنے خاوند سے کہا : اگر میں اس یتیم بچے کو اٹھا لوں تو بغیر بچے کے جانے سے تو بہتر ہو گا۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ماں کی طرف آئی ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر اپنے گھر آئی ، میرا ایک دودھ پیتا بیٹا بھی تھا ، وہ جب تک سو نہ جاتا، بھوک کی وجہ سے روتا اور جاگتا رہتا تھا۔ پس جب میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پستانوں پہ ڈالا تو دونوں پستان آپ کی خاطر دودھ لائے جو اللہ نے چاہا ، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رضاعی بھائی نے بھی خوب سیر ہو کر پیا اور سو گیا۔ میرے خاوند رات کے کسی وقت اٹھ کر اپنی اونٹنی کی طرف گئے ، قسم بخدا ! ( پہلے یہ حال تھا کہ ) اس کے تھنوں میں ایک قطرہ دودھ نہ تھا ، فرماتی ہیں : میرے خاوند کے ہاتھ اس کے تھنوں پر پڑے تو دیکھا کہ وہ بھرے ہوئے اور دودھ کا مرکز ہیں ۔ پس اس نے میرے پاس آ کر کہا : اے وہب کی بیٹی ! قسم بخدا ! بے شک میرا غالب گمان ہے کہ یہ نونہال ، برکتوں والا ہے ، پھر مجھے اونٹنی کی بات بتائی ۔ اس کے بعد میں نے اسے وہ بات بتائی جو اس رات میں نے اپنے پستانوں کے حوالے سے دیکھی، پس ہم اپنی گدھی پر سوار ہو کر نکلے جو اس سے پہلے کمزوری کی وجہ سے دوسرے گدھوں کو پیچھے سے نہیں مل سکتی تھی ، پس جب ہم اس پر سوار ہو کر اپنے علاقے کی طرف منہ کر کے چلے تو وہ قوم ( کی سواریوں ) سے آگے نکل گئی حتیٰ کہ ان عورتوں کو بلند آواز سے مجھ سے کہا: تجھے افسوس ! اے ابو ذؤیب کی بیٹی ! تو ہم سے آگے نکل گئی ، تیری گدھی ( پہلے تو ) اس شان کی مالک نہ تھی ۔ میں نے جواب دیا : ہم اس ہستی کو بنو سعد بن بکر کے علاقے میں لے آئے ، ( اب ہر جگہ ) ہم اس کی برکت ہی سیکھیں گے ۔ بات یہاں تک پہنچی کہ اگر ہمارا چرواہا، ہمارا ریوڑ چرانے کیلئے لے جاتا تو ہماری قوم والے بھی اپنے ریوڑ( اسی جگہ ) بھیجتے ، پس جب رات کے وقت وہ واپس آتے تو ہماری بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہوتے تھے جبکہ اس سے پہلے ان کی بکریوں میں سے کوئی بکری بھی ایک قطرہ دودھ نہ دیتی تھی ۔ پس وہ اپنے چرواہوں سے کہتے : تمہیں افسوس ! تم وہاں کیوں نہیں چراتے جہاں بنت ابوذؤیب ( حضرت حلیمہ ) کا چرواہا چراتا ہے ۔ فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح ہمارے ساتھ ہمیشہ رہے ۔ پس ایک دن ہمارے گھروں کے پیچھے ہماری ایک چٹان پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کا بھائی کھیل رہے تھے ، اچانک آپ کا بھائی دوڑتا ہوا آیا، کہا: وہ میرا قریشی بھائی قتل کر دیا گیا ہے ، ہم یعنی میں اور اس کا باپ جلدی کرتے ہوئے ان کے پاس آئے ، پس آپ ہم سے اس حال میں ملے کہ آپ کا رنگ زردی مائل تھا۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے سے چمٹانے لگے ، کبھی میں سینے سے لگاتی کبھی ان کے رضاعی باپ ۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہہ رہے تھے ۔ اے بیٹے ! آپ کو کیا ہوا؟ فرمانے لگے : مجھے کوئی اندازہ نہیں ! دو آدمی میرے پاس آئے ، انہوں نے مجھے لٹا کر میرا سینہ چاک کیا اور اس کی پڑتال کرنے لگے ۔ ( یہ سن کر ) ان کے رضاعی باپ نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا : میرا خیال ہے کہ اس بچے کو کوئی مصیبت لاحق ہو گئی ہے ۔ پس جلدی اسے اپنے گھر والوں کے پاس لے جاؤ، اس سے پہلے ہمارے پاس اس کا معاملہ سنگین ہو جائے ۔ فرماتی ہیں : میرے اندر ہمت نہ تھی حتیٰ کہ میں آپ کو آپ کی ماں کے پاس مکہ لائی اور میں نے ان سے عرض کی : اے دایہ ! میں نے اپنے بیٹھے کا دودھ چھڑا دیا ہے ، اب یہ مرض لگنے کی عمر سے بڑا ہو گیا ہے ، پس آپ ان کو عاریۃ دیں ۔ تو انہوں نے فرمایا : آپ کو کیا ہوا ، اس کے معاملے میں علیحدگی اختیار کرنے والی ہیں ، آپ تو مجھے سے مطالبہ کیا کرتی تھیں کہ میں اسے آپ کے پاس چھوڑے رکھوں ، گویا آپ کو اس پر شیطان کا خوف ہوا ہے ، کیا میں تجھے اور اس کے بارے ایک بات نہ بتاؤں ! جب میں نے ان کو جنم دیا تو مجھ سے ایک نور نکلا، جس سے شام کی سر زمین میں بصریٰ کے محلات روشن ہو گئے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ كُلُّهُمْ ← مسروق بن المزربان الكندي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20564

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حسنة أم شرحبيل لها ذكر ولا حديث لها · حديث 20565

546 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي قال : سمعت محمد بن عبد الله بن نمير يقول : Y شرحبيل بن حسنة إنما حسنة أمه وكانت ممن هاجر إلى الحبشة

حضرت محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں کہ شرحبیل بن حسنہ ہیں ، بے شک حضرت حسنہ ان کی والدہ ہیں ، آپ ان میں سے ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ۔

شرحبيل بن حسنة إنما حسنة أمه وكانت ممن هاجر إلى الحبشة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20565

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حقة بنت عمرو · حديث 20566

547 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسن بن خلف الواسطي ثنا إسحاق الأزرق عن شريك عن عاصم الأحول عن أبي مجلز عن حقة بنت عمرو Y وكانت قد صلت القبلتين مع النبي صلى الله عليه و سلم أنها كانت إذا أرادت أن تحرم وضعت عبيتها في حجرها ولبست من ثيابها ما تشاء والمعصفر فتهل

حضرت حقہ بنت عمرو رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے ، آپ جب احرام پہننے کا ارادہ کرتی تھیں تو اپنا چوغہ اپنی گود میں رکھتیں، وہ جو چاہتیں، لباس پہنتیں اور زرد رنگ لگاتیں ، اس کے بعد احرام پہنتیں۔

اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ خَلْفٍ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20566

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حمنة بنت جحش تكنى أم حبيبة وهي امرأة عبد الرحمن بن عوف وهي أخت زينب زوج النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 20567

548 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يونس بن بكير قال : قال ابن إسحاق : Y هاجر من بني أسد من نسائهم حمنة بنت جحش من نسوة ذكرهن

حضرت ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ بنی اسد کی عورتوں میں سے جس نے ہجرت کی ان میں سے ایک حمنہ بنت حجش بھی ہیں ، ان کا تعلق ان عورتوں سے ہے جن کا ذکر ہوا۔

يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20567

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حمنة بنت جحش تكنى أم حبيبة وهي امرأة عبد الرحمن بن عوف وهي أخت زينب زوج النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 20568

549 - وحدثنا محمد بن أحمد بن أبي بكر المقدمي ثنا عبد الله بن شبيب المدني ثنا عبد الجبار بن سعيد ثنا يحيى بن هاني الشجري عن عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الرحمن عن عاصم بن عبد الله عن معاوية بن عبيد الله بن أحمد بن جحش قال : Y رأيت بعيني حمنة بنت جحش يوم أحد تسقي العطشى وتداوي الجرحى

حضرت معاویہ بن عبید اللہ بن ابو احمد بن حجش فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے حضرت حمنہ بنت حجش کو احد کے دن دیکھا کہ وہ پیاسوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کو پٹی کرتی تھیں۔

رأيت بعيني حمنة بنت جحش يوم أحد تسقي العطشى وتداوي الجرحى ← معاوية بن عبيد الله بن أحمد بن جحش ← عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الرحمن ← يحيى بن هاني الشجري ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ الْمَدَنِيُّ، ← وحدثنا محمد بن أحمد بن أبي بكر المقدمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20568

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حمنة بنت جحش تكنى أم حبيبة وهي امرأة عبد الرحمن بن عوف وهي أخت زينب زوج النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 20569

550 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن عمرة بنت عبد الرحمن عن أم حبيبة بنت جحش قالت : Y استحضت سبع سنين فشكوت ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ليست تلك حيضة ولكنه عرق فاغتسلي فكانت تغتسل عند كل صلاة وكانت تغتسل في المركن فترى صفرة الدم في المركن

حضرت امہ حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے سات سال کی عمر میں حیض آنا شروع ہو گیا، میں نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی تو اپ نے فرمایا : یہ حیض نہیں ہے ، یہ رگ ہے جو پھٹ گئی ہے ، تو غسل کیا کر، یعنی ہر نماز کے وقت غسل کر۔ تو حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جس ٹب میں غسل کرتی تھیں اس ٹب میں خون کے ساتھ زردی دیکھا کرتی تھیں ۔

أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20569

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حمنة بنت جحش تكنى أم حبيبة وهي امرأة عبد الرحمن بن عوف وهي أخت زينب زوج النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 20570

551 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن ابن جريج عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن إبراهيم بن محمد بن طلحة عن أم حبيبة Y قالت : كنت أستحاض حيضة كثيرة طويلة فجئت النبي صلى الله عليه و سلم أستفتيه وأخبره فوجدته في بيت أختي زينب فقلت : يا رسول الله إني لي حاجة قال : ما هي أي هنتاه قلت : إني أستحاض حيضة كثيرة طويلة قد منعتني الصلاة والصوم فما تأمرني فيها ؟ قال : أنعت لك الكرسف فإنه يذهب الدم قلت : هو أكثر من ذلك قال : فتلجمي قلت : هو أكثر من ذلك قال : فاتخذي ثوبا قالت : هو أكثر من ذلك يا رسول الله إنما يثج ثجا قال : سآمرك بامرين أيهما فعلت ذلك فقد أجزئك من الآ خر وإن قويت عليهما فأنت أعلم وقال إنما هذه ركضة من ركضات الشيطان قال ستحيضين ستة أيام أو سبعة في علم الله ثم اغتسلي حتى إذا رأيت أنك قد طهرت واستيقنت فصلي أربع وعشرين ليلة وأيامها أو ثلاثا وعشرين وأيامها وصومي فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي في كل شهر كما تحيض النساء ويطهرن لميقات حيضهن وطهرهن وإن قويت على أن تؤخري الظهر وتعجلي العصر فتغتسلي لهما جميعا ثم تؤخري المغرب وتعجلي العشاء فتغتسلين لهما وتجمعين بين الصلاتين وتغتسلين مع الفجر فكذلك فافعلي وصومي إن قدرت على ذلك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وهذا أعجب الأمرين أن تلجمي يعني تستثفري

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : مجھے زیادہ لمبے عرصے تک حیض آیا کرتا تھا، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے کیلئے آئی پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی بہت زینب کے گھر میں دیکھا، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے ایک کام ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے فلاں ! وہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : مجھے بہت زیادہ اور لمبا حیض آتا ہے ، جس نے مجھے نماز و روزہ سے روک دیا ہے ۔ پس آپ اس میں کیا حکم فرمائیں گے ؟ فرمایا : روئی استعمال کر ، یہ خون ختم کر دے گی۔ میں نے عرض کی : یہ اس سے زیادہ ہے ۔ فرمایا : لنگوٹ باندھ لے ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ اس سے بھی زیادہ ہے ، یہ تو پانی کی طرح زور سے بہتا ہے ۔ فرمایا : میں تجھے دو کاموں میں سے ایک کا حکم دیتا ہوں جو تو کر لے گی ، وہ تجھے دوسرے سے زیادہ کافی ہوگا، اور اگر تو ان دونوں پر طاقت رکھتی ہے تو تجھے زیادہ معلوم ہے ۔ اور فرمایا : اللہ کے علم میں تجھے چھ یا سات دس حیض آتا ہے ، پھر غسل کر لے ، یہاں تک کہ جب خیال کرے کہ تو پاک ہو گئی ہے اور تجھے یقین ہو جائے تو چوبیس دن اور رات یا تیس دن اور رات نماز پڑھ اور روزہ رکھ ، بے شک یہ تیرے لئے جائز ہوگا اور ہر ماہ اسی طرح کر جس طرح دوسری عورتوں کو حیض آتا ہے اور وہ اپنے حیض کے اوقات میں حیض سے پاک ہو جاتی ہیں اور ان کا طہر شروع ہو جاتا ہے اور اگر تجھے طاقت ہو تو ظہر کو دیر سے اور عصر کو جلدی پڑھ ، ان دونوں کیلئے ایک ہی غسل کر، پھر مغرب کو دیر سے اور عشاء کو جلدی پڑھ اور ان دونوں نمازوں کیلئے ایک ہی غسل کر اور دو نمازوں کو جمع کر سکتی ہے اور فجر کے ساتھ ایک غسل کر ، پس اسی طرح کر اور روزے رکھ ، اگر تو اس پر قادر ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : دو کاموں میں سے زیادہ اچھا یہ کام ہے کہ تو لنگوٹ باندھ لے ۔

أُمِّ حَبِيبَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20570

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حمنة بنت جحش تكنى أم حبيبة وهي امرأة عبد الرحمن بن عوف وهي أخت زينب زوج النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 20571

552 - حدثنا عبيد بن غنام ومحمد بن عبد الله الحضرمي قالا ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون انا شريك عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن إبراهيم بن محمد بن طلحة عن عمه عمران بن طلحة عن أم حبيبة بنت جحش قالت Y استحضت حيضة منكرة فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقال : تلجمي واحتشي كرسفا قالت : يا رسول الله هو أشد من ذلك إني أثجه ثجا قال : فاستدخلي واستثفري وتحيضي في علم الله في كل شهر ستة أيام أو سبعة فاغتسلي وصومي وصلي ثلاثا وعشرين أو أربعا وعشرين وأخري الظهر وقدمي العصر واغتسلي لهما غسلا واغتسلي للفجر وهذا أحب الأمرين إلي

حضرت ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : مجھے عیب اسم کا حیض آیا، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پٹی باندھ لے اور روئی رکھ لے ۔ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! وہ ا س سے زیادہ ہے وہ تو پانی کی طرح زور سے بہتا ہے ۔ فرمایا : روئی داخل کر کے لنگوٹ باندھ لے ، تیرا حیض اللہ کے علم میںہر ماہ چھ یا سات دن ہے ، غسل کر، روزے رکھ اور تئیس یا چوبیس دن نماز بھی پڑھ، ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کر اور ان دونوں کیلئے ایک غسل کر اور فجر کیلئے علیحدہ غسل کر اور یہ دو کاموں میں سے زیادہ پسندیدہ کام ہے ۔

تلجمي واحتشي كرسفا ← استحضت حيضة منكرة فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم ← أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ← عمه عمران بن طلحة ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عبيد بن غنام ومحمد بن عبد الله الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20571

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حمنة بنت جحش تكنى أم حبيبة وهي امرأة عبد الرحمن بن عوف وهي أخت زينب زوج النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 20572

553 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي ثنا أبو حذيفة ثنا زهير بن محمد عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن إبراهيم بن محمد بن طلحة عن عمه عمران بن طلحة عن أمه حمنة بنت جحش قالت : Y كنت أستحاض حيضة كثيرة شديدة فجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم أستفتيه وأسأله فوجدته في بيت أختي زينب بنت جحش فقلت : يا رسول الله إني لي إليك حاجة قال : ما هي أي هنتاه قلت : يا رسول الله إنه لحديث والله ما منه بد وإني لأستحي منه قال : فما هو أي هنتاه قلت : يارسول الله إني أستحاض حيضة شديدة كثيرة فما ترى فيها قد منعتني الصلاة والصوم ؟ فقال لها : أنعت لك الكرسف فإنه يذهب الدم قلت : هو أكثر من ذلك قال : أما إني سآمرك بامرين أيهما فعلت فقد أجزأ عنك من الآ خر وإن قدرت عليهما فأنت أعلم إنما هذه ركضة من ركضات الشيطان فصلي أربعة عشرين ليلة وأيامها وصومي فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كل شهر كما تحيض النساء وكما يطهرن لميقات حيضهن وطهرهن وإن قدرت على أن تؤخري الظهر وتعجلي العصر وتغتسلين لهما ثم تصلين الظهر والعصر جميعا ثم تؤخري المغرب وتعجلين العشاء وتجمعين بين الصلاتين فافعلي وتغتسلين مع الفجرغسلا وتصلين كذلك فافعلي وصلي وصومي إن قدرت على ذلك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وهذا أعجب إلي

حضرت عمران بن طلحہ اپنی والدہ حمنہ بنت حجش سے روایت کرتی ہیں ، فرماتی ہیں : مجھے بہت سخت قسم کا حیض آیا کرتا تھا، میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فتویٰ لوں اور مسئلہ پوچھوں ، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی بہت حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے گھر میں پایا، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے ایک کام ہے ۔ فرمایا : اے فلاں ! وہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے ایک کام ہے ۔ فرمایا : اے فلاں ! وہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ایک بات ہے جو کہنا ضروری ہے ، بخدا ! مجھے اس سے حیاء آتی ہے ۔ فرمایا : وہ کیا ہے ؟ اے فلاں ! ( بتاؤ تو سہی ) میں نے عرض کی : مجھے سخت اور بہت زیادہ حیض آتا ہے ، پس اس میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ اس نے مجھے نماز اور روزہ سے روک دیا ہے ۔ فرمایا : میں تیرے لئے روئی کا انتخاب کرتا ہوں کیونکہ یہ خون ختم کر دے گی ۔ میں نے عرض کی : وہ اس سے زیادہ ہے ۔ فرمایا : میں دو کام بتاتا ہوں ، ان میں سے ایک کر لے تو تیری طرف سے دورے کام کے حوالے سے کافی ( جائز ) ہوگا۔ اگر تو دونوں کاموں پر قادر ہو تو وہ تو زیادہ جانتی ہے ، یہ شیطانی لاتوں میں سے ایک لات ہے ، پس چوبیس دن نماز پڑھ سکتی ہے اور روزہ بھی رکھ سکتی ہے ۔ کیونکہ یہ تجھے کافی ہو گا اور اسی طرح تو ہر ماہ کر لے جیسے دوسری عورتوں کو حیض آتا ہے اور حیض کے دن گزرنے سے ختم ہو جاتا ہے اور طہر شروع ہو جاتا ہے ، اگر تو کر سکے تو ظہر کی نماز مؤخر کر اور عصر کی نماز مقدم کر اور دونوں کیلئے ایک غسل کر پھر ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی ادا کر، پھر مغرب مؤخر اور عشاء کو مقدم کر اور دونوں کو اکٹھا کر پس یہ کر لے اور فجر کے ساتھ ایک غسل کر اور اسی طرح نماز پڑھ اور تو یہ کر لے نماز پڑھ اور روزہ رکھ اگر تو یہ طاقت رکھتی ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ← عمه عمران بن طلحة ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20572

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حواء الأنصارية بنت زيد بن السكن بن كرز بن زعوراء · حديث 20573

554 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة أنه قال : Y حواء بنت زيد بن السكن وهي التي يروي زيد بن أسلم عن بجاد عن جدته

حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضرت حواء ، حضرت زید بن سکن کی بیٹی ہیں ، یہ وہی ہیں جن سے حضرت زید بن اسلم ، ان سے حضرت بجاد اور وہ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں ۔

جَدَّتِہٖ ← بجاد ← حواء بنت زيد بن السكن وهي التي يروي زيد بن أسلم ← عاصم بن عمر بن قتادة أنه ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20573

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حواء الأنصارية بنت زيد بن السكن بن كرز بن زعوراء · حديث 20574

555 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك ( ح ) وحدثنا أبو يزيد يوسف بن يزيد القراطيسي ثنا عبد الله بن عبد الحكم ( ح ) وحدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن يوسف قالا : أخبرنا ابن أنس عن زيد بن أسلم عن ابن بجيد Y عن جدته أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تردوا السائل ولو بظلف محرق

حضرت ابن بجید اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مانگنے والے کو خالی واپس نہ بھیجو، اگر تو اس کو جلا ہوا کھر ہی دے سکتا ہو تو دے ۔

جَدَّتِہٖ ← ابْنِ بُجَيْدٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنَ أَنَسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← وحدثنا أبو يزيد يوسف بن يزيد القراطيسي ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20574

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حواء الأنصارية بنت زيد بن السكن بن كرز بن زعوراء · حديث 20575

556 - حدثنا أحمد بن علي الآبار ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع ثنا روح بن القاسم عن زيد بن أسلم عن ابن بجيد الأنصاري Y عن جدته عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تردوا السائل ولو بظلف محرق

حضرت ابن بجید اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مانگنے والے کو خالی واپس نہ کرو، اگر تو اس کو جلا ہوا کھر ہی دے سکتا ہو تو دے ۔

«لَا تَرُدُّوا السَّائِلَ، وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ» ← النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدَّتِہٖ ← ابْنِ بُجَیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20575

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter