Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ 478 - زيد بن حارثة بن شراحيل بن كعب بن عبد العزى بن يزيد بن امرئ القيس الكلبي مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم استشهد يوم مؤتة في سنة ثمان · حديث 4659

4656 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق قال Y ثم مضى الناس حتى إذا كانوا بتخوم البلقاء لقيهم جموع هرقل وانحاز المسلمون إلى قرية يقال لها مؤتة فالتقى الناس عندها وتعبأ لهم المسلمون فجعلوا على ميمنتهم رجلا من بني عذرة يقال له : قطبة بن قتادة وعلى ميسرتهم رجلا من الأنصار يقال له : عباية من مالك ثم التقى الناس فقاتل زيد بن حارثة براية رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى شاط في رماح القوم

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں : پھر لوگ چلے حتیٰ کہ جب " تخوم بلقاء " کے مقام پر تھے تو ھرقل بادشاہ کے سرکش گھوڑے ان سے ملے ، مسلمانوں نے ایک بستی کا سہارا لیا جس کو موتہ کہا جاتا تھا۔ پس لوگوں کی وہیں مڈبھیڑ ہوئی اور مسلمانوں نے ان کے لیے لشکر کو ترتیب دیا۔ میمنہ پر بنو عذرہ قبیلے کا ایک آدمی جس کا نام قطبہ بن قتادہ تھا،میسرہ پر ایک انصاری جس کا نام عبایہ بن مالک تھا، پھر لوگوں نے لڑائی شروع کی۔ حضرت زید بن حارثہ ، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جھنڈا لے کر جہاد کرنے لگے یہاں تک کہ قوم کے نیزوں کی بوچھاڑ میں جا کر غصے میں آگئے ، یا ایک چکر لگایا یا کام آگئے۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Hadith 4659

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4660

4657 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني كامل بن طلحة الجحدري ( ح ) وحدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن يوسف قالا ثنا ابن لهيعة ثنا عقيل بن خالد عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن أسامة بن زيد عن أبيه Y أن جبريل عليه السلام نزل على النبي صلى الله عليه و سلم في أول ما أوحي إليه فعلمه الوضوء والصلاة فلما فرغ أخذ النبي صلى الله عليه و سلم بيده ماء فنضح به فرجه

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام سب سے پہلی بات جو لے کر آئے وہ یہ تھی کہ آپ کو وضو اور نماز کے متعلق عرض کیا، نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب وضو کرکے فارغ ہوتے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکتے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ الْجَحْدَرِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 4660

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4661

4658 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبيد بن يعيش ثنا يونس بن بكير عن يونس بن أبي إسحاق عن أبيه البراء بن عازب عن زيد بن حارثة قال Y قلت : يا رسول الله آخيت بيني وبين حمزة بن عبد المطلب

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم! میرے اور حمزہ بن عبدالمطلب کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمائیں۔

قُلْتُ ← زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← أبيه البراء بن عازب ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 4661

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4662

4659 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا يونس ابن بكير عن يونس بن أبي إسحاق عن أبيه عن البراء Y أن زيد بن حارثة قال : يا رسول الله آخيت بيني وبين حمزة

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ زید بن حارثہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! میرے اور حضرت حمزہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمائیں۔

البراء أن زيد بن حارثة ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← يونس ابن بكير ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 4662

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4663

4660 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن نمير عن حجاج بن أرطاة عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس رضي الله عنهما قال Y كان حمزة عم رسول الله صلى الله عليه و سلم أخو زيد بن حارثة آخا بينهما رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا حضرت امیر حمزہ ، حضرت زید بن حارثہ کے بھائی بنے تھے اور ان دونوں کے درمیان بذات خود رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھائی چارہ قائم فرمایا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← حجاج بن أرطاة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 4663

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4664

4661 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن يحيى بن أبي سلمة ثنا زياد بن عبد الله البكائي عن حجاج بن أرطاة عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال Y قال زيد بن حارثة في ابنة حمزة : ابنة أخي آخا رسول الله صلى الله عليه و سلم بيني وبين أبيها

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں کہا: میرے بھائی کی بیٹی ہے ! حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے اور ان کے والد کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← حجاج بن أرطاة ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← محمد بن يحيى بن أبي سلمة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 4664

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4665

4662 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا سليمان بن أحمد الواسطي ثنا الوليد بن مسلم ثنا ابن لهيعة عن محمد بن عبد الرحمن عن عروة عن أسامة بن زيد عن أبيه زيد بن حارثة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بشر المشائين في الظلم إلى المساجد بنور يوم القيامة ساطع

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: خوشخبری ہو ! تاریکی میں مسجدوں کی طرف آنے والوں کو قیامت کے دن ایک پھیلنے والے نور کی۔

أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Hadith 4665

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4666

4663 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا أبو أسامة حماد بن أسامة حدثني محمد بن عمرو بن علقمة عن أبي سلمة بن عبد الرحمن و يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب عن أسامة بن زيد عن أبيه زيد بن حارثة قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو مردفي إلى نصب من الأنصاب فذبحنا له شاء ثم صنعناها في الإرة فلما نضجت استخرجناها في سفرتنا ثم ركب رسول الله صلى الله عليه و سلم ناقته وهو مردفي فلما كنا بأعلى مكة لقيه زيد بن عمرو بن نفيل فحيا أحدهماصاحبه بتحية الجاهلية فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : مالي أرى قومك قد شنفوك وكرهوك ؟ فقال : والله إن ذلك منهم لبغير ما ثائرة كانت مني إليهم إلا أني أراهم في ضلال فخرجت أبتغي هذا الدين حتى قدمت على أحبار خيبر فوجدتهم يعبدون الله ويشركون به فقلت : والله ما هذا بالدين الذي أبتغي به فخرجت حتى قدمت على أحبار الشام فوجدتهم يعبدون الله ويشركون به فقلت والله ما هذا بالدين الذي خرجت أبتغي فقال حبر من أحبار الشام : إنك لتسأل عن دين ما نعلم أحدا يعبد الله به إلا شخصا بالجزيرة فخرجت حتى قدمت عليه فأخبرته بالذي خرجت له فقال لي : إن كل من رأيت في ضلال وإنك لتسأل عن دين الله وملائكته وقد خرج في أرضك نبي أو هو خارج فارجع فصدقه وآمن به فرجعت فلم أختبر نبيا بعد قال : فأناخ رسول الله صلى الله عليه و سلم ناقته فوضع السفرة بين يديه فقال : ما هذا ؟ قال : شاة ذبحناها لنصب كذا وكذا فقال زيد بن عمرو إنا لانأكل شيئا ذبح لغير الله ثم تفرقنا قال ومات زيد بن عمرو بن نفيل قبل أن يبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يبعث يوم القيامة أمة وحده

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے چلے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انصار میں سے ایک نصب کی طرف جارہے تھے۔ پس ہم لوگوں نے ( زمانہ جاہلیت میں) اس کے لیے ایک بکری ذبح کی۔ پھر اس کو ایک برتن میں ( پکانے کے لیے ) رکھا۔ پس جب وہ پک گئی تو ہم نے اس کو نکال کر دستر خوان پر رکھا ، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے ، اس حال میں کہ آپ میرے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ، پس جب ہم مکہ کے بلند حصے پر تھے تو زید بن عمرو بن نفیل آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ملا تو ان میں سے ایک نے زمانہ جاہلیت والا سلام اپنے ساتھی کو کیا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تیری قوم کو تیرے ساتھ ناراض دیکھتا ہوں ؟ ا س نے کہا: قسم بخدا ! یہ راہ اللہ ہے ، میں نے ان سے کوئی زیادتی تو نہیں کی ہے ، بس یہی ہے کہ میں ان کو گمراہ دیکھتا ہوں ۔ پس میں اس دین کی تلاش میں نکلا ، پہلے میں خیر کے عمل کے پاس آیا، ان کو میں نے اللہ کی عبادت کے ساتھ شرک کرتے دیکھا ، میں نے کہا: یہ وہ دین نہیں ہے جس کو میں تلاش کر رہا ہوں حتیٰ کہ میں شامی علماء کے پاس آیا ، ان کو بھی میں نے اللہ کی عبادت کے ساتھ اس کے ساتھ شرک کرتے ہوئے پایا۔ میں نے کہا: یہ بھی وہ دین نہیں ہے جس کی تلاش میں ، میں نکلا ہوں ۔ پس شامی علماء میں سے ایک نے کہا: تو جس دین کے بارے پوچھتا ہے ، ہم نہیں جانتے کسی کو جو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہو مگر ایک شخص ہے جو جزیرہ میں ہے ۔ پس نکلا یہاں تک کہ اس کے پاس ، پس میں نے اس کو اپنے مقصد کی خبر دی، جس کے لیے میں نکلا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا: بے شک جس کو بھی تو نے دیکھا ہے وہ گمراہی میں ہے اور تو اللہ اور اس کے فرشتوں کا دین تلاش کر رہا ہے حالانکہ تیرے اپنے ملک میں ایک نبی ہے ، یا کہا: وہ تشریف لانے والا ہے ۔ پس واپس لوٹ جا۔ اسی کی تصدیق کی اور اسی پر ایمان لے آ۔ پس میں لوٹا۔ پس اس کے بعد میں نے کسی نبی کی آزمائش نہیں کی۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا۔ پس اس کے سامنے دستر خوان رکھا تو اس نے کہا : یہ کیا ہے ؟ کہا: بکری ہے جو ہم نے فلاں فلاں نصب کے لیے ذبح کی ہے ، پس زید بن عمر و نے کہا: بے شک ہم کسی ایسی چیز کو نہیں کھاتے ہیں جو غیر اللہ کے لیے ذبح کی گئی ہو۔ پھر ہم جدا ہو گئے۔ راوی کا بیانہے : حضرت زید بن نفیل ، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت سے پہلے وصال کر گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن یہ ایک امت کی شکل میں اٹھایا جائے گا۔

أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أبي سلمة بن عبد الرحمن و يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 4666

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4667

4664 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن محمد بن عمرو بن علقمة عن أبي سلمة بن عبد الرحمن و يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب عن أسامة بن زيد عن أبيه قال Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو مردفي فذكر نحوه

حضرت اسامہ بن زید والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نکلے اور میں آپ کے پیچھے تھا، پس اس کے بعد اس جیسی حدیث بیان کی۔

خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو مردفي فذكر نحوه ← أَبِيهِ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أبي سلمة بن عبد الرحمن و يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:

Hadith 4667

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4668

4665 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا أبو أسامة عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة و يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب عن أسامة بن زيد عن أبيه قال Y طفت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم فلمست بعض الأصنام فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تمسها فقلت : لأعودن حتى أبصر ما يقول : ثم مسستها فقال : ألم تنه عن هذا ؟ قال : فوالذي أكرمه الكتاب

حضرت اسامہ بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایک دن طواف کیا، میں نے کسی بت کو چھوا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے فرمایا: اس کو ہاتھ نہ لگاؤ میں نے دل میں کہا کہ میں دوبارہ لگاتا ہوں تاکہ دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا فرماتے ہیں،پھر میں نے ہاتھ لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تمہیں میں نے اس سے منع نہیں کیاتھا؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: وہ ذات جس نے کتاب کو عزت دی ہے ۔

أَبِيهِ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أبي سلمة و يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Hadith 4668

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4669

4666 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا إبراهيم بن عيسى التنوخي ثنا زياد بن الحسن بن فرات القزاز عن أبيه عن جده عن أبي الطفيل عامر بن واثلة عن زيد بن حارثة قال Y كنت غلاما على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم : انطلقوا بنا إلى إنسان قد رأينا شأنه قال : فانطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشي وأصحابه معه حتى دخلوا بين حائطين في زقاق طويل فانتهوا إلى باب صغير في أقصى الزقاق فدخلوا إلى دار فلم يروا في الدار أحدا غير امرأة واحدة وإذا قربة عظيمة ملأى ماء فقالوا : نرى قربة ولا نرى حاملها كلموا المرأة فأشارت إلى قطيفة في ناحية الدار فقالت : انظروا إلى ما تحت القطيفة فكشفوها فإذا تحتها إنسان فرفع رأسه فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : شاه الوجه فقال : يا محمد لم تفحش علي ؟ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : قد خبأت لك خبأ فأخبرني ما هو ؟ وقال لأصحابه : إني قد خبأت له سورة الدخان فقال دخ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اخسأ ما شاء الله كان ثم انصرف

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں بچہ تھا، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک دن فرمایا: چلو ! ہم ایک آدمی کی حالت دیکھتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم چلے ، آپ کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھے ، ایک لمبی گلی میں دو دیواروں کے درمیان داخل ہوئے تو گلی کے آخر میں چھوٹے دروازے کے پاس پہنچے ، گھر میں داخل ہوئے ، گھر میں کسی کو نہیں دیکھا، سوائے ایک عورت کے وہاں پانی سےبھرا ہوا ایک مشکیزہ بہت بڑا تھا، صحابہ کرام نے کہا: ہم مشکیزہ دیکھتے ہیں لیکن اس کے اٹھانے والے کو نہیں دیکھتے ہیں ۔ عورت سے گفتگو کرو ۔ اس عورت نے گھر کے اندر ایک چادر کی طرف اشارہ کیا، اس عورت نے کہا: اس چادر کے نیچے دیکھو! اس چادر کو اٹھایا تو اس کے نیچے ایک انسان دیکھا، اس نے سر اٹھایا تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: برا چہرہ ہے ! اس نے عرض کی : یا محمد ! مجھ پر ایسی بات کیوں کر رہے ہو؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات چھپائی ہے تو مجھے بتا کہ وہ کیا ہے ؟ اور اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: میں نے اس کے لیے سورۂ دخان ( کی آیت " یوم تاتی السماء بدخان" ) چھپائی ہے ۔ پس اس نے جواب دیا: "دخ" ( یعنی سورۂ دخان) پس نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سے فرمایا: پڑا رہ ! جب تک اللہ چاہے ، پھر آپ چلے گئے۔

زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِيسَى التَّنُوخِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Hadith 4669

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الزاي ‹ ما أسند زيد · حديث 4670

4667 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي ثنا محمد بن مجيب أبو همام الدلال ثنا إبراهيم بن طهمان عن جابر عن الشعبي عن هذيل بن شرحبيل عن زيد بن حارثة قال Y تصدقت بفرس لي فرأيت ابنتها يقام بالسوق فأردت أن أشتريها فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فسألته عنها

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنا گھوڑا صدقہ کیا، پس میں نے اس کی بیٹی کو بازار میں کھڑا دیکھا، پس میں نے ارادہ کیا کہ اس کو خرید لوں ۔ پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور اس کے بارے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا۔

زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← هُذَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← محمد بن مجيب أبو همام الدلال ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Hadith 4670

chevron_left Previous
1234…56
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter