Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 505 - زياد بن لبيد الأنصاري بدري عقبي كان ينزل الكوفة يكنى أبا عبد الله · حديث 5295

5288 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار ثم من بني بياضة بن عامر بن زريق بن عبد بن حارثة زياد بن لبيد بن ثعلبة ابن سنان بن عامر بن عدي بن أمية

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی بیاضہ بن عامر بن زریق بن عبداللہ بن حارثہ میں سے جو بدر میں شریک ہوئے ، ان کے ناموں میں سے ایک نام زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عامر بن عدی بن امیہ کا بھی ہے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Hadith 5295

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 505 - زياد بن لبيد الأنصاري بدري عقبي كان ينزل الكوفة يكنى أبا عبد الله · حديث 5296

5289 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار ثم من بني بياضة بن عامر بن زريق بن عبد بن حارثة زياد بن لبيد بن ثعلبة بن سنان بن عامر بن عدي بن أمية

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی بیاضہ میں سے جو بدر اور عقبہ میں شریک ہوئے ، ان کے ناموں سے ایک نام زیاد بن لبید کا بھی ہے اور وہ بدر میں موجود تھے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Hadith 5296

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 505 - زياد بن لبيد الأنصاري بدري عقبي كان ينزل الكوفة يكنى أبا عبد الله · حديث 5297

5290 - حدثنا بشر بن موسى ثنا يحيى بن إسحاق السيلحيني ( ح ) وحدثنا محمد بن محمد التمار البصري ثنا عيسى بن إبراهيم البركي قالا ثنا عبد العزيز بن مسلم ثنا الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن زياد ابن لبيد الأنصاري قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو يحدث أصحابه وهو يقول : كيف وقد ذهب أوان العلم قلت : بأبي وأمي كيف يذهب أوان العلم ونحن نقرأ القرآن ونعلمه أبناءها يعلمه أبناؤنا أبناءهم إلى أن تقوم الساعة ؟ قال : ثكلتك أمك يا ابن لبيد إن كنت لأراك من أفقه أهل المدينة أوليس اليهود والنصارى يقرأون التوراة والإنجيل ثم لا ينتفعون منها بشيء ؟

حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو بیان کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : کیا حال ہو گا جب علم کا زمانہ چلا گیا؟ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! علم کا زمانہ کیسے ختم ہو گا؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کو سکھائیں گے ، قیامت قائم ہونے تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن لبید ! تیری ماں تجھ پر روئے ! میں نے تجھے دیکھا ہے کہ تو اہل مدینہ سے زیادہ فقیہ ہے ، کیا یہودی و عیسائی تورات و انجیل پڑھتے تھے ، پھر اس سے کوئی شے کا نفع نہیں اٹھاتے۔

أَصْحَابه وَهُوَ ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو ← زياد ابن لبيد الانصاري ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Hadith 5297

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 505 - زياد بن لبيد الأنصاري بدري عقبي كان ينزل الكوفة يكنى أبا عبد الله · حديث 5298

5291 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا وكيع ثنا الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن زياد بن لبيد قال Y ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا فقال : ذلك عند أوان ذهاب العلم قلت : يارسول الله وكيف يذهب العلم ونحن نقرأ القرآن ونقرئه أبناءنا ويقرئه أبناؤنا أبناءهم إلى يوم القيامة ؟ فقال : ثكلتك أمك زياد إن كنت لأراك من أفقه رجل بالمدينة أوليس هيه اليهود والنصارى يقرأون التوراة والإنجيل ولا يعملون بشيء منها ؟

حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ اپنے صحابہ کو بیان کر رہے تھے ، آپ فرما رہے تھے : یہ علم جانے کے وقت ہوگا؟ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! علم کیسے ختم ہوگا؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کو سکھائیں گے ، قیامت قائم ہونے تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن لبید ! تیر ماں تجھ پر روئے ! میں نے تجھے دیکھا ہے کہ تو مدینہ کا بڑا فقیہ ہے ، کیا یہودی و عیسائی تورات وانجیل پڑھتے تھے ، پھر اس سے کوئی شے کا نفع نہیں اٹھاتے تھے ۔

زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Hadith 5298

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 505 - زياد بن لبيد الأنصاري بدري عقبي كان ينزل الكوفة يكنى أبا عبد الله · حديث 5299

5292 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن عمرو بن مرة قال سمعت سالما يحدث عن ابن لبيد الأنصاري قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا أوان ذهاب العلم قلت : وكيف وفينا كتاب الله نعلمه أبناءنا ويعلمه أبناؤنا أبناءهم ؟ قال : ثكلتك أمك ابن لبيد ما كنت أحسبك إلا من أعقل أهل المدينة أليس اليهود والنصارى فيهم كتاب الله التوراة والإنجيل ولم ينتفعوا منه بشيء ؟

حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو بیان کر رہے تھے ، آپ فرما رہے تھے : یہ علم جانے کا وقت ہے ۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! علم کیسے ختم ہو گا؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کو سکھائیں گے ، قیامت قائم ہونے تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن لبید ! تیری ماں تجھ پر روئے ! یقیناً میں نے تجھے دیکھا ہے کہ تو مدینہ والوں میں سے زیادہ عقل مند ہے ، کیا یہودی و عیسائی تورات و انجیل پڑھتے تھے ، پھر اس سے کوئی شے کا نفع اٹھاتے تھے ۔

ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← سَالِمًا ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 5299

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 505 - زياد بن لبيد الأنصاري بدري عقبي كان ينزل الكوفة يكنى أبا عبد الله · حديث 5300

5293 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن أبي طوالة عن زياد بن لبيد الأنصاري قال قلت Y يا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله كيف يقبض العلم ونحن نقرأ القرآن ونعلمه أبناءنا ونساءنا وأرقاءنا ؟ قال : والله إن كنت لأحسبك يا زياد لمن فقهاء المسلمين ألست تعلم أن التوراة والإنجيل أنزلت على اليهود والنصارى فما نفعهم إذ لم يعملوا به ؟

حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! علم کیسے ختم ہوگا؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کو سکھائیں گے ۔ قیامت ہونے تک ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن لبید ! تیری ماں تجھ پر روئے ! قسم بخدا ! اگر میں تجھ پر یقین کروں کہ تو مسلمانوں کے فقہاء میں سے ہے ( تو درست ہوگا) ، کیا تو نہیں جانتا کہ یہود و نصاریٰ پر تورات و انجیل اتریں اس نے ان کو کوئی نفع نہ دیا، جب انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔

قُلْتُ ← زياد بن لبيد الأنصاري ← أَبِي طُوَالَةَ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Hadith 5300

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 506 - زياد أبو الإر النهشلي كان ينزل البصرة · حديث 5301

5294 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري و محمد بن نوح بن حرب العسكري قالا ثنا إسحاق بن إبراهيم الصواف ثنا أبو الهيثم القصاب ثنا غسان بن الأغر النهشلي حدثني أبي عن أبيه Y أنه قدم ببعير له إلى المدينة وهو محمل طعاما فلقيه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا أعرابي ما تحمل ؟ قلت : أجهز قمحا فقال لي : ما تريد ؟ قلت : أريد بيعه فمسح رأسي وقال : أحسنوا مبايعة الأعرابي

حضرت غسان بن اغر النہشلی فرماتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے اونٹ پر مدینہ آئے، کھانے کا سامان اٹھائے ہوئے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے دیہاتی! کیا اٹھایا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی: میں نے کھانے کے لیے سامان رکھا ہے ، آپ نے مجھے فرمایا: تیرا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے عرض کی : میں اس کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر دست مبارک پھیرا اور فرمایا: دیہاتی سے اچھی خرید و فروخت کرو۔

أَبِيهِ ← أَبِي ← غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ النَّهْشَلِيُّ، ← أَبُو الْهَيْثَمِ الْقَصَّابُ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ← الحسين بن إسحاق التستري و محمد بن نوح بن حرب العسكري

Hadith 5301

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 507 - زياد بن عمرو الجهني حليف الأنصار ثم لبني ساعدة بدري · حديث 5302

5295 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد بن إسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصا ر ثم من بني ساعدة بن كعب بن الخزرج زياد بن عمرو الجهني حليف لهم

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی ساعدہ بن کعب بن خزرج سے جو بدر میں شریک ہوئے ، ان کے ناموں میں سے ایک نام زیاد بن عمرو الجہنی کا بھی ہے ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 5302

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 508 - زياد بن الفرد · حديث 5303

5296 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا فردوس ابن الأشعري ثنا مسعود بن سليمان عن حبيب بن أبي ثابت عن محمد بن مسلم عن ابن شهاب عن أبي اليسر بن عمرو و زياد بن الفرد Y أنهما سمعا رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لعمار : تقتلك الفئة الباغية

حضرت ابو یسر بن عمرو اور زیاد بن فرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے لیے فرماتے ہوئے سنا: تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← مَسْعُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← فردوس ابن الأشعري ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 5303

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 509 - زياد بن جهور اللخمي كان ينزل الشام · حديث 5304

5297 - حدثنا حذافى بن حميد بن المستنير بن المساور بن حذافى ابن عامر بن عياض بن محرق الحمي اللخمي حدثني أبي حميد بن المستنير عن خاله أخي أمه وهو خالد بن موسى حدثني أبي عن جده زياد بن جهور قال Y ورد علي كتاب من رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه : بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى زياد بن جهور سلم أنت فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو أما بعد أذكرك الله واليوم الآخر أما بعد فليوضعن كل دين دان به الناس إلا الإسلام فاعلم ذلك

حضرت زیاد بن جہور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط آیا، اس میں تھا : اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے زیاد بن جہور کی طرف ، آپ اسلام لائیں ! میں اس رب کی حمد کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، اس کے بعد میں آپ کو اللہ اور آخرت کے دن کے متعلق نصیحت کرتا ہوں ، حمد و ثنا ء کے بعد لوگوں کا بنایا ہوا دین سوائے اسلام کے ضرور ختم ہو جائے گا، اس پر یقین رکھو۔

جده زياد بن جهور ← أَبِي ← خَالِهِ أَخِي أُمِّهِ وَهُوَ خَالِدُ بْنُ مُوسَى ← أَبِي حُمَيْدِ بْنِ الْمُسْتَنِيرِ،

Hadith 5304

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 510 - زبيب بن ثعلبة العنبري كان ينزل البصرة · حديث 5305

5298 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا شعيب بن عبد الله بن زينب بن ثعلبة عن أبيه عن جده قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان عليه رقبة من ولد إسماعيل فليعتق من بلعنبر

حضرت شعیب بن عبداللہ بن زبیب بن ثعلبہ اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس کے ذمہ اولاد اسماعیل میں سے غلام آزاد کرنا ہے ، وہ بنوعنبر سے آزاد کرے۔

من كان عليه رقبة من ولد إسماعيل فليعتق من بلعنبر ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← شعيب بن عبد الله بن زينب بن ثعلبة ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Hadith 5305

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 510 - زبيب بن ثعلبة العنبري كان ينزل البصرة · حديث 5306

5299 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا شعيث بن عبد الله بن زبيب ( ح ) وحدثنا محمد بن الوليد النرسي ثنا سعد بن عمار بن شعيث بن ثعلبة ابن عبيد الله بن زبيب بن ثعلبة العنبري حدثني أبي عمار حدثني جدي شعيث حدثني عبيد الله بن زبيب بن ثعلبة العنبري أن أباه زبيب بن ثعلبة حدثه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث صحابته فأخذوا سبي بني العنبر وهم مخضرمون وقد أسلموا فركب زبيب ناقة له ثم استقدم القوم قال : يا رسول الله بأبي أنت وأمي إن صحابتك أخذوا سبي بني العنبر وهم مخضرمون وقد أسلموا قال له النبي صلى الله عليه و سلم : ألك بينة يا زبيب ؟ قال : نعم فشهد سمرة بن عمرو و حلف زبيب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ردوا على بني العنبر كل شيء لهم فرد عليهم غير زريبة أمي - قال سعد والزريبة القطيفة - فأتى زبيب النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله بأبي أنت وأمي قد رد على بني العنبر كل شيء لهم غير زريبة أمي فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : تعرف من أخذها ؟ قال : نعم قال : فإذا حضر الناس الصلاة فاجلس على باب المسجد فإذا بصرت بصاحبك فألزمه حتى ينصرف من الصلاة فتنصف بينك وبينه ففعل فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم من الصلاة أقبل عليه فقال : يا زبيب يا أخي بني العنبر ما تريد بأسيرك ؟ وأجهش زبيب باكيا وخلى عن الرجل فقال : خيرا نريد الله ورسوله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للرجل : أمعك زربية أم زبيب ؟ قال : يا رسول الله خرجت من يدي فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اخلع له سيفك وزده آصعا من طعام ففعل ودنا رسول الله صلى الله عليه و سلم من زبيب فمسح يده على رأسه حتى أجراها عل ى صرته قال زبيب : حتى وجدت برد كف النبي صلى الله عليه و سلم على صرتي ثم قال : اللهم ارزقه العفو والعافية ثم انصرف زبيب بالسيف فباعه ببكرتين من صدقة النبي صلى الله عليه و سلم فتوالدتا عند زبيب حتى بلغتا مئة ونيفا

حضرت عبید اللہ بن زبیب بن ثعلبہ عنبری نے حدیث بیان کی کہ ان کے باپ زبیب بن ثعلبہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بھیجا۔ پس انہوں نے بنو عنبر کے قیدیوں کو گرفتار کیا، وہ مخضرم ( جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا، مسلمان ہوئے لیکن زیارت نہیں ہوئی) تھے جب کہ وہ اسلام لا چکے تھے ۔ پس حضرت زبیب اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر قوم کے آگے چلے ۔ عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں ! بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے بنو عنبر کے قیدیوں کو گرفتار کیا ہے حالانکہ وہ مخضرم ہیں ، وہ اسلام لا چکے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زبیب ! تیرے پاس اس بات کا کوئی گواہ ہے ؟ عرض کی : جی ہاں! پس حضرت سمرہ بن عمرو نے گواہی دی اور حضرت زبیب نے حلف اٹھایا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی عنبر کی ہر چیز واپس کر دو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی ہر شے لوٹا دی سوائے میری والدہ کے غالیچہ کے ۔ حضرت سعد کا قول ہے کہ زربیہ کا معنی قطیفہ ہے ۔ پس حضرت زبیب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! بنو عنبر کو ہر چیز سوائے میری والدہ محترمہ کے غالیچہ کے مل چلی ہے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ اس آدمی کو پہچانتے ہیں، جس نے اسے لیا ہے ؟ عرض کی : جی ہاں ! فرمایا: پس جب لوگ نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہوں تو وہ مسجد کے دروازے پر بیٹھ جانا ، پس جب تو اپنے ساتھی کو دیکھے تو اس کے ساتھ ہو جانا ، پس جب تو اپنے ساتھی کو دیکھے تو اس کے ساتھ ہو جانا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو ، پس وہ تیرے اور اس کے درمیان نصف نصف ہو گا۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا ، پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے زبیب ! اے بنی عنبر کے بھائی ! تو اپنے قیدی سے کیا سلوک کرنا چاہتا ہے ؟ حضرت زبیب قریب تھا کہ رو پڑتے اور آدمی کی راہ چھوڑ دی اور عرض کی : اچھا سلوک ! ہم تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاہنے والے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس ام زبیب کا غالیچہ ہے ؟ عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے ہاتھ سے نکل گیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو اپنی تلوار دے اور اس پر کچھ کھانے کا اضافہ کر ۔ پس اس نے ایسا ہی کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیب کے قریب ہو کر اپنا ہاتھ اس کے سر پر پھیرا یہاں تک کہ اپنا ہاتھ اس کے گالوں پر چلایا ۔ حضرت زبیب فرماتے ہیں : حتیٰ کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی کی ٹھنڈک کو اپنے رخساروں پر پایا( یا محسوس کیا) پھر دعا کی : اے اللہ اس کو عفو اور عافیت عطا فرما! پھر حضرت زبیب وہ تلوار لے کر تشریف لے گئے ۔ جب انہوں نے اسے بیچا تو انہیں اس کے بدلے دو اونٹنی کے بچے ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں ، پس وہ اونٹنیاں بنیں ، بچے دئیے ، جن کی تعداد سو سے اوپر چلی گئی۔

Hadith 5306

chevron_left Previous
1…53545556
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter