Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5142

5135 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن يوسف ثنا يحيى بن حمزة عن داود بن عيسى الكوفي ثنا منصور بن المعتمر حدثني مجاهد بن جبر المكي ثنا أبو عياش الزرقي قال Y غزونا مع رسول الله فلقيه المشركون بعسفان وعلى خيلهم يومئذ خالد بن الوليد فحضرتنا صلاة الظهر فأذن المؤذن فأقام الصلاة فهم المشركون أن يحملوا علينا فقال بعضهم : إنها ستحضرهم صلاة هي أحب إليهم من أولادهم يعنون صلاة العصر فأتاه جبريل عليه السلام بالآيات التي فيها صلاة الخوف فلما حضرت الصلاة أذن المؤذن وأقام فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وصففنا خلفه صفين والمشركون يومئذ مما يلي القبلة فركع رسول الله صلى الله عليه و سلم وركعنا ثم سجد وسجد الصف الذي يليه وقام المؤخر فلما فرغوا من سجودهم سجد الصف المؤخر فتلاوم المشركون بينهم قال أبو عياش : فصلى بنا في أرض بني سليم أيضا مثلها

حضرت ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا۔ پس عسفان کے مقام پر مشرکین آپ سے ملے ، اس دن ان کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید ( قبل از اسلام ) تھے ۔ پس ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا، مؤذن نے اذان دی ۔ اس کے بعد نماز کھڑی ہوئی ۔ پس مشرکین نے ہم پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ، ان میں سے بعض نے کہا: ان کی ایک ایسی نماز کا وقت ہونے والا ہے جو انہیں اپنی اولاد سے پیاری ہے ، ان کی مراد عصر کی نماز تھی۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آئے۔ وہ آیات لے کر جس میں صلاۃ الخوف کا تذکرہ تھا۔ پس جب نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے اذان پڑھی اور اقامت کہی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مصلائے امامت پر تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں ۔ ا س دن مشرکین قبلہ کی سمت تھے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا اور پچھلی صف والے کھڑے رہے ۔ پس جب وہ اپنے سجدے سے فارغ ہوئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا، پس مشرکین ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے ۔ حضرت ابو عیاش فرماتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بنو سلیم کے علاقے میں بھی ہمیں اسی کی مثل نماز پڑھائی۔

أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ الْمَكِّيُّ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← داود بن عيسى الكوفي ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5142

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5143

5136 - حدثنا أ بو بكر بن صدقة ثنا محمد بن خالد بن خلي الحمصي حدثني أبي ثنا سلمة بن عبد الملك العوصي ثنا أبو الحسن الهمذاني - يعني علي بن صالح - عن منصور عن مجاهد عن أبي عياش الزرقي Y النبي صلى الله عليه و سلم في صلاة الخوف أنه صلى بالناس فركعوا جميعا ثم رفعوا جميعا فسجد بعضهم معه وقام الآخرون فلما رفعوا رؤوسهم تأخروا وجاء الآخرون فسجدوا بعضهم معه وقام الآخرون فلما رفعوا رؤوسهم تأخروا وجاء الآخرون فسجدوا مكانهم ثم صلى الثانية مثل الأولى ثم جلس وجلس من يليه والآخرون قيام ثم سلم وسلم من يليه ثم قاموا وجاء أولئك فسجدوا مكانهم ثم سلموا

حضرت ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز خوف کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پس تما م نے اکٹھے رکوع کیا لیکن سجدہ بعض نے آپ کے ساتھ کیا اور دوسرے کھڑے رہے ۔ پس جب انہوں نے اپنے سر اٹھائے تو دیر کی ( تاکہ دوسرے سجدہ کر لیں ) اور دوسرے آئے ، پس ان میں سے بعض نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا اور کچھ دوسرے کھےڑے رہے، جب انہوں نے اپنے سر سجدے سے اٹھائے تو دوسرو ں کے لیے دیر کی اور دوسروں نے آکر اپنی جگہ سجدہ کیا پھر دوسری رکعت پہلی کی مانند پڑھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بیٹھ گئے، اور جو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب تھے وہ بھی بیٹھے لیکن دوسرے کھڑے رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اور ساتھ والوں نے سلام پھیر دیا ، پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آکر اپنی جگہ سجدہ کیا،پھر قعدہ کرے ، سلام پھیرے۔

مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← أبو الحسن الهمذاني يعني علي بن صالح ← سلمة بن عبد الملك العوصي ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ ← أ بو بكر بن صدقة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5143

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5144

5137 - حدثنا جعفر بن أحمد بن سنان الواسطي حدثني أبي ثنا يزيد بن هارون أنا جعفر بن الحارث عن منصور عن مجاهد عن أبي عياش الزرقي قال Y صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الظهر بعسفان وعلى المشركين خالد بن الوليد فقال المشركون : قد كانوا على حال من لو أصبنا غرتهم فقالوا : يأتي عليهم الأن صلاة هي أحب إليهم من أولادهم وأنفسهم فنزل جبريل عليه السلام بالأيات التي فيها صلاة الخوف فصف أصحابه خلفه صفين فكبر وكبرنا جميعا وركع وركعنا جميعا وسجد وسجد الصف الذي يليه فلما قام تأخر الصف الذي يليه فقاموا مقام الصف المؤخر وتقدم الصف المؤخر فقام مقامهم فركع وركعنا جميعا ورفع ورفعنا جميعا وسجد الصف الذي يليه فلما جلس سجد الصف المؤخر

حضرت ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ، عسفان کے مقام پر اور مشرکین کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید تھے ، تو مشرکین نے کہا: وہ تھے اس حال پر کہ ہم موقعہ پا کر حملہ کر سکتے تھے ۔ پس انہوں نے کہا: ان پر اب ایسی نماز کا وقت ہو رہا ہے جو انہیں اپنی اولاد اور جانوں سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام آیات لائے جن میں نماز خوف کا ذکر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تکبیر کہی اور تمام نے اکٹھے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ والی صف پیچھے آگئی، پس وہ پیچھے والی صف پر کھڑے ہو گئے اور پیچھے والی صف آگے ہو گئی۔ پس وہ ان کی جگہ کھڑے ہو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سر اٹھایا تو ہم نے بھی سر اٹھایا اور سجدہ صرف آپ کے ساتھ والی صف نے کیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قعدہ کیا تو پیچھے والی صف نے سجدہ کیا ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک رکعت اک صف کو ای رکعت دوسری صف کو پڑھائی)۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5144

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5145

5138 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن أسيد الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا ورقاء عن منصور عن مجاهد عن أبي عياش الزرقي قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعسفان فحضرت الصلاة صلاة الظهر وعلى خيل المشركين خالد بن الوليد فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بأصحابه الظهر فقال المشركون : إن لهم صلاة بعد هذه أحب إليهم من أبنائهم وأموالهم وأنفسهم يعنون صلاة العصر فنزل جبريل عليه السلام على رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الظهر والعصر فأخبره ونزلت هذه الآية { وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة } إلى آخرها فحضرت الصلاة فصف رسول الله صلى الله عليه و سلم أصحابه صفين وعليهم السلاح والعدو بين يدي النبي صلى الله عليه و سلم فكبروا جميعا وركعوا جميعا ثم سجد رسول الله صلى الله عليه و سلم والصف الذي يليه والآخرون قيام يحرسونهم فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه و سلم قام إلى الركعة الثانية وسجد الآخرون ثم تقدم هؤلاء إلى مصاف هؤلاء وتأخر هؤلاء إلى مصاف هؤلاء فصلى بهم الركعة الأخرى فركعوا جميعا ثم سجد رسول الله صلى الله عليه و سلم والصف الذي يليه والآخرون قيام يحرسونهم فلما فرغوا سجد هؤلاء ثم سلم رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو عياش : فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه الصلاة مرتين مرة بعسفان ومرة بأرض بني سليم

حضرت ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عسفان کے مقام پر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھے ، ظہر کی نماز کا وقت ہوا جبکہ مشرکوں کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید ( قبل از اسلام) تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ظہر کی نماز پڑھائی، تو مشرکوں نے کہا : اس نماز کے بعد جو ان کی نماز ہے ، وہ ان کو اپنے بیٹوں اور جانوں سے زیادہ پیاری ہے ، انہوں نے عصر کی نماز مراد لی۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اترے ، ظہر و عصر کے درمیان ، پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خبردار کیا اور یہ آیت نازل ہوئی: " واذا کنت فیھم الیٰ آخرہٖ"۔ پس اگلی نماز کا وقت ہو گیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ کی دو صفیں بنائیں ، انہوں نے ہتھیار لیے ہوئے تھے اور دشمن نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے تھے ،تکبیر سب نے کہی، رکوع سب نے کیا لیکن سجدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ صرف پہلی صف نے کیا جب کہ دوسرے ان کی حفاظت کی خاطر کھڑے رہے ، پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سجدوں سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دوسری رکعت کے لیے قیام کیا، دوسری صف والوں نے سجدہ کیا پھر یہ ان کی صف پہ اور وہ ان کی صف پہ کھڑے ہوئے ۔ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دوسری رکعت پڑھائی، سب نے رکوع کیے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور پہلی موجودہ صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف والے ان کی حفاظت کے لیے کھڑے رہے پس جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے سجدہ کیا، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تو سلام پھیر دیا ۔ حضرت ابو عیاش فرماتے ہیں : پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کو یہ نماز دوبارہ پڑھائی، ایک بار عسفان کے مقام پر اور دوسری بار بنو سلیم کی سر زمین میں ۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← وَرْقَاءُ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُسَيْدٍ الأَصْبَهَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5145

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5146

5139 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن عثمان بن كرامة ثنا عبيد الله بن موسى ثنا إسرائيل عن منصور عن مجاهد عن أبي عياش الزرقي قال Y صلى بنا النبي صلى الله عليه و سلم بعسفان صلاة الظهر فلما فرغ قال المشركون وعليهم خالد بن الوليد : لقد كانوا على حال لو أردنا لأصبنا منهم غفلة ولأصبنا منهم غرة فنزلت هذه الآية بين الظهر والعصر في شأن الصلاة فذكر نحوه

حضرت ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عسفان کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فارغ ہوئے تو مشرکین نے کہا: جب کہ ان کے اوپر خالد بن ولید تھے، تحقیق وہ اس حال پر تھے کہ اگر ہم ارادہ کرتے تو ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا سکتے تھے یا ان پر دھوکہ سے حملہ آور ہو سکتے تھے ، پس یہ آیت ظہر اور عصر کے درمیان نازل ہوئی نماز کے حق میں ۔ پس اس جیسی حدیث ذکر کی ہے ۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ کَرَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5146

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5147

5140 - حدثنا محمد بن علي الصائغ ثنا سعيد بن منصور ثنا جرير عن منصور عن مجاهد عن أبي عياش الزرقي قال Y صلى بنا النبي صلى الله عليه و سلم فذكر مثله

حضرت ابو عیاش فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، اس کے بعد اسی کی مثل حدیث ذکر کی۔

صلى بنا النبي صلى الله عليه و سلم فذكر مثله ← أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5147

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 486 - زيد بن الصامت أبو عياش الزرقي ويقال عبيد بن معاوية بن الصامت كان ينزل المدينة ويقال زيد بن النعمان ويقال الفضيل بن معاذ بن الصامت · حديث 5148

5141 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي عياش الزرقي Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير كانت له كعتق رقبه من ولد إسماعيل وكتب له عسر حساب وحط عنه عسر حساب ورفع له عشر درجات وكان في حرز من الشيطان حتى يمسي فإن قالها إذا أمسى كان له مثل ذلك قال : فرأى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما يرى النائم فقال : يا رسول الله إن أبا عياش الزرقي أخبرنا عنك بكذا وكذا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صدق أبو عياش

حضرت ابو عیاش الزرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس نے لا الٰہ الا اللہ الیٰ آخرہٖ" پڑھا اس کو اولاد اسماعیل سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور دس نیکیاں ملیں گی اور دس گناہ معاف کیے جائیں گے اور دس درجات بلند کیے جائیں گے اور شام تک شیطان کے شر سے اس کی حفاظت کی جائے گی، جب شام کو پڑھے تو اسی طرح ثواب ہو گا۔ حضرت ابو عیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خواب میں دیکھا، عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! ابو عیاش الزرقی ہمیں آپ کے حوالے سے ایسے ایسے بیان کرتے ہیں ،حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ابو عیاش نے سچ کہا ہے ۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5148

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 487 - زيد بن خارجة الأنصاري من بني حارثة بن الخزرج بدري كان ينزل المدينة توفي في خلافة عثمان ابن عفان رضي الله عنه · حديث 5149

5142 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ثنا معاوية بن هشام ثنا سفيان عن حمران بن أعين عن أبي الطفيل عن ابن خارجة ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا سعيد بن عمرو الأشعثي ثنا عيسى بن القاسم عن حمران بن أعين عن أبي الطفيل عن ابن خارجة قال Y لما بلغ النبي صلى الله عليه و سلم وفاة النجاشي قال : إن أخاكم قد توفي فخرج فصففنا خلفه فصلينا وما نرى شيئا

حضرت ابن خارجہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حضرت نجاشی کے وصال کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: تمہارا بھائی وصال کر گیا ہے ، آپ نکلے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی ، ہم نے نماز جنازہ پڑھی ، ہم نے کوئی شے نہیں دیکھی۔

إن أخاكم قد توفي فخرج فصففنا خلفه فصلينا وما نرى شيئا ← لما بلغ النبي صلى الله عليه و سلم وفاة النجاشي ← ابن خارجة ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، ← عيسى بن القاسم ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ← ابن خارجة ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5149

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 487 - زيد بن خارجة الأنصاري من بني حارثة بن الخزرج بدري كان ينزل المدينة توفي في خلافة عثمان ابن عفان رضي الله عنه · حديث 5150

5143 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا عبد الواحد بن زياد ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا علي بن المديني ثنا مروان بن معاوية الفزاري قالا ثنا عثمان بن حكيم عن خالد بن سلمة عن موسى بن طلحة عن زيد بن خارجة الأنصاري قال Y قلنا : يا رسول الله قد عرفنا كيف نسلم عليك فكيف نصلي عليك ؟ قال : قولوا اللهم بارك على محمد وآل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد

حضرت زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی : ہم نے پہچان لیا کہ کیسے ہم آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں سلام عرض کریں اور کیسے درود پڑھیں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو! " اللھم بارک علی محمد الیٰ آخرہٖ"۔

قُلْنَا ← زيد بن خارجة الأنصاري ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5150

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 487 - زيد بن خارجة الأنصاري من بني حارثة بن الخزرج بدري كان ينزل المدينة توفي في خلافة عثمان ابن عفان رضي الله عنه · حديث 5151

5144 - حدثنا العباس بن محمد المجاشعي الأصبهاني ثنا محمد بن أبي يعقوب الكرماني ثنا الضحاك بن ميمون الثقفي ثنا داود بن أبي هند عن زيد أو يزيد بن نافع عن حبيب بن سالم عن النعمان بن بشير قال Y بينما زيد بن خارجة يمشي في بعض طرق المدينة إذ خر ميتا بين الظهر والعصر فنقل إلى أهله وسجي بين بردتين وكساء فلما كان بين المغرب والعشاء اجتمع نسوة من الأنصار يصرخن حوله إذ سمعوا من تحت الكساء يقول : أنصتوا أيها الناس مرتين فحسروا عن وجهه وصدره فقال : محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم النبي الأمي خاتم النبيين كان ذلك في الكتاب الأول ثم قيل على لسانه : صدق أبو بكر الصديق خليفة رسول الله صلى الله عليه و سلم القوي الأمين كان ضعيفا في بدنه قويا في أمر الله كان ذلك في الكتاب الأول ثم قيل على لسانه : صدق صدق ثلاثا والأوسط عبد الله عمر أمير المؤمنين الذي كان لا يخاف في الله لومة لائم وكان يمنع الناس أن يأكل قويهم ضعيفهم كان ذلك في الكتاب الأول ثم قيل على لسانه : صدق صدق صدق ثم قال : عثمان أمير المؤمنين رحيم بالمؤمنين خلت اثنتان وبقي أربع ثم اختلف الناس ولا نظام لهم وأبيحت الأحماء - يعني تنتهك المحارم - ودنت الساعة وأكل الناس بعضهم بعضا

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے کسی راستے میں چل رہا تھے اچانک آپ گرے اور ظہر اور عصر کے درمیان وصال کر گئے ، آپ کے گھر لایا گیا، آپ کو دو چادروں میں ڈھانپا گیا، جب مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت ہوا تو انصار کی عورتیں اکٹھی ہوئیں ، آپ کے ارد گرد رونے لگیں، اچانک چادر کے نیچے سے آواز سنی ، کہہ رہے تھے : اے لوگو! خاموش ہو جاؤ! دومرتبہ کہا، پس انہوں نے ان کے چہرے اور سینے سے کپڑا ہٹایا تو اس نے کہا: محمد رسول اللہ نبی امی ہیں اور خاتم النبیین ہیں ، یہ ذکر پہلی کتاب میں تھا ، پھر اپنی زبان سے کہا: حضرت ابو بکر صدیق ، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سچے خلیفہ ہیں ، طاقتور اور امانت دار ہیں ، بدن کے لحاظ سے کمزور تھے لیکن اللہ کے حکم میں طاقتور تھے ،یہ بھی پہلی کتاب میں تھا، پھر اپنی زبان سے تین دفعہ کہا ، سچ قراردیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہ ہیں جو اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے، ان لوگوں کو روکتے تھے ، جو طاقتور کمزور کا حق کھاتے تھے ، یہ بھی پہلی کتاب میں تھا، پھر اپنی زبان سے تین مرتبہ کہا: اس نے سچ کہا! تین بار کہا ، پھر فرمایا: حضرت امیر المؤمنین ایمان والوں پر رحم کرنے والے ہیں ، دو گزر گئے اور چار باقی ہیں ، پھر لوگوں نے اختلاف کیا، ان کےلیے کوئی نظام نہیں ، وہ اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں کی ہتک کی جا رہی ہے ، قیامت قریب ہے ، لوگ ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں۔

«بَيْنَمَا زِيدُ بْنُ خَارِجَةَ يَمْشِي فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← زيد أو يزيد بن نافع ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← الضحاك بن ميمون الثقفي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُجَاشِعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5151

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 487 - زيد بن خارجة الأنصاري من بني حارثة بن الخزرج بدري كان ينزل المدينة توفي في خلافة عثمان ابن عفان رضي الله عنه · حديث 5152

5145 - حدثنا عيسى بن محمد السمسار الواسطي ثنا عبد الحميد ابن بيان ثنا إسحاق الأزرق عن شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن حبيب ابن سالم عن النعمان بن بشير قال Y لما توفي زيد بن خارجة انتظر به خروج عثمان رضي الله عنه فقلت : يصلي ركعتين فكشف الثوب عن وجهه وقال : السلام عليكم السلام عليكم قال : وأهل البيت يتكلمون قال فقلت : وأنا في الصلاة : سبحان الله سبحان الله فقال : أنصتوا أنصتوا محمد رسول الله كان ذلك في الكتاب الأول صدق صدق صدق أبو بكر الصديق ضعيف في جسده قوي في أمر الله كان ذلك في الكتاب الأول صدق صدق صدق عمر بن الخطاب قوي في جسده قي في أمر الله كان ذلك في الكتاب الأول صدق صدق صدق عثمان بن عفان مضت اثنتان وبعي أربع وأبيحت الأحماء بئر أريس وما بئر أريس السلام عليك عبد الله بن رواحة هل أحسست بي خارجة و سعدا ؟ قال شريك : هما أبوه وأخوه

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکلنے کا انتظار کیا جارہا تھا، میں نے کہا: دو رکعت نماز ہے ، آپ کے چہرے سے کپڑا اٹھایا گیا اور فرمایا : السلام علیکم ! السلام علیکم ! گھر والے گفتگو کر رہے تھے ، میں نے کہا : میں نماز کی حالت میں ہوں ، سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: خاموش رہو! یہ پہلہی کتاب میں موجود ہے ، اس نے سچ کہا! تین بار کہا، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جسمانی لحاظ سے کمزور تھے ، اللہ کے معاملے میں سخت تھے ۔ یہ بھی پہلی کتاب میں موجود ہے ، اس نے سچ کہا ، تین بار کہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جسم اور اللہ کے معاملے میں سخت تھے ، یہ بھی پہلی کتاب میں موجود ہے، سچ سچ سچ! حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین ہیں ، دو گزر گئے ہیں ، چار باقی ہیں ، حرام کردہ چیزوں کو حلال جانا جا رہا ہے ، اویس کا کنوں کیا ہے ؟ عبداللہ بن رواحہ آپ پر سلام ہو! میرے ساتھ خارجہ اور سعید نے نیکی کی ہے ، حضرت شریک نے کہا: دونوں اس کے والد اور بھائی ہیں۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبيبِ ابنِ سالمٍ} ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← عبد الحميد ابن بيان ← عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5152

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 488 - زيد بن أبي أوفى الأسلمي كان ينزل البصرة · حديث 5153

5146 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا نصر بن علي ثنا عبد المؤمن بن عباد بن عمرو العبدي ثنا يزيد بن معن حدثني عبد الله بن شرحبيل عن رجل من قريش عن زيد بن أبي أوفى قال Y دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم في مسجد المدينة فجعل يقول : إني فلان بن فلان ؟ فلم يزل يتفقدهم يبعث إليهم حتى اجتمعوا عنده فقال : إني محدثكم بحديث فاحفظوه وعوه وحدثوا به من بعدكم إن الله اصطفى من خلقه خلقا ثم تلا هذه الآية { الله يصطفي من الملائكة رسلا ومن الناس } خلقا يدخلهم الجنة وإني مصطفى منكم من أجب أن أصطفيه ومؤاخ بينكم كما آخى الله بين الملائكة قم يا أبا بكر فقام فجثا بين يديه فقال : إن لك عندي يدا إن الله يجريك بها فلو كنت متخذا خليلا لا تخذتك خليلا فأنت مني بمنزله قميصي من جسدي وحرك قميصه بيده ثم قال : ادن يا عمر فدنا فقال : قد كنت شديد الشغب علينا أبا حفص فدعوت الله أن يعز الدين بك أو بأبي جهل ففعل الله ذلك بك وكنت أحبهما إلي فأنت معي في الجنة ثالث ثلاثة من هذه الأمة ثم تنحى وآخا بينه وبين أبي بكر ثم دعا عثمان فقال : ادن يا عثمان ادن يا عثمان فلم يزل يدنو منه حتى ألصق ركبته بركبة رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم نظر إليه ثم نظر إلى السماء فقال : سبحان الله العظيم ثلاث مرات ثم نظر إلى عثمان فإذا أزراره محلولة فزررها رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده ثم قال : اجمع عطفي ردائك على نحرك فإن لك شأنا في أهل السماء أنت ممن يرد علي الحوض وأوداجه تشخب دما فأقول : من فعل هذا بك ؟ فتقول : فلان وفلان وذلك كلام جبريل عليه السلام وذلك إذ هتف من السماء لا إن عثمان أمين على كل خاذل ثم دعا عبد الرحمن بن عوف فقال : ادن يا أمين الله والأمين في السماء يسلطك الله على مالك بالحق أما إن لك عندي دعوة وقد أخرتها قال : خر لي يارسول الله قال : حملتني يا عبد الرحمن أمانة أكثر الله مالك قال : وجعل يحرك يده ثم تنحى وآخى بينه وبين عثمان ثم دخل طلحة و الزبير فقال : ادنوا مني فدنوا منه فقال : أنتما حواريي كحواريي عيسى بن مريم عليه السلام ثم آخى بينهما ثم دعا سعد بن أبي وقاص و عمار بن ياسر فقال : يا عمار تقتلك الفئة الباغية ثم آخى بينهما ثم دعا عويمرا أبا الدرداء و سلمان الفارسي فقال : يا سلمان أنت منا أهل البيت وقد آتاك الله العلم الأول والعلم الآخر والكتاب الأول والكتاب الآخر ثم قال : ألا أرشدك يا ابا الدرداء ؟ قال : بلى بأبي أنت وأمي يا رسول الله قال : إن تنقذ ينقذوك وإن تتركهم لا يتركوك وإن تهرب منهم يدركوك فأقرضهم عرضك ليوم فقرك فآخى بينهما ثم نظر في وجوه أصحابه فقال : أبشروا وقروا عينا فأنتم أول من يرد علي الحوض وأنتم في أعلى الغرف ثم نظر إلى عبد الله بن عمر فقال : الحمد لله الذي يهدي من الضلالة فقال علي : يا رسول الله ذهب روحي وانقطع ظهري حين رأيتك فعلت ما فعلت بأصحابك غيري فإن كان من سخطة علي فلك العتبى والكرامة فقال : والذي بعثني بالحق ما أخرتك إلا لنفسي فأنت عندي بمنزلة هارون من موسى ووارثي فقال : يا رسول الله ما أرث منك ؟ قال : ما أورثت الأنبياء قال : وما أورثت الأنبياء قبلك ؟ قال : كتاب الله وسنة نبيهم وأنت معي في قصري في الجنة مع فاطمة ابنتي ورفيقي ثم تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم الآية { إخوانا على سرر متقابلين } الأخلاء في الله ينظر بعضهم إلى بعض

حضرت زید بن ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس مدینہ کی مسجد میں آیا، آپ فرمانے لگے : فلاں فلاں کہاں ہے ؟ جس کو نہ پایا اس کو بلوانے کے لیے بھیجا، آپ کے پاس جمع ہوئے ، آپ نے فرمایا: میں تمکو ایسی حدیث بیان کروں ، ا س کو یاد کرو اور اپنے بعد والوں کو بیان کرو، اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق سے چن لیا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : " اللہ عزوجل ، فرشتوں اور لوگوں کو چن لیا ہے ، ایسی مخلوق کو جنت میں داخل کرے گا" میں نے تم میں سے چن لیا جو پسند کرتا ہے کہ چن لیا جائے اور تمہارے مواخات قائم کرے ، جس طرح اللہ نے فر شتوں کے درمیان بھائی چارہ کیا ہے ، اے ابو بکر ! اٹھو! حضرت ابوبکر اٹھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ پھیلائے ، آپ نے فرمایا: آپ کا میرے ہاں احسان ہے ، اللہ تجھے اس کا بدلہ دے گا، اگر میں کسی کو دوست بناتا تو میں اس کو دوست بناتا، آپ کا میرے ہاں وہی مقام ہے جو قمیص کا جسم کے ساتھ ہوتا ہے ، آپ نے اپنی قمیص کو اپنے ہاتھ سے حرکت دی، پھر فرمایا: اے عمر قریب ہو! حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریب ہوئے آپ نے فرمایا: آپ سخت بڑائی کرنے والے تھے ۔ اے ابو حفص ! میں نے اللہ سے دعا کی ، اللہ عزوجل آپ کے ذریعے یا ابو جہل کے ذریعے عزت دے ! اللہ عزوجل نے آپ کو اسلام لانے کی سعادت دی ہے ، آپ مجھے زیادہ محبوب تھے ، آپ ان تین امتیوں میں سے ہیں جو جنت میں میرے قریب ہوں گے ، پھر پیچھے کیا ، آپ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کیا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا، آپ نے فرمایا: اے عثمان ! قریب ہو! اے عثمان قریب ہو!ً آپ ان کے قریب کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے گھٹنے حضور ق کے گھٹنوں سے مل گئے، پھر آپ کی طرف نظر رحمت کی ، پھر آسمان کی طرف نظر کی، فرمایا: سبحان اللہ العظیم ! تین مرتبہ فرمایا، پھر آسمان کی طرف نظر کی ، آپ کے بٹن کھلے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے بٹن بند کیے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم میری چادر اپنے سینہ پر اکٹھی کی ، فرمایا: دین کی شان ہو گی، اس حالت میں کہ آپ کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، میں کہوں گا: یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا ہے ؟ تم عرض کرو گے : فلاں اور فلاں نے ، اس وقت حضرت جبریل کا کلام ہو گا، پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو بلایا اور فرمایا: اے امین اللہ ! قریب ہو جب کہ امین آسمان میں ۔ اللہ تعالیٰ تجھے حق کے ساتھ ، تیرے مال پر مسلط فرماتے گا، بہرحال تیرے حق میں ایک دعا میرے پاس ہے ، جس کو میں نے مؤخر کر دیا ہے ۔ عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! مؤخر ہی رکھیں ۔ فرمایا: اے عبدالرحمٰن تو نے مجھ پر امانت کا بوجھ ڈالا ہے ، اللہ تیرا مال زیادہ کرے ۔ راوی کا بیان ہے : آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ حرکت کرنے لگے پھر پیچھے ہٹ گئے اور ان کے اور حضرت عثمان کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا: پھر حضرت طلحہ و زہیر آئے ، فرمایا: میرے قریب ہو! وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب ہوئے فرمایا: تم میرے حواری ہو، عیسیٰ بن مریم کے حواریوں کی طرح پھر ان کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا پھر سعد بن وقاص اور عمار بن یاسر کو بلایا۔ فرمایا: اے عمار! تجھے باغی گروہ شہید کرے گا، پھر ان کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا ۔ پھر ابو درداء ، عویمر اور سلمان فارسی کو بلایا، فرمایا: تو میرے اہل بیت سے ہے ، تجھے اللہ نے اوّل و آخر علم دیا ہے اور پہلی اور آخری کتاب ۔ پھر فرمایا: اے ابو درداء! کای تیری راہنمائی نہ کروں؟ عرض کی : کیوں نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! فرمایا: کہ تو بچائے گا تو وہ بھی تجھے بچائیں گے اور اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ تجھے نہیں چھوڑے گے ۔ اور اگر تو نے ان سے بھاگے گا تو وہ تجھے پکڑ لیں گے۔ پس تو ان کے اپنے فقر کے دن کے لیے اپنی عزت قرض دے دے ،پس آپ نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا: پھر اپنے صحابہ کے چہروں کی طرف نگاہ کی تو فرمایا: تمہیں بشارت ہو اور تم آنکھ ٹھنڈی کرو، پس سب سے پہلی وہ جماعت ہو گے جو میرے حوض پر آؤ گے ، تم ( جنت کے ) بالا خانوں میں ہو گے ، پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے گمراہی سے ہدایت دی ۔ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بول پڑے ( صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا) اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! میری روح چلی گئی او رمیری کمر ٹوٹ گئی ، جب میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے میرے علاوہ اپنے صحابہ سے سلوک کیا جو کیا ۔ پس اگر کسی ناراضگی کی وجہ سے ہے تو آپ کے لیے کرامت ہے ۔ پس آپ ق نے فرمایا: قسم بخدا! میں نے صرف اپنے لیے آپ کو پیچھے چھوڑا ہے ، تیرا میرے نزدیک وہی مقام ہے جو ہارون کا حضرت موسیٰ کے ہاں تھا اور تو میرا وارث ہے ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! میں آپ کا وارث کیسے ؟ عرض کی : انبیاء کی تو وراثت ہی نہیں ہوتی ۔ فرمایا: مجھ سے پہلے انبیاء کی وراثت کیا تھی ؟ عرض کی : اللہ کی کتاب اور ان کے نبی کی سنت ، اور تو جنت میں میرے محل میں میری بیٹی فاطمہ کے ساتھ ہوگا اور میرا رفیق ہوگا ، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : اخوانا علی سرد متقابلین " اللہ کی رضا کی طاطر دوسری کرنے والے ، ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ۔

زيد بن أبى أوفى ← رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← يزيدُ بنُ معنٍ، ← عبد المؤمن بن عباد بن عمرو العبدي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5153

chevron_left Previous
1…414243…56
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter