المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ بسر بن سعيد عن زيد بن ثابت · حديث 4901
4895 - حدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي ثنا سهل بن عثمان ثنا المحاربي عن عبد الله بن سعيد بن أبي هند ثنا سالم أبو النضر عن بسر بن سعيد عن زيد بن ثابت قال Y احتجر رسول الله صلى الله عليه و سلم حجرة في المسجد فكان يصلي فيها فرأه رجل فصلوا بصلاته حتى إذا كانت ليلة حضروه وهو لم يخرج إليهم فتنحنحوا وخصبوا الباب ورفعوا أصواتهم فخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم مغضبا فقال : أيها الناس ما زال بكم صنيعكم حتى ظننت أنه ستكتب فعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسجد میں حجرہ بنوایا اور اس میں نماز پڑھی ، لوگوں میں سے ایک نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا ، پس لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، یہاں تک کہ جب ایک رات آئی تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے لیکن آپ تشریف نہیں لائے ، پس لوگ کھانسنے لگے اور بعض نے دروازے پر کنکریاں ماریں اور انہوں نے آوازیں بلند کیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم باہر نکلے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم غصے میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں ہمیشہ اگر کرتا رہتا جو تم نے مجھے کرتے دیکھا تو مجھے ڈر تھا کہ تمپر فرض نہ ہو، اگر تم پر فرض ہوتی تو تم قیامنہ کرے، اے لوگو! گھر وں میں نماز پڑھا کرو (مراد تراویح) آدمی کی افضل نماز فرضوں کے علاوہ گھر میں ہے ۔
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4901
