المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 489 - زيد بن سعنة توفي في غزوة تبوك · حديث 5154
5147 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا أحمد بن علي الأبار ثنا محمد بن أبي السري العسقلاني ثنا الوليد بن مسلم ثنا محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام عن أبيه عن جده عن عبد الله بن سلام قال Y إن الله لما هدى زيد بن سعنة قال زيد بن سعنة : ما من علامات النبوة شيء إلا وقد عرفتها في وجه محمد صلى الله عليه و سلم حين نظرت إليه إلا اثنتين لم أخبرهما منه يسبق حلمه جهله ولا تزيد شده الجهل عليه إلا حلما فكنت ألطف له لأن أخالطه فأعرف حلمه من جهله قال زيد بن سعنة : فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما من الحجرات ومعه علي بن أبي طالب رضي الله عنه فأتاه رجل على راحلته كالبدوي فقال : يا رسول الله إن بصرى قرية بني فلان قد أسلموا ودخلوا في الإسلام وكنت حدثتهم إن أسلموا أتاهم الرزف رغدا وقد أصابتهم سنة وشدة وقحوط من الغيث فأنا أخشى يا رسول الله أن يخرجوا من الإسلام طمعا فإن رأيت أن ترسل إليهم بشيء تعينهم به فعلت فنظر إلى رجل إلى جانبه أراه عليا رضي الله عنه فقال : يا رسول الله ما بقي منه شيء قال زيد بن سعنة : فدنوت إليه فقلت : يا محمد هل لك أن تبيعني تمرا معلوما من حائط بني فلان إلى أجل كذا وكذا ؟ فقال : لا يا يهودي ولكني أبيعك تمرا معلوما إلى أجل كذا وكذا ولا تسمي حائط بني فلان قلت : بلى فبايعني فأطلقت همياني فأعطيته ثمانين مثقالا من ذهب في تمر معلوم إلى أجل كذا وكذا فأعطاها الرجل فقال : اغد عليهم فأعنهم بها فقال زيد بن سعنة : فلما كان قبل محل الأجل بيومين أو ثلاث أتيته فأخذت بمجامع قميصه وردائه ونظرت إليه بوجه غليظ فقلت له : ألا تقضيني يا محمد حقي ؟ فوالله ما علمتكم بني عبد المطلب لمطل ولقد كان لي بمخالطتكم علم ونظرت إلى عمر وإذا عيناه تدوران في وجهه كالفلك المستدير ثم رماني ببصره فقال : يا عدو الله أتقول لرسول الله صلى الله عليه و سلم ما اسمع وتصنع به ما أرى فوالذي بعثه بالحق لولا ما أحاذر قوته لضربت بسيفي رأسك ورسول الله صلى الله عليه و سلم ينظر إلى عمر في سكون وتؤدة ثم قال : يا عمر أنا وهو كنا أحوج إلى غير وأعطه حقه وزده عشرين صاعا من تمر مكان ما رعته قال زيد : فذهب بي عمر رضي الله عنه فأعطاني حقي وزادني عشرين صاعا من تمر فقلت : ما هذه الزيادة يا عمر ؟ فقال : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أزيدك مكان ما رعتك قلت : وتعرفني يا عمر ؟ قال : لا من أنت ؟ قلت : أنا زيد بن سعنة قال : الحبر ؟ قلت : الحبر قال : فما دعاك أن فعلت برسول الله ما فعلت وقلت له ما قلت ؟ قلت : يا عمر لم تكن من علامات النبوة شيء إلا وقد عرفته في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم حين نظرت إليه إلا اثنتين لم أخبرهما منه يسبق حلمه جهله ولا يزيده الجهل عليه إلا حلما فقد أخبرتهما فأشهدك يا عمر أني قد رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا وأشهدك أن شطر مالي - وإني أكثرها مالا - صدقة على أمة محمد فقال عمر رضي الله عنه : أو على بعضهم فإنك لا تسعهم قلت : أو على بعضهم فرجع عمر و زيد إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال زيد : أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله صلى الله عليه و سلم وآمن به وصدقه وبايعه وشهد معه مشاهد كثيرة ثم توفي زيد في غزوة تبوك مقبلا غير مدبر رحم الله زيدا
حضرت عبداللہ بن سلامرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ فرمایا: تو زید بن سعنہ نے کہا: جتنی نبوت کی علامات ہیں، ان کو میں نے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرے سے پہچان لیا ہے ، ( سبحان اللہ !) جب میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف دیکھا مگر دو ایسی ہیں ، جن کا مجھے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے ظاہر) کو اظہار نہیں ہوتا، ان پر جہالت کی سختی نہیں ہوتی ، بس حلم ہی حلم ہوتا ہے ، ان پر جہالت کی سختی نہیں ہوتی ، بس حلم ہی حلم ہوتا ہے ۔ پس میں ان کے لیے لطف کا سلوک کیا کرتا، اس مقصد کے لیے کہ ان کے ساتھ گھل مل جانے کا موقعہ ملے اور میں ان کی بر بادی کو پہچان سکوں ۔ حضرت زید بن سعنہ خود فرماتے ہیں : ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حجروں سے اس حال میں نکلے کہ حضرت علی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھے ، پس دیہاتیوں جیسا ایک ادمی اپنی سواری پر سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا، عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! بے شک بنی فلاں کے گاؤں کے صاحب بصیرت لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ( دل و جان سے ) اسلام میں داخل ہو گئے ہیں ، میں نے ان سے بات کی تھی کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو ان کے پاس وافر مقدار میں رزق آئے گا ( اللہ کی طرف سے ) لیکن وہ سخت قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سختی ہے ، بارش نہیں ہوئی ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! مجھے ڈر ہے کہ وہ اسلام سے نکل جائیں گے لالچ میں ، جیسے وہ لالچ میں داخل ہوئے تھے ۔ پس اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کی طرف کوئی چیز بھیج دیں جس کے ساتھ آپ ان کی مدد کریں ۔ کیا آپ ایسا کرتے ہیں ۔ پس آپ نے اپنے پہلو میں موجود آدمی کی طرف ، میرا خیال ہےوہ علی تھے ، دیکھ کر (اشارہ کیا) اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! کوئی چیز باقی نہیں ہے حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب ہوا، عرض کی : اے محمد ! کیا آپ کو ضرورت ہے کہ آپ بنو فلاں کے باغ سے معین کھجوریں فلاں فلاں مدت تک میرے ہاتھ بیچ دیں ؟ ( اور اس کی ضرورت پوری کریں ) پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! اے یہودی ! بلکہ میں تجھے معین کھجوریں فلاں فلاں مدت تک بیچتا ہوں لیکن بنو فلاں کے باغ کا نام نہ لے ۔ میں نے کہا : کیوں نہیں ! پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے بیچ دیں ، میں نے اپنی تھیلی کو کھولا، میں نے اسی مثقال سونے کے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو معین کھجوروں کے سلسلے میں فلاں مدت تک دے دئیے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وہ اس ادمی کو عطا کر دئیے اور فرمایا: صبح ان کے پاس جا کر ان کی امداد کر دینا ۔ پس حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پس جب مقررہمدت سے ابھی دو یا تین باقی تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ پس ( بطور آزمائش ) میں نے آپ کی قمیص اور چادر کے پلو پکڑ لیے اور درشت چہرے کے ساتھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف دیکھا اور آپ سے کہا: اے محمد ! کیا تم میرا حق ادا نہیں کرو گے ؟ ( میں نے کہا: ) پس قسم بخدا! جو مجھے معلوم ہے کہ تم بنو عبدالمطلب ٹال مٹول کرنے والے ہو، تمہارے ساتھ میل جول سے مجھے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو چکی ہے ۔ اسی دوران گھومنے والے فلاں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی آنکھ کا اشارہ میری طرف کرکے فرمایا: اے اللہ کے دشمن ! کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں ، پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، اگر مجھے ان کی ناراضگی کا خوف نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار تیرے سر پر دے مارتا۔ جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پورے سکون و اطمینان سے دیکھ رہے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے عمر ! مجھے اور اسے ہم دونوں کو اس کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت ہے ، آپ مجھے کہیں کہ اچھے طریقے سے ادا کرو اور اسے کہیں کہ خوبصورت طریقے سے لے لے ۔ اے عمر! اسے اپنے ساتھ لے جاؤ، اس کا حق پورا کر کے دینے کے بعد بیس صاع کھجور کا اضافہ کر اس چیز کے بدلے جو تو نے اسے ڈرایا ہے ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے مجھے میرا حق دیا اور مزید بیس صاع کھجور کا اضافہ کر اس چیز کے بدلے جو تو نے اسے ڈرایا ہے ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے مجھے میرا حق دیا اور مزید بیس صاع کھجور مجھے عطا کی۔ پس میں نے کہا: اے عمر ! یہ زیادتی کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم ارشاد فرمایا: کہ آپ کو اس ڈرانے کے بدلے میں زیادہ دوں ۔ میں نے عرض کی: کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! فرمایا : آپ کون ہیں ؟ میں نے عرض کی : زید بن سعنہ ! آپ نے فرمایا: یہود کے علماء میں سے عالم ۔ میں نے عرض کی : عالم ! آپ نے فرمایا: پس آپ کو کس چیز نے دعوت دی، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ وہ سلوک کرنے کی جو آپ نے کیا؟ اور وہ بات کرنے کی جو آپ نے کی ؟ میں نے عرض کی: اے عمر ! میں نے تمام علامات نبوت ، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرہ ایک بار دیکھ کر میں نے پہچان لیں سوائے دو کے ( جن کا تعلق باطنی سے تھا) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ظاہر کو دیکھ کر ان دو کا پتا نہ چلا کہ نبی کا حلم اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اس جہل پ رسبقت لے جاتا ہے ، کوئی جتنا بھی نبی سے جا ہلانہ سلوک کرے ، وہ نبی کے حلم میں اضافہ کرتا ہے ، پس (اب ) مجھے ان کا پتہ چل گیا ۔ پس میں آپ کو گواہ بناتا ہوں ، اے عمر ! کہ میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نبی ہونے پر (دل و جان سے ) راضی ہوں اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرے مال کا ایک حصہ ( اور میرے پاس بہت زیادہ ہے ) محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت پر صدقہ ہوا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ( ساری امت پر) یا ان میں سے بعض پر کیونکہ آپ اس کی طاقت نہ رکھیں گے ۔ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے امت جے بعض پر ۔ پس حضرت عمرو زید لوٹ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آئے ، زید نے پڑھا : اشہد ان الا الٰہ الا اللہ و اشہد ان محمد اً عبدہ و رسولہ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لایا ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تصدیق کی ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیعت کی اور بہت سارے غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا پھر زید غزوہ تبوک میں آگے بڑھتے ہوئے شہید ہو ا نہ کہ پیچھے ہٹتے ہوئے ۔ اللہ زید پر رحم کرے !
عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5154
