المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ أبو إسحاق السبيعي عن زيد · حديث 5058
5051 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أحمد بن خالد الوهبي ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن زيد بن أرقم قال Y كنت مع عمي في غزوة فسمعت عبد الله بن أبي يقول { لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا } و { لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل } فذكرت ذلك لعمي فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فدعاني النبي صلى الله عليه و سلم فأرسل النبي صلى الله عليه و سلم إلى عبد الله بن أبي بن سلول وأصحابه فحلفوا ما قالوا فكذبني رسول الله صلى الله عليه و سلم فصدقه وأصابني هم لم يصبني مثله قط فجلست في البيت فقال لي عمي : ما أردت إلى أن كذبك النبي صلى الله عليه و سلم ومقتك فأنزل الله عز و جل { إذا جاءك المنافقون } فبعث إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقرأها ثم قال : إن الله عز و جل قد صدقك
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک جہاد میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی کو کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھنے والوں پر خرچ نہ کرنا یہاں تک کہ ارد گرد والے اٹھ جائیں ، ہم جب مدینہ جائیں گے وہاں عزت والے ذلیلوں کو نکال دیں گے ، ہم نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کہا تو چچا نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کی طرف پیغام بھیجا اور اس کے ساتھیوں کی طرف ، انہوں نے قسم اٹھائی جو انہوں نے کہا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری تصدیق نہ کی، اس نے کہا: مجھے پریشانی لاحق ہوئی ، ایسی کبھی نہیں ہوئی ، میں اپنے گھر بیٹھ گیا ، میرے چچا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے جھٹلانے کا ارادہ نہیں کیا تھا، اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل کی : " جب منافقین آپ کے پاس آتے ہیں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف بلوانے کے لیے بھیجا ، آپ نے سورۃ پڑھی، پھر فرمایا: اللہ عزوجل نے آپ کی تصدیق کی ہے ۔
و فذكرت ذلك لعمي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ، ← كنت مع عمي في غزوة ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5058
