Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 489 - زيد بن سعنة توفي في غزوة تبوك · حديث 5154

5147 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا أحمد بن علي الأبار ثنا محمد بن أبي السري العسقلاني ثنا الوليد بن مسلم ثنا محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام عن أبيه عن جده عن عبد الله بن سلام قال Y إن الله لما هدى زيد بن سعنة قال زيد بن سعنة : ما من علامات النبوة شيء إلا وقد عرفتها في وجه محمد صلى الله عليه و سلم حين نظرت إليه إلا اثنتين لم أخبرهما منه يسبق حلمه جهله ولا تزيد شده الجهل عليه إلا حلما فكنت ألطف له لأن أخالطه فأعرف حلمه من جهله قال زيد بن سعنة : فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما من الحجرات ومعه علي بن أبي طالب رضي الله عنه فأتاه رجل على راحلته كالبدوي فقال : يا رسول الله إن بصرى قرية بني فلان قد أسلموا ودخلوا في الإسلام وكنت حدثتهم إن أسلموا أتاهم الرزف رغدا وقد أصابتهم سنة وشدة وقحوط من الغيث فأنا أخشى يا رسول الله أن يخرجوا من الإسلام طمعا فإن رأيت أن ترسل إليهم بشيء تعينهم به فعلت فنظر إلى رجل إلى جانبه أراه عليا رضي الله عنه فقال : يا رسول الله ما بقي منه شيء قال زيد بن سعنة : فدنوت إليه فقلت : يا محمد هل لك أن تبيعني تمرا معلوما من حائط بني فلان إلى أجل كذا وكذا ؟ فقال : لا يا يهودي ولكني أبيعك تمرا معلوما إلى أجل كذا وكذا ولا تسمي حائط بني فلان قلت : بلى فبايعني فأطلقت همياني فأعطيته ثمانين مثقالا من ذهب في تمر معلوم إلى أجل كذا وكذا فأعطاها الرجل فقال : اغد عليهم فأعنهم بها فقال زيد بن سعنة : فلما كان قبل محل الأجل بيومين أو ثلاث أتيته فأخذت بمجامع قميصه وردائه ونظرت إليه بوجه غليظ فقلت له : ألا تقضيني يا محمد حقي ؟ فوالله ما علمتكم بني عبد المطلب لمطل ولقد كان لي بمخالطتكم علم ونظرت إلى عمر وإذا عيناه تدوران في وجهه كالفلك المستدير ثم رماني ببصره فقال : يا عدو الله أتقول لرسول الله صلى الله عليه و سلم ما اسمع وتصنع به ما أرى فوالذي بعثه بالحق لولا ما أحاذر قوته لضربت بسيفي رأسك ورسول الله صلى الله عليه و سلم ينظر إلى عمر في سكون وتؤدة ثم قال : يا عمر أنا وهو كنا أحوج إلى غير وأعطه حقه وزده عشرين صاعا من تمر مكان ما رعته قال زيد : فذهب بي عمر رضي الله عنه فأعطاني حقي وزادني عشرين صاعا من تمر فقلت : ما هذه الزيادة يا عمر ؟ فقال : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أزيدك مكان ما رعتك قلت : وتعرفني يا عمر ؟ قال : لا من أنت ؟ قلت : أنا زيد بن سعنة قال : الحبر ؟ قلت : الحبر قال : فما دعاك أن فعلت برسول الله ما فعلت وقلت له ما قلت ؟ قلت : يا عمر لم تكن من علامات النبوة شيء إلا وقد عرفته في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم حين نظرت إليه إلا اثنتين لم أخبرهما منه يسبق حلمه جهله ولا يزيده الجهل عليه إلا حلما فقد أخبرتهما فأشهدك يا عمر أني قد رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا وأشهدك أن شطر مالي - وإني أكثرها مالا - صدقة على أمة محمد فقال عمر رضي الله عنه : أو على بعضهم فإنك لا تسعهم قلت : أو على بعضهم فرجع عمر و زيد إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال زيد : أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله صلى الله عليه و سلم وآمن به وصدقه وبايعه وشهد معه مشاهد كثيرة ثم توفي زيد في غزوة تبوك مقبلا غير مدبر رحم الله زيدا

حضرت عبداللہ بن سلامرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ فرمایا: تو زید بن سعنہ نے کہا: جتنی نبوت کی علامات ہیں، ان کو میں نے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرے سے پہچان لیا ہے ، ( سبحان اللہ !) جب میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف دیکھا مگر دو ایسی ہیں ، جن کا مجھے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے ظاہر) کو اظہار نہیں ہوتا، ان پر جہالت کی سختی نہیں ہوتی ، بس حلم ہی حلم ہوتا ہے ، ان پر جہالت کی سختی نہیں ہوتی ، بس حلم ہی حلم ہوتا ہے ۔ پس میں ان کے لیے لطف کا سلوک کیا کرتا، اس مقصد کے لیے کہ ان کے ساتھ گھل مل جانے کا موقعہ ملے اور میں ان کی بر بادی کو پہچان سکوں ۔ حضرت زید بن سعنہ خود فرماتے ہیں : ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حجروں سے اس حال میں نکلے کہ حضرت علی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھے ، پس دیہاتیوں جیسا ایک ادمی اپنی سواری پر سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا، عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! بے شک بنی فلاں کے گاؤں کے صاحب بصیرت لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ( دل و جان سے ) اسلام میں داخل ہو گئے ہیں ، میں نے ان سے بات کی تھی کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو ان کے پاس وافر مقدار میں رزق آئے گا ( اللہ کی طرف سے ) لیکن وہ سخت قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سختی ہے ، بارش نہیں ہوئی ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! مجھے ڈر ہے کہ وہ اسلام سے نکل جائیں گے لالچ میں ، جیسے وہ لالچ میں داخل ہوئے تھے ۔ پس اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کی طرف کوئی چیز بھیج دیں جس کے ساتھ آپ ان کی مدد کریں ۔ کیا آپ ایسا کرتے ہیں ۔ پس آپ نے اپنے پہلو میں موجود آدمی کی طرف ، میرا خیال ہےوہ علی تھے ، دیکھ کر (اشارہ کیا) اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! کوئی چیز باقی نہیں ہے حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب ہوا، عرض کی : اے محمد ! کیا آپ کو ضرورت ہے کہ آپ بنو فلاں کے باغ سے معین کھجوریں فلاں فلاں مدت تک میرے ہاتھ بیچ دیں ؟ ( اور اس کی ضرورت پوری کریں ) پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! اے یہودی ! بلکہ میں تجھے معین کھجوریں فلاں فلاں مدت تک بیچتا ہوں لیکن بنو فلاں کے باغ کا نام نہ لے ۔ میں نے کہا : کیوں نہیں ! پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے بیچ دیں ، میں نے اپنی تھیلی کو کھولا، میں نے اسی مثقال سونے کے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو معین کھجوروں کے سلسلے میں فلاں مدت تک دے دئیے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وہ اس ادمی کو عطا کر دئیے اور فرمایا: صبح ان کے پاس جا کر ان کی امداد کر دینا ۔ پس حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پس جب مقررہمدت سے ابھی دو یا تین باقی تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ پس ( بطور آزمائش ) میں نے آپ کی قمیص اور چادر کے پلو پکڑ لیے اور درشت چہرے کے ساتھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف دیکھا اور آپ سے کہا: اے محمد ! کیا تم میرا حق ادا نہیں کرو گے ؟ ( میں نے کہا: ) پس قسم بخدا! جو مجھے معلوم ہے کہ تم بنو عبدالمطلب ٹال مٹول کرنے والے ہو، تمہارے ساتھ میل جول سے مجھے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو چکی ہے ۔ اسی دوران گھومنے والے فلاں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی آنکھ کا اشارہ میری طرف کرکے فرمایا: اے اللہ کے دشمن ! کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں ، پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، اگر مجھے ان کی ناراضگی کا خوف نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار تیرے سر پر دے مارتا۔ جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پورے سکون و اطمینان سے دیکھ رہے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے عمر ! مجھے اور اسے ہم دونوں کو اس کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت ہے ، آپ مجھے کہیں کہ اچھے طریقے سے ادا کرو اور اسے کہیں کہ خوبصورت طریقے سے لے لے ۔ اے عمر! اسے اپنے ساتھ لے جاؤ، اس کا حق پورا کر کے دینے کے بعد بیس صاع کھجور کا اضافہ کر اس چیز کے بدلے جو تو نے اسے ڈرایا ہے ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے مجھے میرا حق دیا اور مزید بیس صاع کھجور کا اضافہ کر اس چیز کے بدلے جو تو نے اسے ڈرایا ہے ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے مجھے میرا حق دیا اور مزید بیس صاع کھجور مجھے عطا کی۔ پس میں نے کہا: اے عمر ! یہ زیادتی کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم ارشاد فرمایا: کہ آپ کو اس ڈرانے کے بدلے میں زیادہ دوں ۔ میں نے عرض کی: کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! فرمایا : آپ کون ہیں ؟ میں نے عرض کی : زید بن سعنہ ! آپ نے فرمایا: یہود کے علماء میں سے عالم ۔ میں نے عرض کی : عالم ! آپ نے فرمایا: پس آپ کو کس چیز نے دعوت دی، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ وہ سلوک کرنے کی جو آپ نے کیا؟ اور وہ بات کرنے کی جو آپ نے کی ؟ میں نے عرض کی: اے عمر ! میں نے تمام علامات نبوت ، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرہ ایک بار دیکھ کر میں نے پہچان لیں سوائے دو کے ( جن کا تعلق باطنی سے تھا) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ظاہر کو دیکھ کر ان دو کا پتا نہ چلا کہ نبی کا حلم اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اس جہل پ رسبقت لے جاتا ہے ، کوئی جتنا بھی نبی سے جا ہلانہ سلوک کرے ، وہ نبی کے حلم میں اضافہ کرتا ہے ، پس (اب ) مجھے ان کا پتہ چل گیا ۔ پس میں آپ کو گواہ بناتا ہوں ، اے عمر ! کہ میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نبی ہونے پر (دل و جان سے ) راضی ہوں اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرے مال کا ایک حصہ ( اور میرے پاس بہت زیادہ ہے ) محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت پر صدقہ ہوا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ( ساری امت پر) یا ان میں سے بعض پر کیونکہ آپ اس کی طاقت نہ رکھیں گے ۔ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے امت جے بعض پر ۔ پس حضرت عمرو زید لوٹ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آئے ، زید نے پڑھا : اشہد ان الا الٰہ الا اللہ و اشہد ان محمد اً عبدہ و رسولہ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لایا ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تصدیق کی ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیعت کی اور بہت سارے غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا پھر زید غزوہ تبوک میں آگے بڑھتے ہوئے شہید ہو ا نہ کہ پیچھے ہٹتے ہوئے ۔ اللہ زید پر رحم کرے !

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5154

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 490 - زيد بن جارية الأنصاري من أخباره · حديث 5155

5148 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن منصور الكلبي ثنا صيفي بن ربعي ثنا عثمان بن عبيد الله عن جميل بن زيد قال Y رأيت خمسة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يلبسون خواتيم الذهب منهم زيد بن جارية و زيد بن أرقم و البراء بن عازب و أنس بن مالك و عبد الله بن يزيد

حضرت جمیل بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پانچ صحابہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا ، ان میں سے حضرت زید بن جاریہ زید بن ارقم ، براء بن عازب ، انس بن مالک ، عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ۔

جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ ← عثمان بن عبيد الله ← صيفي بن ربعي ← محمد بن منصور الكلبي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5155

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 490 - زيد بن جارية الأنصاري من أخباره · حديث 5156

5149 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن عمرو بن ميمون بن مهران عن أبيه قال Y قيل لابن عمر إن زيد بن جارية قد مات فقال : رحمه الله فقيل : يا أبا عبد الرحمن إنه ترك مئة ألف قال : ولكنها لم تتركه

حضرت عمرو بن میمون بن مہران اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی کہ حضرت زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا ہے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ان پر رحم کرے ! حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی: آپ نے ایک سو دینار یا درہم چھوڑے ہیں ، آپ نے فرمایا: وہ اسے نہیں چھوڑیں گے۔

ولكنها لم تتركه ← فقيل يا أبا عبد الرحمن إنه ترك مئة ألف ← قيل لابن عمر إن زيد بن جارية قد مات ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5156

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 490 - زيد بن جارية الأنصاري من أخباره · حديث 5157

5150 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن أبي عتاب أبو بكر الأعين ثنا منصور بن سلمة أبو سلمة الخزاعي ثنا عثمان بن عبيد الله ابن زيد بن جارية حدثني أبي عبيد الله بن زيد حدثني أبي زيد بن جارية قال Y استصغر النبي صلى الله عليه و سلم ناسا يوم أحد منهم زيد بن جارية يعني نفسه و البراء بن عازب و سعد بن خيثمة و أبو سعيد الخدري و عبد الله بن عمر و جابر بن عبد الله

حضرت ابو زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُحد کے دن چھوٹے ہونے کی وجہ سے جن کو پیچھے بھیج دیا تھا، ان میں سے حضرت زید بن جاریہ ، براء بن عازب ، سعد بن خیثمہ ، ابو سعید الخدری ، عبداللہ بن عمر اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔

أبي زيد بن جارية ← أبي عبيد الله بن زيد ← عثمان بن عبيد الله ابن زيد بن جارية ← مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5157

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 491 - زيد بن إسحاق الأنصاري كان ينزل مصر · حديث 5158

5151 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا ابن لهيعة عن زيد بن إسحاق الأنصاري قال Y أدركني نبي الله صلى الله عليه و سلم على باب المسجد فقال : ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة ؟ قلت : بلى يا نبي الله قال : لا حول ولا قوة إلا بالله

حضرت زید بن اسحاق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم مجھے مسجد کے دروازے پر ملے ، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! آپ نے فرمایا: لاحول ولا قوۃ الا باللہ!

لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاَللَّهِ. ← ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة قلت بلى يا نبي الله ← أدركني نبي الله صلى الله عليه و سلم على باب المسجد ← زَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيِّ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5158

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 492 - زيد بن أسلم بن ثعلبة بن عدي بن العجلان الأنصاري بدي · حديث 5159

5152 - حدثنا محمد بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار زيد ابن أسلم بن ثعلبة بن عدي بن العجلان

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے جو بدر میں شریک ہوئے ، ان میں سے ایک نام زید بن اسلم بن ثعلبہ بن عدی بن عجلان کا بھی ہے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← محمد بن خالد الحراني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5159

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 492 - زيد بن أسلم بن ثعلبة بن عدي بن العجلان الأنصاري بدي · حديث 5160

5153 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد ابن إسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار ثم من الأوس ثم من بني العجلان زيد بن أسلم بن ثعلبة

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ انصار اور قبیلہ اوس اور بنی عجلان سے جو بدر میں شریک ہوئے ، ان کے ناموں میں سے ایک نام زید بن اسلم بن ثعلبہ کا بھی ہے ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← محمد ابن إسحاق المسيبي ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5160

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 492 - زيد بن أسلم بن ثعلبة بن عدي بن العجلان الأنصاري بدي · حديث 5161

5154 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا ضرار بن صرد ثنا علي بن هاشم عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه Y في تسمية من شهد مع علي زيد بن أسلم من الأنصار بدري

حضرت محمد بن عبید اللہ بن ابو رافع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوئے ، ان کے ناموں میں سے ایک نام زید بن اسلم انصاری بدری ہیں ۔

محمد بن عبيد الله بن أبي رافع ← عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ← ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5161

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 493 - زيد بن ربيعة القرشي من بني أسد بن عبد الرحمن · حديث 5162

5155 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة قال Y وقتل يوم حنين من المسلمين من قريش ثم من بني أسد بن عبد العزى زيد بن ربيعة

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ قریش اور بنی اسد بن عبدالعزیٰ سے جو حنین کی جنگ میں شریک ہوئے ، ان کے ناموں میں سے ایک نام زید بن ربیعہ کا بھی ہے ۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5162

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 494 - زيد بن رقيش حليف بني أمية بن عبد شمس بن عبد مناف استشهد يوم اليمامة · حديث 5163

5156 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من قتل يوم اليمامة من المسلمين زيد بن رقيش حليف بني أمية

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں سے جومسلمانوں میں سے شہید ہوئے ، ان کے ناموں میں سے ایک نام حضرت زید بن رقیش حلیف بنی امیہ کا بھی ہے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5163

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 495 - زيد بن سرافة بن كعب الأنصاري قتل يوم الجسر مع سعد بن أبي وقاص سنة خمس عشرة · حديث 5164

5157 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من قتل يوم الجسر جسر المدائن مع سعد بن أبي وقاص من الأنصار ثم من بني النجار زيد بن سراقة ابن كعب

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جسر کے دن انصار اور بنی نجار میں سے جو شہید ہوئے ، حضرت سعد بن اب ی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان ناموں میں سے ایک نام حضرت زید بن سراقہ بن کعب کا بھی ہے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5164

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 496 - زيد بن المزين الأنصاري بدري · حديث 5165

5158 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد ابن إسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من شهد بدرا من الأنصار ثم من بني الحارث بن الخزرج زيد ابن المزين

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ انصار اور بنی حارث بن خارج میں سے جو بدر میں شریک ہوئے ان کے ناموں میں سے ایک نا م زید بن مزین کا بھی ہے ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← محمد ابن إسحاق المسيبي ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5165

chevron_left Previous
1…424344…56
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter