Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 510 - زبيب بن ثعلبة العنبري كان ينزل البصرة · حديث 5307

5300 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أحمد بن عبدة الضبي ثنا عمار بن شعيث Y بإسناده مثله

حضرت عمار بن شعیب نے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل حدیث بیان کی ہے ۔

عمار بن شعيث بإسناده مثله ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 5307

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 511 - زنباع أبو روح الجذامي كان ينزل الشام · حديث 5308

5301 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر و ابن جريج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده وعن عبد الله بن عمرو Y أن زنباعا أبا روح وجد غلاما له مع جاريته فقطع ذكره وجدع أنفه فأتى العبد النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال له النبي صلى الله عليه و سلم ما حملك على ما فعلت ؟ قال : فعل كذا وكذا فقال النبي صلى الله عليه و سلم للعبد : اذهب فأنت حر

حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت ابو روح زنباع رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو اپنی لونڈی کے ساتھ پایا، پس اس ک عضو تناسل بھی اور ناک بھی کاٹ دی۔ پس وہ غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس بات کا ذکر کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو روح سے فرمایا: جو کام تو نے کیا ہے ، تجھے کس چیز نے اس پر ابھارا؟ آپ نے عرض کی : اس نے یہ کام کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غلام سے فرمایا: جا ! تو آزاد ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← معمر و ابن جريج ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 5308

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 511 - زنباع أبو روح الجذامي كان ينزل الشام · حديث 5309

5302 - حدثنا علي بن عبد العزيز أنا أبو نعيم ( ح ) وحدثنا الحضرمي نا إسماعيل بن موسى السدي قالا ثنا عبد السلام ابن حرب عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة عن سلمة بن روح بن زنباع Y أن جده أخص عبدا له فقدم على النبي صلى الله عليه و سلم فأعتقه للمثلة

حضرت سلمہ بن روح بن زنباع سے مروی ہے کہ ان کے دادا کا ایک خاص غلام تھا، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آزاد کر دیا، اس وجہ سے کہ میرے دادا نے اس کا مثلہ کیا تھا۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← عبد السلام ابن حرب ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ← الْحَضْرَمِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 5309

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ من اسمه زهير 512 - زهير بن صرد الجشمي كان ينزل الشام · حديث 5310

5303 - حدثنا عبيد الله بن رماحي الجشمي ثنا أبو عمرو زياد بن طارق وكان قد لبث عليه عشرون ومئة سنة قال سمعت أبا جرول زهير بن صرد الجشمي يقول Y لما أسرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين يوم هوازن وذهب يفرق الشبان والسبي أنشدته هذا الشعر : ( امنن علينا رسول الله في كرم ... فإنك المرء نرجوه وننتظر ) ( امنن على بيضة قد عاقها قدر ... مفرقا شملها في دهرها غير ) ( أبقت لنا الدهر هتافا على حزن ... على قلوبهم الغماء والغمر ) ( إن لم تداركهم نعماء تنشرها ... يا أرجح الناس حلما حين يختبر ) ( امنن على نسوة قد كنت ترضعها ... وإذ يزينك ما تأتي وما تذر ) ( لا تجعلنا كمن شالت نعامته ... فاستبق منا فإنا معشر زهر ) ( إنا لنشكر للنعماء إذ كفرت ... وعندنا بعد هذا اليوم مدخر ) ( فألبس العفو من قد كنت ترضعه ... من أمهاتك إن العفو مشتهر ) ( يا خير من مرحت كمت الجياد به ... عند الهياج إذا مااستوقد الشرر ) ( إنا نؤمل عفوا منك نلبسه ... هادي البرية إذ تعفو تنتصر ) ( فاعف عفا الله عما أنت راهبه ... يوم القيامة إذ يهدى لك الظفر ) فلما سمع هذا الشعر قال : ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لكم وقالت قريش : ما كان لنا فهو لله ولرسوله وقالت الأنصار : ما كان لنا فهو لله ولرسوله

ہمیں حضرت عبداللہ بن رماحی جشمی نے حدیث سنائی ، ہمیں حضرت ابو عمرو زیاد بن طارق نے حدیث سنائی اور وہ اس پر ایک سو بیس سال رہے تھے ، وہ فرماتے ہیں : میں نے ابوجرول زہیر بن صرد جشمی کو کہتے ہوئے سنا: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں قیدی بنایا ، حنین و ہوازن کے دن اور اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوانوں اور قیدیوں کو تقسیم کرنے لگے تو میں نے یہ شعر کہے: " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اپنے کرم اور مہربانی سے ہم پر احسان فرمائیے، بلاشبہ آپ ایسے شخص ہیں جس سے ہم مہربانی اور کرم کے امید وار اور منتظر ہیں، اس قبیلہ پر احسان فرمائیے کہ جس کی حاجتوں کو قضاء وقدر نے روک دیا ہے ، تغیرات زمانہ سے اس کاشیرازہ پر گندہ ہو گیا ہے ، اس قبیلہ نے ہمارے زمانے کو غم پر نعرہ لگانے والا بنا دیا ہے ، ان کے دلوں پر غم اور سختیاں ہیں، اگر آپ کا انعام و احسان ان کی خبر گیری نہ کرے تو وہ ہلاک ہو جائیں گے ، اے وہ ذات کہ جس کا حلم اور بردباری میں سب سے پلی بھاری ہے اور امتحان اور آزمائش کے وقت اس کا علم نمایاں اور ظاہر ہو جاتا ہے ، ہم پر احسان فرما، ان عورتوں پر احسان فرمائیے ، جن کا آپ دودھ پیتے تھے اور ان کے خالص اور بہتے ہوئے دودھ سے آپ اپنے منہ کو بھرتے تھے، ہم کو ان لوگوں کے مانند مت کیجئے کہ جن کے قدم اکھڑ گئے ہوں اور اپنے جودو کرم کے شکر امتنان کو ہمیشہ کے لیے ہم میں باقی چھوڑئے ، ہم شریف گروہ کسی کے احسان کو فراموش نہیں کرتے، تحقیق ہم انعام و احسان کے بہت زیادہ مشکور ہوتے ہیں جب کہ لوگ اس کی ناشکری کریں، بس آپ ان ماؤں کو جن کا آپ نے دودھ پیا ہے اپنے دامن عفو میں چھپا لیں ، تحقیق آپ کا عفو تو مشہور ہے ، اے وہ ذات کہ جس کی سواری سے کست گھوڑے شتاط اور طرب میں آ جاتے ہیں جب کہ لڑائی کی آگ بھڑک جائے۔ ہم آپ سے ایسے عفو کی امید لگائے ہوئے ہیں جو ان سب کو اپنے اندر چھپا لے، ہمیں معاف فرما دیجئے، اللہ آپ کو معاف فرمائے اس چیز کو جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرانے والے ہیں قیامت کے دن جب کامیابی آپ کے لیے راہنمائی کرے گی"۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ شعر سماعت فرمائے تو فرمایا: جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے پاس وہ تیرے ہوئے ۔ قریشیوں نے عرض کی : جو ہمارے پاس ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اور انصار نے کہا: جو ہمارے پاس ہے وہ بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوئے ۔

أبا جرول زهير بن صرد الجشمي ← أبو عمرو زياد بن طارق وكان قد لبث عليه عشرون ومئة ← عبيد الله بن رماحي الجشمي

Hadith 5310

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ من اسمه زهير 512 - زهير بن صرد الجشمي كان ينزل الشام · حديث 5311

5304 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده Y أن وفد هوازن لما أتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالجعرانة وقد أسلموا قالوا : إنا أصل وعشيرة وقد أصابنا من البلاء ما لا يخفى عليك فامنن علينا من الله عليك وقام رجل من هوازن ثم أحد بني سعد بن بكر يقال له زهير يكنى بأبي صرد فقال : يا رسول الله نساؤنا عماتك وخلاتك وحواضنك اللاتي كفلنك ولو أنا لحقنا الحارث بن أبي شمر والنعمان بن المنذر ثم نزل بنا منه الذي أنزلت بنا لرجونا عطفه وعائدته علينا وأنت خير المكفولين ثم أنشد رسول الله صلى الله عليه و سلم شعرا قاله وذكر فيه قرابتهم وما كفلوا منه فقال : ( امنن علينا رسول الله في كرم ... فإنك المرء نرجوه وندخر ) ( امنن على بيضة قد عاقها قدر ... مفرق شملها في دهرها غير ) ( أبقت لنا الحرب هتافا على حزن ... على قلوبهم الغماء والغمر ) ( إن لم تداركهم نعماء تنشرها ... يا أعظم الناس حلما حين يختبر ) ( امنن على نسوة من كنت ترضعها ... إذ فوك يملأه من محضها درر ) ( إذ كنت طفلا صفيرا كنت ترصفها ... وإذ يزينك ما تأتي وما تذر ) ( لا تجعلنا كمن شالت نعامته ... واستبق منه فإنا معشر زهر ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أبناؤكم ونساؤكم أحب إليكم أو أموالكم ؟ قالوا : يا رسول الله خيرتنا بين أموالنا ونسائنا بل ترد علينا أموالنا ونساءنا فقال : أما ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لكم فإذا صليت الظهر بالناس فقوموا فقولوا إنا نستشفع برسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المسلمين وبالمسلمين إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في أبنائنا ونسائنا فسأعطيكم عند ذلك وأسأل لكم فلما صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالناس الظهر قاموا فكلموه بما أمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لكم وقال المهاجرون : ما كان لنا فهو لرسول الله صلى الله عليه و سلم وقالت الأنصار مثل ذلك وقال الأقرع بن حابس : أما أنا يا رسول الله وبنو تميم فلا وقال عيينة مثل ذلك فقال عباس بن مرداس : أما أنا وبنو سليم فلا وقالت بنو سليم : أما ما كان لنا فهو لرسول الله قال : يقول العباس لبني سليم : وهنتموني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما من تمسك منكم بحقه من هذا السبي فله ست قلائص من أول فيء نصيبه فردوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أبناءهم ونساءهم

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد گرامی سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ کے مقام پر تھے جب کہ وہ اسلام قبول کر چکے تھے، انہوں نے عرض کی: بے شک ہم اصل ہیں اور ایک خاندان ہیں ، ہم مصیبت کا شکار ہوئے ہیں جو آپ پر مخفی نہیں ہے ، پس ہم پر احسان کیجئے ، اللہ آپ پر احسان فرمائے اور ہوازن قبیلہ سے ایک آدمی کھڑا ہوا، پھر بنو سعد بن بکر کا ایک آدمی جس کا نام زہیر اور کنیت ابو صرد تھی، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہماری عورتوں میں سے بعض آپ کی پھو پھیاں ( رضاعی ) بعض ماسیاں اور بعض آپ کو گود میں لینے والی وہ ہیں جنہوں نے آپ کی کفالت کی، اگر ہم حارث بن ابو شمر اور نعمان بن منذر ( دوسرے بادشاہوں کے نام ) سے ملے ہوئے ہوتے ( یعنی ان کو دودھ پلایا ہوتا ) پھر ہم پر مصیبت ٹوٹی ہوتی جو مصیبت ٹوٹی ہے تو ہم ان کی مہربانی کے امید وار ہوتے اور ان کی طرف لوٹ کر جاتے ۔ آپ ایسے سب لوگوں سے زیادہ بہتر ہیں جن کی کفالت کی جاتی ہے ، پھر اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شعر سنائے جو اس نے خود پڑھے اور ان میں اپنی رشتہ داریوں ( رضاعی ) کا تذکرہ کیا اور ذکر کیا کہ جو انہوں نے کفالت کی تھی پس اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اپنے کرم اور مہربانی سے ہم پر احسان فرمائیے، بلاشبہ آپ ایسے شخص ہیں جس سے ہم مہربانی اور کرم کے امید وار اور منتظر ہیں، اس قبیلہ پر مہربانی فرمائیے کہ جس کی حاجتوں کو قضاء وقدر نے روک دیا ہے ، تغیرات زمانہ سے اس کاشیرازہ پر گندہ ہو گیا ہے ، اگر آپ کا انعام و احسان ان کی خبر گیری نہ کرے گا تو ہلاک ہو جائیں گے ، اے وہ ذات کہ جس کا حلم اور بردباری میں پلہ بھاری ہے اور امتحان اور آزمائش کے وقت اس کا علم نمایا اور ظاہر ہوجاتا ہے ہم پر احسان فرما، ان عورتوں پر احسان فرمائیے جن کا آپ دودھ پیتے تھے اور ان کے خالص اور بہتے ہوئے دودھ سے آپ اپنے منہ کو بھرتے تھے، جب تم چھوٹے بچے تھے ، تم اسی کے مناسب تھے اور جب آپ کو زینت عطا کرتی تھی تو آنے والی اور چھوٹ جانے والے چیز، ہم کو ان لوگوں کے مانند مت کیجئے کہ جن کے قدم اکھڑ گئے ہوں اور اپنے جودو کرم کے شکر امتنان کو ہمیشہ کے لیے ہم میں باقی چھوڑئے ، ہم شریف گروہ کسی کے احسان کو فراموش نہیں کرتے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے بیٹے اور تمہاری عورتیں تمہیں زیادہ پیارے ہیں یا تمہارے مال ؟ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول آپ نے ہمیں ہمارے مالوں اور عورتوں کے درمیان اختیار دیا ہے بلکہ آپ ہمیں ہمارے مال اور ہماری عورتیں سب لوٹا دیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے پاس ہے ، وہ تمہارا ہوا۔ پس جب میں ظہر کی نماز پڑھ لوں تو تم کھڑے ہو کر کہنا: ہم مسلمانوں کے پاس اللہ ایک رسول کی اور اللہ کے رسول کی بارگاہ میں مسلمانوں کی سفارش پیش کرتے ہیں ۔ اپنے بیٹوں اور اپنی عورتوں کے حق میں پس اس وقت میں تمہیں دوں گا۔ اور تمہارے لیے دوسروں سے مانگوں گا، پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لوگوں کوظہر کی نماز پڑھالی تو وہ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وہی کلام کیا،جس کا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: لیکن جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے قبضے میں ہیں، وہ تمہارے ہوئے ۔ مہاجرین نے کہا: جو ان کا مال ہمارے قبضے میں ہے ، وہ اللہ کے رسول کا ہوا۔ (انصار بھی پیچھے نہ رہے ) کہا: اسی کی مثل ( جو مہاجرین نے کہا تھا ) ۔ اقرع بن حابس نے کہا: بہرحال اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! میں اور بنو تمیم تو ایسا کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں اور عیینہ نے بھی اسی کی مثل کہا ۔ پس عباس بن مرداس نے کہا : بہرحال میں اور بنو سلیم بھی یہ کامنہ کریں گے ، لیکن بنو سلیم بولے : جو ہمارے قبضے میں ہے وہ اللہ کے رسول کا ہے ۔ راوی کا بیان ہے : عباس نے بنو سلیم سے کہا: تم نے مجھے کمزور ثابت کیا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: لیکن جو بھی تم ان قیدیوں میں سے اپنے حق کے بدلے کوئی چیز لینا چاہے تو اس کے لیے چھ اونٹنیاں پہلی مال غنیمت سے جو ( اب) ہم پائیں گے ، پس ان سب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف ان کے بیٹے اور ان کی عورتیں سب کچھ لوٹا دیا۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Hadith 5311

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 513 - زهير بن عمرو الهلالي كان ينزل البصرة · حديث 5312

5305 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ( ح ) وحدثنا يوسف القاضي ثنا محمد بن المنهال قالا ثنا يزيد بن زريع ثنا سليمان التميمي عن أبي عثمان النهدي عن قبيصة بن مخارق الهلالي و زهير ابن عمرو قالا Y لما نزلت على النبي صلى الله عليه و سلم هذه الآية { وأنذر عشيرتك الأقربين } انطلق نبي الله صلى الله عليه و سلم إلى رضمة من جبل فعلا أعلاها حجرا ثم قال : يا بني عبد مناف أني نذير لكم إنما مثلي ومثلكم كمثل رجل رأى العدو فانطلق يصد أهله فخشي أن يسبقوه إلى أهله فجعل يهتف يا صباحاه يا صباحاه أتيتم أتيتم

حضرت قبیصہ بن مخارق الہلالی اور زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر یہ آیت: "آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں" نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہاڑ کی طرف گئے ، اس کے اونچے پتھر کے اوپر چڑھے، پھر فرمایا: اے بنی مناف ! میں تم کو ڈرانے والا ہوں ، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا ، وہ گیا اور اپنے گھروالوں کو روکا، اس ڈر سے کہ وہ اس کے گھر والوں کی طرف نہ جائے، وہ آوازیں دینے لگا، اے صبح، اے صبح تم آئے، تم آئے۔

قبيصة بن مخارق الهلالي و زهير ابن عمرو ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانَ التَّمِيمِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Hadith 5312

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 514 - زهير بن عثمان الثقفي · حديث 5313

5306 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث ثنا أبي ثنا همام بن يحيى عن قتادة عن عبد الله ابن عثمان الثقفي عن رجل أعور من ثقيف قال قتادة Y وكان يقال له معروفا إن لم يكن اسمه زهير بن عثمان فلا أدري ما أسمه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الوليمة أول يوم حق والثاني معروف والثالث سمعة ورياء

حضرت عبداللہ بن عثمان الثقفی رضی اللہ عنہ ثقیف کے ایک کانے آدمی سے روایت کرتے ہیں ، حضرت قتادہ فرماتے ہیں : اس کا نام معروف تھا، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں ہے ،مجھے اس کا نام معلوم نہیں ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ پہلے دن حق ہے دوسرے دن نیکی اور تیسرے دن ریا کاری اور دکھاوا ہے ۔

رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ ← عبد الله ابن عثمان الثقفي ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 5313

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 515 - زهير بن علقمة الثقفي كان ينزل الكوفة ويقال البجلي · حديث 5314

5307 - حدثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ( ح ) وحدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا سعيد بن منصور ( ح ) وحدثنا الحضرمي ثنا جعفر بن حميد قالوا ثنا عبيد الله بن إياد بن لقيط ثنا إياد عن زهير بن علقمة قال Y جاءت امرأة من الأنصار إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في ابن لها مات فكأن القوم عنفوها فقالت : يا رسول الله قد مات لي اثنان مذ دخلت الإسلام سوى هذا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : والله لقد احتظرت من النار احتظارا شديدا

حضرت زہیر بن علقمہ فرماتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں آئی اپنے اس بیٹے کے لیے جو فوت ہوا تھا، لوگ اس گویا ڈانٹ چکے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! جب سے میں اسلام لائی ہوں ، میرے اس کے علاوہ دو بیٹے اور بھی فوت ہوئے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! تیرے لیے جہنم سے سخت رکاوٹ بن گئے ہیں۔

زهير بن علقمة ← إِيَادٍ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← جعفر بن حميد ← الْحَضْرَمِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Hadith 5314

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 516 - زهير بن أبي علقمة الضبعي كان ينزل الكوفة · حديث 5315

5308 - حدثنا بشر بن موسى ثنا خلاد بن يحيى ثنا سفيان عن أسلم المنقري عن زهير بن أبي علقمة الضبعي قال Y أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل سيء الهيئة فقال : ألك مال ؟ قال : نعم من كل أنواع المال قال : فلير عليك فإن الله عز و جل يحب أن يرى أثره على عبده حسنا ولا يحب البؤس والتباؤس

حضرت زہیر بن ابو علقمہ ضبعی فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس کی حالت انتہائی خستہ تھی، آپ نے فرمایا: تمہارے پاس مال نہیں ہے ؟ اس نے عرض کی: ہر قسم کا مال ہے ، آپ نے فرمایا: اس کا اثر تم دکھائی دینا چاہیے، اللہ عزوجل پسند کرتا ہے کہ اپنی نعمتیں اپنے بندے پر دیکھے ، اچھے طریقے سے اللہ عزوجل خستہ حالت میں رہنے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔ زہیر بن معاویہ نے اس کو روایت نہیں کیا۔

نَعَمْ مِنْ كُلِّ أَنْوَاعِ الْمَالِ ← «أَلَكَ مَالٌ»؟ ← أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل سيء الهيئة ← زُهَيْرِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الضُّبَعِيِّ، ← أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Hadith 5315

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 517 - زهير بن أمية الهاشمي · حديث 5316

5309 - حدثنا الحسن بن عليل العنزي و محمد بن عبد الله الحضرمي قالا ثنا أبو كريب ثنا مصعب بن المقدام حدثني إسرائيل عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن السائب قال Y جاء عثمان بن عفان رضي الله عنه و زهير بن أمية فاستأذنا على النبي صلى الله عليه و سلم فأثنيا علي عنده فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أعلم به منكما كان شريكي في الجاهلية

حضرت سائب فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان اور زہیر بن امیہ رضی اللہ عنہما دونوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اجازت مانگی ، دونوں نے آپ کے پاس تعریف کی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم دونوں کو جانتا ہوں ،تم زمانہ جاہلیت میں میرے شریک تھے۔

السَّائِبَ ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← الحسن بن عليل العنزي و محمد بن عبد الله الحضرمي

Hadith 5316

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ من اسمه زاهر 519 - زاهر بن حرام الأشجعي كان ينزل الكوفة · حديث 5317

5310 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا شاذبن الفياض ثنا رافع بن سلمة قال سمعت أبي يحدث عن سالم عن رجل من أشجع يقال له زاهر ابن حرام الأشجعي قال Y وكان رجلا بدويا لا يأتي النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتاه إلا بطرفة أو هدية يهديها فرآه رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسوق يبيع سلعة ولم يكن أتاه فاحتضنه من ورائه بكفيه فالتفت وأبصر رسول الله فقبل كفيه فقال : من يشتري العبد ؟ قال : إذن تجدني يارسول الله كاسدا قال : ولكنك عند الله ربيح

بنو اشجع کے ایک آدمی جنہیں زاہر بن حراماشجعی کہا جا تا تھا ( وہ دیہاتی آدمی تھے) ، نے کہا: وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں آتے تو تحفے کے بغیر نہ آتے ، جو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ،پس ( ایک دن ) رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں بازار میں سامان بیچتے ہوئے دیکھ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کم ہی کبھی اس کے پاس آئے تھے، آپ اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ اس کو پیچھے سے اپنے کلاوے میں لے گیا، پس اس نے متوجہ ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا تو آپ کی ہتھیلیوں کو بوسہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کو کون خریدے گا؟ اس نے عرض کی : آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں کھوٹا ہوں ( اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! مجھے کون خریدے گا؟ ) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: لیکن اللہ کے نزدیک تو نفع والا سودا ہے ۔

رجل من أشجع يقال له زاهر ابن حرام الأشجعي ← سَالِمٍ ← أَبِي ← رافع بن سلمة ← شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 5317

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 520 - زاهر بن الأسود أبو مجزأة الأسلمي كان ينزل الكوفة · حديث 5318

5311 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن إسرائيل عن مجزأة بن زاهر عن أبيه وكان أبوه ممن شهد الشجرة قال Y إني لأوقد تحت القدور أو قال عن القدور بلحوم الحمر إذ نادى منادي رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله ينهاكم عن لحموم الحمر

حضرت مجزاہ بن زاہر اپنے والد سے ، ان کے والد صلح حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے، یہ فرماتے ہیں : میں نے ہنڈیا کے نیچے آگ لگائی تھی ، یا فرمایا: ہنڈیا کے اندر گوشت ابل رہا تھا، اچانک ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ بے شک اللہ عزوجل نے پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کیا ہے ۔

القدور بلحوم الحمر ← إِنِّي لَأُوقِدُ تَحْتَ الْقُدُورِ، أَوْ ← أَبِيهِ، وَكَانَ أَبوهُ مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ، ← مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Hadith 5318

chevron_left Previous
1…53545556
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter