المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ عبد الله بن عبد الله بن عتبة عن زيد بن خالد · حديث 5202
5195 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب قال سمعت مالكا و يونس بن يزيد وغيرهما أن ابن شهاب أخبرهم عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن زيد بن خالد الجهني و أبي هريرة Y أن رجلين أتيا رسول الله صلى الله عليه و سلم يختصمان إليه فقال أحدهما : يا رسول الله اقض بيننا بكتاب الله وقال الآخر وكان أفقههما : أجل فاقض بيننا بكتاب الله وائذن لي في أن أتكلم قال : تكلم قال : إن ابني كان عسيفا على هذا وإنه زنى بامرأته فأخبرت أن على ابني الرجم فافتديت منه بمئة شاة وجارية لي ثم إني سألت أهل العلم فأخبروني أنما على ابني جلد مئة وتغريب عام وإنما الرجم على امرأته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب الله أما غنمك وجاريتك فرد إليك وجلد ابنه مئة وغربه عاما وأمر أنيسا الأسلمي أن يرجم ارمأة الآخر إن اعترفت فاعترفت فرجمها
حضرت زید بن خالد اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو جھگڑنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے عرض کی: : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم آپ کو اللہ کی قسم دیتے ہیں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ عزوجل کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں ۔ اس کا مد مقابل کھڑا ہوا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جی ہاں ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں ، اور مجھے اجازت دیں کہ میں گفتگو کروں ! سو آپ نے اس کو اجازت دی، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا بیٹا اس کا ملازم تھا، اس نے اس کی عورت سے زنا کیا، مجھے اس کی خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہے ، سو میں نے اس کی طرف سے بطور فدیہ ایک سو بکریاں اور خادم دئیے، جب میں نے اہل علم سے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ کے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی ہے اور اس عورت پر رجم کی سزا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدر میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، بہرحال یہ بکریاں اور خادم دونوں تجھے واپس کیے جائیں گے اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ۔ اور انیس اسلمی کو اس عورت کے پاس جانے کا حکم دیا، اگر وہ اعتراف کرے تو اس کو رجم کرنا۔ تو اس نے اعتراف زنا کیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔
غَيْرُهُمَا ← مالكا و يونس بن يزيد ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5202
