المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حليمة بنت أبي ذؤيب السعدية واسم أبي ذؤيب عبد الله بن الحارث بن حبان بن سعد بن بكر من بني سعد بن بكر بن هوازن وهي أم رسول الله صلى الله عليه و سلم التي أرضعته وفصلته · حديث 20564
545 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا ابن الأصبهاني ثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي ( ح ) وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو عمر الضرير ثنا زياد بن عبد الله البكائي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا مسروق بن المزربان الكندي ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة كلهم عن محمد بن إسحاق عن جهم بن أبي الجهم مولى الحارث بن حاطب عن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب قال حدثتني حليمة بنت أبي ذؤيب السعدية من سعد بن بكر بن هوازن وهي أم النبي صلى الله عليه و سلم التي أرضعته وفصلته أنها حدثت قالت : Y أصابتنا سنة شهباء فلم تبق لنا شيئا فخرجنا في نسوة من بني سعد بن بكر إلى مكة نلتمس الرضعاء فلما قدمنا مكة لم تبق منا امرأة إلا عرض عليها نبي الله صلى الله عليه و سلم فتأباه وتكرهه وذلك أنه كان لاأب له وكانت الظورات إنما يرجون الخير من الآباء وكانت المرأة تقول : ما أصنع بهذا ؟ ما عسى أن تصنع بي أمه فيكرهنه قالت : فعرض علي فأبيته فلم تبق امرأة من قومي إلا وجدت رضيعا وحضر انصرافهن إلى بلادهن فخشيت أن أرجع بغير رضيع فقلت لزوجي : لو أخذت ذاك الغلام اليتيم كان أمثل من أن أرجع بغير رضيع فجئت إلى أمه فأخذته وجئت به إلى منزلي وكان لي ابن أرضعه وكان يسهر كثيرا من الليل جوعا ما ينام فلما ألقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم على ثديي أقبلا عليه بما شاء من اللبن حتى روى وروى أخوه ونام وقام زوجي في جوف الليل إلى شاف معنا والله أن يبض بقطرة قالت : فوقعت يده على ضرعها فإذا هو حافل محلب فجاءني فقال : يا ابنة وهب والله إني لاأحسب هذه النسمة مباركة ثم أخبرني خبر الشارف فأخبرته خبر ما رأيت من ثديي تلك الليلة فخرجنا على أتان لنا كانت قبل ذلك ما يلحق الحمر ضعفا فلما صرنا عليها متوجهين إلى بلادنا كانت تقدم القوم حتى يصحن بي : ويحك يا ابنة أبي ذؤيب قطعت منا إن أتانك هذه لشانا قالت : فقدمنا به بلاد بني سعد بن بكر لانتعرف إلا البركة حتى إن كان راعينا ليذهب بغنمنا فيرعاها ويبعث قومنا بأغنامهم فإذا كان عند الليل راحوا فتجيء اغنامنا بحفلان ما من أغنامهم شاة تبض بقطرة فيقولون لرعيانهم : ويلكم ارعوا حيث يرعى راعي بنت أبي ذؤيب قالت : فلم يزل كذلك معنا فكان ذات يوم خلف بيوتنا في بهم لنا هو وأخوه يلعبان إذ جاء أخوه يسعى فقال : ذاك أخي القرشي قد قتل فجئنا نبادره أنا وأبوه فتلقانا منتقع اللون فجعلنا نضمه إلينا أنا مرة و أبوه مرة نقول له : ما لك يا بني ؟ فيقول : لا أدري أتاني رجلان فصرعاني فشقا بطني فجعلا يسوطاته فأقبل علي أبوه فقال : ما أرى هذا الغلام إلا قد أصيب فبادري به إلى أهله قبل أن يتفاقم به الأمر عندنا قالت : فلم يكن لي همة حتى أقدمته مكة على أمه وقلت لها : يا ظئر إني قد فصلت ابني وارتفع عن العاهة فأخبليه فقالت : ما لك زاهدة فيه ؟ قد كنت تسأليني أن أتركه عندك كأنك خفت عليه الشيطان أولا أحدثك عني و عنه إني رأيت حين ولدته أنه خرج مني نور أضاءت منه قصور بصرى من أرض الشام
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رضاعی ماں حضرت حلیمہ بنت ابو ذؤیب سعدیہ ( بنو سعد بن بکر بن ہوازن قبیلہ ) فرماتی ہیں : ہمیں سخت قحط سالی کا سامنا ہوا، پس ہمارے پاس کوئی چیز باقی نہ رہ گئی پس میں عورتوں کے ساتھ مکہ کی طرف نکلی جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا ، ہمیں شیر خوار بچوں کی تلاش تھی ۔ پس جب ہم مکہ میں پہنچیں تو ہم میں سے تقریباً ہر عورت پر اللہ کے نبی کو پیش کیا گیا تو اس نے انکار کیااور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اٹھانا پسند نہ کیا۔ اس کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد گرامی کا اس دنیا پہ نہ ہونا تھا ، کیونکہ دائیاں ، باپوں سے خیر کی امید رکھتی تھیں ( جس کے سامنے پیش کیے جاتے ) وہ عورت کہتی : میں اسے کیا کروں گی ؟ امید نہیں ہے کہ اس کی ماں میرے ساتھ کوئی اچھا سلوک کرے ، پس وہ عورتیں اسے نا پسند کرتی تھیں۔ فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بار مجھ پر بھی پیش کیے گئے تو میں نے لینے سے انکار کر دیا۔ لیکن میری قوم کی ہر عورت کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا اور ان کا اپنے علاقہ کو لوٹنے کو وقت قریب آ گیا، مجھے خوف لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بغیر بچے کے لوٹ جاؤں ۔ پس میں نے اپنے خاوند سے کہا : اگر میں اس یتیم بچے کو اٹھا لوں تو بغیر بچے کے جانے سے تو بہتر ہو گا۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ماں کی طرف آئی ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر اپنے گھر آئی ، میرا ایک دودھ پیتا بیٹا بھی تھا ، وہ جب تک سو نہ جاتا، بھوک کی وجہ سے روتا اور جاگتا رہتا تھا۔ پس جب میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پستانوں پہ ڈالا تو دونوں پستان آپ کی خاطر دودھ لائے جو اللہ نے چاہا ، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رضاعی بھائی نے بھی خوب سیر ہو کر پیا اور سو گیا۔ میرے خاوند رات کے کسی وقت اٹھ کر اپنی اونٹنی کی طرف گئے ، قسم بخدا ! ( پہلے یہ حال تھا کہ ) اس کے تھنوں میں ایک قطرہ دودھ نہ تھا ، فرماتی ہیں : میرے خاوند کے ہاتھ اس کے تھنوں پر پڑے تو دیکھا کہ وہ بھرے ہوئے اور دودھ کا مرکز ہیں ۔ پس اس نے میرے پاس آ کر کہا : اے وہب کی بیٹی ! قسم بخدا ! بے شک میرا غالب گمان ہے کہ یہ نونہال ، برکتوں والا ہے ، پھر مجھے اونٹنی کی بات بتائی ۔ اس کے بعد میں نے اسے وہ بات بتائی جو اس رات میں نے اپنے پستانوں کے حوالے سے دیکھی، پس ہم اپنی گدھی پر سوار ہو کر نکلے جو اس سے پہلے کمزوری کی وجہ سے دوسرے گدھوں کو پیچھے سے نہیں مل سکتی تھی ، پس جب ہم اس پر سوار ہو کر اپنے علاقے کی طرف منہ کر کے چلے تو وہ قوم ( کی سواریوں ) سے آگے نکل گئی حتیٰ کہ ان عورتوں کو بلند آواز سے مجھ سے کہا: تجھے افسوس ! اے ابو ذؤیب کی بیٹی ! تو ہم سے آگے نکل گئی ، تیری گدھی ( پہلے تو ) اس شان کی مالک نہ تھی ۔ میں نے جواب دیا : ہم اس ہستی کو بنو سعد بن بکر کے علاقے میں لے آئے ، ( اب ہر جگہ ) ہم اس کی برکت ہی سیکھیں گے ۔ بات یہاں تک پہنچی کہ اگر ہمارا چرواہا، ہمارا ریوڑ چرانے کیلئے لے جاتا تو ہماری قوم والے بھی اپنے ریوڑ( اسی جگہ ) بھیجتے ، پس جب رات کے وقت وہ واپس آتے تو ہماری بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہوتے تھے جبکہ اس سے پہلے ان کی بکریوں میں سے کوئی بکری بھی ایک قطرہ دودھ نہ دیتی تھی ۔ پس وہ اپنے چرواہوں سے کہتے : تمہیں افسوس ! تم وہاں کیوں نہیں چراتے جہاں بنت ابوذؤیب ( حضرت حلیمہ ) کا چرواہا چراتا ہے ۔ فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح ہمارے ساتھ ہمیشہ رہے ۔ پس ایک دن ہمارے گھروں کے پیچھے ہماری ایک چٹان پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کا بھائی کھیل رہے تھے ، اچانک آپ کا بھائی دوڑتا ہوا آیا، کہا: وہ میرا قریشی بھائی قتل کر دیا گیا ہے ، ہم یعنی میں اور اس کا باپ جلدی کرتے ہوئے ان کے پاس آئے ، پس آپ ہم سے اس حال میں ملے کہ آپ کا رنگ زردی مائل تھا۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے سے چمٹانے لگے ، کبھی میں سینے سے لگاتی کبھی ان کے رضاعی باپ ۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہہ رہے تھے ۔ اے بیٹے ! آپ کو کیا ہوا؟ فرمانے لگے : مجھے کوئی اندازہ نہیں ! دو آدمی میرے پاس آئے ، انہوں نے مجھے لٹا کر میرا سینہ چاک کیا اور اس کی پڑتال کرنے لگے ۔ ( یہ سن کر ) ان کے رضاعی باپ نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا : میرا خیال ہے کہ اس بچے کو کوئی مصیبت لاحق ہو گئی ہے ۔ پس جلدی اسے اپنے گھر والوں کے پاس لے جاؤ، اس سے پہلے ہمارے پاس اس کا معاملہ سنگین ہو جائے ۔ فرماتی ہیں : میرے اندر ہمت نہ تھی حتیٰ کہ میں آپ کو آپ کی ماں کے پاس مکہ لائی اور میں نے ان سے عرض کی : اے دایہ ! میں نے اپنے بیٹھے کا دودھ چھڑا دیا ہے ، اب یہ مرض لگنے کی عمر سے بڑا ہو گیا ہے ، پس آپ ان کو عاریۃ دیں ۔ تو انہوں نے فرمایا : آپ کو کیا ہوا ، اس کے معاملے میں علیحدگی اختیار کرنے والی ہیں ، آپ تو مجھے سے مطالبہ کیا کرتی تھیں کہ میں اسے آپ کے پاس چھوڑے رکھوں ، گویا آپ کو اس پر شیطان کا خوف ہوا ہے ، کیا میں تجھے اور اس کے بارے ایک بات نہ بتاؤں ! جب میں نے ان کو جنم دیا تو مجھ سے ایک نور نکلا، جس سے شام کی سر زمین میں بصریٰ کے محلات روشن ہو گئے ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ كُلُّهُمْ ← مسروق بن المزربان الكندي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20564
