المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5142
5135 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن يوسف ثنا يحيى بن حمزة عن داود بن عيسى الكوفي ثنا منصور بن المعتمر حدثني مجاهد بن جبر المكي ثنا أبو عياش الزرقي قال Y غزونا مع رسول الله فلقيه المشركون بعسفان وعلى خيلهم يومئذ خالد بن الوليد فحضرتنا صلاة الظهر فأذن المؤذن فأقام الصلاة فهم المشركون أن يحملوا علينا فقال بعضهم : إنها ستحضرهم صلاة هي أحب إليهم من أولادهم يعنون صلاة العصر فأتاه جبريل عليه السلام بالآيات التي فيها صلاة الخوف فلما حضرت الصلاة أذن المؤذن وأقام فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وصففنا خلفه صفين والمشركون يومئذ مما يلي القبلة فركع رسول الله صلى الله عليه و سلم وركعنا ثم سجد وسجد الصف الذي يليه وقام المؤخر فلما فرغوا من سجودهم سجد الصف المؤخر فتلاوم المشركون بينهم قال أبو عياش : فصلى بنا في أرض بني سليم أيضا مثلها
حضرت ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا۔ پس عسفان کے مقام پر مشرکین آپ سے ملے ، اس دن ان کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید ( قبل از اسلام ) تھے ۔ پس ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا، مؤذن نے اذان دی ۔ اس کے بعد نماز کھڑی ہوئی ۔ پس مشرکین نے ہم پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ، ان میں سے بعض نے کہا: ان کی ایک ایسی نماز کا وقت ہونے والا ہے جو انہیں اپنی اولاد سے پیاری ہے ، ان کی مراد عصر کی نماز تھی۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آئے۔ وہ آیات لے کر جس میں صلاۃ الخوف کا تذکرہ تھا۔ پس جب نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے اذان پڑھی اور اقامت کہی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مصلائے امامت پر تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں ۔ ا س دن مشرکین قبلہ کی سمت تھے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا اور پچھلی صف والے کھڑے رہے ۔ پس جب وہ اپنے سجدے سے فارغ ہوئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا، پس مشرکین ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے ۔ حضرت ابو عیاش فرماتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بنو سلیم کے علاقے میں بھی ہمیں اسی کی مثل نماز پڑھائی۔
أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ الْمَكِّيُّ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← داود بن عيسى الكوفي ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5142
