المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ضمرة بن حبيب عن زيد بن ثابت · حديث 4938
4932 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح عن ضمرة بن حبيب عن زيد بن ثابت Y أن النبي صلى الله عليه و سلم علمه وأمره أن يتعاهد به أهله كل صباح : لبيك اللهم لبيك وسعديك والخير في يديك ومنك وبك وإليك اللهم ما قلت من قول ونذرت من نذر أو حلفت من حلف فمشيئتك من بين يديه ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن ولا حول ولا قوة إلا بالله والله على كل شيء قدير اللهم ما صليت من صلاة فعلى من صليت وما لعنت من لعنة فعلى من لعنت أنت وليي في الدنيا والآخرة توفني مسلما وألحقني بالصالحين اللهم إني أسألك الرضى بالقدر وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر إلى وجهك وشوقا إلى لقائك من غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة أعوذ بك أن أظلم أو أظلم أو اعتدي أو يعتدى علي أو أكتسب خطيئة مخطئة أو أذنب ذنبا اللهم فاطر السماوات والأرض علام الغيب والشهادة ذا الجلال والإكرام فإني أعهد إليك في هذه الحياة الدنيا وأشهدك وكفى بك شهيدا إني أشهد أن لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك لك الملك ولك الحمد وأنت على كل شيء قدير وأشهد أن محمدا عبدك ورسولك وأشهد أن وعدك حق ولقاءك حق وأن الساعة آتية لا ريب فيها وإنك تبعث من في القبور وأشهد أنك إن تكلني إلى نفسي تكلني إلى ضعف وعورة وذنب وخطيئة فإني أثق إلا برحمتك فاغفر لي ذنبي فإنه لا يغفر الذنب إلا أنت وتب علي إنك أنت التواب الرحيم
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سکھایا اور حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ ہر صبح اپنے گھر والوں کی حفاظت کرو، میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، تیری طرف سے ہے ، ساتھ ساتھ ہے اور تیری طرف ہے ، اے اللہ ! جو بات میں نے کی ، جو حلف میں نے اٹھایا ، یا جو نذر میں نے مانی ، پس تیری مشیت اسی سے آگے ہے ، جو تو نے چاہا، وہ نہ ہوسکا۔ ہر قسم کی قوت و طاقت تیری دی ہوئی توفیق سے سنا، بے شک تو ہر چاہت پر قادر ہے ۔ اے اللہ ! جو میں نے نماز پڑھی۔ پس وہ اس پر ہے جس پر تو نے رحمت فرمائی جو تو نے لعنت فرمائی وہ اسی پر ہے جس پر تو نے لعنت کی ۔ دنیا و آخرت میں تو مدد گار ہے ، مجھے موت دینا اسی حال میں کہ میں مسلمان ہوں اور مجھے نیکیوں کے ساتھ ملانا ، اے اللہ ! میں قضا ء کے بعد تیری رضا کا سوالی ہوں ، موت کے بعد ٹھنڈی زندگی کا، تیرے دیدار کا اور بغیر کسی نقصان اور گمراہ کن فتنہ کے تیری ملاقات کے شوق کا ( سوالی ہے ) میں تیری پناہ کا طلب گار ہوں ، اے اللہ ! اس سے کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے ، میں زیادتی کروں یا مجھ پر زیادتی کی جائے ، میں خطا ء کروں یا کوئی میرے حق میں خطاء کرے اور ایسا گناہ جس کی بخشش نہیں، اے اللہ ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے عیب و صاف کو جاننے والے اور جلال و اکرام والے ، پس اس دنیاوی زندگی میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں ، تجھے گواہ بناتا ہوں اور تو گواہ کافی ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔ بادشاہیاں تیرے لیے ہیں ، حمد تیرے لیے ہے اور تو ہر شے پر قادر ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد تیرے بندے اور رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ سچا ہے ، تیری ملاقات برحق ہے اور قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ، قبروں والوں کو جلا کر اٹھائے گا، میں گواہی دیتا ہوں اگر تو نے مجھے میرے نفس کے حوالے کیا تو مجھے ایک کمزور کے حوالے کیا۔ عورت ، گناہ ، خلل اور خطاء کے حوالے کیا، میں تو صرف تیری رحمت پر یقین رکھتا ہوں ، میرے سارے گناہ بخش دے کیونکہ تو ہی گناہ بخشنے والا ہے ، میری تو بہ قبول فرما کیونکہ تو ہی تو بہ قبول کرنے والا ہے ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے ۔
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4938
